Roshan andhera by Anam Nadeem Complete novel
اسکو اپنا اپ ایک غار میں محسوس ہو رہا تھا ایک ایسا غار جہاں سوائے اندھیرے کے کچھ نہ ہو اسکو اپنے سینے میں ایک درد محسوس ہوا جسے کوئی کانٹے چبو رہا ہو اسکو لگا وہ پھر کھبی سانس نہیں لے سکے گی اسکا خون اسکو جمتا ہوا معلوم ہو رہا تھا اسکے ماتے پر نھنی نھنی پسینے کی بوندے ایی ہوئی تھی یوں جسے ایک ہی پل میں آسمان اور زمین دونوں اس پر ایک کر دی گی ہو اتنی بڑی اذیت اتنا بڑا دکھا وہ ہاتھوں میں لئے ان تین تصویروں کو دیکھی جا رہی تھی آنکھوں سے پانی نکل کر اسکے گالو پر آتا ہوا معلوم ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔
