تم یہاں کیا لینے آۓ ہو بلونگڑے وہ چاۓ کا مگ ہاتھ میں لیے ہوئے تھی
آف کو رس چاۓ اور لینے تو میں بہت کچھ آیا ہوں اگر کوئی لے جانے دے تو ۔
وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بولا تو علیزے زرا جھینپ سی گئی اور اسے انگلی سے اشارہ کرتے ہوۓ بولی
دیکھو بلال میں نے ابا سے تمہاری شکایت کر دینی ہے۔
لیکن میں نے ماموں سے یہ مانگ لینی ہے وہ اپنی انگلی سے اسکی انگلی کو ہللکے سے مروڑتے ہوۓ بولا
شکل دیکھی ہے اپنی وہ بہت کچھ سمجھتے ہوۓ بولی
ان شاءاللہ یہ شکل ہر روز دیکھو گی۔ وہ ذرا شوخ ہوا ۔ علیزے نے اسے دھکا دینے والے انداز میں باہر کی طرف دھکیلا
“چاۓ پیو اور گھر کا رستہ ناپو”