بھابھی میری پھول سی بچی___ یہ کہہ کہ چچی پھر سے آنسو بہانے لگیں ۔
“اللّٰہ خیر کرے کیا ہوا مومنہ کو” ؟ حمیدہ خاتون نے پوچھا ۔
بس بھابھی میری معصوم سی بچی رل گئی ۔ مجھے میری بیٹی سے ملنے نہیں دے رہے ۔ کئی بار ان کے گھر گئی فون پر رابطہ کیا لیکن میری بات تک نہیں کروائی ۔محلے داروں سے پوچھا تو وہ انہوں نے بتایا کہ ولیمے کے دس بارہ دنوں بعد ولید اور مومنہ گاڑی میں کہیں جارہے تھے ۔ ہم نے سمجھا کہ شاید سسرال یا کہیں گھومنے پھرنے جارہے ہوں گے۔ چچی پھر سے رونے لگیں ۔
” اللّٰہ رحم کرے اور مومنہ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے “۔ امی پریشان ہوگئیں تھیں ۔ صرف یہی نہیں آج صبح جب میں ان کے محلے میں گیا تو معلوم ہوا کہ ولید کے والدین بھی محلہ چھوڑ کر جا چکے ہیں ۔ سب محلے داروں سے ان کے متعلق پوچھا لیکن کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ وہ کہاں گئے ۔ نصیر احمد نے مایوس انداز میں بتایا ۔ حزیمہ کو بہت افسوس ہوا ۔
ابو کو معلوم ہوا تو سب کام چھوڑ چھاڑ کر اپنے بھائی کی طرف چلے آۓ ۔
بھائی صاحب معاملہ تو بہت سنگین ہے سچ پوچھیں تو دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔ پتہ نہیں مومنہ کس حال میں ہوگی؟ شبیر احمد نے کہا ۔
خدا کے لیے کچھ کریں ایسا نہ ہو کہ وہ کہیں دور نکل جائیں ۔ حمیدہ خاتون نے پریشانی کے عالم میں کہا ۔
مومنہ کی تلاش شروع کردی گئی تھی پولیس تھانہ غرض ہر جگہ کوشش کی مگر سنوائی تو پیسے کی ہی ہوتی ہے نا۔ پیسہ اگر پانی کی طرح بہایا جاۓ تو پردیس میں گرا سکہ بھی مل جاتا ہے لیکن چچا کے پاس جو بھی جمع پونجی تھی سب مومنہ کی وی آئی پی شادی پر خرچ کر چکے تھے سو اب صرف رب کا سہارا تھا ۔
امی نے سارا معاملہ رفیق ماموں کو بتایا ۔ رفیق ماموں پولیس تھانہ میں کلرک تھے ۔ انہوں نے اپنے ساتھی افسر کی منت سماجت کی تو کارروائی کی گئی اور مومنہ گھر واپس آگئی ۔ کھوج کرنے پر معلوم ہوا کہ ولید اور اس کے والدین کسی گینگ کے لیے کام کرتے تھے جو امیر ہونے کا ڈرامہ کر کے لوگوں کو لوٹتے تھے ۔ وہ تو خدا کا شکر ہے کہ وقت پر کارروائی ہو گئی اور مومنہ ان کے چنگل سے آزاد ہوگئی ۔اتنے بڑے صدمے کے بعد تو مومنہ تو جیسے ہنسنا ہی بھول گئی تھی ۔