Skip to content
Home » Rushna Akhter

Rushna Akhter

Jahez afsana by Rushna Akhter

  • by

۔ کاش دور جدید کے اپ ٹو ڈیٹ مسلمان نے دین کو صحیح معنوں میں سمجھا ہوتا ۔ ہم مسلمان ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر صرف کہنے کی حد تک ۔ جب بانی شریعت نے اپنی پیاری بیٹی کو جہیز میں ضرورت کے سامان کے ساتھ رخصت کیا تو ہم امتیوں پر ان کی سنت پر عمل کرنا واجب ہے ۔

Rut badalny wali hai afsana by Rushna Akhter

  • by

تم یہاں کیا لینے آۓ ہو بلونگڑے وہ چاۓ کا مگ ہاتھ میں لیے ہوئے تھی

آف کو رس چاۓ اور لینے تو میں بہت کچھ آیا ہوں اگر کوئی لے جانے دے تو ۔

وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بولا تو علیزے زرا جھینپ سی گئی اور اسے انگلی سے اشارہ کرتے ہوۓ بولی

دیکھو بلال میں نے ابا سے تمہاری شکایت کر دینی ہے۔

لیکن میں نے ماموں سے یہ مانگ لینی ہے وہ اپنی انگلی سے اسکی انگلی کو ہللکے سے مروڑتے ہوۓ بولا

شکل دیکھی ہے اپنی وہ بہت کچھ سمجھتے ہوۓ بولی

ان شاءاللہ یہ شکل ہر روز دیکھو گی۔ وہ ذرا شوخ ہوا ۔ علیزے نے اسے دھکا دینے والے انداز میں باہر کی طرف دھکیلا

“چاۓ پیو اور گھر کا رستہ ناپو”

Beopar afsana by Rushna Akhter

  • by

اسے یاد تھا جب وہ پہلی بار خوبصورت پہاڑی علاقے کی سیر کو نکلے تھے اور گاڑی تنگ راستے سے گزرتے نیچے جا گری تھی ۔ اس حادثے میں اس کے بابا جان اور ننھی بہن ہادیہ چل بسے تھے ابھی وہ زخم مندمل نہیں ہوا تھا کہ والدہ کی موت نے اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا لیکن یہ امی کے ساتھ یہ اچانک حادثہ ہوا تو ہوا کیسے؟ یہ سوال اسے بے چین کیے ہوۓ تھا ۔ گیس اس دن لیک کیسے ہوگئی ؟ جہاں تک اسے معلوم تھا اس کی والدہ بہت محتاط خاتون تھیں۔

Man mehran afsana by Rushna Akhter

  • by

بھابھی میری پھول سی بچی___ یہ کہہ کہ چچی پھر سے آنسو بہانے لگیں ۔

“اللّٰہ خیر کرے کیا ہوا مومنہ کو” ؟ حمیدہ خاتون نے پوچھا ۔

بس بھابھی میری معصوم سی بچی رل گئی ۔ مجھے میری بیٹی سے ملنے نہیں دے رہے ۔ کئی بار ان کے گھر گئی فون پر رابطہ کیا لیکن میری بات تک نہیں کروائی ۔محلے داروں سے پوچھا تو وہ انہوں نے بتایا کہ ولیمے کے دس بارہ دنوں بعد ولید اور مومنہ گاڑی میں کہیں جارہے تھے ۔ ہم نے سمجھا کہ شاید سسرال یا کہیں گھومنے پھرنے جارہے ہوں گے۔ چچی پھر سے رونے لگیں ۔

” اللّٰہ رحم کرے اور مومنہ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے “۔ امی پریشان ہوگئیں تھیں ۔ صرف یہی نہیں آج صبح جب میں ان کے محلے میں گیا تو معلوم ہوا کہ ولید کے والدین بھی محلہ چھوڑ کر جا چکے ہیں ۔ سب محلے داروں سے ان کے متعلق پوچھا لیکن کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ وہ کہاں گئے ۔ نصیر احمد نے مایوس انداز میں بتایا ۔ حزیمہ کو بہت افسوس ہوا ۔

ابو کو معلوم ہوا تو سب کام چھوڑ چھاڑ کر اپنے بھائی کی طرف چلے آۓ ۔

بھائی صاحب معاملہ تو بہت سنگین ہے سچ پوچھیں تو دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔ پتہ نہیں مومنہ کس حال میں ہوگی؟ شبیر احمد نے کہا ۔

خدا کے لیے کچھ کریں ایسا نہ ہو کہ وہ کہیں دور نکل جائیں ۔ حمیدہ خاتون نے پریشانی کے عالم میں کہا ۔

مومنہ کی تلاش شروع کردی گئی تھی پولیس تھانہ غرض ہر جگہ کوشش کی مگر سنوائی تو پیسے کی ہی ہوتی ہے نا۔ پیسہ اگر پانی کی طرح بہایا جاۓ تو پردیس میں گرا سکہ بھی مل جاتا ہے لیکن چچا کے پاس جو بھی جمع پونجی تھی سب مومنہ کی وی آئی پی شادی پر خرچ کر چکے تھے سو اب صرف رب کا سہارا تھا ۔

امی نے سارا معاملہ رفیق ماموں کو بتایا ۔ رفیق ماموں پولیس تھانہ میں کلرک تھے ۔ انہوں نے اپنے ساتھی افسر کی منت سماجت کی تو کارروائی کی گئی اور مومنہ گھر واپس آگئی ۔ کھوج کرنے پر معلوم ہوا کہ ولید اور اس کے والدین کسی گینگ کے لیے کام کرتے تھے جو امیر ہونے کا ڈرامہ کر کے لوگوں کو لوٹتے تھے ۔ وہ تو خدا کا شکر ہے کہ وقت پر کارروائی ہو گئی اور مومنہ ان کے چنگل سے آزاد ہوگئی ۔اتنے بڑے صدمے کے بعد تو مومنہ تو جیسے ہنسنا ہی بھول گئی تھی ۔