Rut badalny wali hai afsana by Rushna Akhter
تم یہاں کیا لینے آۓ ہو بلونگڑے وہ چاۓ کا مگ ہاتھ میں لیے ہوئے تھی
آف کو رس چاۓ اور لینے تو میں بہت کچھ آیا ہوں اگر کوئی لے جانے دے تو ۔
وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بولا تو علیزے زرا جھینپ سی گئی اور اسے انگلی سے اشارہ کرتے ہوۓ بولی
دیکھو بلال میں نے ابا سے تمہاری شکایت کر دینی ہے۔
لیکن میں نے ماموں سے یہ مانگ لینی ہے وہ اپنی انگلی سے اسکی انگلی کو ہللکے سے مروڑتے ہوۓ بولا
شکل دیکھی ہے اپنی وہ بہت کچھ سمجھتے ہوۓ بولی
ان شاءاللہ یہ شکل ہر روز دیکھو گی۔ وہ ذرا شوخ ہوا ۔ علیزے نے اسے دھکا دینے والے انداز میں باہر کی طرف دھکیلا
“چاۓ پیو اور گھر کا رستہ ناپو”
