Skip to content
Home » Saira Ramzan

Saira Ramzan

Jannat ki qeemat ka safar by Saira Ramzan complete pdf

یہ کہانی ہے ایک سترہ سالہ ارجو کی ۔ جس کے ذہن میں بچپن سے یہ بات ڈالی گئی کہ نیک لوگ جلدی مر جاتے ہیں اور پھر وہ نیکیوں سے دور بھاگنے لگا ۔ کیونکہ وہ مرنا نہیں چاہتا تھا اسے زندگی جینی تھی ۔

وہ کہتا تھا ۔ میں کبھی بڑوں کا ادب نہیں کروں گا ۔ کبھی نیکی نہیں کروں گا ۔۔

اس کہانی کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں ہے ۔ میرا مقصد اس کہانی کو سبق آموز بنانا ہے امید ہے آپ اس کو ضرور پسند کرے گے

************

Ilzam by Saira Ramzan  Complete novel pdf

  • by

“الزام – سچائی اور ناانصافی کی کشمکش”

“الزام” ایک ایسی کہانی ہے جو جذبات، سچائی اور ناانصافی کے گرد گھومتی ہے۔ یہ ان غلط فہمیوں اور بے بنیاد الزامات کی داستان ہے جو بعض اوقات زندگیوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔

یہ کہانی صرف ایک فرد کی نہیں، بلکہ ان تمام لوگوں کی ہے جو جھوٹے الزامات کا شکار ہوتے ہیں، جن کی زندگی دوسروں کی کہی گئی باتوں کے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔ سچ اور جھوٹ کی کشمکش، بھروسے اور دھوکے کی آزمائش، اور انصاف کی تلاش—یہ سب کچھ “الزام” کی کہانی کا حصہ ہے۔

یہ ناول قارئین کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے:

کیا ہر الزام سچ ہوتا ہے؟

اگر نہیں، تو اس کے اثرات کسی کی زندگی پر کتنے گہرے ہو سکتے ہیں؟

“الزام” ایک احساسات سے بھری کہانی ہے جو انصاف کی اہمیت اور جھوٹے الزامات کے تباہ کن اثرات کو اجاگر کرتی ہے۔

****************

Dushman-e-Nafas Season 2 by Saira Ramzan Complete novel

  • by

ان کو لگتا ہے کہ وہ پرسکون زندگی گزارے گے غلط فہمی ہے تو بہت بڑی پر کوئی نہیں بہت ہی جلد دور بھی ہو جائے گی۔

مجھ سے میرا سب کچھ چھین کر وہ چین سے رہے اتنا شریف تو خیر کوئی مرد نہیں ہوتا۔

ایسا حشر کروں گا کہ اگلی ساتھ نسلوں تک ان میں سے کوئی مسکرا نا سکے گا پورا خاندان روئے گا تڑپے گا جینا بھول جائے گا۔ اور جب سارے زندہ لاش بن کر گھومیں گے تب جا کر میں مسکراؤں گا۔۔۔ میں ہنسوں گا۔

ہاں میں ہنسوں گا ان کے رونے پر ، تڑپنے پر، گھٹ گھٹ کے جینے پر، وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا مرر میں اپنا عکس دیکھتے ہوئے کھلکھلا کر خود سے ہی باتیں کر رہا تھا۔

***

اب تم یہاں پر بیٹھ کر شاعری کرنا بند کرو اور میرے ساتھ چلو ازبیہ بھابھی تمہارا کب سے انتظار کر رہی ہیں؟

آریز نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ وہ آج بھی اتنا ہی خوبصورت تھا، وہی ماتھے پر بکھرے ہوئے بال، وہی شلوار قمیض پہنے، وہی ہلکی سبز آنکھوں والا خاموش مزاج لڑکا۔۔۔۔ اگرچہ حلیہ وہی تھا مگر اس ایک حادثے نے اس کی آنکھوں کی چمک چھین لی تھی وہ جو مسکراتا تھا تو کوئی بھی قائل ہو جاتا تھا وہ اب کہاں مسکرا سکتا تھا۔۔۔؟

ان تین مہینوں نے اس کے چہرے کی چمک چھین لی تھی اس کی آنکھوں کے نیچے حلقے تھے قبر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ نڈھال سا اٹھ کھڑا ہوا۔

آریز نے اس کی سائیڈ کا دروازہ کھولا تو وہ چپ چاپ اندر بیٹھ گیا گاڑی میں بیٹھتے ہی وہ سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا گیا۔

زایان ۔۔۔!!!

Wabal e ishq by Saira Ramzan Complete novel

  • by

آپ پھر آگئے۔۔۔۔
میں ایف آئی آر درج کروانے آیا ہوں ۔۔۔تو آپ مجھ سے عزت سے پیش آئے۔۔۔
مہروش نے بڑے غور سے اس کے چہرے پر دیکھا ۔
وہ بلکل سیریس بیٹھا تھا ۔
جی لکھوائیے۔۔۔۔۔کس کے خلاف لکھوانی ہے۔۔۔۔
مہروش نے دانت پیستے کہا۔
اپنی بیوی کے خلاف۔۔۔۔۔۔۔۔
مہروش نے اپنی ہنسی کو ضبط کیا ۔
کیوں لکھوانی ہے اپنی بیگم کے خلاف۔
وہ میرے ساتھ ہنی مون پر نہیں جا رہی۔
کیونکہ وہ کام میں بزی ہے اسی لئے۔۔۔۔۔
پھر وہ ہنس پڑی۔
اچھا میری بات سنیں ۔۔۔۔ مہروش کے کہنے پر وہ اسکی جانب متوجہ ہو گیا۔
مہروش نے ایک چیک نکال کر اس کے سامنے رکھا ۔
زوار نے دیکھا تو وہ 90 کروڑ کا کیش تھا۔
زوار نے گردن اوپر کر کے دیکھا ۔
زوار اگر تم چاہتے ہو ہماری زندگی پرسکون گزرے تو تمہیں یہ رقم رکھنی ہوگی۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔
مہروش۔۔۔۔ہم اس رقم سے ایک یونیورسٹی بنوا لیتے ہیں۔۔۔۔۔ ہر طالبعلم مفت تعلیم حاصل کرے گا۔۔۔۔۔۔ہم دونوں مل کر اس یونیورسٹی کو چلائے گے۔

Dushman e nafs by Saira Ramzan Complete novel download pdf

  • by

زایان تمیں چاہیے کہ تم اس سے آج اظہارِ محبت کر دو آخر کب تک اسے انجان رکھو گے ۔کیا تم یک طرفہ محبت کرنا چاہتے ہو۔۔ فلک اور عشوانی حال کے سائیڈ ایئریا پر کب سے اسے سمجھائے جا رہی تھی کہ آج وہ اپنے جذباتوں کو محالفہ کے سامنے بیان کرے کہ وہ اس کے لیے کیا محسوس کرتا ہے۔۔

تم دونوں سمجھ نہیں رہی میں فی الحال ایسا نہیں کر سکتا!! اس نے چڑ کر کہا تھا.۔۔

کیوں نہیں کر سکتے کب بتاؤ گے اسے جب وہ کسی اور کی ہو جائے گی؟؟

نہیں ہوگی وہ کسی اور کی وہ میری ہوگی بلکہ وہ میری ہی ہے۔۔

عشوانی کی بات کاٹتے اس نے جیسے خود کو بھی یقین دہانی کروائی تھی۔

دیکھئے زایان بھائی آپ کو دیر نہیں کرنی چاہیئے ایسے معاملات میں دیری اچھی نہیں لگتی۔

فلک نے نرم لہجہ اختیار کیا۔

مجھے ڈر لگتا ہے کہ اگر اس نے انکار کر دیا تو میں اس کے انکار کے ساتھ کیسے جی پاؤں گا؟؟

زایان اب رو دینے کو تھا ۔

نہیں ایسا نہیں ہوگا آپ ایک بار ٹرائی تو کریں فلک کے کہنے پر اس نے ہاں میں گردن ہلائی مگر اس کا ڈر قائم تھا وہ پچھتانا نہیں چاہتا تھا وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ وہ اس جنون کی حد تک عشق کرتا ہے وہ عشق میں تڑپتا ہے دن رات اس کے ساتھ خواب سجاتا ہے وہ اس کے دل و دماغ پر حاوی ہونے لگی ہے اور وہ اسے آج یہ سب بتا دینے کا ارادہ رکھتا تھا آر یا پار ۔۔ وہ اس کے انکار کو سننے کے بعد دوبارہ جی پائے گا یا نہیں وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا وہ ان کے ساتھ گارڈن ایریا میں انٹر ہوا۔ عشوانی اور فلک اس کی جانب بڑھ گئے مگر محالفہ نے ابھی تک اسے نہیں دیکھا تھا۔۔

Deedar e mehboob by Saira Ramzan Complete novel

  • by

اس میں ذکر ہے ایک قدیم زمانے میں بسنے والے محبت سے بھرے ملک کی۔

جس کے ہر فرد کو دوسرے کے ساتھ الگ ہی ہمدردی اور لگاؤ تھا۔ اور ان سب کا کریڈٹ ان کے رحمدل بادشاہ کو دیا جاتا ہے ۔

جو اپنی سلطنت میں کسی قسم کی برائی برداشت نہیں کر سکتے تھے ۔ مگر وہ کہتے ہیں نا کہ اللہ اپنے پیاروں سے ہی امتحان لیتا ہے ۔ پھر وہ چاہے کسی بھی صورت میں لیں۔ مگر اس میں انسان کے لیئے کوئی نہ کوئی بہتری ضرور ہوتی ہے۔

اگر ہم اس کا ذکر کرے تو اس میں نفرت سے محبت کا سفر نہیں۔۔۔۔بلکہ محبت سے نفرت تک کا سفر ہے۔ جس میں پیار بھی ہےاور جنگ بھی،،خوشی بھی اور غم بھی ،،،جیت بھی اور ہار بھی،،،،،،

جس میں دو جسم محبت کے راستے پر چلتے تو ہیں۔مگر بغیر کسی شناخت کے ،،،،منزل کی فکر کئے بغیر ۔

اب یہ تو وقت ہی بتاتا کہ ان کی زندگی کونسی مشکلات کی منتظر ہے ۔