Skip to content
Home » Sawera Naz Muhammad Ayaz

Sawera Naz Muhammad Ayaz

Zindagi ke dou chehray by Sawera Naz Muhammad Ayaz Complete novel

  • by

کاش یہ تهپڑ میں تجهے پہلے مار دیتا بدبخت تو نہ آج ماہل گمشدہ ہوتی اور نہ تیری ماں مرتی. تجهے ذرا سا بهی محسوس نہیں ہوا کہ تیرے ساتھ یہ سب عین اسی دن کیوں ہوا؟ تو نے بهی اس دن کسی کی بیٹی، کسی کی بہن اس سے چهین لی تو تیرے ساتھ یہ ہونا تو طے تها. بدبخت یہ تیرا مکافات عمل ہے. اب بهی وقت ہے سدهر جا. ماں تو تیری رہی نہیں شاید بہن رہ جائے. تجهہ سے بڑا کم بخت تو میں ہوں جو میں نے تجهہ جیسے انسان کی تربیت کی. میری شہ پہ ہی تو نے اتنا بڑا کالک میرے منہ پہ ملا ہے. میں نے تجهے شہ دے کر ناصرف تجهہ سے زیادتی کی بلکہ خود سی بهی زیادتی کر بیٹها نتیجہ آج میں سب سے زیادہ خسارے میں ہوں. وڈیرہ صاحب کی بات پہ روزان نے شرمندگی سے سر جهکا لیا. اس کے آنسو مسلسل بہہ رہے تهے شاید اب اس نے خود کو ضمیر کی عدالت میں کهڑا محسوس کیا.

وڈیرہ صاحب اب صلہ سے مخاطب تهے انہوں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے :

معافی چاہتا ہوں میں بچے. انسان پہ جب تک خود نہیں گزرتی تب تک وہ سنهبلتا نہیں. بات میری بیٹی پہ آئی تو جیسے میری جان پہ بن گئی اور میں تڑپ اٹها. تمہارا باپ بهی تڑپا ہوگا مگر یہ بدبخت بہرہ بن کر ان کی بے بسی کا تماشہ دیکهتا رہا. دیکهو وقت نے کیسا پلٹا کھایا کہ آج اس کا پورا خاندان تماشہ بن چکا ہے. ہماری لاکھ کوششوں اور کئی اثر و رسوخ کے باوجود ماہل کو ہم ڈهونڈ نہ پائے. خدا جانے اسے زمین کها گئی یا آسمان نگل گیا. کسی کو کچھ خبر نہیں. تمہارے باپ کو کم از کم یہ تو معلوم ہے کہ اس کی بیٹی کو کون اٹھا کر لے گا جبکہ میں بدنصیب اپنی بیٹی کا مجرم کسی کو نہیں ٹہرا سکتا کیونکہ میں نے ماہل کو کسی کے ساتھ جاتے نہیں دیکھا شاید میں خود ہی مجرم ہوں. جو باپ اپنی اولاد کی ٹهیک طرح سے تربیت نہ کر سکے اس کے ساتھ ایسا ہونا تو بجا ہے. میں اور روزان طاقت کے نشے میں غرق یہ بات بهول گئے تھے کہ سب سے عظیم طاقت تو رب العالمین کی ہے. اس پاک اور برتر ذات کے آگے ہم جیسے ادنیٰ مخلوق کی کہاں چلتی ہے. دیکهو کیسا انصاف کیا رب کریم نے. تم یقیناً ان کی محبوب بندی ہو گی تبهی تو تمہیں نقصان پہنچانے والوں کی پکڑ فوراً ہوگئی. بچے ہو سکے تو مجھ مجبور باپ کو معاف کر دینا. تم چاہو تو میں تمہیں اس بدبخت سے آزادی دلا سکتا ہوں. وڈیرہ صاحب کی آواز بهرائی ہوئی تهی وہ رو رہے تهے

. *************

Sab that para reh jayega short story by Sawera Naz

  • by

کیا ہوا؟ کیا اپنا فیصلہ غلط لگ رہا ہے؟ فقیر نے پوچھا تھا. وہ جان گئی تهی کہ وہ کس فیصلے کی بات کر رہے ہیں.

نہیں. بس میں یہ نہیں سمجھ پا رہی کہ میرے ساتھ یہ کیا ہوتا آ رہا ہے اور کیوں؟ بچپن میں جو سوچا وہ پایا مگر عارضی مدت کیلئے پهر وہ سب چیزیں تو رہی لیکن میں! ! میں جیسے ان سے دور کر دی گئی. چیزیں بظاہر میرے سامنے تهیں مگر حقیقتاً وہ میری دسترس سے کوسوں دور تهیں. پهر لڑکپن میں دوباره مجهے ہر وہ شے عطا کی گئیں جو کبهی مجهہ سے چهین لی گئی تهیں. میرے تو خونی رشتے بهی عارضی وقت تک میرے ساتھ مخلص رہے. پهر وہ رشتے تو رہے مگر وہ خلوص؟ وہ جیسے پهر رہا ہی نہیں. پهر ہر کوئی مجهہ سے بدگمان رہتا. میری اچهائیاں، میری قربانیاں کسی کو نظر ہی نہ آ سکی. ہر بار ہر چیز مجهے عارضی مدت تک عطا ہوئی پهر ایسے چهین لی گئی جیسے کبهی نصیب ہی نہ ہوئی ہو. زندگی نے جانے کس موڑ پہ لاکھڑا کیا ہے مجهے. میں اپنا من مار کر اوروں کی خوشیوں کی فکر میں رہی. نتیجہ کیا ہوا؟ ذلت، بےبسی، لاپرواہی، بےچارگی، تمسخر. میرا وجود تو تذلیل کا چلتا پهر تا اشتہار بن گیا ہے جیسے. میں ہار گئی ہوں ہر طرف سے. شکست روز بروز میرا مقدر بنتی جا رہی ہے. ایسا کیوں ہو رہا ہے کیوں؟ وه جانے کتنے برس کا غبار نکال کر پهوٹ پهوٹ کر رو دی.