Skip to content
Home » Shehr e ashob ki pukar afsana by Uqba Ahmad

Shehr e ashob ki pukar afsana by Uqba Ahmad

Shehr e ashob ki pukar afsana by Uqba Ahmad

  • by

سب اپنی “قیمتی زندگی”، کو اس “سبز پاک ملک” جیسے مفتے کا مال سمجھے بیٹھے ہیں۔ سب جیسے ہے، چلتا رہے پر مطمئن ہیں اور سب اس وطن کے خرابے میں برابر کے شریک ہیں۔ پچھلے دنوں اخبار میں پڑھا کہ ملک کا ایک پڑھا لکھا نوجوان طبقہ ملک کو چھوڑ کر چلا گیا ہے تو شبیر بدر کے دیوں کی جوت بجھتے دیکھی اور پھر خود کو دلاسہ دیا کہ “شبیر بدر” سالوں بعد جنم لیتے ہیں، جیسے ایک “نہال بخاری” کی جھلک میں آن موجود ہوا۔ ہر کوئی یہاں کی تہذیب، تنگ نظری کو نشانہ بناتا ہے خواہ اندر کے لوگ ہوں یا باہر کے، پر جب قدم اٹھانے کی باری آتی ہے تو سب ڈرپوک گیدڑ کی طرح چھپ جانا چاہتے ہیں۔ اور مغرب کی تعریفوں کے راگ الاپنے والے وقتی سہولتوں کے پیچھے زندگی داؤ پر لگائے، “شاطر دماغوں” کے بھروسے “تیز گام” دنیا میں محو ہیں۔ چلو لوٹ لو مزے، کیونکہ “جس کا چابک، اسی کا گھوڑا۔” تم لوٹ آؤ گے، تم لوٹ آؤ گے اور ہم مل کر شبیر بدر کے مشن آزادی کا تحفظ کریں گے۔ ہم مل کر سبز ہلالی پرچم کے سائے میں پھر سے “ایک” ہو جائیں گے۔