Skip to content
Home » Sidra Chaudhary

Sidra Chaudhary

Madawa by Sidra Chaudhary Complete afsana

  • by

اور آج بیس سال بعد وہ آیا تھا مداوا کرنے۔

وہ کہتا ہے کہ مداوا کرنے آیا ہوں۔

لیکن یہ کیسا مداوا ہے کہ وہ میرے لیے نہیں،اپنی روح،اپنے وجود اپنی عزت اپنی بیٹی کے لیے آیا ہے۔

Mantasha Short novel by Sidra Chaudhary

  • by

زعما

جی ماہیر۔

تم نے فجر پڑھی۔

جی آپ کے جاتے ہی پڑھ لی تھی۔اور آج آپ لیٹ ہوگئے۔میں نے ناشتہ بھی تیار کر لیا ہے۔

ارے واہ بیگم۔ٹھیک ہے ناشتے کے بعد تیار ہو جاؤ۔تمہارے لیے سرپرائز ہے۔

کیا سرپرائز ہے۔

ارے ارے سرپرائز تو سرپرائز ہوتا ہے۔مل جائے گا لیکن تھوڑی دیر بعد۔

ٹھیک ہے آپ ناشتہ کریں میں ابھی تیار ہو کر آئی۔

اچھا چلو سفید سوٹ پہننا جو میں نے تمہیں دلایا تھا۔

اچھا جی جو حکم آپکا ۔

حکم نہیں بس درخواست ہے

جی جی اور آپکی درخواست منظور ہو چکی ہے۔زعما ہنستے ہوئے کہہ کر تیار ہونے چل دی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماہیر چلیں میں تیار ہوں۔زعما نے عبایا پہنتے ہوئے کہا تھا۔

ارے ارے بڑی تیزی دکھائ بھئ آپ نے تو۔ماہیر نے اسے پانچ منٹ میں تیار دیکھ کر چھیڑا تھا۔

اچھا ٹھیک ہے نہیں ہوتی تیار۔زعما نے اپنے ہاتھ روک کر فوراً منہ بنا کر کہا تھا ۔اور صوفے پہ بیٹھ گئ تھی۔

اچھا اچھا ناراض مت ہو۔کیوں صبح مجھے گناہ گار کر رہی ہو۔چلو چلیں۔ماہیر نے زعما کا ہاتھ پکڑ کر اٹھاتے ہوئے کہا تھا۔

Hala e mohabbat by Sidra Chaudhary Complete novel

  • by

دعایہ کیا کر رہی ہو تم؟

رقیہ بیگم جیسے ہی ڈائننگ ٹیبل پہ آئی تھیں،دعا کو دیکھ کر حیرانی سے چلا اٹھی تھیں۔

کیا ماما آرام سے بولیں نہ ،آپکا بی پی شوٹ کر جائے گا، اور میں ناشتہ کر رہی ہوں ،جیسے ہر گھر میں یونیورسٹی جانے والے کرتے ہیں۔

ناشتہ،کون پاگل ایسا ناشتہ کرتا ہے،جیسا تم کر رہی ہو؟ پاگل پن کی بھی حد ہوتی ہے۔

کیا ماما آپ مجھے پاگل کہہ رہی ہیں؟ مما آپ جانتی ہیں ،یہ میں ہوں آپکی اکلوتی بیٹی دعا،جسے آپ نے منتوں،مرادوں اور دعاؤں سے مانگا ہے،کتنی معصوم اور بھولی بھالی ہے۔آپ مجھے صرف میٹھا پراٹھا کیچپ کے ساتھ کھانے پہ پاگل کہہ رہی ہیں۔

دعا نے دنیا جہان کی معصومیت،دکھ اور ملال چہرے پہ سجا کر ماں کو دیکھا تھا اور اسکی اس قدر چالاکی پہ رقیہ بیگم سر پکڑ کر بیٹھ گئ تھیں۔

ہاں تمہارے جیسا معصوم تو اس دنیا میں ہے ہی نہیں کوئ،روزانہ ایک نیا شوشہ چھوڑ رکھا ہوتا ہے تم نے،اور اب تو تم نے انتہا کردی ہے،کون کھاتا ہے میٹھا پراٹھا کیچپ کے ساتھ،اور ہردوسرے دن ڈرائیور کو بیووقوف بنا کر گاڑی لے کر نکل جاتی ہواور چھٹی کے وقت آج تک تم ڈرائیور کے ساتھ نہیں آئی،بلکہ آنا تو دور ڈرائیور کو نظر تک نہیں آتی تم،جانے دوستوں کے ساتھ کہاں کہاں سے آوارہ گردی کرتی ہوئ پیدل واپس آتی ہو۔رقیہ بیگم

اب جو شروع ہوئ تو بولتی چلی گئ تھیں،اور انکی ساری باتیں سن کر دعا ہنستی چلی گئ تھی۔

جس پہ رقیہ بیگم نے گھور کر دیکھا تھا۔

بس بس مما باقی طعنے بعد میں دے لیجیے گا، میرا جانے کا وقت ہوگیا ہے۔دعا نے کہتے ساتھ ہی اٹھ کر بیگ اٹھایا تھا اور ماں کے گلے لگ کر پیار کیا تھا۔

Ajooba house novel by Sidra Chaudhary

  • by

آؤ آؤ بے بی،تمہاری جیسی قیامت میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی، اور اس شادی کے جوڑے میں تو آہ آہ ہاکیا مست چیز لگ رہی ہو۔

سردار نے ارحا کی اپنی زہنیت کے مطابق تعریف کی تھی، اور ارحا نے فٹ سے مہر کو خود سے الگ کیا اور سردار کی طرف قدم بڑھا دیے۔اور پھر جیولر کے شو پیس کے پاس ایک دم رک گئ۔

مجھے تو تم نے پہچانا ہی نہیں، میں تمہاری کال فرینڈ love،جس نے تمہیں اس میجر کے یہاں ہونے کا بتایا اور اسکی اصلی تصویریں تمہیں دیں۔

کیا اوہ بے بی وہ love تم ہو، تمہارا احسان تو میں ہمیشہ یاد رکھوں گا، تم نے مجھ سے محبت کا ثبوت دیا ہے آج۔

تو پھر میری خواہش پوری کرو نہ، مجھے یہ پازیبیں لے کے دو نہ اور اپنے ہاتھوں سے پہناؤ بھی،تب میں مانوں گی کی تم بھی مجھ سے محبت کرتے ہو۔

ارے میری love بس اتنی سی خواہش لو ابھی پوری کیے دیتا ہوں۔

کہتے ہی سردار نے گن اپنے ساتھ کھڑے آدمی کو پکڑائ اور خود چلتا ہوا ارحا کے پاس آیا۔

(تو اسکا مطلب ارحا ان لوگوں کے ساتھ ملی ہوئ ہے،اس دن ارحا رات کو ،مطلب اس دن

بھی وہ انکے کام سے نکلی تھی، ارحا تم ایسا کیسے کر سکتی ہو،میرے ملک سے غداری تمہیں بہت مہنگی پڑے گی،اپنے ملک کے لیے مجھے تمہاری بھی جان لینی پڑی تو نہیں چھوڑوں گا میں تمہیں)مائل نے سوچتے ہوئے لال انگارہ آنکھوں سے ارحا کو دیکھا جو شو کیس میں سے پازیبیں نکال رہی تھی ۔

لاؤloveتمہاری یہ خواہش بھی پوری کروں ،سردار نے ارحا سے پازیبیں پکڑتے ہوئے کہا،اور پھر اس کے قدموں میں بیٹھ گیا۔

ارحا نے جھک کر اپنا ہاتھ سردار کے کندھے پہ رکھا اور اپنا پاؤں اس کے گھٹنے پہ۔سردار نے زرا سا لہنگا اٹھا کر جیسے ہی ارحا کا پاؤں ننگا کیا حیران رہ گیا۔

اس کے پاؤں پہ پسٹل بندھا تھا،اور پھر ہنس پڑا اور پسٹل کھول کر ارحا کی طرف بڑھا دیا۔

ارے love اب یہ پسٹل یہاں چھپانے کی کیا ضرورت ہے۔

ہاں صحیح کہا،یہ پسٹل اب چھپانے کی کیا ضرورت ہے، کہتے ہی ارحا نے سردار کو دھکا دیا جس سے وہ ایک دم پیچھے کی طرف گرا،ارحا نے تیزی سے اپناپاؤں جس میں اس نے وہ سنیکرز جو وہ ہمیشہ گھر سے باہر نکلتے وقت پہنے رکھتی تھی،جو کسی کو بھی قتل کرنے کے لیے کافی تھے،اس کے سینے پہ رکھ دیا اور پسٹل اس پہ تان لی تھی۔

اور اونچی آواز میں ایک دم ایکشن بولا تھا، اور ارحا کے ایکشن کہنے کی دیر تھی کہ ایک دم بیت سے آرمی کے لوگ جو سویلین کے روپ میں تھے ،انہوں نے تمام ڈاکوؤں کو قابو کر لیا تھا۔

سر آپ ٹھیک تو ہیں؟ ایک آرمی آفیسر جلدی سے مائل کے پاس آیا تھا ۔اور مائل نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔

کیوں کیسا لگ رہا مسٹر عظیم چوہدری، اپنی بازی پلٹتے دیکھ کر،کیا کہا کہا تھا کہ اس ملک کو برباد کرو گے اور وہ بھی میجر مائل کے ہاتھوں،ارحا نے اسے زور سے کک کی تھی اور وہ چیخ پڑا تھا(آخر ارحا نے یہ سپیشل سنیکرز لوگوں کی حالت خراب کرنے کے لیے ہی بنوائے تھے)۔

تتتتتم تم تو میری love پھر اتنا بڑا دھوکا۔

ہاہاہاہاہاہا تمہاری love نہیں ، سیکرٹ ایجنٹ love queen، نام تو سنا ہی ہو گا۔

_____________________________________

ہاہاہاہاہا تمہاری love نہیں،سیکرٹ ایجنٹ love queen ,نام تو سنا ہوگا۔

ارحا ہنستے ہوئے اس کے پاس بھیٹتے ہوئے سرگوشی میں کہا تھا، اور یہ جان کر وہ ایجنٹ love qeen اسکا منہ کھلے کاکھلا رہ گیا تھا۔

ایییییییییءءی ایسا نہیں ہو سکتا میں نے خود پتہ کیا وہ ملک سے باہر گئ ہے،اس نے تڑپنے والے انداز میں کہا تھا۔