Teri masoom khawahishat by Sidra Miraj Complete novel
” آپ ہی سے بستی ہے دنیا میری !! “
” روشن یہ کرتی ہے صبح کو میری !! “
” آپ ہی نے سنوارا ہے روح کو میری !! “
” پوری ہے کی ہر خواہش میری ٠٠٠٠٠ !! “
✨سدرہ معراج ✨
کوئ اس کے کان کے قریب جھکتے میٹھی سی آواز میں اسے پکارتے ہوۓ رس گھول رہا تھا اور وہ جو رات کے ایک بجے کام سے فارغ ہو کر سویا تھا کہ جانی پہچانی آواز سنتے ہی اس کی آنکھیں پٹ
سے کھلیں چہرے پر سخت تاثرات سجاۓ وہ آتش فشاں کا لاوا بن کر پھٹنے ہی والا تھا جب اچانک سے اس کی نظر بیڈ سے دو قدم کے فاصلے پر کھڑی اپنی جان سے عزیز ہستی پر ٹھہری جو مسکراتے ہوۓ اسے ہی دیکھ رہی تھی اسے دیکھتے ہی چہرے پر خود بہ خود نرمی سی اتری آئی دونوں ہاتھ چہرے پر پھیر کر اشارے سے اسے اپنے پاس بلا کر کمفرٹر سائیڈ پہ کرتا وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا گیا-
ایک نظر سائیڈ ٹیبل پر پڑی اپنی تصویر ڈالتی وہ جھٹ سے اس کے پاس آکر بیٹھی جو اس کے ماتھے پہ آۓ بالوں کو سنوارتا اسے ہی دیکھ رہا تھا اور اب اس کی معصوم سی حرکت کو سوچتے اس کے لب بے ساختہ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے اس کی توقع کے عین مطابق وہ اس کی مسکراہٹ کو اشتیاق سے دیکھتی جھٹ سےدائیں ہاتھ کی انگلی شمائم کے ڈمپل پر رکھ کر بائیں ہاتھ کی انگلی اپنے ڈمپل پر رکھ کر کھلکھلائ اسکی کھلکھلاہٹ دیکھتا وہ ننھے منھے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتا اپنے دونوں رخسار پر رکھ گیا اس کے ہاتھوں کی نرماہٹ نے اسے اندر تک سرشار کیا تھا یہی عمل دہراتے وہ اس کے ہاتھوں کو اپنی آنکھوں پر لگا کر بے اختیار چوم کر اسے اپنے ساتھ لگا گیا –
” پریزے! میری جان اتنی پیاری کیوں ہیں آپ ؟“
محبت سے چور لہجے میں استفسار کرتا وہ اسے مسکرانے پر مجبور کر گیا –
” بھیا — اگر میں آپ سے کچھ کہوں تو آپ مانیں گے ؟ “
وہ پھر سے کوئ فرمائش کرنے والی تھی شمائم اس بات کو جانتا تھا –
” بے فکر ہو کر اپنی خواہش کا اظہار کریں پریزے ‘ آپکا بھائی ہوں آپ میں جان بستی ہے شمائم احتشام شاہ کی پورے حق سے مانگے جو مانگنا ہے یقین مانے میرے بس میں ہوا تو آپ کو مایوس نہیں کروں گا “
ہلکے پھلکے لہجے میں کہتا وہ اسے محبت بھرا مان بخش گیا مگر وہ خاموش رہی نجانے کیوں –؟
” اچھا بتائیں کیا چاہئیے میری پری کو — ؟ “
اس کی جھجھک محسوس کرتاوہ خود ہی اس سے پوچھ رہا تھا کہ ہر بات پر وہ جلد ہی نروس ہو جایا کرتی تھی –
” بابا —!! “
ایک لفظی جواب دیتی وہ نظریں جھکا گئ جبکہ اس کی بات پر شمائم کی مسکراہٹ پل بھر میں سمٹی اس کی ہر خواہش پوری کرنے والا آج بے بس ہوا تھا طویل خاموشی کے بعد وہ ایک گہری سانس خارج کرتا اس کے ہاتھوں کو تھام گیا –
” پریزے — !! آپ جانتی ہیں نا فوجیوں کی زندگی عام لوگوں کی زندگیوں سے مختلف ہوتی ہے وہ اس ملک کے محافظ ہیں ہر وقت تو وہ ہمارے ساتھ نہیں رہ سکتے نا لیکن آئ پرامس یو میں ضرور آپکی بات کرواؤں گا ان سے اوکے ؟ اچھا یہ بتائیں آفس جانا چاہیں گی میرے ساتھ ؟ “
الفاظوں کو بہت خوبصورت انداز میں ترتیب دیتا وہ آخر میں اس کی توجہ اس موضوع سے ہٹا گیا البتہ دل میں اک بوجھ سا تھا اپنے جھوٹ پر مگر فلحال اسے یہی مناسب لگا دوسری طرف وہ جو بڑے غور سے اس کی باتوں کو سن کر دماغ میں محفوظ کر رہی تھی اس کے آفس جانے والی بات پر ٹھٹھک سی گئ –
” سچ میں آپ مجھے اپنے آفس لے کر جائیں گے ٗ لیکن وہاں پر تو سب کام ہی کرتے رہتے ہیں میرے ساتھ تو کوئ بھی نہیں ہو گا نا آپ بھی کام میں مصروف ہو کر مجھے بھول جائیں گے “
وہ پہلے پر جوش ہوتی آخر میں اداسی سے گویا ہوئ جبکہ اس کا دھیان ہٹ جانے پر شمائم نے شکر کا کلمہ پڑھا پھر وہ دلکشی سے مسکرایا کہ اس کی چھوٹی سی جان واقعی بہت معصوم تھی جس کو منٹوں میں اپنی باتوں سے بہلایا جا سکتا تھا البتہ جب وہ کسی بات کو دل پہ لے جاتی اس وقت اسے سنبھالنا بہت مشکل ہو جاتا تھا –
” پریزے میرا پیارا کیوٹ سا بچہ آپ سب سے ذیادہ ضروری ہو اپنے بھائ کے لئے آپکو لگتا ہے آپکے بھائ آپ کو بھولیں گے — ؟ آئ سوئیر یو آپ بلکل بھی وہاں پر بور نہیں ہوں گی !“
