Jo tu na mila novel by Sidra Younas
“وہ میں”
“تم اب بہانے مت بناؤ۔” وہ اس کی بات کاٹ کر بولا۔
“نہیں ایسے نہیں ہے۔” وہ دھیمی آواز میں بولی۔
“اچھا ویسے اس دن میرے سوال کا جواب تو بیچ میں ہی رہ گیا تھا۔” وہ یاد کرکے بولا۔
“ابھی آپ نے لے تو لیا جواب۔” وہ خفگی سے بولی۔
“اچھا تو اب پیار سے جواب دو ناں۔” وہ لاڈ سے بولا۔
“مجھ سے نہیں کیا جائے گا۔” وہ روہانسی ہو کر بولی۔
“مجھے نہیں پتا مجھے سننا ہے۔” وہ اسے تنگ کرنے کے موڈ میں تھا۔
“روحام” وو راہانسی ہوئی۔
“ہاں روحام کی جان۔ ” وہ اتنے ہی پیار سے بولا تو نوال شرما گئی۔
“آپ کام کریں مصروف ہوں گے۔ ” وہ روحام کو ٹالنے لگی۔
“نہیں میں بالکل فری ہوں۔ ” وہ آرام سے بولا۔
“اچھا مجھے بھوک لگی ہے۔” جب کوئی بات نہ بن پڑی تو اس نے فوراً بولا۔
“تو کھانا کھاؤ ناں۔ ” اس کا طریقہ کارگر ہوا۔
“چلو کھانا کھا لو پھر میں دوبارہ کال کروں گا۔” روحام نےکہا۔
“اللّہ حافظ” وہ مسکرا دی اور فون رکھ دیا۔
روحام کی باتیں سن کر وہ بلش ہو جاتی تھی اور جب کوئی جواب نہ بن پڑا تو اس نے بہانہ بنا کر کال کاٹ دی۔





