Skip to content
Home » Siyah-e-Munsaf by Mishaal Rana Complete Novel

Siyah-e-Munsaf by Mishaal Rana Complete Novel

Siyah-e-Munsaf by Mishaal Rana Complete Novel

  • by

سیاہ منصف، ایک ایسا ناول جو آپ کو جرائم کی دنیا کی گہرائیوں میں لے جاتا ہے، جہاں انصاف کی تلاش ایک پیچیدہ پہیلی بن جاتی ہے۔ جبرئیل راؤ، ایک ذہین لیکن پراسرار ماضی کا شکار، ایک ایسے مقدمے کی تحقیقات کر رہا ہے جو اس کے اپنے وجود کے تاریک پہلوؤں سے جڑا ہوا ہے۔

کیا وہ قاتل کو پکڑنے میں کامیاب ہو گا، یا خود اپنے اندر کے شیطان کا شکار ہو جائے گا؟

سیاہ منصف سسپنس، تھرل اور انسانی نفسیات کا ایک ایسا شاہکار ہے جو آپ کو آخری صفحے تک اپنی گرفت میں رکھے گا۔ یہ کہانی آپ کو حیران کن موڑ، خطرناک رازوں اور دل دہلا دینے والے انکشافات سے روشناس کرائے گی۔

Sneak

کچھ دیر بعد ایک ہیڈلائن نے سحرش کو ہلا کر رکھ دیا:

“مقتول ہی قاتل ہے۔ جبرئیل راؤ ہی سیاہِ منصف ہے۔ بھیڑ کی کھال میں بھیڑیا۔”

سحرش حیران رہ گئی۔ پھر ایک ویڈیو دکھائی گئی جو بار بار گلیچ کر رہی تھی۔ اس ویڈیو میں جبرئیل کسی کو مار رہا تھا۔ وہ یقین نہیں کر پا رہی تھی کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ ویڈیو کے گلیچ ہونے کی وجہ سے یہ سچائی پر مبنی نہیں لگ رہی تھی۔ بہت سے لوگ کہہ رہے تھے کہ یہ سچ نہیں ہے بلکہ اسے راستے سے ہٹانے کی سازش ہے۔

ادھر جبرئیل جو حیرت میں مبتلا تھا، اس نے گاڑی کے ریڈیو کی طرف دیکھا۔

“کیا؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟”

جبرئیل کو یقین تھا کہ سیاہِ منصف اسے بہت دھوکہ دے سکتا ہے، اس کا اعتبار توڑ سکتا ہے، لیکن یہ سب کچھ نہیں کر سکتا۔ اتنے دھوکے کے باوجود بھی وہ اس پر یقین رکھتا تھا۔ لیکن کیوں ؟

اچانک اس کی گاڑی پر فائرنگ شروع ہوگئی۔ وہ نیچے جھک گیا۔ خوش قسمتی سے اسے گولی نہ لگی، لیکن گاڑی کسی بھی وقت دھماکے سے اڑُ سکتی تھی۔ وہ نیچے کود گیا اور بھاگنے لگا۔ پیچھے آنے والے لوگ اس کا تعاقب کر رہے تھے۔ جبرئیل پر فائرنگ ہو رہی تھی، اور اسے ایک گولی اپنی دائیں ٹانگ میں محسوس ہوئی، پھر دوسری گولی بائیں بازو میں لگی۔ لیکن وہ لنگڑاتا ہوا چلتا رہا، حتیٰ کہ آخری گولی اس کے سینے میں لگی اور وہ پانی میں جا گرا۔ اس کے ساتھ ہی بہہ گیا۔ پانی سرخ ہو گیا۔

یہ ویڈیو بھی کچھ دیر بعد وائرل ہو گئی ۔

سحرش کو اپنی زندگی کے سب سے بڑے دو صدمے مل چکے تھے۔ وہ حیران تھی اور سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیا کرے ۔

کیا جبرئیل واقعی سیاہِ منصف تھا؟ کیا وہ مر چکا تھا؟

سحرش بے ہوش ہو گئی۔ جب ہوش میں آئی تو اس کے والدین اور باقی سب لوگ اس کے پاس موجود تھے۔ سب کے چہروں پر مختلف تاثرات تھے، لیکن ایان صاحب کے چہرے پر سب سے زیادہ کرب اور ملال تھا۔

سب نے نیوز دیکھی تھی، اور سب جانتے تھے کہ کیا ہوا ہے۔ حکومت نے اس کی موت کی

تصدیق کر دی تھی۔ عوام دل برداشتہ ہو گئی، جبکہ سیاستدان اور کاروباری لوگ جو بدعنوانی کرتے تھے، خوشی منا رہے تھے۔

کچھ خوش تھے، تو کچھ اداس۔ لیکن سحرش نہ خوش تھی اور نہ ہی اداس۔ اس کے پاس جیسے جذبات ہی نہیں بچے تھے۔ وہ بس خالی تھی، بالکل کھوکھلی۔ اس کا دل مردہ ہو چکا تھا۔

ایک انسان کی موت کے پروانے نے کتنے لوگوں کو دکھ پہنچایا تھا ۔

کچھ دیر بعد ایک ہیڈلائن نے سحرش کو ہلا کر رکھ دیا:

“مقتول ہی قاتل ہے۔ جبرئیل راؤ ہی سیاہِ منصف ہے۔ بھیڑ کی کھال میں بھیڑیا۔”

سحرش حیران رہ گئی۔ پھر ایک ویڈیو دکھائی گئی جو بار بار گلیچ کر رہی تھی۔ اس ویڈیو میں جبرئیل کسی کو مار رہا تھا۔ وہ یقین نہیں کر پا رہی تھی کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ ویڈیو کے گلیچ ہونے کی وجہ سے یہ سچائی پر مبنی نہیں لگ رہی تھی۔ بہت سے لوگ کہہ رہے تھے کہ یہ سچ نہیں ہے بلکہ اسے راستے سے ہٹانے کی سازش ہے۔

ادھر جبرئیل جو حیرت میں مبتلا تھا، اس نے گاڑی کے ریڈیو کی طرف دیکھا۔

“کیا؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟”

جبرئیل کو یقین تھا کہ سیاہِ منصف اسے بہت دھوکہ دے سکتا ہے، اس کا اعتبار توڑ سکتا ہے، لیکن یہ سب کچھ نہیں کر سکتا۔ اتنے دھوکے کے باوجود بھی وہ اس پر یقین رکھتا تھا۔ لیکن کیوں ؟

اچانک اس کی گاڑی پر فائرنگ شروع ہوگئی۔ وہ نیچے جھک گیا۔ خوش قسمتی سے اسے گولی نہ لگی، لیکن گاڑی کسی بھی وقت دھماکے سے اڑُ سکتی تھی۔ وہ نیچے کود گیا اور بھاگنے لگا۔ پیچھے آنے والے لوگ اس کا تعاقب کر رہے تھے۔ جبرئیل پر فائرنگ ہو رہی تھی، اور اسے ایک گولی اپنی دائیں ٹانگ میں محسوس ہوئی، پھر دوسری گولی بائیں بازو میں لگی۔ لیکن وہ لنگڑاتا ہوا چلتا رہا، حتیٰ کہ آخری گولی اس کے سینے میں لگی اور وہ پانی میں جا گرا۔ اس کے ساتھ ہی بہہ گیا۔ پانی سرخ ہو گیا۔

یہ ویڈیو بھی کچھ دیر بعد وائرل ہو گئی ۔

سحرش کو اپنی زندگی کے سب سے بڑے دو صدمے مل چکے تھے۔ وہ حیران تھی اور سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیا کرے ۔

کیا جبرئیل واقعی سیاہِ منصف تھا؟ کیا وہ مر چکا تھا؟

سحرش بے ہوش ہو گئی۔ جب ہوش میں آئی تو اس کے والدین اور باقی سب لوگ اس کے پاس موجود تھے۔ سب کے چہروں پر مختلف تاثرات تھے، لیکن ایان صاحب کے چہرے پر سب سے زیادہ کرب اور ملال تھا۔

سب نے نیوز دیکھی تھی، اور سب جانتے تھے کہ کیا ہوا ہے۔ حکومت نے اس کی موت کی

تصدیق کر دی تھی۔ عوام دل برداشتہ ہو گئی، جبکہ سیاستدان اور کاروباری لوگ جو بدعنوانی کرتے تھے، خوشی منا رہے تھے۔

کچھ خوش تھے، تو کچھ اداس۔ لیکن سحرش نہ خوش تھی اور نہ ہی اداس۔ اس کے پاس جیسے جذبات ہی نہیں بچے تھے۔ وہ بس خالی تھی، بالکل کھوکھلی۔ اس کا دل مردہ ہو چکا تھا۔

ایک انسان کی موت کے پروانے نے کتنے لوگوں کو دکھ پہنچایا تھا ۔