Skip to content
Home » Syeda Sehar Syed Zaadi

Syeda Sehar Syed Zaadi

Tere ishq mein kya maine paya by Syeda Sehar Syedzadi Complete novel download pdf

  • by

“زوہرام نے شاک نظروں سے رابیل کو دیکھا جو اب کی بار بہت پریشان دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

“نہیں یہ سب اس نے اپنے کزن کی وجہ سے کیا تھا وہ چاہتی تھی میری باربی روحان کا پیچھا چھوڑ دے” ارتسام غصہ سے ایی بی جے سامنے رکھی ٹیبل پر ہاتھ مارتے کھڑا ہوا ۔۔۔۔

“تم بھول گے ہو کیا کے تم کس کے سامنے بیٹھے ہو” چھپے چہرے والا ایک بندہ اس کے پاس آتے گن اس کے ماتھے پر رکھتے بھنچے لہجے کے ساتھ غصہ سے بولا تو حسام نے لب بھنچتے غصہ سے اسکی جانب دیکھا۔۔۔۔جب کے اپنے ہاتھ سے ارتسام کے ہاتھ کو تھاما ۔۔۔

“ایی بی تم بھی جانتے ہو میں بھی ڈیول کا بھائی ہوں اگر تم بھی اس سیاہی کے بادشاہ ہو تو میں بھی اس سیاہی کا پہرے دار ہوں اگر میرا بھائی خاموش ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں تم ہمارے تعلقات خود سے خراب کرو اگر انڈرولڈ میں دشمنی اس لڑکی کی وجہ سے پالو گے تو خود ” ابھی غصہ سے بولتا ارتسام اپنے گال پر پڑنے والے تھپڑ پر تمھا۔۔۔

یہ تھپڑ مارنے والی درمیہ تھی قہر آنکھوں میں لیے اسے گھور رہی تھی جو خون آشنام نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

“تم اپنی اوقات بھول رہے ہو تو یاد دیلانا اپون نے ضروری سمجھا۔۔۔” اسکا انداز ایسا تھا جیسے اسے چیلنج کر رہی ہو۔۔۔

“ایی بی ہم ہاتھا پائی نہیں کرنے آۓ یہاں سمجھے” حسام نے قہر بھری نظر درمیہ پر ڈالی اور ارتسام کو سختی سے بازو سے پکڑا جو تیش سے خون سی گھونٹ بھر کر رہ گیا۔۔۔۔

Daagh e inaam se anjam tak Syeda Sehar Saeed Zaadi Complete

“بابا م..میں نے مارڈالا اپنی گڑیا کو” وہ ان کے پاس آتے ایسے بولی جیسے اس کے وجود میں کچھ بھی باقی نا بچا ہو سرخ انکھیں اپنے بابا پر گاڑے وہ سنسناتے لہجے میں کہتے اپنے بابا کو صدمے سے چور کر گئ جب ان کے پاس انسپکٹر بھی آیا اور پیچھے اسکا بھائ بھی تھا… کچھ کانسٹیبل بھی تھے ساتھ ڈاکٹر بھی اچکا تھا..

“بھائ امرش چلی گئ مجھے چھوڑ کر میں نے خود اپنی گڑیا کو مار ڈالا بھائ” وہ امرش کا وجود واصف کی گود میں ڈالتے بولی جس پر واصف ساکت نظروں سے دیکھنے لگا ڈاکٹر کے ساتھ موجود انسپکٹر اسکی بات سن کر اس لڑکی کو دیکھنے لگے جو ویران آنکھوں سے ان سب کو نہیں بس اپنی امرش کو دیکھ رہی تھی جیسے واصف اپنی آغوش میں چھپاۓ کھڑا تھا..

“تمہیں ہمارے ساتھ چلنا ہوگا لڑکی” انسپکٹر کڑک آواز میں بولا جس پر اب جا کر حرمین کی آنکھوں میں خوف ابھرا…

“بابا مجھے بچا لیں میں نے غلطی سے کیا جو کیا” حرمین فورا اپنے بابا کے کندھے کو جکڑتے بلکتے بولی جس پر لیڈی کانسٹیبل نے اسکا بازو پکڑا اور اپنے ساتھ گھسیٹنے لگی…

عتیق صاحب فورا ہوش میں آۓ…

“نہیں ایسا کچھ نہیں ہوا میری بیٹی کو چھوڑو” عتیق صاحب تڑپ کر حرمین کے روتے وجود کو خود میں سیمیٹتے بولے جب وہ انسپکٹر بنا انکی باتوں پر کان دھرے حرمین کو ان سے الگ کرتے اپنے ساتھ لے جانے لگے وہ روتی رہی تڑپتی رہی مگر کسی نے نہیں سنی واصف تو خود انسپکٹر کو سمجھانے کی کوشش میں لگا تھا ایسا کچھ نہیں مگر وہ انسپکٹر پولیس اسٹیشن آ کر بات کرنے کا کہتا اسے اپنے جیپ میں بیٹھاتے نکل گے پیچھے وہ دونوں کھڑے رہ گے آس پاس ایک بھیڑ سی لگ گئ تھی جسے واصف دیکھتا لب بھینچ چکا تھا…

“بابا گھر چلیں پہلے امرش کے لیے کفن دفن کا انتظام کرنا ہے میں تایا کے ساتھ جاونگا پولیس اسٹیشن اور ہماری گڑیا کو لے آونگا چلیں پلیز”