Skip to content
Home » Taghoot novel by Anzum Aziz

Taghoot novel by Anzum Aziz

Taghoot novel by Anzum Aziz

  • by

پو چھوگی نہیں کیا کہا اسنے کیا پوچھوں اور کیا کریں اب میں تھک گی ہو بھابی لڑ لڑکر۔۔

آب اور نہیں ہے

مرے پاس ہمت ۔۔،

تم تو اپنے ہونے والے محرم سے بات کرنے گی تھی

لکین مرہ نے کہا ک تم صعبی سے ملنے گی

تھی تمہارا بھای کہتا کہ

تمہارا بھائ کہتا ہے

کہ وہ تمسے بات کرنے کی اجازت

ابا سے لے چکا تھ، لکین تم نے اچانک بولا بیجا کہ مرہ کے گھر آؤ ۔۔

لکین وہ تم سے یہی ملنے کا سوچ رہا تھآ لکین وہ پھر بھی تمہاری بات سننے

کے لیے آگیا کیو نکہ وہ اپ کو دیکھانا چاہتا تھا مانو نے تڑپ کر پوچھا کیا ۔۔۔؟

یہی کہ تم بے داغ ہو ۔

اور وہ جانتا ہےکہ صفہ اسے پسند کرتی ہے اور رمضہ نے تم سے اپنی

محبت کا بدلا لیا کونسی

محبت تمہارے بھای کی تو اسمیں مرا کیا قصور ہے

اور اسلیے ان تینوں بہنو نے ملکر تمہارے اوپر بہطان لگاے

اسلیے وہ تم سے انکے گھر ملنے آگیا

۔۔تمیارا بھائی نہیں چہاتا تھا

کہ تمہیں اس بات کا پتہ چلے اور تم پریشان ہوگی اسلیے۔۔۔

لکین میں چہاتی ہو تم اپنے دشمنوں کو پہچانوئ