Skip to content
Home » The evil lady novel by Mahi Shah

The evil lady novel by Mahi Shah

The evil lady novel by Mahi Shah 

  • by

کہ۔۔۔۔ کون ہے۔۔۔ وہ لڑکی ڈر کے مارے بولی تھی۔۔۔

گمنام ہے کوئی۔۔۔بدنام ہے کوئی۔۔۔کس کو خبر کون ہے وہ۔۔انجان ہے کوئی۔۔۔گمنام ہے کوئی۔۔۔

یہ آواز سن کے وہ لڑکی تھر تھر کانپنے لگی تھی۔۔۔

اا۔۔۔۔ایول۔۔۔

ایول نے اپنا چاکو نکال کر اس لڑکی کے ہونٹوں پر رکھا تھا وہ لڑکی مہندی کے ڈریس میں سامنے کھڑی سفاک لڑکی کے سامنے کانپ رہی تھی

تمہیں میرے عشق سے ایول کے عشق سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی ۔۔۔۔۔

اس لڑکی کو تو سامنے کھڑی موت نظر آرہی تھی وہ اس کی باتیں سن ہی کب رہی تھی۔۔۔۔۔

میں تمہیں مار نہیں سکتی تم کیونکہ تم کوئی گنہگار نہیں ہو نا لیکن تم بے گناہ بھی نہیں ہو۔۔۔۔

میں میں نے کیا کیا ہے وہ لڑکی ہمت کرتی بولی تھی میں میں تو کایا۔۔۔۔

اس لڑکی کا اتنا کہنا تھا کہ ایول نے ایک زوردار تھپڑ اسے مارا تھا کہ اس کا سر زور سے سامنے دیوار کے ساتھ لگا تھا وہ وہاں ہی گری تھی۔۔۔۔۔

سر سے خون نکلنے لگا تھا ایول نے اپنا چمکدار چاکو نکالا تھا اتنی چمک تھی اس چاکو اور چاکو کے اوپر لکھا بڑا سا ایول کہ کسی کو بھی خوف میں مبتلا کر دیتا تھا وہ لڑکی ایول کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ خوف سے آواز نکالنے کی کوشش کرنے لگی تھی لیکن نکال نہیں پا رہی تھی۔۔۔۔۔

وہ آرام سے اس کے پاس بیٹھ کے اور اس لڑکی کا ہاتھ پکڑ لیا وہ لڑکی کے سر سے خون نکل رہا تھا

تمہیں میرے عشق کو اپنی ہاتھوں کے لکیروں میں لکھنا چاہا تھا نا تو ایسا کرتے ہیں جن ہاتھوں کے لکیروں میں میرا عشق ہے ان لکیروں کو مٹا دیتے ہیں وہ آہستہ آہستہ اس کے ہاتھوں کے لکیروں میں اپنا چاکو چلانے لگی تھی اس لڑکی کی ضبط سے چیخیں دب گئی تھی۔۔۔۔

ششش۔۔۔۔ کچھ دیر بعد تم پر سکون ہو جاؤ گی اس کے ہاتھ خون سے بھر چکے تھے وہ ایک ایک کر کے اس کے ہاتھ پر چاکو چلاتے اس کا ہاتھ زخمی کر چکی تھی اور وہ لڑکی درد نا برداشت کرتے ہوئے بے ہوش ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔

یہ تو بے ہوش ہو گئی ایول نے اپنی پاکٹ سے ایک ڈیوائس نکالی تھی جو کہ الیکٹرک شاٹ تھا ایول اسے بس تب ہی استعمال کرتے تھے جب کسی انسان کو زندگی اور موت کے بیچ لٹکانا ہو ورنہ وہ سیدھا اپنا تیز دار چاکو اس انسان کے دل پر وار کرتی تھی اور وہ انسان دوسرا لفظ بولنے سے قاصر ہو جاتا تھا۔۔۔۔۔

ایول نے پہلے اسے تھپڑ مار کر اسے ہوش میں لانا چاہا تھا اور وہ لڑکی ہوش میں آئی تھی وہ لڑکی اس ڈیوائس کو دیکھ کر خوفزدہ نظروں سے ایول کو دیکھنے لگی تھی۔۔۔۔

ایول نے بغیر اس کی نظروں کو دیکھے وہ ڈیوائس اس لڑکی کی گردن پر لگا دی تھی وہ لڑکی تڑپی تھی 10 سیکنڈ کے بعد اس لڑکی کا وجود ساکن ہوا تھا اور ایول مسکراتی اس کو چھوڑ کر اٹھی تھی۔۔۔۔

شکر کرو اور تمہیں میں نے مارا نہیں تم نے میرے عشق پر نظر رکھ کر برا کیا تھا اب تم جاؤ سیدھا کومے میں یا اوپر۔۔۔۔