Skip to content
Home » Uqba Ahmed Shah

Uqba Ahmed Shah

Khamoshi afsana by Uqba Ahmed

  • by

آپا کلثوم، اسے ناجانے کتنے پہر یوں ہی بغیر کسی احساس کے تکے گئیں اور پھر مُکّھی کے پکارنے پر پیچھے کو مڑیں۔ اسی لمحہ کرم دین نے نظریں اٹھا کر پکارنے والے وجود کو دیکھا تھا اور مُکّھی نے زندگی میں پہلی بار ان نظروں میں کوئی حقارت، کوئی ملامت نہ محسوس کی بلکہ اس نے وہاں ایک اور جذبہ دیکھا تھا اور وہ تھا بے بسی کا، سالوں سے خود اذیتی کی بھٹّی میں خود کو جلانے کا، پر وہ بے بس تھی کہ وہ اپنے لیے بھی کبھی سکون کا انتظام نہ کر سکی تھی، اس نے باپ کے رویے کی وجہ سے لوگوں سے کوسوں دور رہنا سیکھا تھا۔ باپ کے ہوتے ہوئے بھی اس نے ساری عمر پھوپھی کی نگرانی اور مستقبل قریب میں ہونے والے سسرال میں گزار دی اور باپ کی محبت کی خیرات اس کی جھولی میں ڈلوانے کے لیے پھوپھی نے اس کو اس کے ہی گھر میں فقیر کی طرح چکر لگوائے، جو چند پل عنایت کرنے والے کی طرف آس سے تکتا ہے اور پھر آس کے ٹوٹنے پر اپنی راہ لے لیتا ہے۔ آج تو پھر عنایت کرنے والے کی حقیقت سامنے آئی تھی کہ وہ خود بھی خالی دامن اور چیتھڑوں کا بھرم رکھنے والا فقیر تھا، بس فرق اتنا تھا کہ وہ مُکّھی کی طرح آستانے پر پھیرے نہ ڈالتا تھا۔

Sarma ki jalti raat afsana by Uqba Ahmed

عیسیٰ احمد اور سکینہ بی بی کا کنبہ بچوں سمیت آٹھ افراد پر مشتمل تھا، ساری زندگی صبر و شکر سے گزار دی اور یہی درس بچوں کو دیا پر بھلا کیا سب نہیں جانتے کہ پانچوں انگلیاں کاہے کو برابر ہوویں، اور کہاں لکھا ہے کہ ماں باپ مشکل صبر و شکر سے کاٹ لیں تو اولاد سکھی رہتی ہے۔ جو دنیا میں آگیا، اس نے مشکل بھی دیکھنی ہے اور خالق ساتھ آسانی بھی رکھتا، پرآسانی تلاشنی پڑتی ہے۔ بچے جوں جوں جوانی کی دہلیز میں قدم رکھتے گئے، دونوں میاں بیوی سر جوڑ کے بیٹھ جاتے۔ بڑی حمیرا اور سمیرا تو خاندان میں ہی مانگ لی گئیں، پھر بیٹوں کے لئے بھی نظر میں خاندان کی لڑکیاں موجود تھیں اور دونوں میاں بیوی کی عادات ایسی تھیں کہ کوئی بھی بن مانگے دے دے پر مہرو کے معاملے میں کوئی بھی مہرو کے ماں باپ کے مزاج کی صرف گارنٹی پر مطمئن نہ تھا۔ سب اس کی سستی، جو منہ میں آیا کہہ دینا، اور ایسی ہی لاپرواہی والی عادات سے خوب واقف تھے اور اب جبکہ وہ بھی بڑے بہن بھائیوں کی طرح میٹرک سے نبردآزما ہو چکی تھی اور اس کو کھونٹے سے لگانے کا سوچا جا رہا تھا خواہ چٹ منگنی پٹ بیاہ ہی کرنا پڑے، خواہ گھر میں بڑوں کی شادی کے ارمان کو ابھی تک کے لئے ملتوی کرنا پڑے۔ کیونکہ مہرو کو عقل دینے اور سگھڑ بنانے کا یہی تو صحیح وقت تھا پھر جو وہ اور بے لگام ہو جاتی تو کون سے کھونٹے باندھا جاتا، ماں باپ کو ہی لتاڑتی۔