Skip to content
Home » Uyoon Abdul Sattar

Uyoon Abdul Sattar

Mohtaaj afsana by Uyoon Abdul Sattar

  • by

“عائشہ پتر مینو معاف کردے۔ میں تیرے نال چنگی نہیں کیتی۔ میری دھی کاش میں تیری گل من لئی ہوندی۔ کاش میں اپنیاں دا محتاج نہ ہوندا۔ کاش میں محتاج نہ ہوتا۔ مجھے پیسوں کی محتاجی سے زیادہ اپنوں کے ساتھ کی محتاجی مارگئی۔ میرا تو سب کچھ چلا گیا۔ میں خالی ہاتھ رہ گیا۔ پتر میں تیری قدر نہیں کیتی۔ کاش میں تجھے نوکری کرنے دیتا۔ تجھے اپنے قدموں پہ مضبوط ہو لینے دیتا۔ کاش میں محتاج پرست نہ ہوتا۔ کاش میں اپنے فیصلوں میں محتاج نہ ہوتا۔” وہ اپنی پیشانی پہ ہاتھ مارتا جاتا ۔ اپنی بیٹی کی قبر پر بیٹھے اور آنسو بہاتا جاتا تھا۔