Wabal e ishq by Saira Ramzan Complete novel
آپ پھر آگئے۔۔۔۔
میں ایف آئی آر درج کروانے آیا ہوں ۔۔۔تو آپ مجھ سے عزت سے پیش آئے۔۔۔
مہروش نے بڑے غور سے اس کے چہرے پر دیکھا ۔
وہ بلکل سیریس بیٹھا تھا ۔
جی لکھوائیے۔۔۔۔۔کس کے خلاف لکھوانی ہے۔۔۔۔
مہروش نے دانت پیستے کہا۔
اپنی بیوی کے خلاف۔۔۔۔۔۔۔۔
مہروش نے اپنی ہنسی کو ضبط کیا ۔
کیوں لکھوانی ہے اپنی بیگم کے خلاف۔
وہ میرے ساتھ ہنی مون پر نہیں جا رہی۔
کیونکہ وہ کام میں بزی ہے اسی لئے۔۔۔۔۔
پھر وہ ہنس پڑی۔
اچھا میری بات سنیں ۔۔۔۔ مہروش کے کہنے پر وہ اسکی جانب متوجہ ہو گیا۔
مہروش نے ایک چیک نکال کر اس کے سامنے رکھا ۔
زوار نے دیکھا تو وہ 90 کروڑ کا کیش تھا۔
زوار نے گردن اوپر کر کے دیکھا ۔
زوار اگر تم چاہتے ہو ہماری زندگی پرسکون گزرے تو تمہیں یہ رقم رکھنی ہوگی۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔
مہروش۔۔۔۔ہم اس رقم سے ایک یونیورسٹی بنوا لیتے ہیں۔۔۔۔۔ ہر طالبعلم مفت تعلیم حاصل کرے گا۔۔۔۔۔۔ہم دونوں مل کر اس یونیورسٹی کو چلائے گے۔
