Skip to content
Home » Yakhbasta Judaiyaan novel by Rabail Saleem

Yakhbasta Judaiyaan novel by Rabail Saleem

Yakhbasta Judaiyaan novel by Rabail Saleem

  • by

“Be ready for meet up tomorrow”

“کل ملنے کے لیے تیار رہیں “

لیپ ٹاپ بند کیا ہی تھا کہ نفیسہ کمرے میں آ داخل ہوتے ہیں برہم ہوتے ہوئے بولی ۔

“شاباش بھائی کی شادی ہے اور تم ادھر بھی کام میں مگن ہو ، تھوڑی سی شرم کرلو ، کچھ دن کے لیے کام روک نہیں سکتے”

نفیسہ آپی آپ شروع ہی ہو گئی ہیں سانس تو لیں، چھوٹی سی جان ہے دم نکل جائے گا “

“شرم کرو، میں کیا کہہ رہی ہوں اور تم کیا کہہ رہے ہو”

“اوہو یہ غصہ تو مت کریں ، چھوٹی سی ناک ہے اس پر بھی غصہ بٹھایا ہوا ہے “

شامییییر! تقریبا چلاتے ہوئے بولی

اچھا اچھا سوری اب نہیں کہتا ، مگر کام تو کام ہے یہ تو کرنا ہی ہے ، مگر وعدہ میں سب فنکشنس میں بھرپور حصہ لوں گا”

“بالکل اور اب تم میرے ساتھ چل رہے ہو کیوں کہ ہم نے ڈھولکی رکھی ہے ، اور کوئی بہانہ نہیں چلے گا”

“اوکے مسز عادل ، شامیر سرنڈر کرتے ہوئے بولا”

نفیسہ اس کے انداز پر مسکرا دی اور مڑنے ہی لگی تھی کہ شامیر کی آواز پر پھر رکی

“آپی وہ کب آ رہی ہے ؟”

“کتنے بے صبرے ہو رہے ہو ، آ جائے گی وہ بھی”

“کیا کروں اتنا وقت ہو گیا ہے اسے دیکھے ہوئے “

“انتظار کرو!” یہ کہتے ہوئے نفیسہ کمرے سے نکل گئی

“وہی تو کر رہا ہوں اتنے سالوں سے” شامیر نے کہا اور چینچ کرنے کے لیے مڑ گیا، ور نہ نفیسہ اس کا لیپ ٹاپ ہی توڑ دیتی!