Skip to content
Home » Zainab Naseer

Zainab Naseer

Ek arzoo by Zainab Naseer Complete novel

  • by

یہی وہ لڑکی ہے سر۔۔

اندر چلو اور ایک ایک چیز کی تلاشی لو۔انسپکٹر کے کہنے پر ڈی ایس پی نے فورا حکم نامہ جاری کیا۔ عائشہ یونہی بے یقینی اور حیرانگی کے جذبات میں گھری کھڑی تھی کہ ہاتھ پر بندہی جانے والی ہتکڑیوں نے اس کو ہوش دلایا۔

اپ۔۔۔۔ اپ لوگ یہاں کیا کر رہے ہیں ۔مجھ سے کیا چاہیے اپ کو ۔میں نے کیا کیا ہے ۔عائشہ نا سمجھی میں انہیں اپنے گھر کی حالت ابتر کرتے دیکھ رہی تھی ۔میری چیزوں کی تلاشی۔۔۔۔۔

چٹاک ۔۔ وہ ابھی چیخ ہی رہی تھی کہ فیمیل پولیس انسپیکٹر نے ایک زوردار تھپڑ مار کر اس کی بولتی بند کروائی۔ یہ سوال تو تمہیں ربیعہ کو مارنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔

کیا۔۔۔۔ ربیعہ۔۔۔۔ ربیعہ مر گئی ہے ۔۔۔ عائشہ کی بے یقینی میں ڈوبی گھٹی گھٹی اواز ابھری۔ابھی کل تو میں اس سے مل کر ائی ہوں وہ یونہی بے یقینی کی کیفیت میں بول رہی تھی ۔

جی ہاں،۔۔۔ کل ہی اپ مل کر ائی ہیں اوراسے ہمیشہ کے لیے موت کی نیند سلا ائی۔۔ اس فیمیل انسپیکٹر نے حقارت امیز نظروں سے دیکھتے ہوئے اس سے کہا۔

بکواس بند کرو۔ اپنی میں نے کسی کو نہیں مارا ۔۔۔

اے ۔۔۔۔۔۔چپ کر۔ اس فیمل انسپیکٹر نے زوردار گرج میں اے کو لمبا کرتے ہوئے عائشہ کو چپ رہنے کی تلقین کی۔ یہ تو تھانے جا کر پتہ چلے گا بی بی۔۔۔ لے چلو اسے ڈی ایس پی نے مسلسل بولتی عائشہ سے تنگ ا کر اسے پولیس اسٹیشن لے جانے کو کہا۔ پولیس اسی طرح تلاشی میں مگن تھی ۔جیسے ہر ایک ایک چیز کو سکین کر رہی رہی تھی ۔تو دوسری طرف عائشہ کو ہتھکڑی باندھے نیچے لے جایا جا رہا تھا۔ پوری بلڈنگ کے لوگ اسے اس طرح جاتا دیکھ رہے تھے کوئی توبہ توبہ کر رہا تھا تو کوئی حیران ہو رہا تھا

ارے یہ تو عائشہ بچی ہے یہ کسی کو پھول نہ مارے ،یہ قتل کیسے کر سکتی ہے۔ کچھ بھلے دل والی آنٹیاں افسوس سے اسے دیکھ رہی تھی تو کسی کی زبان پہ یہ الفاظ تھے

اللہ اللہ کیسا زمانہ اگیا بھئ، ویسے تو بڑی پردے والی بنتی ہے کرتوت دیکھو میڈم کے ۔۔۔

عائشہ رو رو کر ہلکان ہو گئی تھی۔ اس کی زبان میں نے نہیں مارا ۔۔۔میں نے نہیں مارا۔۔۔ کا ہی ورد کیے جا رہی تھی۔ پولیس اسے گاڑی میں بٹھا چکی تھی۔ گاڑی پولیس سائرن بجاتی اگے بڑھ گئی۔

افف۔۔ربیعہ ۔۔میں تمہیں پورے کالج میں ڈھونڈ کر ا رہی ہوں اور تم ادھر ان کے پاس بیٹھی ہو ۔

عائشہ کو نہیں معلوم تھا کہ ربیعہ کی کب ڈیتھ ہوئی اور اسے کس نے مارا تھا اور اسے اس بات کی سمجھ بھی نہیں ارہی تھی کہ اس پر الزام کیوں لگایا جا رہا ہے ۔جب اس کے رونے دھونے سے کسی پر کوئی اثر نہ ہوا تو زندگی سے ہاری اس لڑکی نے گاڑی کی پشت سے سر ٹکا کر بے اواز انسو بہانا شروع کر دیے۔ ساری یادیں در کھلا پا کر جیسے حاضر ہونا شروع ہو گئی ہوں۔۔۔

عائشہ تم کب باز اؤ گی۔ ان کو کتنا برا لگا ہوگا ۔ربیعہ اس کے انداز پر احتجاج کر رہی تھی۔

تو لگ جائے برا۔۔ میری طرف سے بھاڑ میں جائیں ،سخت زہر لگتی ہیں مجھے وہ لڑکیاں ۔۔۔