Zindagi shajar aur main by Bint e Mehmood Complete novel
“ماہا تم کب تک اپنا وقت ضائع کرتی رہو گی” میں نے فون اٹھاتے ہی پوچھا تھا۔
“جب تک آپ مان نہیں جائیں گے”اس کا اطمینان قابل دید تھا۔
“میں کبھی بھی نہیں مانوں گا” میں نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
“مجھے یقین ہے آپ مان جائیں گے”اس نے فورا کہا تھا۔
“میں مان بھی جاؤں تب بھی ایسا نہیں کروں گا۔
میں اپنے پیشے اور ادارے پر کسی کی اٹھی انگلی برداشت نہیں کر سکتا” میں نے تھکے ہوۓ انداز میں کہا تھا۔
“آپ ایک بار ہاں بول دیں میں یونیورسٹی جانا چھوڑ دوں گی۔
کلاس میٹس سے نہیں ملوں گی کسی کو پتا ہی نہیں چلے گا’اس نے کہا تھا۔
اس کی بات پر میں کچھ پل کو خاموش ہو گیاتھا۔
“اور اگر تمہارے گھر والے نا مانے تو۔۔۔
کیا تم ان کی مرضی کے بغیر مجھ سے شادی کر لو گی؟” میں دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ کس حد تک جا سکتی ہے۔
“ایسا نہیں ہو سکتا کہ بابا میری کوئی بات نا مانیں”اس نے ہنستے ہوۓ کہا تھا۔
“اگر ایسا ہو جاۓ تو” میں نے پوچھا تھا۔
“نہیں ہو سکتا”
“فرض کر لو”
“جس چیز کا مجھے معلوم ہے،میں خوامخواه کیوں فرض کروں”اس نے ہنستے ہوۓ کہا تھا۔
“اچھا تمہارے بابا تو مان جائیں گے اور اگر تمہاری امی نا مانیں تو”؟پتا نہیں یہ سب میں اس سےکیوں پوچھ رہاتھا ۔
