Skip to content
Home » Archives for July 2024 » Page 6

July 2024

Sahira novel by Anum Ahmed

  • by

“آپ کو ایسا نہیں تھا کرنا چاہیے” طاہرہ عام سے حلیے میں کھڑی آنکھوں میں دبہ دبہ سا غصہ لیے کہہ رہی تھی اس کے عام سے حلیے میں بھی ہیل کی ٹک ٹک لبوں کی لپ اسٹک بالوں کا جوڑا کہیں غائب نہ ہوتا تھا

“میں… نے وہی کیا…. جو مجھے کرنا تھا” بلاج حسین نے رک رک کے اپنی بات مکمل کی

“لیکن یہ کوئی اصول نہیں ہے کہ ایک بیٹے کو آپ زیادہ حصہ دیں اور دوسرے کو کم”

وہ دبا دبا سا چلائی

“تم بھول رہی ہو ۔۔میں نے ۔۔۔۔۔دونوں کو ۔۔برابر برابر دیا ہے سب” انہیں بولنے میں دشواری ہو رہی تھی

“مجھے پتہ ہے تمہیں مسلہ اس بات سے نہیں ہے ، اصل مسلہ تمہیں ساحرہ کو دیے گے اثاثے پر ہے” انہوں نے بہت کوشش سے ایک ہی سانس میں اپنی بات مکمل کرنی چاہی

ساحرہ کے نام پہ طاہرہ کے چہرے پہ ایک سایہ سا آیا اور اگلے ہی لمحے گزر گیا

“ہاں مجھے اسی سے مسلہ ہے آخر اپ کیسے اس کو یہ سب دے سکتے ہیں ، حلانکہ خدمت ساری زندگی میں نے کی اپ کی بجائے آپ یہ سب مجھے یا میرے بیٹوں کو دیں آپ اس کے حوالے کر رہے ہیں” اس نے ہاتھ جھلا جھکا کر چینج کہ کہا اس بات کا خیال کیے بغیر کے اسے اپنے سسر کا خیال رکھنا تھا جو چند دن کے ہی مہمان تھے

Dastan e mohabbat saleem anarkali novel by Fatima Nazir Khan

  • by

یہ ایسی داستان کی کہانی ہے جو

کبھی نہ دیکھی ہوگی اور نہی

سونی ہوگی مگر یہ داستان

کیا اس داستان کی طرح ہوگی کیا

اُسکی طرح اُسکا نصیب ہوگا

یا یہ داستان بلکل مختلف ہوگی

جاننے کیلئے پڑے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Mohabbat humsafar meri by Rashida Riffat

  • by

“اماں آگئی ہیں ابا اور ساتھ میں ایک دلہن بھی لائی ہے اتنی پیاری اتنی خوبصورت بالکل ڈراموں والی۔”
“کون دلہن۔ابا نے اسے ٹوکا۔
“اماں کہہ رہی تھی تمہاری بھابھی ہے۔”اجو نے وفور مسرت سے اگاہ کیا۔
“میری بھابھی۔”ابا نے اچھنبے سے پوچھا شاید ان کے حواس اب تک پوری طرح بیدار نہیں ہوئے تھے۔
“افوہ ابا آپ کی نہیں ہماری بھابی۔آپ کی تو بہو ہوئی نا بس اب جلدی سے آجائیے بھابھی بہت پیاری ہیں ابا بھائی کے ساتھ جوڑی خوب سج رہی ہے۔”اجو بتا کر پھر ڈرائنگ روم کی طرف بھاگا۔ حیران پریشان ابا اس کے پیچھے تھے۔
“آآئیں عمر کے ابا دیکھیں اللہ نے بیٹھے بٹھائے اپنی رحمت سے نواز دیا ہمیں۔ بہو ہے یہ آپ کی۔”انہوں نے مسرور سے انداز میں آگاہ کیا تھا پھر دلہن سے مخاطب ہوئی۔
“چلو بیٹا اپنے ابا کو سلام کرو۔”اور دلہن نے دھیمی سی اواز میں سلام کر کے فورا اماں کے حکم کی تعمیل کی تھی۔
“دنیا سے نرالے ماں باپ۔”عمر بیزار کن تاثرات چہرے پر سجا کر اپنے کمرے میں آگیا۔
“بہت ہو گئی عمر اپنے چہرے کے زاویے درست کر لیں۔”اماں الٹا اس پر ہی بگڑی پھر عفی کا شانہ پکڑ کر ہلایا تھا۔
“سونے دیں نا صبح ملے گا اپ کی بہو سے۔”وہ بیزاری سے بولا تھا۔
“کیسے سونے دوں پھر بہو کہاں سوئے گی۔”اماں نے جیسے اس کی عقل پر ماتم کیا اور وہ تو گویا کرنٹ کھا کر اٹھا تھا۔
“کیا مطلب ہے اپ کا اپنی بہو کو اپنے پاس سلائیں میرا کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے اس سے۔”
“تیرا دماغ تو نہیں چل گیا عمر۔”اماں نے خفگی سے اسے دیکھا۔

Tu mily mil jaey rahat novel by Maryam Rajpoot

  • by

یہ کہانی ایک ایسے شخص سے شروع ہوتی ہے جس نے فقت ایک شرط کی حاتر ایک معصوم سی لڑکی کو اپنے جال میں پہنسایا تھا محبت کے جال میں

یہ کہانی ہے سردار وہاج سلطان

کے عشق کی ۔۔۔اسکے ہجر کی ۔۔اسکے جنون کی۔۔

یہ کہانی ہے دوہا میر کی جسکے اپنوں نے اسے ہود جہنم میں دھکیلا تھا اسکے پیارے نانا نے اسے ایک سنگی انسان کے ساتھ باندھا تھا اسکی زندگی میں زہر گھولا تھا ۔۔

ایک حاسد کی جسنے دوہا میر کو تباہ کرنے کی قسم کھایی تھی اسکو درد دیا تھا ۔۔

یہ کہانی ہے دوہا میر کی ۔۔اسک عشق کی۔۔۔اسکے درد کی ۔۔۔اسکے سردار کر عشق میں قید ہونے کی۔۔

یہ کہانی ہے شاہ کے انتقام کی اور دلربا کے عشق کی۔۔

یہ کہانی ہے وامق سلطان کی محبت کی ۔۔روشانی راہب کمال کے ونی ہونے کی ۔۔۔ان دونوں کی کہانی۔۔

یہ کہانی ہے انتقام کی ۔۔جنون کی۔۔کسی کے عشق کی تو کسی کے ہجر کی ۔۔تو کسی کے حسد کی۔۔دو خاندانوں کی کہانی

Woh masoom si short novel by Maham Sheikh

  • by

اس لڑکی پر منحصر ہے جو بہت ہی خوب صورت ہے۔ یہ کہانی ایک معصوم سی لڑکی کی ہے اور اس کے خواب اور خواہشیں بھی اتنی ہی معصوم اور خوبصورت ہیں۔ جس کا نام ماہی ہے اس کے خاندان میں ماں باپ اور دو بڑے بہن بھائی ہے۔ جو کہ جڑواں ہیں۔ بہن کا نام دی نینا ہے اور بھائی کا نام وقار ہے۔ باپ کا نام احمد شاہ ہے اور ماں کا نام عالیہ ہے۔ آج سے 22 سال پہلے احمد شاہ کی شادی عالیہ سے ہوئی جو کہ ان محبت کی شادی تھی احمد شاہ اور عالیہ شاہ دونوں کزن تھے یہ ایک دوسرے سے بے حد محبت کرتے تھے۔ احمد شاہ شادی کے بعد می اپنی بیگم سے سے ویسے ہی محبت کرتے رہے جیسے ہمیشہ کرتے تھے

Sanam re novel by Khanzadi

  • by

بلیغ کی سرخ آنکھیں اسے ہمیشہ ڈرا دیتی تھیں۔۔۔ اور آج تو شاید اسکی آنکھیں جلا کے خاک کر دینے کا ارادہ رکھتی تھیں۔۔۔

وہ اس کی سرخ آنکھوں سے نظریں چرا گئی تھی۔۔۔ جن میں غصہ تھا۔۔۔

شفق تم جا کر اپنے شوہر کو دیکھو اس کی بازو کا زخم بار بار شاور لینے سے خراب ہو چکا ہے۔۔۔ رنیب کو میں اکیلا لے جائوں گا۔۔۔ تم اپنے شوہر پر توجہ دو۔۔۔

بلیغ نے سرخ آنکھیں رنیب پہ ٹکاتے کاٹ دار لہجے میں کہا تھا ۔۔۔ جہاں شفق کا دھیان اس کے کہنے پہ درید کی جانب گیا جس کے زخم کے خراب ہونے کا سن اسکا دل بے چین ہوا تھا وہیں۔۔۔ وہیں ۔۔۔ اسکے لہجے کہ سرخ مہری پہ عجیب کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے ۔۔ جبکہ ہتھیلیاں پسینے سے بھیگے گئی تھیں۔۔۔ وہ چہرہ جھکا ہونے کے باوجود بلیغ کی سرد نظریں اپنے آر پار ہوتی محسوس ہو رہی تھیں ۔۔۔ وہ خوف سے کانپ گئی تھی۔۔۔۔

تمھیں اب کیا گاڑی تک آنے کے لیے انویٹیشن دینا پڑے گا۔۔۔ شفق کے جانے کے بعد بھی جب وہ اپنی جگہ کھڑی رہی۔۔۔ تو بلیغ غصے سے دھاڑا تھا ۔۔۔ جہاں وہ اپنے جگہ سے اچھلی تھی۔۔۔ وہیں آنسو بھی پلکوں کی باڑ توڑتے باہر نکلے تھے۔۔۔ بلیغ نے بغیر اس کی پرواہ کیے۔۔۔ بازو سے کھینچ۔۔۔ فرنٹ سیٹ پہ پٹخا تھا ۔۔۔۔ بلیغ کی اس حرکت پہ۔۔۔ رنیب نے با مشکل اپنی چیخ روکی تھی۔۔۔ پریشانی۔۔۔ ساتھ بخار ۔۔۔ آنکھوں کے آگے چھاتا اندھیرا۔۔۔ اور اوپر سے بلیغ کا بے دردی سے کھینچنا۔۔۔ وہ با مشکل ہی اپنے حواس بحال رکھ پائی تھی۔۔۔۔ بلیغ نے گاڑی میں بیٹھ اسکی جانب جھکتے۔۔۔ اسکا سیٹ بیلٹ باندھا تھا۔۔۔ اس دوران بلیغ کا کندھا دو بار رنیب کے کندھے سے مس ہوا تھا۔۔۔ جہاں رنیب نے ۔۔ اسکے لمس پہ آنکھیں زور سے میچیں تھیں۔۔۔ وہیں بلیغ اسکے تپتے جسم اور غیر ہوتی حالت۔۔۔ کو نظر انداز کیا تھا ۔۔۔