Skip to content
Home » Archives for July 2024 » Page 8

July 2024

Guman novel by Tayyaba Rafiqe

  • by

“امی ی ی ی ی ی ی ی ی ی ی”

اس کے گلے سے ایک دلخراش چیخ فضا میں بلند ہوئی

“امی اٹھیں ۔۔۔۔امی آنکھیں کھولیں کیا ہوا ہے امی ی ی ی یی۔ ۔۔۔۔”

دعا نے اپنا فون اٹھایا اور ابو کا نمبر ملایا لیکن آؤٹ آف کورج ۔۔۔۔۔۔

“یا اللہ”

دعا کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کرے ۔۔۔۔وہ دوڑ کر باہر گلی کسی کی مدد لینے آئی لیکن وہاں سواۓ سنسان سڑک کے کچھ بھی نہیں تھا۔

وہ بھاگ کر امی کے پاس آئی

“امی ۔۔۔۔۔امی پلیز آنکھیں کھولیں نا ۔۔۔۔امی ی ی ی “

ساتھ ساتھ وہ زرمینہ کا نمبر ملانے لگی

“آپی ۔۔۔۔آپی امی۔۔۔۔۔بھائی۔۔۔۔۔۔آآ۔۔۔آپی پلیز گھر آ جاؤ”

وہ روتے ہوۓ بات بھی نہیں سمجھا پا رہی تھی ۔

“کیا ہوا ہے دعا ؟؟؟سب خیریت ہے نا ۔۔۔۔؟؟؟؟امی کہاں ہیں ؟؟کیا ہوا امی کو ؟؟؟ذور دانی کہاں ہے؟؟ابھی تک گھر نہیں پہنچا؟؟؟”

زرمینہ اس کی آواز سن کر بوکھلا گئی تھی۔

” آپی بھائی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے اور امی بے ہوش۔۔۔۔آپی کوئی نہیں ہے گھر میں ۔۔۔۔۔ابو کو بھی فون نہیں ۔۔۔۔لگ رہا۔۔۔۔۔آپی پلیز آ جاؤ۔۔۔۔”

“اللہ ۔۔۔۔۔۔۔میں ۔۔۔میں ابھی آ رہی ہوں پریشان نہیں ہو ۔۔۔”

Sarma ki jalti raat afsana by Uqba Ahmed

عیسیٰ احمد اور سکینہ بی بی کا کنبہ بچوں سمیت آٹھ افراد پر مشتمل تھا، ساری زندگی صبر و شکر سے گزار دی اور یہی درس بچوں کو دیا پر بھلا کیا سب نہیں جانتے کہ پانچوں انگلیاں کاہے کو برابر ہوویں، اور کہاں لکھا ہے کہ ماں باپ مشکل صبر و شکر سے کاٹ لیں تو اولاد سکھی رہتی ہے۔ جو دنیا میں آگیا، اس نے مشکل بھی دیکھنی ہے اور خالق ساتھ آسانی بھی رکھتا، پرآسانی تلاشنی پڑتی ہے۔ بچے جوں جوں جوانی کی دہلیز میں قدم رکھتے گئے، دونوں میاں بیوی سر جوڑ کے بیٹھ جاتے۔ بڑی حمیرا اور سمیرا تو خاندان میں ہی مانگ لی گئیں، پھر بیٹوں کے لئے بھی نظر میں خاندان کی لڑکیاں موجود تھیں اور دونوں میاں بیوی کی عادات ایسی تھیں کہ کوئی بھی بن مانگے دے دے پر مہرو کے معاملے میں کوئی بھی مہرو کے ماں باپ کے مزاج کی صرف گارنٹی پر مطمئن نہ تھا۔ سب اس کی سستی، جو منہ میں آیا کہہ دینا، اور ایسی ہی لاپرواہی والی عادات سے خوب واقف تھے اور اب جبکہ وہ بھی بڑے بہن بھائیوں کی طرح میٹرک سے نبردآزما ہو چکی تھی اور اس کو کھونٹے سے لگانے کا سوچا جا رہا تھا خواہ چٹ منگنی پٹ بیاہ ہی کرنا پڑے، خواہ گھر میں بڑوں کی شادی کے ارمان کو ابھی تک کے لئے ملتوی کرنا پڑے۔ کیونکہ مہرو کو عقل دینے اور سگھڑ بنانے کا یہی تو صحیح وقت تھا پھر جو وہ اور بے لگام ہو جاتی تو کون سے کھونٹے باندھا جاتا، ماں باپ کو ہی لتاڑتی۔

Mera ishq ho tum novel by Aneesa Shafqat

کہاں جا رہی ہو تاشہ؟

زرتاشہ : اپنے گھر۔

برہان : اب تمہارا گھر یہی ہے۔

زرتاشہ: اپنی امی کے گھر۔

اب کی بار تو برہان اسے ہرگز نہیں جانے دینا چاہتا تھا ۔

برہان : تم نہیں جاؤ گی تاشہ ۔

زرتاشہ نے بھی ہمیشہ کی طرح ضد کی۔ مگر آج برہان بھی زرتاشہ کی ضد تسلیم کرنے والا نہیں تھا۔

زرتاشہ : میں تو جاؤں گی اور ضرور جاؤں گی۔

برہان: کبھی تو میری بات مان لیا کرو زرتاشہ ۔ چار دن سے ہماری آپس میں کوئی بات نہیں ہوئی کیا تمہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا؟ کیا تمہیں میری یاد نہیں آئی ؟ یا میں یہ سمجھوں کہ میری محبت اب بھی یک طرفہ ہے اور تمہیں مجھ سے کوئی سروکار نہیں۔

زرتاشہ نے بھی اپنے دل کی بھراس نکال دی۔

زرتاشہ : تو کیا میں اتنی بے مایا ہوں کہ جب جس کا دل چاہے گا مجھے اپنا لے گا اور جب جس کا دل چاہے گا وہ مجھے چھوڑ دے گا۔

انسان ہوں میں کوئی مٹی کا کھلونا نہیں کہ جب دل چاہا اس سے کھیل لیا اور جب دل چاہا اسے چھوڑ دیا ۔

برہان : میں نے تمہیں چھوڑنے کا کبھی تصور بھی نہیں کیا تاشہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے۔

زرتاشہ : تو پھر شایان کے کہنے پر آپ مجھے وہاں کیوں چھوڑ آئے تھے؟

بقول آپ کے میں تو آپ کی محبت تھی، مجھ میں تو آپ کی جان بستی تھی۔ تو پھر آپ کیوں اپنی محبت کو وہاں چھوڑ آئے ؟

کیوں آپ نے مجھے وہ میسج کیا؟

کیوں اپنا موبائل بند کر لیا؟

آپ نے ایک بار بھی نہیں سوچا تھا کہ مجھ پر کیا گزرے گی ۔ جب آپ میرا فون نہیں اٹھا رہے تھے تو میرا دل پھٹ رہا تھا ۔ آپ جانتے ہیں مجھے کتنی فکر ہو رہی ہے کہ آپ کی۔

برہان : سوری تاشہ! آئندہ ایسا کبھی نہیں ہوگا میں وعدہ کرتا ہوں۔

وہ برہان کی بات ماننے کے بالکل موڈ میں نہیں تھی ۔

زرتاشہ : سوری ناٹ ایکسیپٹڈ! (Sorry not accepted)

Namehram novel by Umme Ibrar

یہ اسلامک ناول ہے جسے معاشرے میں ٹرینڈنگ کرتے ایک ٹاپک ” اٹریکشن” پر لکھا گیا ہے
کہانی کا اصلی کردار نور جو اسی بیماری شکار ہوتی ہے اور وہ گہرائی میں گرتی ہے اور پھر اس کا انجام بتایا گیا ہے

Mohib mohabbat by Zunaira bano Complete Novel

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میری “ہونے والی بیوی” کس قدر زہر اگلتی ہے۔ مجھ سے کس قدر جلتی ہے۔” ابوبکر نے دل میں سوچا۔
“جلتی نہیں ہے۔۔۔۔ بس تم سے پیار کرتی ہے۔۔۔۔”
“میں سمجھ نہیں پا رہا کہ آخر تم چاہتی کیا ہو ساریہ۔۔۔ دو سال ہونے کو ہیں۔ اس کے باوجود تم اس وکیل کا پیچھا نہیں چھوڑ رہیں۔ اس کی اب ایک بیوی ہے، بچی بھی ہے۔ وہ آزاد تھا تب تمہارے لیے کوئی قدم نہ اٹھا سکا۔ اب کیا خاک اٹھاۓ گا۔۔۔”
وہ اکتاۓ ہوۓ لہجے میں بولا تھا۔
“تم مجھے گلاب کا پھول دینا اور میں تمہیں گوبھی کا پھول دوں گی۔ پھر تمہیں ہمیشہ یاد رہے گا میں کتنی اچھی شیف ہوں۔۔۔” حمائل نے ہنستے ہوۓ کہا۔ ابوبکر کے چہرے پر مصنوعی غصہ طاری ہوا:
“اچھی شیف؟ تمہاری کنکر والی کافی بھولا نہیں ہوں میں ۔۔۔”
“ایک بار کہو۔۔۔ جو مانگو گی وہ تمہیں پل بھر میں لا کر نہ دیا تو میرا نام بھی احمر گیلانی نہیں۔”
“احمر۔۔۔” رومانی کے ہاتھ کانپیں۔ آنکھیں دھندلا گئی تھیں۔
“جب آپ جیسا مرد دست درازی کرنے کے باوجود ڈھٹائی کے ساتھ سینہ تان کر میرے سامنے کھڑا ہے تو میں اپنی عصمت کو اپنی کمزوری جان کر گھر کے کسی تاریک گوشے میں کیوں جا چھپوں۔”
وہ غرائی۔ حسن قادری مسکرا کر رہ گیا۔
ابوبکر نے پلٹ کر دیکھا۔ وہ رو رہی تھی اور آنسو بے شمار تھے۔
“مت۔۔۔ جاؤ۔” اس نے بلک کر کہا اور ہاتھ جوڑ لیے۔
“ہُما۔۔۔” وہ بے بس سا نظر آیا:
“میں واپس آجاؤں گا۔”
“میرے سامنے نقاب کیوں نہیں کرتیں؟” احمر نے اچنبھے سے پوچھا تھا۔ رومانہ نے گہری مسکراہٹ سے اسے دیکھا۔ آنکھوں میں کرچیاں ہی کرچیاں تھیں۔
“تم سے کیا چھپاؤں احمر؟ چہرہ یا جسم؟”

Mohabbat hui mehram novel by Maryam

“صحیح کہا تم نے! پاکستان میں حسن کی کمی نہیں

ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ جوتوں اور تھپڑوں کی بھی

کوئی کمی نہیں ہے” …..کہتے ساتھ ہی ہانیہ نے اس پہ

تھپڑوں اور مکوں کی برسات کر دی جبکہ وشمہ نے

بھی دوسرے لڑکے پہ ہاتھوں اور مکوں کا خوب

استعمال کیا ۔۔۔۔ وہ دونوں مخض پانچ منٹ میں

پہچانے ہی نہیں جا رہے تھے ۔۔۔۔ان میں اٹھنے کی بالکل

ہمت نہیں تھی ۔۔۔۔۔

“بھائی! اور حسن دیکھنا ہے یا یہ ہی کافی ہے ۔۔۔” ہانیہ

نے شرارت سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔

“نن۔۔۔۔ نہیں! اتنا ہی کافی ہے” ایک نے ہاتھ جوڑتے

ہوئے کہا ۔۔۔

“چلو ہنی ہم چلتے ہیں” ۔۔۔ وشمہ نے ہانیہ کا

ہاتھ پکڑ کر کہا ۔۔۔۔ اور کار کی طرف بڑھنے لگی ۔۔۔

“مزے کی کچھ لگتی۔۔۔۔ یہ تو آنٹی تمہیں بتائیں گی

نا ۔۔۔۔جب اس وقت تک باہر رہنے کا جواز بتاؤ گی” ۔۔۔

“کیا مطلب اس وقت تک! اوہ نو” ۔۔۔واچ پہ نظر پڑتے

ہی اسکے منہ سے بے اختیار نکلا ۔۔۔واچ رات کے آٹھ

بجا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

“آج تو شامت پکی” ۔۔۔اسنے کار سٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔۔

“کوئی بات نہیں۔۔۔۔ کبھی کبھی خود کو ماؤں کا شکار

بھی بناننا چاہیے” ۔۔۔وشمہ نے سیل فون پر گیم کھیلتے

ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔

Hidayah novel by Umme Ibrar

  • by

یہ ناول “ہدایہ” ہدایت پر لکھا گیا ہے

کہانی رومنٹک بھی ہے ، دوستی بھی ہے اس میں اور mystery بھی

بہت سارے راز چھپے ہوئے ہیں اس میں اور ایک لڑکی جو اصلی کردار نبھائے گی وہ غیر مسلم سے مسلم کا سفر اور پھر صراط مستقیم کا سفر طے کرے گی اور جاری ناول کے ساتھ ساتھ کہانی کھلتی جائے گی