Picture Of The Love by Bisma Manzoor Ahmed Baloch
Picture Of The Love by Bisma Manzoor Ahmed Baloch Picture Of The Love by Bisma Manzoor Ahmed Baloch. This is a social romantic novel by… Read More »Picture Of The Love by Bisma Manzoor Ahmed Baloch
Picture Of The Love by Bisma Manzoor Ahmed Baloch Picture Of The Love by Bisma Manzoor Ahmed Baloch. This is a social romantic novel by… Read More »Picture Of The Love by Bisma Manzoor Ahmed Baloch
اسفی سراسر ظلم کر رہے ہو علی نے ایک لمبے لیکچر کے بعد یہ کہا تھا کیونکہ یہاں وہ اسفی تھا ہی نہیں جو تحمل سے سنتا ۔
ظلم ۔کونسا ظلم وہ ظلم نہیں تھا جو میری ماں کیساتھ کیا گیا تھا۔
اسفئ انھوں نے اپنے رضا اور اپنئ خوشی سے یہ سب کیا تھا کیا ہوگیا ہے تمہیں پلیز اسفی اتنے سنگ دل مت بنو علی اسکی مننتئں کر رہا تھا ۔
بس بس جانتا ہو کیسئ رضا تھی وہ اکے بیڈ پے بیٹھا علئ اسے تھوڑی دیر دیکھتا رہا پھر نیچے آگیا تھا۔
اسے دیکھ کے علیزے جو علیشہ نے اسے تھاما تھا بھاگ کے اس کے پاس ائ تھئ۔
بھائ اپنے سمجھایا نا اسفئ بھائ کو وھ کیسے۔ وہ بلک رہی تھی ٹوٹ رہی تھی ۔علی نے اسکے سر پھر ہاتھ رکا تھا اور علیشہ اسے سنبھال رہی تھی
اسفی کا بیگ تیار تھا اور وہ جا رہا تھا ۔
نا کسی سے ملا تھا نا اس سے کوئ ملا تھا۔بڑے چھوٹے سب اس سے بےضار ہوگئے تھے وہ پیار وہ پروٹوکول وہ رشتے اسے محسن صاحب کے رو سے ملے تھے ۔اسفئ۔ اسفئ انکی بدولت بنا تھا اور آج وھ اسی شخص کو توڑ کے جا رہا تھا شاید اسکے بعد اسفی کبھی جوڑ جاے ۔
ماں کمرے کئ کھڑکیوں سے اسے دیکھ رہی تھی رو رہی تھی بلک رہی تھی ختم ہو رہی تھی ۔
محسن صاحب کے پاس علئ اسکے بابا نظر موجود تھے اور وہ پھر بھی اکیلے تھے کندھے جھک گئے تھے ۔انکی حالت اور آنکھوں کو دیکھ کر پرایوں کو رونا ارہا تھا اور وہ اپنا آنھیں چھوڑ کے چلا گیا تھا ۔
علیزے کا برا حال تھا سنبھل کے نہیں سنبھل رہی تھی۔علیشہ کا دل بھی توڑا گیا تھا مگر جو اسنے کیا تھا وھ اپنو کا نا ہوا تو اسکا کیا ہوتا ۔
Azam novel by AbdulAhad Butt Azam novel by AbdulAhad Butt. This is a social romantic novel by the writer as she has written many novels.… Read More »Azam novel by AbdulAhad Butt
”التمش نام ہے لڑکے کا۔۔گھبرو جوان ہے۔۔لاکھوں میں بھی ڈھونڈو تو نہ ملے۔۔
”اُف۔۔“ابریشم نے دل میں کہا اور کھانا نکالنے لگی۔۔
”اچھا بھلا خاندان ہے۔اس کے ابا کی تو پہلے ہی وفات ہو چکی ہے۔۔نہ نندوں کو جھنجھٹ ہے۔۔بس ماں اور بیٹا ہی ہیں۔۔“
”امی بس کردیں۔۔آپ کی کوٸ بات مجھے نہیں پگھلا سکتی۔۔مجھے شادی نہیں کرنی کسی فوجی سے۔۔۔“
”تم جو بھی بولو لڑکی۔۔تمہارے ابا نے تو فیصلہ کرلیا ہے۔۔ایک میں ہی تھی جو تمہیں راضی کرنے پر تلی تھی۔۔تم نے نہ ماننا تو نہ مانو۔۔شادی تو تمہاری التمش سے ہی ہوگی۔۔“
ابریشم نے غصے سے پلیٹ سِلپ پر دھری اور کچن سے باہر نکل گٸ اور جاتے جاتے امی کی آواز سنی۔۔
”اور سنو آج لڑکے والے آرہے ہیں۔۔اچھا سا تیار ہوجانا۔اور خبردار جو کوٸ حرکت کی تو۔۔ابا چھوڑیں گے نہیں تمہیں۔۔“
ابریشم نے کھٹاک سے کمرے کا دروازہ بند کیا۔۔آخر اس کی مرضی کیوں نہیں دیکھی جارہی۔۔اکلوتی بیٹی ہونے کے ناتے اس کا اتنا بھی حق نہیں تھا کہ وہ شادی اپنی مرضی سے کرتی۔۔
عاشق ، چور ،فقیر خدا تو منگدے نے گھپ ہنیرا
اک لُٹاوے ،اک لٹےُ ،اک کہدے سب کجُ تیرا
دیکھ جھلے ، انسان خدا کے روپ کا عکس ہے۔ جب وہ پیدا ہوتا ہے تو اپنے اسی روپ کے ساتھ ، صاف شفاف، اُجلا شیشے جیسا۔ جب وہ بہروپ بھرنا شروع کرتا ہے تو وہ اپنے اصل سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔پھر گرد جمنے لگتی ہے اور آخر میں جب وہ بہروپ بدلنے کے قابل نہیں رہتا تو اصل کی طرف جانے کی بنارب سوہنے سے، دنیا کے کاموں کے ساتھ اُسے بھی یاد رکھ ۔ وہ بڑا رحیم و Link کوشش کرتا ہے پر تب ویلا گزر چکا ہوتا ہے پتر۔ تو دیکھ پتر فوکس کر ،
کریم ہے ۔ اندر جھانک جھلیا، اپنا اندر ٹٹول، پتر سکون اور خوشی انسان کے اندر ہوتی ہے ۔ تُو اُسے باہر تلاش کرتا پھر رہا ہے
Adhoori Mohabbat short novel by Sidra Mansoor Adhoori Mohabbat short novel by Sidra Mansoor . This is a social romantic novel by the writer as… Read More »Adhoori Mohabbat short novel by Sidra Mansoor
ایمان۔۔۔ایمان مڑی۔۔۔۔جی۔۔۔ آپ سے میں نے کچھ پوچھا تھا۔۔کیا۔۔ایمان انجان بن رہی تھی یہی کہ میں آپ کو پسند کرتا ہوں آپ نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایمان نے احمر کی بات کاٹ دی۔۔۔۔ احمر آہستہ بولو پہلی بات اگر حدید بھائی کو پتہ چلا تو پھر جانتے ہو تم کیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔ دوسری بات اس بار ایمان کے لہجے میں بہت نرمی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ احمر تم بہت اچھے ہو میرے سے زیادہ اچھی لڑکی ڈیزرو کرتے ہو میں نے کبھی اس نظر سے نہیں دیکھا تم۔۔۔۔۔ میرے بھائی کے جیسے ہو آئندہ اس طرح کی بات مت کرنا پلیز کہہ کر چلی گئی احمر اپنی گاڑی میں ا کر بیٹھا سٹیرنگ پر سر رکھ کر اپنے دوست کی باتیں سوچنے لگا ہے احمر پتہ ہے جب بھی کوئی لڑکی کسی کو ریجیکٹ کرتی ہے تو پتہ ہے کیا کہتی ہے تم بہت اچھے ہو میں تمہارے لائق نہیں ہوں تم میں سے زیادہ اچھی لڑکی ڈیزرو کرتے ہو یہ سب سوچتے ہوئے احمر کی انکھوں میں انسو اگئے احمر نے انسو صاف کیا اور گاڑی سٹارٹ کی ۔۔۔۔۔۔۔
******
الرحمن نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا۔ انسانیت کی جان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا ما کان و مایکون کا بیان انہیں سکھایا سورج اور چاند حساب سے ہیں اور سبزے اور پیڑ سجدے کرتے ہیں اور اسمان کو اللہ نے بلند کیا اور طرح زور کھی کے تراز میں بے اعتدالی نہ کرو اور انصاف کے ساتھ تول قائم کرو اور وزن نہ گھٹاؤ اور زمین رکھی مخلوق کے لیے اس میں میوے اور غلاف والی کھجوریں اور بھس کے ساتھ اناج اور خوشبو کے پھول تو۔ اے جن و انس تم دونوں اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے اس نے آدمی کو بنایا بجتی مٹی سے جیسے ٹھیکری اور جن کو پیدا فرمایا اگ کے لوکے سے تو تم دونوں اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے دونوں پو رب کا رب دونوں یچھپم کر رب تو تم دونوں اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے اس نے دو سمندر بہائے کے دیکھنے میں معلوم ہو ملے ہوئے اور ہیں ان میں روک کہ ایک دوسرے پر بڑھ نہیں سکتا تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے ان میں سے موتی اور مونگا نکلتا ہے تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے اور اسی کی ہیں وہ چلنے والیاں کے دریا میں اٹھی ہوئی ہیں جیسے پہاڑ تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے زمین پر جتنے ہیں سب کو فنا ہے اور باقی ہیں تمہارے رب کی ذات عظمت اور بزرگی والا تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے اسی کے منگتا ہیں جتنے اسمانوں اور زمین میں ہیں اسے ہر دن ایک کام ہے تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے جلد سب کام نبٹا کر ہم تمہارے حساب کا قصد فرماتے ہیں اے دونوں بھاری گروہ تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے اے جن و انس کہ گروہ اگر تم سے ہو سکے کہ اسمان اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ جہاں نکل کر جاؤ گے اس کی سلطنت ہے تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے تم پر چھوڑی جائے گی بے دهو یں کی اگ کی لپٹ اور بے لپٹ کا کالا دھواں تو پھر بدلہ نہ لے سکو گے تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے پھر جب اسمان پھٹ جائے گا تو گلاب کے پھول سا ہو جائے گا جیسے سرخ نری (بکرے کی رنگی ہوئی کھال) تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے
“کیا بات ہے ماریہ؟” اسے خاموش کھڑا دیکھ کر وہ خود ہی بولی۔
“زمل باجی وہ۔۔ ذیشان صاحب آپ کو اوپر بلا رہے ہیں۔” زرد رنگ کا سادہ سا لباس پہنے اور چادر اوڑھے کھڑی اس ملازمہ نے کچھ ہچکچاتے ہوئے پیغام دیا تھا۔
“اوپر؟ یعنی چھت پر؟” اس کی بات پر ماریہ اثبات میں سر ہلاتی وہاں سے چلی گئی۔ زمل کو حیرانی ہوئی تھی۔ وہ اسے اوپر کیوں بلا رہا تھا؟
چند منٹ بعد وہ سیڑھیاں چڑھ کر کشادہ چھت پہ قدم رکھ رہی تھی۔ چھت پر پہلا قدم رکھتے ہی اس نے تازی ہوا کا جھونکا اپنے چہرے سے ٹکراتا محسوس کیا۔ اس کے چہرے پر بےاختیار مسکراہٹ پھیل گئی۔ تھورا اگے آئی تو ڈوبتے سورج کا منظر اس کے سامنے تھا۔ وہ وہیں ساکت ہوگئی۔ اس منظر کی وہ دیوانی تھی۔ لیکن آج یہ منظر اس کے اندر توڑ پھوڑ مچا رہا تھا۔ یہ منظر بڑی شدت سے اسے اچانک کسی کی یاد دلا رہا تھا۔ اس کے دل میں ٹیسیں اٹھنے لگیں۔ آنکھوں سے شفاف موتی نکل کے گالوں پر پھسلنے لگے۔
“کون یاد آرہا ہے؟” اچانک آنے والی آواز پر وہ چونک کے پلٹی۔ جینز پر خاکی رنگ کی شرٹ پہنے وہ ہاتھوں میں سگریٹ دباۓ کھڑا اسے شکی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ زمل نے جلدی سے اپنے آنسوں صاف کیے۔ “کوئی نہیں۔” وہ رندھی ہوئی آواز میں بولی۔
“موسم اچھا تھا تو سوچا تمھیں بھی اوپر بلا لوں۔” وہ آسمان کو دیکھتا سادہ سے انداز میں بولا۔ پھر اس کے سامنے آکر کھڑا ہوا۔ یوں کے ذیشان کے وجود نے آسمان کی خوبصورتی کو چھپا دیا۔ “لیکن شاید تم یہاں اپنے ساتھ کسی اور کو دیکھنا چاہتی ہو۔” آخر میں اس کی آواز سرد ہوئی تھی۔ زمل نے افسوس سے اس نفس کے قیدی کو دیکھا۔
“کبھی تو مجھے تکلیف دینے سے باز آجائیں۔” وہ تکان سے بولی تھی۔ وہ اس سب سے تھک چکی تھی۔ یہ بےبسی کی انتہا تھی۔
“تم کبھی تو اسے یاد کرنے سے باز آجاؤ۔ اور تمھارا کیا بھروسہ میرے پیچھے اس سے ملتی بھی رہتی ہو۔” اس کے طنز پر وہ سلگ ہی تو گئی تھی۔ مگر ہمیشہ کی طرح غصہ پی گئی۔
سر..؟
“ہمممم..”
سر وہ باہر کوئی لڑکی آئی ہے کہہ رہی ہے آپ سے ملنا چاہتی ہے۔
نام کیا بتایا؟ وہ ہنوز کام میں مصروف بولا تھا۔
اسکی خاموشی پر وقاص نے نظریں اٹھائے اسے گھورا۔
کچھ پوچھ رہا ہوں میں۔حوالدار کے پسینے چھوٹ رہے تھے۔
سس۔۔سر۔۔ووہ۔۔لڑکی بول رہی ہے کہ وہ آپ کی وائف ہے اور نام نہیں بتا رہی۔وقاص نے پچھلے دونوں سے جیسا برتاؤ اپنے تھانے میں سب کے ساتھ رکھ کھا تھا ان سب کی جان جاتی تھی وقاص کے سامنے آتے ہی اور اب یہ بات اسے پتہ تھا اسکے سر کی شادی بھی نہیں ہوئی ہے وہ تو اب اپنی خیر منا رہا تھا۔
اوکے اندر بھیجو اسے۔وقاص کے اتنے نارمل ری ایکٹ پر حوالدار کو تو جیسے کرنٹ ہی چھو گیا۔
کھڑے کھڑے منہ کیا دیکھ رہے ہو میرا جاؤ اب۔وقاص خاصے سخت لہجے میں دھاڑا۔
حوالدار جی سر بولتے وہاں سے نو دو گیارہ ہو گیا۔
وہ باخوبی جانتا تھا اپنی نقلی بیوی کے بارے میں۔
اسلام علیکم۔وقاص نے آواز کے تعاقب میں سامنے کھڑی اس برقع پہنے لڑکی کو گھور کر دیکھا
جی فرمائیے۔کیا کام ہے آپ کو محترمہ۔۔۔؟
واقعی نہیں پہچانا یا جان کے انجان بن رہے ہو۔ملائکہ منہ پر سے برقع اٹھاتی اسکے ٹیبل پر ہاتھ رکھے اسکے سر پر پہنچی تھی۔
جی نہیں میں نہیں پہچانتا۔اپ کام بتائیے اور نکلیئے مجھے اور بھی بہت کام ہیں۔ وقاص فائل دیکھتا مصروف سے انداز میں بولا۔
توبہ توبہ استغفرُاللہ یہ کیسا انسپکٹر ہے اپنی بیوی کو ہی پہچاننے سے انکار کر رہا ہے۔ملائکہ اونچی آواز میں کہتی رونے کی ایکٹنگ کرنے لگی۔
بیوی کے ذکر پر وقاص نے عجیب نظروں سے اسے دیکھا تھا۔
وہ اسوقت اپنے آفس میں تھا جہاں اسکی اجازت کے بغیر کسی کو آنے کی اجازت نہیں تھی اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ملائکہ یہ سب ڈرامہ کیوں کر رہی ہے مگر ملائکہ نہیں جانتی تھی کہ وہ یہ ڈرامہ کر کے کتنی بُری پھنسنے والی ہے۔
بیوی۔وقاص نے بہت دلچسپ لہجے میں دوہرایا۔
ملائکہ کے دل کو کچھ ہوا تھا۔چئیر پر سے اٹھتا اپنے قدم اسکی جانب بڑھائے تھے۔ اسکی آنکھوں میں ابھرتی چمک ملائکہ کا دل ہولا رہی تھی۔وقاص اسکی طرف بڑھتا ملائکہ اپنے قدم پیچھے کی جانب لے رہی تھی اتنے میں وہ دیوار سے جا لگی وقاص نے سرعت سے اپنے دونوں ہاتھ اسکے دائیں بائیں جوڑے تھے۔
تو آپ کا فرمانا ہےآپ میری بیوی ہیں۔
مم۔۔میں۔۔مذاق کر رہی تھی وقاص پلیز دور ہٹو۔
پر میں مذاق نہیں کر رہا۔میری بیوی ہو تو ظاہر ہے میں کچھ بھی کر سکتا ہوں۔وہ تنفر سے کہتا قریب ہوا۔
ملائکہ کا دماغ پل میں گھوم گیا۔اپنی گن نکالے اسکے سینے پر رکھی۔
دور رہو مجھ سے ورنہ۔ ملائکہ نے بات اُدھوری چھوڑی۔
تم مجھے اپنے لفظوں سے پہلے ہی مار چکی ہو اس کھلونے سے کسی اور کو ڈرانا۔ اسکا لہجہ کوڑوں جیسا تھا۔
وقاص پلیز میری بات سنو۔ضبط کے باوجود وہ رو پڑی۔
کیا بات سنوں ہاں۔۔کیا سناؤ گی۔میں نے بھی ایسے ہی منتیں کی تھی نا تمہاری ایک بار نہیں بار ہا دفعہ کہا تھا۔ایک بار میری بات سن لو۔۔تم نے سنی تھی۔۔تو آج میں کیوں سنوں۔
تم سنو گے کیونکہ تم میرے جیسے بےحس نہیں ہو۔ملائکہ نے اسکا بازو تھاما۔
بدلے میں وقاص نے اسکا بازو پوری قوت سے جھٹک دیا۔
بےحس تو تم ہو مگر بےرحم بھی انتہا کی ہو ملائکہ صدیقی۔اسکے لہجے کی نفرت ملائکہ کو اپنا دل کرچی کرچی ہوتا محسوس ہوا۔
دفع ہو جاؤ یہاں سے اور اب میرے سامنے آنے کی کوشش مت کرنا میں اب وہ انسپکٹر وقاص نہیں رہا جو تمہارے سامنے کتے کی طرح دم ہلاتا پھرتا تھا۔بہت کر لی تم نے میری تذلیل اب بس میرے سہنے کے حد بس اتنی ہی ہے۔میں کوئی سخت قدم اٹھاؤں اس سے پہلے میری زندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دور چلی جاؤ۔
Tahy khak tmasha novel by Mahnoor Rasheed Tahy khak tmasha novel by Mahnoor Rasheed This is a social romantic novel by the writer as she… Read More »Tahy khak tmasha novel by Mahnoor Rasheed