Skip to content
Home » Archives for Mubarra » Page 184

Mubarra

Jo tu na mila novel by Sidra Younas

  • by

“وہ میں”

“تم اب بہانے مت بناؤ۔” وہ اس کی بات کاٹ کر بولا۔

“نہیں ایسے نہیں ہے۔” وہ دھیمی آواز میں بولی۔

“اچھا ویسے اس دن میرے سوال کا جواب تو بیچ میں ہی رہ گیا تھا۔” وہ یاد کرکے بولا۔

“ابھی آپ نے لے تو لیا جواب۔” وہ خفگی سے بولی۔

“اچھا تو اب پیار سے جواب دو ناں۔” وہ لاڈ سے بولا۔

“مجھ سے نہیں کیا جائے گا۔” وہ روہانسی ہو کر بولی۔

“مجھے نہیں پتا مجھے سننا ہے۔” وہ اسے تنگ کرنے کے موڈ میں تھا۔

“روحام” وو راہانسی ہوئی۔

“ہاں روحام کی جان۔ ” وہ اتنے ہی پیار سے بولا تو نوال شرما گئی۔

“آپ کام کریں مصروف ہوں گے۔ ” وہ روحام کو ٹالنے لگی۔

“نہیں میں بالکل فری ہوں۔ ” وہ آرام سے بولا۔

“اچھا مجھے بھوک لگی ہے۔” جب کوئی بات نہ بن پڑی تو اس نے فوراً بولا۔

“تو کھانا کھاؤ ناں۔ ” اس کا طریقہ کارگر ہوا۔

“چلو کھانا کھا لو پھر میں دوبارہ کال کروں گا۔” روحام نےکہا۔

“اللّہ حافظ” وہ مسکرا دی اور فون رکھ دیا۔

روحام کی باتیں سن کر وہ بلش ہو جاتی تھی اور جب کوئی جواب نہ بن پڑا تو اس نے بہانہ بنا کر کال کاٹ دی۔

Ishq ki junoon kheziyan novel by Shifa Eman

  • by

ریشوووو۔۔۔ کب سے ڈھونڈ رہا ہوں تمہیں۔۔۔۔ عادی نے اسے لان میں اکیلے بیٹھے دیکھ کر آواز دی۔۔۔

اوہ رئیلی؟ وریشہ نے طنز کیا۔۔۔

اچھے سے جانتی ہو کھانا اکٹھے کھاتے ہیں ہم۔۔۔ عادی نے اسکا طنز اگنور کرتے ہووے جواب دیا۔۔۔

اگر اتنا پتہ تھا تو یہ بھی پتہ ہو گا مما نے کہا تھا عادی وریشہ کے ساتھ ساتھ رہنا۔۔۔ اسنے غصہ ظاہر کیا۔۔۔۔

سوری۔۔۔۔ عادی نے فورا کان پکڑے۔۔۔

معاف کیا۔۔۔ اسنے چہکتے ہوے فراخ دلی کا مظاہرہ کیا۔۔۔

عادی ی ی ی۔۔۔۔ ویسے کیا سچ میں اچھی لگی تمہیں وہ چڑیل؟ وریشہ نے سرگوشی کی۔۔۔۔

اچھی تو ہے لیکن تم سے زیادہ نہیں۔۔۔۔ عادی مسکرایا۔۔۔۔

اچھی تو میں بہت ہوں مجھے پتہ ہے۔۔۔ برجستہ جواب آیا تھا۔۔۔

یہ بتاو جناب آپ جب نیچے آئیں تو موڈ کیوں آف تھا۔۔۔ عادی نے پوچھا

عادی وہ لڑکی نہ بہت گندی ہے۔۔۔ وریشہ نے منہ بسورتے ہووے گلہ کیا۔۔۔

اچھا جی وہ کیسے؟ عادی نے پوچھا

وہ ایسے شو کر رہی تھی جیسے وہ بہت شرمیلی اچھی ہے سہی ہے میں غلط۔۔۔۔ افففف کیسے بتاوں؟؟ اسنے دانت پیستے ہووے سر کو تھام لیا۔۔۔ عادی تم۔جانتے ہو مجھے نہیں بتانا آتا جو بھی فیل ہو ۔۔۔۔ مجھے نہیں سمجھانا آ رہا کچھ بھی لفظوں میں۔۔۔ لیکن عادی وہ بہت گندی ہے بس۔۔۔۔ اسنے فیصلہ سنایا

تم پاگل ہو ریشووو۔۔۔ وہ مسکرایا۔۔۔

چلو کھانا کھائیں۔۔۔ عادی نے کھڑے ہوتے ہوے اسکی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔۔۔

نہیں مجھے کھانا یہیں بیٹھ کے کھانا ہے وریشہ نے بچوں سی ضد کی۔۔۔

اوکے مائی ڈئیر پارٹنر میں ابھی کھانا لے آتا ہوں۔۔۔ عادی نے اسکے آگے سر خم کرتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔

Chasham e tar short novel by Qurrat Ul Ain

  • by

“تم کیا سوچتی ہو۔۔۔۔تم یہ کیس جیت جاؤ گی۔۔۔۔میں ایسا نہیں ہونے دوں گا”کرن اکبر کی اس بات کے جواب میں اسے تنزیہ مسکراہٹ دیتی ہے۔

“یہ کیس میں ہی جیتوں گا۔۔۔۔کشف میری بیٹی ہے اور میرے پاس ہی رہے گی۔۔۔سمجھجی تم”

کرن “اور اگر میں جیت گیٔ تو……؟؟؟” کرن اکبر کی بات ٹوکتے ہوۓ۔

” اور۔۔۔۔اگر۔۔۔۔اگر تم جیت گیٔ تو۔۔۔۔تو۔۔۔دیکھو بی بی اگر تم جیت گیٔ تو میں تمہاری بیٹی کا نام ونشان صفح ہستی سے مٹا دوں گا۔۔اور تم جانتی ہو میں ایسا کر سکتا ہوں۔۔۔اگر اپنی بیٹی کی زندگی چاہتی ہو۔۔۔تو یہ کیس وآپس لے لو۔۔۔ورنہ ساری زندگی کے لیے تمہیں اپنی بیٹی کی موت کا پچھتاوا رہے گا۔۔۔سوچ لو”کرن اکبر کی یہ دھمکی سنتے ہی اہم سی جاتی ہے کیونکہ وہ اس انا پرست شخص سے اچھی طرح واقف ہوتی ہے۔کرن درد بھری آواز میں

“ٹھیک ہے میں اپنا کیس وآپس لیتی ہوں۔۔۔مگر تمہیں خدا کا واسطہ میری بچی کو کویٔ نقصان مت پہنچانا”

“دیکھو تم ہار گیٔ اور میں جیت گیا” اکبر فخریہ انداز میں قہقہ لگاتے ہوۓ۔

“آج ایک عورت ہار گیٔ مگر ایک ماں جیت گیٔ”کرن درد بھرے لہجے میں یہ کہتے ہوۓ تھوڑے ہی فاصلے پر پڑے بنچ پر بیٹھی کشف اور روبینہ کی طرف بھاگتی ہے اور کشف کو سینے سے لگاتے ہوۓ دھارے مار مار کر رونا شروع کر دیتی ہے۔پھر کشف کے ماتھے پر چومتی ہے اور صرف اور صرف اپنی بیٹی کی زندگی کی خاطر نہ چاہتے ہوئے بھی اسے چھوڑ کر کمرہ عدالت سے باہر نکلنے لگتی ہے پھر مر کر اپنی معصوم بیٹی کو دیکھتی ہے اور وہاں سے چلی جاتی ہے۔

Ajooba house novel by Sidra Chaudhary

  • by

آؤ آؤ بے بی،تمہاری جیسی قیامت میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی، اور اس شادی کے جوڑے میں تو آہ آہ ہاکیا مست چیز لگ رہی ہو۔

سردار نے ارحا کی اپنی زہنیت کے مطابق تعریف کی تھی، اور ارحا نے فٹ سے مہر کو خود سے الگ کیا اور سردار کی طرف قدم بڑھا دیے۔اور پھر جیولر کے شو پیس کے پاس ایک دم رک گئ۔

مجھے تو تم نے پہچانا ہی نہیں، میں تمہاری کال فرینڈ love،جس نے تمہیں اس میجر کے یہاں ہونے کا بتایا اور اسکی اصلی تصویریں تمہیں دیں۔

کیا اوہ بے بی وہ love تم ہو، تمہارا احسان تو میں ہمیشہ یاد رکھوں گا، تم نے مجھ سے محبت کا ثبوت دیا ہے آج۔

تو پھر میری خواہش پوری کرو نہ، مجھے یہ پازیبیں لے کے دو نہ اور اپنے ہاتھوں سے پہناؤ بھی،تب میں مانوں گی کی تم بھی مجھ سے محبت کرتے ہو۔

ارے میری love بس اتنی سی خواہش لو ابھی پوری کیے دیتا ہوں۔

کہتے ہی سردار نے گن اپنے ساتھ کھڑے آدمی کو پکڑائ اور خود چلتا ہوا ارحا کے پاس آیا۔

(تو اسکا مطلب ارحا ان لوگوں کے ساتھ ملی ہوئ ہے،اس دن ارحا رات کو ،مطلب اس دن

بھی وہ انکے کام سے نکلی تھی، ارحا تم ایسا کیسے کر سکتی ہو،میرے ملک سے غداری تمہیں بہت مہنگی پڑے گی،اپنے ملک کے لیے مجھے تمہاری بھی جان لینی پڑی تو نہیں چھوڑوں گا میں تمہیں)مائل نے سوچتے ہوئے لال انگارہ آنکھوں سے ارحا کو دیکھا جو شو کیس میں سے پازیبیں نکال رہی تھی ۔

لاؤloveتمہاری یہ خواہش بھی پوری کروں ،سردار نے ارحا سے پازیبیں پکڑتے ہوئے کہا،اور پھر اس کے قدموں میں بیٹھ گیا۔

ارحا نے جھک کر اپنا ہاتھ سردار کے کندھے پہ رکھا اور اپنا پاؤں اس کے گھٹنے پہ۔سردار نے زرا سا لہنگا اٹھا کر جیسے ہی ارحا کا پاؤں ننگا کیا حیران رہ گیا۔

اس کے پاؤں پہ پسٹل بندھا تھا،اور پھر ہنس پڑا اور پسٹل کھول کر ارحا کی طرف بڑھا دیا۔

ارے love اب یہ پسٹل یہاں چھپانے کی کیا ضرورت ہے۔

ہاں صحیح کہا،یہ پسٹل اب چھپانے کی کیا ضرورت ہے، کہتے ہی ارحا نے سردار کو دھکا دیا جس سے وہ ایک دم پیچھے کی طرف گرا،ارحا نے تیزی سے اپناپاؤں جس میں اس نے وہ سنیکرز جو وہ ہمیشہ گھر سے باہر نکلتے وقت پہنے رکھتی تھی،جو کسی کو بھی قتل کرنے کے لیے کافی تھے،اس کے سینے پہ رکھ دیا اور پسٹل اس پہ تان لی تھی۔

اور اونچی آواز میں ایک دم ایکشن بولا تھا، اور ارحا کے ایکشن کہنے کی دیر تھی کہ ایک دم بیت سے آرمی کے لوگ جو سویلین کے روپ میں تھے ،انہوں نے تمام ڈاکوؤں کو قابو کر لیا تھا۔

سر آپ ٹھیک تو ہیں؟ ایک آرمی آفیسر جلدی سے مائل کے پاس آیا تھا ۔اور مائل نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔

کیوں کیسا لگ رہا مسٹر عظیم چوہدری، اپنی بازی پلٹتے دیکھ کر،کیا کہا کہا تھا کہ اس ملک کو برباد کرو گے اور وہ بھی میجر مائل کے ہاتھوں،ارحا نے اسے زور سے کک کی تھی اور وہ چیخ پڑا تھا(آخر ارحا نے یہ سپیشل سنیکرز لوگوں کی حالت خراب کرنے کے لیے ہی بنوائے تھے)۔

تتتتتم تم تو میری love پھر اتنا بڑا دھوکا۔

ہاہاہاہاہاہا تمہاری love نہیں ، سیکرٹ ایجنٹ love queen، نام تو سنا ہی ہو گا۔

_____________________________________

ہاہاہاہاہا تمہاری love نہیں،سیکرٹ ایجنٹ love queen ,نام تو سنا ہوگا۔

ارحا ہنستے ہوئے اس کے پاس بھیٹتے ہوئے سرگوشی میں کہا تھا، اور یہ جان کر وہ ایجنٹ love qeen اسکا منہ کھلے کاکھلا رہ گیا تھا۔

ایییییییییءءی ایسا نہیں ہو سکتا میں نے خود پتہ کیا وہ ملک سے باہر گئ ہے،اس نے تڑپنے والے انداز میں کہا تھا۔

Tere ishq mein hari piya novel by Biya Naz

  • by

اے اللہ میں بے وقوف تھا جو ایک سراب کے پیچھے بھاگتا رہا۔ بھاگتے بھاگتے کب نہ جانے کب میں ایک ایسی لڑکی کو اذیت دینے لگ گیا جو میری سب کچھ تھی۔ میرا محرم تھی۔ میرا لباس تھی۔ اے اللہ میں نے اس کی حق تلفی کی۔ اسے ایک ایسے جرم کی سزا دی جو اس نے کبھی کیا ہی نہیں تھا۔ اے اللہ تو اس کو زندگی بخش دے۔ میں اس کا بہت خیال رکھوں گا۔ اے اللہ میں نے سنا تھا کہ نکاح کے دو بولوں میں بڑی طاقت ہوتی ہے وہ دونوں دلوں میں محبت جگا دیتی ہیں۔ جانے کب اس کا پیار میرے دل میں گھر کر گیا۔ اس کی آواز اس کا انداز خیال، اسکی ایمانداری،اس کا اللہ پر بھروسہ بلکہ وہ خود میرے دل میں سب سے اونچی سنگھاسن پر بیٹھ گئی۔ اے اللہ میں معافی چاہتا ہوں اپنے ہر اس فعل کی جو میں نے اسمائرہ کے ساتھ روا رکھا اے اللہ میری زندگی کی واحد خوشی ہے۔ میرے مولا تو مجھ خطا کار کی سن لے اور اسمائرہ کو نئی زندگی بخش دے۔ اے اللہ تو کرم فرما دے مولا اے اللہ

Momin ki momina novel by Bint e Mehrban

  • by

(“اپنی ادا دیکھا کر خراب کر کے ابن آدم کو تو

اے بنت حوا!!!!

تو کہتی ہے ابن آدم خراب ہے”)

♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡

(“زندگی خراب کر کے بنت حوا کی

اے ابن آدم!!!

“خیال رکھ ایک بنت حوا گھر تیرے بھی ہے”)

Khamoshi afsana by Uqba Ahmed

  • by

آپا کلثوم، اسے ناجانے کتنے پہر یوں ہی بغیر کسی احساس کے تکے گئیں اور پھر مُکّھی کے پکارنے پر پیچھے کو مڑیں۔ اسی لمحہ کرم دین نے نظریں اٹھا کر پکارنے والے وجود کو دیکھا تھا اور مُکّھی نے زندگی میں پہلی بار ان نظروں میں کوئی حقارت، کوئی ملامت نہ محسوس کی بلکہ اس نے وہاں ایک اور جذبہ دیکھا تھا اور وہ تھا بے بسی کا، سالوں سے خود اذیتی کی بھٹّی میں خود کو جلانے کا، پر وہ بے بس تھی کہ وہ اپنے لیے بھی کبھی سکون کا انتظام نہ کر سکی تھی، اس نے باپ کے رویے کی وجہ سے لوگوں سے کوسوں دور رہنا سیکھا تھا۔ باپ کے ہوتے ہوئے بھی اس نے ساری عمر پھوپھی کی نگرانی اور مستقبل قریب میں ہونے والے سسرال میں گزار دی اور باپ کی محبت کی خیرات اس کی جھولی میں ڈلوانے کے لیے پھوپھی نے اس کو اس کے ہی گھر میں فقیر کی طرح چکر لگوائے، جو چند پل عنایت کرنے والے کی طرف آس سے تکتا ہے اور پھر آس کے ٹوٹنے پر اپنی راہ لے لیتا ہے۔ آج تو پھر عنایت کرنے والے کی حقیقت سامنے آئی تھی کہ وہ خود بھی خالی دامن اور چیتھڑوں کا بھرم رکھنے والا فقیر تھا، بس فرق اتنا تھا کہ وہ مُکّھی کی طرح آستانے پر پھیرے نہ ڈالتا تھا۔

Ishq pagal kar deta hai by Sapna Gul Complete novel download pdf

  • by

کیا کہا تم نے تم یہ منگنی توڑ رہے ہو؟”پریسہ اس کے سامنے چیخی ۔

“ایم سوری پریسہ بٹ میں مجبور ہوں ۔”بہلول نے انگوٹھی اس کے سامنے رکھی۔

“تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا بہلول! تم آخر ایسا کیوں کررہے ہو؟”

“پریسہ تمہیں کوئی اور چاہنے والا مل سکتا ہے لیکن سرینہ کو سرینہ کو میری ضرورت ہے وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے ۔”

“واٹ ڈڈ یو جسٹ سیڈ “پریسہ ساکت ہوکر پھر بولی ۔

“میرا کل سرینہ کے ساتھ نکاح ہے۔” بہلول تحمل سے بولا ۔

“ہاو کڈ یو؟” پریسہ نے آگے بڑھ کر اسے تھپڑ مارا ۔

بہلول کو اس قدر شدید ریکشن کی توقع نہیں تھی۔

“تم نے سمجھ کیا رکھا ہےایک دن مجھے پروپوز کرتے ہوئے اور دوسری طرف اس گھٹیا لڑکی کے ساتھ نکاح کرتے وے یو چیٹر۔”پریسہ زہر خند لہجے میں بولی ۔

“اسٹاپ اٹ پریسہ! میں جانتا ہوں اس وقت تم غصے تم کبھی سرو کے لیے ایسے لفظ نا استعمال کرتی تم جانتی ہو وہ تکلیف میں ہے وہ مر رہی ہے اسے میری ضرورت ہے۔”

“تو اس کا منگیتر کہاں مر گیا ؟”پریسہ چیخ کر بولی ۔

“منگیتر نے اس سے منہ موڑ لیا لیکن میں نہیں موڑوں گا ۔”

“ہماری منگنی ٹوٹی کوئی نکاح نہیں اب بس بھی کرو تم کوئی بھی چاہنے والا مل سکتا ہے پری اس لیے پلیز جسٹ فورگیٹ اٹ فرگیٹ اوریتھنگ وچ ہپین بٹویین اس۔”بہلول کو یہ سب کہتے ہوئے تکلیف ہورہی تھی۔

“اوکے فائن جسٹ گو ٹو ہیل تین دن میں تمہیں نکاح کر کے دکھاؤں گی ایسی گری پڑی نہیں ہوں سرینہ کی طرح تم سے ہزار بہتر مجھے مل جائیں گے ناو گیٹ لوسٹ۔” پریسہ زور سے دھاڑی۔

بہلول نے ایک دکھ بھری نگاہ پریسہ پہ ڈالی اور وہاں سے چلا گیا ۔

“اللہ کرے تم برباد ہوجاؤ سرینہ تم نے میرا بہلول چھین لیا تمہیں موت آجائے ابھی اسی وقت مر جاؤتم ۔”

پریسہ ہر چیز کمرے میں اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی اور ساتھ میں سرینہ کو بددعا دئے رہی تھی ۔

“ارے بھئی کیا کررہی ہو بہلول نے کچھ کہا ہے تمہیں؟” پریسہ کی مام اندر داخل ہوئیں۔

“امی اس ڈائن نے میرا بہلول چھین لیا میں اسے مار دو ں گی۔” پریسہ منہ چھپا کر رونے لگی۔

“پری جانو! کون ڈائن ؟بتاؤ مجھے ۔”

اس کی امی کو جھٹکا لگا ابھی منگنی کو ایک ہفتہ ہوا ہے اور یہ سب ۔۔

“مام آئی ول ڈسٹروئے ہر شی روئین مائی لائف۔” پریسہ امی کے گلے لگتے ہوئے بولی۔

“پری ڈارلنگ مجھے سب کچھ بتاؤ ایک دم یہ سب۔”

اور پریسہ نے انہیں روتے ہوئے سب کچھ بتا دیا۔