Skip to content
Home » Archives for Mubarra » Page 182

Mubarra

Teri arzoo meri chahat novel by Laveeza Abid

  • by

“تو مسز عالیان شاہ کیا آپ کو کبھی کسی سے پیار ہوا ہے؟” وہ اس کی آنکھوں کے آگے چٹکی بجاتا بولا

وہ نظریں چرانے لگی

“پہلے آپ بتائیں کیا آپ سچ میں مجھ سے پیار کرتے ہیں؟” وہ چمکتی آنکھوں سے پوچھنے لگی

“ہاں” اس کے لب ہلکا سا مسکائے

“تو پھر آپ بتائیں کہ ‘میں آپ کیلیے کیا’ ہوں؟” وہ نادان لڑکی یہ کیا پوچھ بیٹھی تھی عالیان نے مسکراہٹ ضبط کرتے ایک گہری سانس لی تو سنو!

تم وہ ہو

جس کو دیکھ کر

میرے دل کی خالی ٹہنی پر

پھول گلابی کھل جاتے ہیں

جس کو دیکھ کر

مجھ کو اپنی مرضی کے

سارے موسم مل جاتے ہیں!°

عائشہ کے چہرہ سرخ ہوگیا

“آی ایم سوری اس رات جو کچھ میں نے کیا تھا میں اس کیلیے بہت شرمندہ ہوں آپ وہ تھپڑ دیزرو نہیں کرتے تھے” عائشہ کی آنکھوں میں نمی گھلنے لگی

“تو پھر میں کیا ڈیزرو کرتا ہوں؟”

“ایک ایسی لڑکی جو آپ سے آپ ہی کی طرح سچا پیار کرے” وہ نجانے کس خیال کے تحت یہ بول رہی تھی

” ہاں پر شاید میری قسمت ہی خراب ہے کیونکہ مجھے تو ایسی لڑکی ملی ہی نہیں” وہ افسوس کرتا کاندھے اچکا گیا

“آپ جانتے ہی کیا ہیں میرے بارے میں؟” وہ آنکھیں سکیڑ کر پوچھنے لگی

“وہ سب کچھ جو تم خود بھی نہیں جانتی”

“اچھا جیسے کہ؟”

“جیسےکہ تم جھوٹ بہت بولتی ہو” وہ سنجیدہ تھا

اس کی مثال میں تمہیں ابھی دے دیتا ہوں”تو بولو کیا تم مجھ سے پیار نہیں کرتی؟”

” نہیں”

“دیکھا میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ تم جھوٹ بہت بولتی ہو پر تمہاری آنکھیں سب سچ بتا دیتی ہیں

“آپ میرے منہ سے اقرار سننے کی حسرت میں رہ جائیں گے پر میں کبھی نہیں بولوں گی اور ویسے بھی یہ ضروری تو نہیں کہ جس کو میں پسند کروں وہ آپ ہی ہوں” عائشہ ہنس کر بولتی اسے تپا گئ

“میرے علاوہ کس کو پسند کرتی ہو تم؟”اس نے عائشہ کا بازو تھام کر خود کے قریب کرلیا “جواب دو” اب کی بار وہ سختی سے بولا عائشہ اچھل پڑی “کس سے پیار کرتی ہو تم؟” غصے سے پوچھا گیا عائشہ اپنے دل کی بغاوت پر کانپ اٹھی تھی جو دھڑک دھڑک کر سامنے کھڑے شخص کو پکار رہا تھا وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ کب سے اس کو پسند کرتی تھی بس خوف کی سبب کبھی بول نا پائ

“اپنے ش..شاہ کو” عائشہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی اقرار کر گئ عالیان کے لبوں پر دلکش مسکراہٹ ابھری تھی

“تبھی تم مجھے کلاس میں چور نظروں سے دیکھتی رہتی تھی؟” اس کی آنکھوں میں شرارت اتری

“جی نہیں میں آپ کو نہیں دیکھتی تھی” وہ شرم سے سرخ پڑتی اس کے ہاتھ کے نیچے سے نکل کر باہر بھاگ گئ عالیان نے بالوں پر ہاتھ پھیرتے مسکراتی نگاہوں سے اس دشمن جاں کو فرار ہوتے دیکھا

“جھوٹی!”

Sahab novel by Areeba Khalid

  • by

ہائے ائی ایم اجر یور کزن اج اچانک یاد انے پر اس نے پھوپھو کے دیے ہوئے نمبر پر میسج کیا چند منٹ بعد ہی جوابی ٹیکس اگیا ہائے ائی ایم علیزے مجھے بہت شوق تھا اپ سے بات کرنے کا۔ امی نے بتایا تھا مجھے کہ وہ اپ کو میرا نمبر دے کے نہیں ہے بس اسی دن سے میں اس انتظار میں ہوں کہ کب اپ کا میسج ائے اجر کیا اپ مجھے اپنی تصویر بھیج سکتے ہیں دیکھیں نا کتنی عجیب بات ہے کہ ہم دونوں کزنز ہیں اور ہم نے ابھی تک ایک دوسرے کو دیکھا تک نہیں ہے اگر اپ کو کوئی ایشو نہیں ہے تو پلیز اپ مجھے اپنی پک بھیج دیں۔ اور بالاخر اج اپ نے مجھے میسج کر ہی لیا۔جی وہ بس میرے ذہن سے نکل گیا تھا اس کا دل کھٹک رہا تھا اور دماغ کسی خطرے کا پیغام دے رہا یوں لگ رہا تھا کہ جیسے کسی بپھرتے سمندر کا بند کھول دیا گیا ہو اور ایک طوفان اس کی جانب آ رہا ہو۔آپی آپ رات کو اتنی دیر تک دیر کس سے باتیں کر رہی تھیں۔ وہ میں علیزے بات کر رہی تھی۔ اپ بھی اپ کو پتہ ہے نا کہ اگر بابا کو معلوم ہوا تو وہ کتنا غصہ کریں گے اچھا اچھا ٹھیک ہے میرا سر پہلے ہی درد سے پھٹ رہا ہے مزید میرا دماغ خراب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

اجر کیسی ہیں اپ۔الیزے پلیز تم نا یہ مجھے اپ مت کہا کرو اب تو ہم دوست ہیں اور دوستی میں تکلف سے نہیں محبت سے بنتی ہے۔وہ اس کے اپ کہنے سے زچ ہو کر بولی۔

مگر اجر احترام بھی تو ضروری ہوتا ہے۔

وہ تو ٹھیک ہے علیزے مگر احترام چاہنے والے اور چاہت کے درمیان ایک دیوار ہوتا ہے اور دوستی میں اگر احترام ا جائے تو پھر وہ دوست نہیں مروت بن جاتی ہے۔ویسے اجر ایک بات کہوں اگر تم مائنڈ نہ کرو تم نہ مجھے بہت اچھی لگتی ہو اگر میں لڑکا ہوتی تو تم سے شادی کرتی۔ اجر! سجاد صاحب کے آتے ہی اس نے جھٹ سے موبائل بند کر کے تکیے کے نیچے چھپا دیا۔ ج ،ج، جی بابا وہ اپنی گھبراہٹ پرقابو پاتے ہوئے بولی۔علایہ بتا رہی تھی کہ مہوش تمہیں اپنا نمبر دے کر گئی ہے۔ اجر میری باتk کان کھول کر سن لو وہ عورت کسی کی سگی نہیں ہے۔خبردار اگر تم نے اس سے کوئی رابطہ رکھا۔وہ اپنی بات کہ کر اُسکے سر پر ہاتھ رکھ کر چلے گئے مگر اس کا چہرہ یہ سنکر خوف کی وجہ سے نہ صرف پیلا پر گیا تھا بلکہ ایسا لگتا تھا کے جیسے اسکی رگوں میں دوڑتا ہوا خون بھی کسی نے نچوڑ لیا ہو۔

Koh e ana novel by Rimsha Riaz 

  • by

بولو کیوں بلایا ہے ؟ ارسلان سلور شرٹ بلیک پینٹ میں ملبوس ماتھے پہ تیوریاں لیے ہانیہ کے سامنے کھڑا تھا۔

ارے سانیس تو بحال کریں۔ آرام سے بیٹھ جائیں ۔ ہانیہ ڈھٹائی سے بولی ۔

وہ سامنے کی سیٹ پہ براجمان ہوا ۔ چہرے پہ ناگواری کے تاثرات تھے۔

بولو جلدی ٹائم نہیں ہے! وہ گھڑی دیکھتے بولا ۔

ارسلان آپ اچھے سے جانتے ہیں کہ میں اپ سے بہت پیار۔۔۔۔

ہانیہ تمھارے دماغ میں یہ بات کب بیٹھے گی ہاں کہ میں نہیں کرتا پیار وار کچھ بھی۔

دیکھو ارسلان ؟ اس نے بے باکی سے اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھا ارسلان نے جھٹک دیا۔

ہاتھوں کو قابو میں رکھو ہانیہ ۔ مجھ سے دور رہا کرو میں نہیں کرتا پیار ۔

تو کیا اس عنائشہ سے کرتے ہو ہاں ۔ سننا چاہو گے کہ وہ تمھارے بارے میں کیا سوچتی ہے۔ سنو گے تو سنو پھر۔ اس نے ریکارڈنگ چلا دی۔

وہ اک دن پھٹی نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔ ارسلان کے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے۔مگر سن کے وہ مسکرایا اور اس کا ہاتھ پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے فون لیا ۔

کیوں اپنے آپ پہ ہنس رہے ہو کیا؟ وہ استہزاء سے تکنے لگی۔

ارے نہیں تم پہ۔ تمھیں کیا لگا تمھاری اس حرکت سے تم پہ دل آجاے گا۔ ہاں وہ پاک ہے تم سے بے باک نہیں ، وہ مردوں سے نہیں چپکتی اور مجھے فخر ہے اپنی پسند پہ۔ اور ہاں آئندہ اس کا نام بھی اپنی زبان سے مت لینا ورنہ ۔ اس نے انگلی سے تنبیہ کی۔وہ اک دم سہم گئی ۔

Señorita kertenkele novel by Haniya Meow

  • by

خود کی دریافت کا سفر:**

یہ کہانی مسکراہٹ میں چھپی درر، اور اذیت کی۔۔ ایک ٹوم بوائے کی ، جو اپنے خود بین ماحول میں اپنے جذبات اور ادھوری خواہشات کو رنگوں کی مدد سے تصویر میں قید کرتی ہے۔ کہانی ایک پراسرار اجنبی سے اس کے روح پوش ہونے تک کے سفر کی ہے۔ ایک پراسرار روبوٹک انسان جو اپنے گہرے سوالات سے دوسروں کو کھردتا ہے۔ اور خود کو گہری تہوں میں بند کیا ہوا۔

یہ کہانی ہے دو انسانوں کی جن کا ماضی ایک دوسرے سے جوڑا ہوا ہے۔ کہانی ہے بدلے کی، ان کہی محبت کی، اذیت کی، روح پوش ہونے کی، انتظار کی۔۔۔

Sargoshiyan novel by Sarah Tahir

  • by

“تم چاند سے اتنے گھنٹوں تک باتیں کیسے کر لیتی ہو؟”

“جن کو آپ پسند کرتے ہیں، ان کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے آپ کو وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا ۔”

“تم چاند کو پسند کرتی ہو ؟”

“ہاں بلكل .”

“اور چاند کے علاوہ؟”

“اماں، ابا، احمد ،علی ،صفیہ … اور ہاں کشمالہ خالہ اور طفیل چچا کو بھی۔”

کشمالہ خالہ اور طفیل چچا کا بیٹا مرمرا گیا ہے کیا؟ راحم کو بہت برا لگا مگر یہ بات وہ صرف دل میں ہی سوچ سکا .

“اور سب سے زیادہ کون پسند ہے تمھیں؟”

اس کے اس سوال پر عبیرہ نے جھٹ جواب دیا۔

“چندا”

“حالانکہ باقی سب تمھیں چاند سے زیادا پیار کرتے ہیں، پھر بھی؟ تم جانتی ہو ناں چاند بے جان ہے۔”

چاند بے جان نہیں ہے۔ تم سب کے لیے ہوگا مگر میرے لیے نہیں ہے۔”

Aseer e mohabbat novel by Angel Sani 

  • by

مجھ۔۔ مجھے۔۔ بھوک۔۔ لگی ہے۔۔ وہ چہرا ایک بار پھر جھکا کر شرمندہ لہجے میں بولی تھی۔۔

تم بیٹھو میں لے آتا ہوں۔۔ وہ کہتا ہوا بغیر اسکی جانب دیکھے کمرے سے باہر نکلا تھا۔۔ سنائیہ نے اسکی پشت کو نظروں سے اوجھل ہوتے دیکھا تھا۔۔ اور ہچکیوں میں روتی ہوئی بیڈ پر آ بیٹھی تھی۔۔ وہ اسکی بے رخی سہہ نہیں پا رہی تھی۔۔

تقریباً پانچ منٹ بعد ہی وہ ہاتھ میں ایک ٹرے پکڑے کمرے میں داخل ہوا جس میں ایک دودھ کا گلاس اور دو تین سینڈوچ تھے۔۔ سنائیہ نے اسے اندر آتے دیکھ اپنی گال پر بہتے آنسو صاف کیے اور چہرہ جھکا کر بیٹھ گئی۔ سنان کو تکلیف تو ہوئی تھی اسے ایسے دیکھ کر پر فلحال وہ اپنے اوپر کھول چڑھائے ہوئے تھا۔۔ اس نے خاموشی سے ٹرے لے جا کر سنائیہ کے پاس رکھ دیا۔ اور خود واپس جا کر صوفے پر بیٹھ گیا۔۔ سنائیہ نے فوراً پلٹ کر اس کی جانب دیکھا تھا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا خاموش اور سنجیدہ نگاہوں سے۔ کچھ اور چاہیے کیا؟ اسے خود کی جانب تکتا پا کر سنان نے نرمی سے پوچھا۔۔اس کا یہ نرم لہجہ اسے پھر سے رلا رہا تھا۔ اس کے گلے میں ایک گلٹی ابھر کا معدوم ہوئی۔ وہ محض نفی میں سر ہلا گئی۔۔ پھر کھا کیوں نہیں رہی ہو؟ اس نے فوراً پوچھا۔۔ آ۔۔ آپ نے کچھ کھایا تھا؟ وہ چور سے لہجے میں کہتی نظریں جھکا گئی۔ سنان بس اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔ اس وقت اسے سامنے بیٹھی اس لڑکی پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا۔ ہاں میں نے کھا لیا تھا۔ اس نے کہا تو سنائیہ نے پھر اسے دیکھا۔ وہ جانتی تھی وہ جھوٹ کہہ رہا تھا اس نے کچھ نہیں کھایا ہوگا اور نا ہی وہ اب کچھ کھانے والا تھا۔ اس لیے خود بھی ٹرے کو سائیڈ پر دھکیل کر رکھتی واپس لیٹنے لگی۔سنان نے ماتھے پر بل ڈال کر اسے دیکھا۔۔ سنائیہ کھانا کھا کر سونا نہیں تو میں بہت برا پیش آؤں گا۔۔ وہ ذرا سختی سے اسے دیکھ کر بولا جو تقریباً لیٹ ہی چکی تھی۔ مجھے نہیں کھانا۔۔ خفگی بھرے لہجے میں کہتی وہ اسکی جانب پشت کیے سسکیاں بھر رہی تھی۔ سنان نے اس کی پشت کو دیکھ کر ایک گہرا سانس ہوا کے سپرد کیا پھر اٹھ کے اس کے سر پر جا کھڑا ہوا۔۔ سنائیہ چپ چاپ اٹھو یہ سینڈوچ کھاؤ اور دودھ پیو پھر میڈیسن کھا کر سونا۔۔ وہ قدرے سنجیدگی سے بولا۔۔ سنائیہ نے لیٹے لیٹے ہی نظروں کا زاویہ اسکی جانب گھمایا پھر صاف غضے اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کروٹ دوسری جانب موڑ لی۔ سنان نے لب بھینچ تکیے پر بکھرے اس کے بالوں دیکھا پھر اس کے پاس ہی بیٹھ گیا۔۔ سنائیہ نے بخوبی اس کے اپنے پیچھے بیٹھتا محسوس کیا تھا۔ سنائیہ اٹھو۔۔؟ سنان نے اس کا کندھا ہلایا پر وہ ٹس سے مس نا ہوئی۔ مجھے بھوک نہیں ہے۔۔ اس نے بغیر رخ موڑے کہا۔ سنان کا ضبط جواب دے رہا تھا۔ اس نے گہرا سانس لیتے ہوئے اسے زبردستی بازو سے پکڑ کر اٹھانا چاہا۔ میں نے کہا نا مجھے نہیں کھانا کچھ بھی۔ آپ جائیں اور جا کر سو جائیں۔ آپ کو کیا ہے میں کھاؤں یا نا کھاؤں جیوں یا مرو۔۔ وہ با مشکل خود کو رونے سے باز رکھتے ہوئے بولی۔۔ تمہارے جینے مرنے یا کھانے یا نا کھانے سے مجھے ہی فرق پڑتا ہے اور پڑتا رہے گا سنا تم نے اب

فضول باتیں کرنا بند کرو اور چپ چاپ کھانا کھاؤ۔نہیں تو اچھا نہیں ہوگا۔۔وہ تنبیہ کرتا ہوا کہتا اسے بازو سے پکڑ کر زبردستی اٹھانے لگا۔۔

Ahmed ki Hoor novel by AS Writer

  • by

بابا آپ ایسا نہیں کر سکتے”۔”

“میں یہ کیوں نہیں کر سکتا”

“بابا وہ بچی ہے۔ ”

”میں جانتا ہوں”

”پھر”

وہ ایک سمجھدار بچی ہے وہ آپ کے بچوں کا خیال رکھے گی۔

بابا ہر عورت بے وفا ہوتی ہے۔

آپ اس کی شادی میرے ساتھ کیوں کر رہے ہے؟

کیونکہ وہ ایک ذمہ دار لڑکی ہے اور اس کے والد نے اس کی اچھی تربیت کی ہے۔

بابا پلیز

پچھلی بار تم نے اپنی پسند سے شادی کی تھی لیکن اب تم میری پسند سے شادی کرو گے مجھے یقین ہے کہ وہ تمہارے لیے پر فیکٹ ہے۔

ٹھیک ہے بابا احمد نے غصے سے یہ کہا اور اپنے کمرے میں چلے گیا

Taghoot novel by Anzum Aziz

  • by

پو چھوگی نہیں کیا کہا اسنے کیا پوچھوں اور کیا کریں اب میں تھک گی ہو بھابی لڑ لڑکر۔۔

آب اور نہیں ہے

مرے پاس ہمت ۔۔،

تم تو اپنے ہونے والے محرم سے بات کرنے گی تھی

لکین مرہ نے کہا ک تم صعبی سے ملنے گی

تھی تمہارا بھای کہتا کہ

تمہارا بھائ کہتا ہے

کہ وہ تمسے بات کرنے کی اجازت

ابا سے لے چکا تھ، لکین تم نے اچانک بولا بیجا کہ مرہ کے گھر آؤ ۔۔

لکین وہ تم سے یہی ملنے کا سوچ رہا تھآ لکین وہ پھر بھی تمہاری بات سننے

کے لیے آگیا کیو نکہ وہ اپ کو دیکھانا چاہتا تھا مانو نے تڑپ کر پوچھا کیا ۔۔۔؟

یہی کہ تم بے داغ ہو ۔

اور وہ جانتا ہےکہ صفہ اسے پسند کرتی ہے اور رمضہ نے تم سے اپنی

محبت کا بدلا لیا کونسی

محبت تمہارے بھای کی تو اسمیں مرا کیا قصور ہے

اور اسلیے ان تینوں بہنو نے ملکر تمہارے اوپر بہطان لگاے

اسلیے وہ تم سے انکے گھر ملنے آگیا

۔۔تمیارا بھائی نہیں چہاتا تھا

کہ تمہیں اس بات کا پتہ چلے اور تم پریشان ہوگی اسلیے۔۔۔

لکین میں چہاتی ہو تم اپنے دشمنوں کو پہچانوئ

Safar masoomiyat se qaid tak short novel by Muskan Khan

  • by

ہوئی ایک صبح ایسی سی۔۔

ہوا تھی جس دن نم۔

بارش کا تھا موسم۔

جنمی ایک ننھی سی جان۔

چہرہ اس کا حوروں سے کم نہ تھا۔

وہ معصوم ہوئی جب ایک برس کی۔

گھر میں خوشیوں کا سما تھا۔۔

وہ معصوم کب کس کو پتہ تھا۔

اس کی زندگی کے نصیب و راز کا۔

جب وہ حسین بڑی ہوئی۔

18 برس کی ۔آیا اس کی زندگی میں ایسا موڑ۔۔

لڑنا تھا اسے اپنے نصیبوں سے میں نے کیا۔

جیت گئی وہ ہر لڑائی میں لیکن خود کو ہار بیٹھی وہ معصوم نادان لڑکی۔

اسے نہ پتہ تھا جیت کے کھیلوں میں وہ ایک دن خود کو ہار بیٹھے گی۔

خود کی لگائی بازیوں سے وہ کیسے جیت پائے گی۔

وہ معصوم نادان لڑکی!

جو خود کو ہار بیٹھی۔

وہ ہر قید سے آزاد تھی۔

اسے نہ پتہ تھا کہ وہ سفر قید کی مجرم ہوگی۔

ایک دن قید اس کا مقدر ہوگی۔

وہ ہر قید اسے آزاد تھی اسے نہ کسی راجا کی ضرورت تھی۔ نہ کسی شہزادے کا خواب تھا۔

وہ خود کے لیے فقط خود ہی کافی تھی۔

اس کی زندگی میں جب آیا وہ معصوم شہزادہ۔وہ کوئی شہزادہ نہ تھا لیکن وہ کسی شہزادے سے کم نہ تھا۔

اس کی محبت میں گرفتار ہوئی کہ مجرم بنی۔

وہ محبت کے آغاز میں بھول گئی۔ اپنی سرکشیاں، جدوجہد، قربانیاں، جو کھویا تھا وہ بھی بھول گئی۔

معصوم تھی نادان لڑکی۔

بھورے بال ہری انکھیں تھی۔ اس کی گوی رنگت یوں مانو جسے آسمان سے اترا ہو دیکھنے میں زمین زادہ نہ لگتا تھا۔ کوئی جیسے چاند کا ٹکڑاؤ۔

اس کی ہری آنکھیں جان لیتی تھی۔

وہ دل ہار گئے اس پر تب سے شروع ہوا ہے یہ سفر “سفر معصومت سے قید تک” ۔