Skip to content
Home » Archives for Mubarra » Page 181

Mubarra

Tabeer e khwab by Iqra Rajpoot Complete novel

  • by

ترجمہ:

”اللہ آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے اس کے نور کی مثال یوں جسے ایک طاق میں ایک چراغ (رکھا) ہو (وہ) چراغ (شیشے کے) ایک فانوس میں ہو (وہ)فانوس گویا موتی کی طرح ایک چمکتا ہوا تارا ہے وہ(چراغ) زیتون کے ایسے مبارک درخت کے تیل سےروشن کیا جاتا ہے جو نہ شرقی ہے نہ غربی قریب ہے کہ اس کا تیل اپنے آپ ہی روشن ہو جائے اگرچہ اسے آگ نہ بھی چھوئے یہ نور پر نور ہے اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور کی طرف رہنمائی فرماتا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے اور اللہ ہر شے کو خوب جاننے والا ہے۔“( آیت ٣٥)

وہ بہت انہماک سے آیت کا ترجمہ کر رہی تھی اس کی آواز اِس پر نور ماحول کو راحت بخش رہی تھی۔

حارث مبہو ت سا اُسے سن رہا تھا اس نے سورۃ مکمل کی تو حارث اس کے پاس چلا آیا۔

”ماشاءاللہ! واہ بھٸی میری بہن کی آواز تو بہت پُرکشش ہے ویسے ایک بات ہے تم بالکل اس خوبصورت ماحول کا حصہ لگ رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“

حارث نے اس سے کہا۔

جس پر وہ مسکرا دی۔

”بھائی ہم اللہ کا کلام پڑھتے ہیں تو ہماری آواز خود باخود پُرکشش اور پیاری ہو جاتی ہے یہ کلام ایسا ہے کہ کوئی سنے یا اِسے پڑھے دل کو سکون ہی بخشتا ہے۔۔۔“ اس نے کہا۔

٭٭٭

”نور دیکھ کون آیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ شازیہ بیگم نور کو دیکھ خوشی سے بولی تھی۔

شازیہ بیگم کی نظروں کے تعاقب میں جب اس شخص نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ فورا اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا۔

جبکہ نور اس شخص کو دیکھ اپنے جگہ ساکت ہوئی تھی۔

”دیکھ نور میں کہتی تھی نا حاشر آئے گا دیکھ میرا حاشر آگیا تیرا باپ آگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ شازیہ بیگم نے خوشی سے نم آواز میں کہا۔

جس پر سب کی ہی متفکر نظر نور پر ٹھہری تھی۔

جب کہ نور کی آنکھوں سے ایک موتی اس کے رخساروں سے لڑکھڑاتا ہوا زمین بوس ہوا تھا۔

حاشر صاحب نے نور کی طرف بڑھنا چاہا جب نور نے ہاتھ کھڑا کرتے وہیں روکا تھا جس پر انہوں نے بے بسی سے نور کو دیکھا اور نور کے چہرے پہ استہزائیہ مسکراہٹ آئی تھی۔

”دادی آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے صرف آپ کا بیٹا آیا ہے میرا باپ نہیں میں تو بہت سال پہلے یتیم ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ نور نے خود پر ضبط کیے سپاٹ لہجے میں کہا۔

نور کے الفاظ تھے یہ کھ نجڑ حاشر صاحب کا سینہ چیڑ گئے۔ جبکہ اس کی بات پر سب اپنی جگہ ٹھہر سے گئے تھے۔

نور ایک نظر سب کو دیکھتے اپنے کمرے کی طرف بڑی تھی جب اسفند نے اسے پکارا تھا۔

” نور !۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“

”اسفند نے ابھی کسی سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی مجھے کوئی ڈسٹرب نہ کرے پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Nikkah ki taqat by Hoorain Sikander Complete novel

  • by

” تمہیں ایک بات کتنی بار سمجھانی پڑے گی”

” کیا ہوا “

اس کے اچانک گویا ہونے پر وہ ڈر گئی اور پھر ہلکلاتے لہجے میں اس کی بات کی وجہ پوچھی

” کیا مطلب کیا ہوا تمہیں میں کتنی دفعہ سمجھا چکا ہوں کہ مجھے چھوٹا کان کہہ کے مت بلایا کرو اس کی اجازت تمہیں نہیں ہے میری ایک دفعہ کہی گئی بات کیوں سمجھ نہیں اتی “

وہ اس کی ناسمجھی پر غصے کی حالت میں اسے باور کروانے لگا

” وہ وہ داجی کے کہنے پر غلطی سے زبان سے ادا ہو گیا”

اسے کچھ دیر پہلے والی بات یاد اگئی تھی اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ باسط خان سے بہت ڈرتی تھی ایک وہی تو تھا جس سے وہ ڈرتی تھی

“ائندہ سے یہ لفظ تو غلطی سے بھی تمہاری زبان سے ادا نہ ہوں تمہیں مجھے چھوٹے خان کہنے کی اجازت نہیں ہے”

وہ صرف وارننگ دیتے انداز میں کہتے پھر سے سامنے کی طرف متوجہ ہوا

“ویسے ایک بات پوچھوں “

وہ ڈرتے ڈرتے گویا بھی اس نے محض ہنکارہ بھرا نظریں ہنود سامنے تھیں

” اپ کو میرے چھوٹے کا کہنے سے مسئلہ کیا ہے “

درحقیقت وہ بھی تنگ ا گئی تھی کہ اسے ہمیشہ سے اسی بات پہ ڈانٹا تھا کہ عریج اسے غلطی سے بھی چھوٹا خان نہ بلائے اج بھی بڑی ہمت کر کے یہ سوال کیا تھا

” کیونکہ یہ نام میرے لیے بہت قیمتی ہے چونکہ یہ مجھے دادی کی جانب سے دیا گیا ہے اور مجھے یہ ہرگز گوارا نہیں کہ میری قیمتی چیزیں تم استعمال کرو اور تم مجھے میرے اس قیمتی نام سے مخاطب نہیں کر سکتی”

٭٭٭٭

تیرے بن اب نہ لیں گے ایک بھی دم

تجھے کتنا چاہنے لگے ہم

تیرے ساتھ ہو جائیں گے ختم

تجھے کتنا چاہنے لگے ہم

اس جگہ آ گئے چاہتیں اب میری

چھین لوں گا تمہیں ساری دنیا سے ہی

تیرے عشق پہ ہاں حق میرا ہی تو ہے

اففف اس کے یہ الفاظ ایک بار پھر عریج خان کا دل دھڑکا گئے تھے وہ ہمیشہ اپنی خانم کو ایک نئے طریقے سے اپنا آسیر کر لیتا تھا۔

کہہ دیا ہے یہ میں نے میرے رب سے بھی

جس راستے تو نہ ملے

اس پہ نہ ہو میرے قدم

تیرے بن اب نہ لیں گے ایک بھی دم

تجھے کتنا چاہنے لگے ہم

تیرے ساتھ ہو جائیں گے ختم

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Meri zindagi by Amna Arain Complete novel

  • by

احمد ہی نہیں ہو سکتا یہ کیسے کہہ سکتے ہیں میرا بچہ کوما میں چلا گیا ہے یہ کیا کہہ رہے ہیں اپ سن رہے ہیں نا ایسے کیسے ہو سکتا ہے اسیہ بیگم تب سے ہزیانی چلائی جا رہی تھی

احمد شاہ خود پریشان کھڑے ہوئے تھے ان کو خود کچھ سمجھ نہیں ا رہا تھا کہ ان کا جوان جہان بیٹا اس طرح ہاسپٹل میں بستر سے لگ کر پڑا ہوا ہے انہوں نے تو ابھی ارحم اور ارم کو بھی سنبھالنا تھا وہ کیسے سب کا سامنا کریں گے وہ کیسے اپنے بچوں کو بتائیں گے اگر تو عزلان کچھ ہو گیا وہ اگے سوچ بھی نہیں سکتے تھے وہ صرف اور صرف اپنے رب سے دعا کر سکتے تھے

ان کا شدت سے دل چاہ رہا تھا انسو بہانے کا لیکن وہ بظاہر اپنے اپ کو مضبوط بتا رہے تھے لیکن ان کا رب جانتا تھا کہ وہ اندر سے کس قدر ٹوٹ چکے ہیں

اخر کون باپ چاہے گا اپنے بیٹے کو اس حالت میں دیکھنا

ان کا بیٹا اج کتنا خوش تھا اپنے عشق کو پا کر وہ اپنی بارات لے جانے کے لیے کس قدر خوش تھا وہ وہی جانتے تھے انہوں نے اس کی انکھوں میں خوشی دیکھی تھی وہ اج سے پہلے کبھی اتنا خوش نہیں ہوا تھا جتنا اج ہو رہا تھا

یا اللہ پتہ نہیں میرے گھر کو کس کی نظر لگ گئی ہے احمد میں اپ کو بتا رہی ہوں اس م** لڑکی کی وجہ سے ہوا ہے وہ ابھی ہمارے گھر میں ائی نہیں کہ میرے بیٹے کو اس حال میں پہنچا دیا ہے اللہ غرق کرے اس کو میری بد دعا ہے اس سے وہ کبھی خوش نہ رہ سکے

Doodh wala by Saira Khan Complete novel

  • by

مجھے اندازہ نہیں تھا میری بیوی کے

دل میں میرے لیے اتنی محبت چھپی ہوئ ہے

میں تو سمجھتا تھا انتہائ مجبوری میں میرے ساتھ رہ رہی ہے ۔۔وو اس کے چہرے سے بال ہٹاتے اس کے روۓ روۓ چہرے کو

دیکھتے مبتسم ہو کر بولا ۔۔

یو نو نویرہ؟

بچپن سے میں نے جس سے بھی شدید محبت کی اور اس کے ساتھ ہمیشہ رہنے کی خواہش کی وو ہی مجھ سے دور ہو گۓ ۔۔پہلے بابا

پھر امو جان ۔اور اب تم ۔۔مجھے لگا آج نہیں تو کل تم مجھے چھوڑ کر اپنے گھر چلی جاؤ گی ۔ان کے بعد میں تمہیں خود سے دور ہوتا نہی دیکھ سکتا تھا

اس لیے میں نے سوچا میں خود ہی ہمت

کر کے تمہیں ابھی جانے دوں ۔۔

وو سر جھکاۓ ہونٹ کاٹتے زمین کو گھورتا بول رہا تھا۔۔

مگر پھر قسمت نے مجھے اولاد کی خوش خبری دے کر ایک اور آزمائش میں ڈال دیا۔

میں تو تمہیں خود سے دور کرنے کی ہمت

نہیں کر پا رہا تھا ہر پل یہ ہی کھٹکا رہتا

اگر تم نے واقعی پیپر پر سائن کر دیے تو

اگر تم واقع مجھے چھوڑ کر چلی گئ تو ۔۔

ہر پل یہ ہی سوچتا کاش ٹرین اور ہوٹل میں

ہماری ملاقات نا ہوتی۔۔تو ہم بھی آج نارمل

کپل کی طرح رہتے

وو مظبوط مرد اپنے دل کی کیفیت بیان کرتے

اس کے سامنے ٹوٹ رہا تھا ظبط کے باوجود

پلکیں نم ہو رہی تھی ۔

جبکہ نویرہ خود اسکے دل کی باتیں سن کر دکھی ہو رہی تھی ۔۔

اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ریہان شاہ کا سر اوپر کیا

میں کبھی تمہیں چھوڑ کر نہیں جاؤنگی

Haey mera ishq mera dhoka short story by Mehr Kashif

  • by

سوچتا ہوں کہ وہ کتنے معصوم تھے ۔۔۔

کیا سے کیا ہو گئے دیکھتے دیکھتے۔۔۔۔

رمیز کا عشق دھوکہ تھا وہ دل و جان سے جب عشق کر بیٹھا تھا تو زندگی نے اسے ایسے مقام پے لا کے کھڑا کر دیا جہاں صرف ایک ایک لمحہ درد ناک ہوتا رمیز اپنی زندگی میں مست رہنے والا سلجھی طبیعت کا زیادہ نہ بولنے والا کم گو لڑکا تھا وہ کیسے عشق کے چکر میں پھنسا آج میں آپکو اپنے رمیز بھائی کی کہانی سناتی ہوں جو عشق کے پاگل پن میں مبتلا ہو کر خود کو ہی بھلا بیٹھے۔۔

Khud ba khud by Mishal Ali Complete novel

  • by

“تُم تو جانتی ہو بابا مجھے فورس کر رہے ہیں کہ میں تُم سے شادی کرو لیکن ۔ وہ کچھ رکا “۔

“۔لیکن میں تُم سے شادی نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔”

وہ سنجیدہ ہوکے بولا

“٫ کیا تم مجھے سے شادی نہیں کرنا چاہتے ہو۔

اُسے ایک منٹ کے لئے بھی حیرانی نہیں ہوئی تھی اسکو جیسے الہام ہوا تھا۔۔۔

“مجھے اندازہ تھا اس بات کا__”

لڑکی نے کافی لبوں سے لگايا اُسکی دو لٹیں چہرے پے جھول رہی تھی

وہ شرارتی آنکھوں والا کُچھ حیران ہوا اس نے اپنی جیب سے ایک سفید گلاب نکال کر ٹیبل پر رکھ دیا اور مسکرا کر بولا۔۔۔

“٫یہ ہم دونوں کی اینڈ ہے کیوں نے اس اینڈ کو خوبصورت کیا جائے__”

Safar e hidayat by Memona Noman Complete afsana

  • by

ابا جی ہدایت کیا ہوتی ہے؟” اس نے ان کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر بے تابی سے پوچھا. اس کے جواب میں وہ ہنوز سر جھکائے تسبیح کے دانے گراتے رہے. پھر آخر کار دو منٹ بعد انہوں نے جھکا ہوا سر اٹھایا اور ہلکا سا مسکرائے.

” اپنے دل سے پوچھو. تمہارا دل جانتا ہے.”

” نہیں بابا وہ نہیں جانتا.”

اس نے بغیر سوچے سمجھے کہا.

” میں دماغ کی نہیں دل کی بات کر رہا ہوں. دماغ بے شک نہیں لیکن دل واقف ہے. پوچھو اس دل سے کہ ہدایت کیا ہوتی ہے؟”

“بابا جی آپ بتائیں نا.” وہ بضد ہوئی. دل کی دھڑکن تیز ہوتی جا رہی تھی.

” نماز پڑھتی ہے؟”

“وہ… بچپن میں پڑھتی تھی.” “اب کیوں نہیں پڑھتی؟ اس ذات پہ ایمان نہیں رہا یا بھروسہ یا توکل؟” ان کے سوال پر وہ چپ رہی. بولنے کو کچھ بچا ہی نہیں تھا.

“نماز پڑھا کر.” وہ کہہ کر اپنا جھولا اٹھائے کھڑے ہوئے اور اپنی سیدھے ہاتھ کی شہادت والی انگلی آسمان کی جانب کرتے ہوئے زور سے بولے.

“وہی خدا ہے. وہی بندگی کے لائق. اسی سے مانگو کیونکہ وہی دینے والا ہے. وہی دیتا ہے. اور وہی دے گا.” اس کے بعد وہ رکے نہیں اور آگے بڑھتے چلے گئے اور پیچھے نوری خیالات میں گھری کھڑی رہ گئی.

Khail by Sana Sadia Complete novel

  • by

ایک دو سال سے شرجیل کو یہ بات پتہ لگی ہے اور اب وہ بھی ان کے ساتھ پورا پورا ملوث ہے اور میرا خیال ہے کہ آیاس صاحب کچھ عرصے بعد یہ سارا سمگلنگ کا کام شرجیل کے ذمے کر دیں گے

اور تمہیں کیا پتہ لگا کہ ہمیں انفارمیشن کون دے رہا ہے؟

ہاں سنا مطلب پیچھے جو ویڈیوز وغیرہ تمہیں ملی ہیں اور جو ڈیٹیل تھی ساری سمگلنگ کی

ہاں تھوڑا بہت شک ہے جن کے ساتھ یہ سمگلنگ کرتے ہیں ان میں سے کوئی آدمی ہے کیونکہ نہ صرف انفارمیشن آیاس صاحب کی ملی ہیں بلکہ دوسری سائیڈ کی بھی کافی انفارمیشن ملتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ انفارمیشن دینے والا ایک نہیں کافی ہوں ایسا بھی تو ہو سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سمگلر کا کوئی قریبی ہی انفارمیشن دے رہا ہو ان کے ساتھ یہ ڈیلز فائنل کرتے ہیں اسی کے پاس آیاس صاحب کی بھی انفارمیشن ہو سکتی ہے اور جن کے ساتھ یہ ڈیل کر رہے ہیں ان کی بھی

کیا تمہیں ان کا نام نہیں پتہ لگا ابھی تک کافی سمگلرز کا پتہ لگا ہے مگر جو اس بندے کو چلا رہا ہے یا ان کا لیڈر کہہ سکتے ہو اس کا بھی نہیں پتہ

***************

Ehd e intezar (Part 1 of hiyat beismik) by Bint e Aijaz Complete novel

  • by

“خدا کرے تجھے بھی محبّت تڑپاۓ

تیری سانسوں میں میرا نام آۓ

تیری دھڑکن کو میری صدا آۓ

تیری نظر میں اک حجاب آۓ

اس حجاب میں جھکی وہ پلکیں یاد آئیں

جو قدم تونے موڑ لیے…

ان قدموں کو دیکھ تو روز پچھتاۓ

خدا کرے تجھے بھی محبّت ترپاۓ

تو لوٹ کر پھر اس نگر میں جائے

وہ خالی میدان دیکھ تو چیخے چلاۓ

میری خاموشی میں چھپی میری ہسی تجھے یاد آۓ

تو بن چاہے لوٹ آۓ… بس ایک بار لوٹ آۓ

خدا کرے میری طرح تجھے میری محبّت ترپاۓ”

(بنتِ اعجاز)