Skip to content
Home » Archives for Mubarra » Page 180

Mubarra

Ruby by Dua Fatima Complete novel

  • by

“آفیسر ہارون اینڈ آفیسر انشرہ۔ یہ بہت ہی بڑی لاپرواہی کا مظاہرہ کیا ہے آپ دونوں نے۔”، ہیرے کا مالک، نوید درانی کاٹ دار انداز میں ان سے بولا تھا۔ وہ تقریبا پچاس سال تک کا آدمی تھا جو نہایت باوقار شخصیت کا مالک تھا۔بھوری آنکھوں اور بھورے بالوں والا۔ چہرہ پہ اس وقت سختی کے آثار صاف واضح تھے۔ہاتھ پیچھے باندھے، اپنی نظروں کو ان دونوں پر ٹکاۓ وہ کب سے انہیں اچھی خاصی سنا رہا تھا۔

“میڈیا پہ یہ بات لیک نہیں ہونی چاہئے۔ ہمیں کچھ بھی کر کے، پرسوں ایونٹ سے پہلے پہلے روبی واپس یہاں، اس بکسے کے اندر موجود چاہئے۔”، نوید درانی نے ایک بار پھر کڑکتی آواز میں کہا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چلا گيا۔ پیچھے وہ چھ لوگ ایک دوسرے سے نظریں چراتے کھڑے رہ گئے تھے۔ آفیسر ہارون اور آفیسر انشرہ کی کلاس ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔

“Look officers. Find the diamond as soon as possible. My whole team is going to come tomorrow to attend the event. Or should i say, the whole world…I am still regretting that why i chose this country for this event.”

“دیکھو آفیسرز۔جتنی جلدی ہو سکے ہیرا ڈھونڈو۔ میری پوری ٹیم یہ ایونٹ اٹینڈ کرنے کے لیے آ رہی ہے۔یا مجھے کہنا چاہئے کہ پوری دنیا۔۔۔مجھے اب تک پچھتاوا ہو رہا ہے کہ کیوں میں نے اس ایونٹ کے لیے یہ ملک چنا۔”، آسٹریلین عورت نخوت سے کہتی سر جھٹک کر وہاں سے چلی گئی تھی۔ پاکستان میں ہونے والا اس طرح کا یہ پہلا ایونٹ تھا۔ اور وہ بھی تقریبا بربادی کے دہانے پہ کھڑا تھا۔

“میری تو ابھی تک یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ ہیرا چوری ہوا کیسے۔۔۔بالکل آخری لمحہ پر سائرن بجا، وہ بھی بکسے والا۔ لیزر کا سائرن کیوں نہیں بجا۔”، ایونٹ آرگنائزر نے ان دونوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوۓ ایک اور کمنٹ پاس کیا۔وہ دونوں لب دبا کر خود اسی کشمکش کا شکار تھے کہ آخر ہیرا چوری ہوا تو کیسے ہوا۔ ہارون نے تو اپنا بندہ تک متعین کیا ہوا تھا کیمرہ روم میں۔ پھر کیسے؟

“دیکھو ہارون۔ کہیں سے بھی، کیسے بھی ہیرا پرسوں سے پہلے پہلے یہاں موجود ہونا چاہئے۔ ورنہ سر اور میم تم لوگوں پہ کیس بھی کر سکتے ہیں۔ تم لوگوں کی کوئی کریڈیبلٹی نہیں رہے گی۔ تم دونوں کی جاب تک چلی جاۓ گی۔”، میوزیم مینجر نے ان دونوں کو دیکھتے ہوۓ کچھ نرمی سے کہا تھا۔ ان دونوں نے اب بھی سر جھکاۓ ہی سر اثبات میں ہلا دیا۔ وہ تمام ممکنات سے اچھی طرح واقف تھے۔اور یہی تو ساری ٹینشن تھی۔ ہیرا کہاں سے لے کر آئيں؟

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Sakoon e qalab by Hoorab Mustafa Complete novel

  • by

اس کو بھی ساتھ لے کے جاؤ کوئی تعلق نہیں ہے ہمارا اس سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ہماری شرافت سنجو کے اتنے سال ہم نے اس کو پالا اور اپنے پاس رکھا لے جاؤ اس کو اپنے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔

نہیں چاہیے مجھے نہ یہ نہ ہی کوئی اور ۔۔۔۔۔۔۔۔زرا ن سنائشہ کو گھورتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کم ظرف مرد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی عورت کے ہوتے ہوئے اسے چھوڑ کے جا رہا ہے کیسی مردانگی ہے تمہا۔ری۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔زران کےقدم اربد خان کی اواز سنتے ہوئے دروازے کی طرف چلتے ہوئے رکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔اگر میں کمزور اور کم ظرف ہوں تو تم بھی کوئی طاقتور نہیں ہو مجھے ڈرتے ہو تم لالا سے اس کے نام سے اس کے کردار سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زرا نے اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے ساؤد کو اس کی کمزوری کے متعلق اشنا کرایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارے میں تو ایک مرد سے ڈرتا ہوں نا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم کیا ہواپنی بیوی کے ساتھ ہونے کے باوجود میری بیٹی کو لینے ائے شرم نہیں ای تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اب اسے ہی چھوڑ کے جا رہے ہوں یہ کہہ کر کے نہیں چاہیے۔۔۔۔۔۔۔تمہیں واہ رے واہ زران ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ار بد نے اسے مردانگی کے ساتھ ساتھ اس کے کمزوری بتائی

صائم اٹھاؤ اسے اور پھینکو باہر کوئی تعلق نہیں ہے ہمارا اس سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب یہ زران شاہ کی بیوی ہے اور میں نہیں چاہتا کہ اس سے متعلق کوئی بھی جنس ہمارے گھر میں ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عربت نے سائن کو حکم دیتے ہوئے زران کو یہ جھٹلایا کہ وہ اس کی بیوی ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی پھکاؤ چیز بھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تب سے اپنے اپ کو سنبھالے ہوئےشفا مضبوط سہارے سے کھڑی تھی اچانک سے زمین بوس ہو۔ی۔ ۔۔۔۔۔۔۔

شفا۔۔۔۔۔۔۔۔ شفا۔۔۔۔۔۔۔۔سائن جو شفا کو پکڑنے کے لیے بھی اگے بڑھا ہی تھا کیا اچانک اس کو کسی مضبوط ہاتھوں نے تھاما ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خبردار جو تم نے میری بیوی کو لگایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کاٹ ڈالوں گا تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زران نے صاءم کے ہاتھوں کو جھڑکتے ہوئے غصے سے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور شفا پ نے مضبوط سہارے میں تھامتے ہوئے وہاں سے چلا ۔کیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Hayat e yousuf by Warisha Zehra Complete novel

  • by

ہمارا معاشرہ عورت کو اس حد تک کم تر سمجھتا ہے کہ اگر اس کے ساتھ حقیقت میں کوئی حادثہ پیش آ جائے تو اس پر الزام لگا دیا جاتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ ان کرداروں میں خود کو تلاش کریں گے اور کچھ نہ کچھ ضرور دیکھیں گے۔ یہ ناول میرے دل کے بہت قریب اس لیے بھی ہے کہ اس میں میری زندگی کے بہت سے پہلو شامل ہیں، اور وہ پہلو ایسے ہیں جو مجھے ہمیشہ تلخ اور خوبصورت یادوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ لوگ رہیں یا نہ رہیں، یادیں رہتی ہیں، اور یہ حقیقت ہے کہ یادیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ کو یہ ناول پسند آئے گا اور آپ وہ سب دیکھ سکیں گے جو میں آپ سب کو دکھانا چاہتی ہوں، معاشرتی تلخ پہلو اور کچھ حقیقتیں۔

٭٭

اس دنیا میں نہ تو سیاہ ہے اور نہ ہی سفید، اگر یہاں کوئی رنگ پایا جاتا ہے تو وہ ہے سرمئی، اور اب ان کرداروں کو یہ طے خود کرنا ہے کہ وہ سیاہ ہیں یا سفید، اور کون سا رنگ ان پر پہلے غالب آتا ہے۔

کہانی طواف کرتی ہے یوسف سلیمان اور حیات سلطان کے گرد،کہانی گناہوں، بدلے، اور محبت کی.

کہانی طواف کرتی ہے حمید خان اور داوود سلطان کے گرد کہانی بدعنوانی، طاقت کی بھوک، اور دھوکہ بازی کی.

سیاہ اور سفید کی دھندلی لکیر

Muharar e dil short novel by Bint e Usman

  • by

کہانی ہے ایک ایسی لڑکی کی جو سیدھے راستے سے بھٹک گئی تھی۔جو اپنے ساتھ ظلم کر بیٹھی تھی۔جو اپنی صلاحیت کا انجانے میں غلط استعمال کر بیٹھی تھی۔کہانی ہے مہمل فاروقی کی جو گناہوں کی دلدل میں پھنسنے جا رہی تھی اگر اسے بروقت ہدایت نہ ملتی تو وہ مکمل طور پر اس دلدل میں دھنس جاتی جہاں سے واپسی شاید ہی ممکن ہو پاتی اس کے لیے۔

Dar e mohabbat se humkinar nahi by Aina Noor Complete novel

  • by

آپ دونوں ہر جگہ بن بلائے مہمان بن جایا کرو”۔

” اوہ موٹی تم چپ کرو تم سے کوئی بات کر رہا۔ایویں ہر معاملے میں ٹانگ نہ گھسایا کرو۔ بابا ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں گے ” شاہ ویز بولا۔

“آپ کی ہمت بھی کیسی ہوئی مجھے موٹی کہنے کی، ایس پی کی بیٹی ہوں میں”۔

“اور میں کہاں سے موٹی لگتی ہوں اتنی پتلی تو ہوں میں” عاشی نے غصے سے کہا غصے سے عاشی کی چھوٹی سی ناک پھول گئی تھی۔

“میں بھی انہی کا بیٹا ہوں” شاہ ویز نے اس کی پھولی ناک دباتے ہوئےکہا۔

“اور تم پہلے موٹی ہی ہوتی تھی اب ڈائٹ ایکسرسائز کر کے پتلی ہوئی ہو ، تو خود کو زیادہ اوور سمارٹ نہ سمجھو اور اپنا یہ چھوٹا دماغ کم استعمال کیا کرو”۔

عاشی نے غصے سے شاہ ویز کا ہاتھ جھٹک دیا جس سے وہ اس کی ناک دبا رہا تھا۔

“میں تو پھر ڈائٹ ایکسرسائز کر کے پتلی ہو گئی ہوں۔ آپ بھی کچھ کھا پی کر اپنی صحت بناؤ۔ تھوڑی سی تیز ہوا چلے تو مجھے ڈر ہی لگا رہتا ہے کہ کہیں میرا بھائی اس ہوا سے اُڑ ہی نہ جائے، سڑا ہوا مینڈک نہ ہو تو” عاشی نے اس کی صحت پر چوٹ کی۔

“شاہ ویز اب تو تمہیں جم جوائن کر ہی لینی چاہئے” بالاج ہنستے ہوئے بولا۔

شاہ ویز نے بالاج کو غصے سے گھورا جس کا بالاج پر کوئی اثر نہ ہوا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Aks e batan by Rashk e Falak Complete novel

  • by

“ہم لوگ کیوں بھول جاتے ہیں کہ گمشدہ لوگ واپس ملتے ہیں بچھڑے ہوئے لوگ نہیں اور کبھی کبھار تو یہ جانتے ہوئے بھی ہم تلاش جاری رکھتے ہیں ایک امید کا دیا دل میں جلائے رکھتے ہیں ہماری آنکھیں ان کی تلاش میں رہتی ہیں مگر یہ تو بہت پہلے تہ ہو گیا ہوتا ہے اب وہ ہمیں نہیں مل سکتے”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جانے والوں کو تو کوئی بھی نہیں بلا سکتا چاہے وہ دوست ہو یا دشمن لیکن ان کے لیے تو ان کی بیٹی تھی ،ان کی بہن تھی ،خوشیاں تھیں، روشنی تھی وہ کیسے اسے بھول جاتے لیکن جانے والے کے ساتھ جایا نہیں جاتا انہوں نے اس کو اللہ کا فیصلہ قبول کر کے اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کی کوشش کی تھی بے شک ان کے گھر ویرانیاں تھی بہت عرصے سے کوئی کھلکھلایا نہ تھا کھلکھلاتا بھی کیسے جو وجہ تھی کھلکھلانے کی وہ چلی گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Lali aur bulbul afsana by Uqba Ahmed

  • by

مون سون اپنی رخصتی پر ہے، بہت سے غم تازہ ہوئے اور بہت سی کثافتیں دل پر سے بہہ گئیں۔ آج آسمان خوب برسا جیسے کہہ رہا ہو کہ سب بہا دو اس پانی کے ساتھ ہر غم، تکلیف، رنج، الم، درد، اور کسی کی یاد (پر یہ اب نہ ہو پائے).

کبھی بادل وار برس سائیں

میرا سینہ گیا ترس سائیں

میں توبہ تائب دیوانہ

کیا آباد کروں گا ویرانہ

میری بس سائیں،،

میری بس سائیں،، (منقول)

“بلبل” میری طرح کافی خود کو سنبھال چکی ہے پر دل کے کونے کھدرے میں ابھی بھی ہر شام دھواں اٹھتا ہے اور پھر خود کو جھڑکنے کے باوجود کوچۂ جاناں میں جھانک لیا جاتا ہے۔

Chamakta hua chand by Areeba Awais Complete novel

  • by

ویسے بابا کے ساتھ آج تمہیں بھی لاہور کی فیکٹری کے وزٹ پہ جانا چاہئے تھا۔ شہرام نے بہت گہری نگاہوں سے اس کا جائزہ لیتے ہوئے کہا،جو بلیک تری پیس میں بال جیل سے ایک طرف کو جمائے خاصا ڈیسنٹ لگ رہا تھا۔

اس کی بات پر نوفل بغیر اسے دیکھے مسکرایا۔

شہرام نے دیکھا مسکراتے ہوتے اس کی آنکھیں یک دم چمکی تھیں۔

جانا تو چاہتا تھا پر،ہائے یہ ظالم سماج۔ نوفل نے ٹھنڈی سانس بھری۔

شرم کرو میرے منہ پر ہی میرے والدِ محترم کو ظالم سماج کہہ رھے ہو۔ اسے یاد آیا صبح رحمت عالم صاحب نے اسے شہرام کے ساتھ میٹنگ اٹینڈ کرنے کا کہا تھا۔ اس نے مسکراہٹ دباتے بظاہر شکائتی نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا

ارے آپ کے والدِ محترم کو کون ظالم سماج کہہ رہا ھے میں تو اپنے تایا حضور کو کہہ رہا تھا۔

اس نے کچھ اس انداز میں کہا کہ شہرام نے باقاعدہ قہقہ لگایا۔

ویسے کیا واقع تم سیریس ہو؟کچھ توقف کے بعد وہ گویا ہوا۔

نوفل نے لیپ ٹاپ کو بند کیا۔ چہرے پہ یک دم ہی سنجیدگی کے تاثرات نمایاں ہوئے تھے۔

تم اب تک یہ اندازہ نہیں لگا پائے کہ میں سیریس ہوں یا نہیں۔ پیچھے کو ٹیک لگا کر کرسی کے ہتھوں پر دونوں بازوں جماتے ہوئے شہرام کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔

نہیں اندازہ تو مجھے ھے۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مگر، کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

مگر تم جانتے ہواچھی طرح کہ، برادری سے باہر شادی کرنا ہمارے خاندان کا رواج نہیں ھے، جبکہ تم یہ بھی جانتے ہو کے کہ برادری سے باہر پسند کی شادی پر طاہر چچا ابھی تک خاندان بدر ھیں۔ شہرام کے چہرے پر اس کے لئے تفکرات کی پرچھائی صاف دیکھی جا سکتی تھی۔

جانتا ہوں۔ نوفل نے ایک گہری سانس لبوں سے خارج کی۔

مگر میں طاہر چچا کی طرح چپ چاپ گھر چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔ میں اپنے حق کے لئے بولوں گا،پسند کی شادی قانوناً کوئی جرم نہیں ھے، نہ ذات برادری سے ہٹ کر شادی کرنا کوئی ایسا ایشو ھے، یہ آغا جان کے خود ساختہ بنائے ہوئے قانون ھیں،یہ نوفل احمد عالم پر لاگو نہیں ہوتے۔ نہ ہی میں ان کو ایسا کرنے دوں گا۔ وہ ٹھوس لہجے میں بولا۔

تو گویا ایک پر زور جنگ عظیم ہونا باقی ھے۔ شہرام نے موبائل اور وائلٹ اٹھا کر چئیر سے اٹھتے ہوئے کہا ۔

ایک کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہو سکتا ھے کہ تمہارا نظرے انتخاب بھی خاندان سے باہر کسی پر جا ٹھرے۔ نوفل بھی کرسی کھسکا کر اٹھتے ہوئے کچھ شوخ لہجے میں بولا۔

Wafa mamnooh thehri by Mala Shah Complete novel

  • by

“ہیلو میں نے دیکھا کے آپ ہیں تو سوچا کے سلام ہی کر لوں”اگر کوئی اور اس شخص کو دیکھتا تو یقین ہی نہ کر پاتا کے یہ وہی آہل ہے۔۔لڑکیوں سے دور بھاگنے والا آج خود ایک لڑکی کو مخاطب کر رہا تھا

“کر لیا سلام اب آپ جا سکتے ہیں”طور نے چہرے پر سخت تاثرات لئے ہوۓ کہا

“دراصل مجھے اس دن کے لئے سوری کہنا تھا”یہ کیا کسی کے سامنے نہ جھکنے والا آج کسی اور کی غلطی پر اپنے آپ کو جھکا گیا

“ہاہ!سوری بہت سے آپ جیسے لوگ دیکھے ہیں پہلے غلطی کرتے ہیں اور پھر معافی مانگنے آ جاتے ہیں یہ جانے بغیر کے ان کی ایک غلطی سے ایک لڑکی کی پوری زندگی برباد ہو سکتی ہے”طور کے لہجے میں سختی برقرار تھی

کسی کی ایک نہ سننے والا آج خاموشی سے یہ سب سن گیا تھا۔۔طور اٹھی اپنی بک بیگ میں ڈالی اور سائیڈ سے ہو کر گزرنے لگی کے آہل نے بےاختیار اس کی کلائی تھام لی طور بے اختیار پلٹی اور ایک تھپڑ اس کے منہ پر ماری آہل پھٹی پھٹی آنکھوں سے یہ منظر دیکھ اور سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا وہاں موجود لڑکے اور لڑکیاں اب ان کی جانب متوجہ ہو گئے تھے

“شرم نہیں آتی آپ کو یوں کسی کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ پہلے معافی مانگتے ہیں اور پھر وہی بیہودہ حرکتیں کرتے ہیں۔۔ آپ جیسے مرد ہی ہوتے ہیں جو اپنے ملک اور معاشرے کو بدنام کرتے ہیں یوں کسی کا بھی بیچ راستے میں ہاتھ تھام لینا کہاں کی شرافت ہے یوں کرنے سے دوسروں کی نظروں میں تو آپ ہیرو بنے ہو گے لیکن میری نظر میں تمہاری کوئی حیثیت نہیں ہے۔۔کوئی بھی نہیں۔۔تم گھٹیا ہو یہ تو مجھے اسی دن پتا چل گیا تھا لیکن آج مجھے یقین بھی ہو گیا ہے”

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Ishq Pardaaz by Sabreen Farooqui Complete novel

  • by

“ایاز آپ فضول کی ضد لگائے بیٹھے ہیں۔”

فائقہ نے قدرے سختی سے کہا۔

“تمھیں کیوں یہ ضد فضول لگ رہی ہے؟”

اس نے قدرے خفگی سے کہا۔

“نکاح ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ملاقاتیں شروع کر دیں۔”

“میں نے ملاقاتوں کا نہیں ملاقات کا کہا ہے۔ نکاح والے دن اگر تم سیدھے منھ مجھ سے بات کر لیتی تو پھر میں یہ ضد بھی نہیں کرتا۔”

“نکاح والے دن نہیں کی تھی پر اب تو کر رہی ہوں ناں؟”

فائقہ کو اس کی منطق عجیب لگی۔

“پر مجھے روبرو تمھیں اپنے سامنے دیکھ کر بات کرنی ہے۔”

“لگتا ہے اب آپ نے پاکستانی ڈرامے بھی دیکھنا شروع کر دیا ہے۔”

شادی سے پہلے اس کے ڈائیلاگز سن کر فائقہ نے اسے بالی ووڈ فلمیں دیکھنے کا طعنہ دیا تھا اور اب اس کے لب وہ لہجے پر پاکستانی ڈرامے دیکھنے کا۔

اپنے جذبات کو دوسری مرتبہ اپنی محبوبہ کے ہاتھوں سے رندھتا دیکھ ایاز کو خود پر ترس آیا تھا۔

“بڑی نا شکری بیوی ملی ہے مجھے۔”

تاسف سے سر ہلاتے ایاز نے تبصرہ کیا۔

“بڑا بے صبرا شوہر ملا ہے مجھے۔”

فائقہ نے بھی منھ در منھ جواب دیا۔