Skip to content
Home » Archives for Mubarra » Page 180

Mubarra

Khataey bashar novel by Bakhtawar Ismail

  • by

دل میں ارزو جاگ رہی ہے

انسان خطاؤں کے پتلے بن رہے ہیں

دن بدن انسان سرکشی کی حد پار کر رہا ہے

روزانہ لاکھوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے

ہم صرف دیکھ رہے ہیں

خواہشات کو پورا کرنے کے لیے ہر غلط کام کر رہے ہیں

ہر زبان پر جھوٹ ہے

ہر گناہ عام ہے

نام کے مسلمان بڑھ رہے ہیں

ہر کسی کے دو چہرے ہیں

اب ایسا ماحول بن گیا ہے کسی پہ یقین نہیں ہوتا کہ یہ وہی ہے یا اس کا دوسرا چہرہ ہے!

Woh kon thi novel by Asma Afzal 

  • by

وہ پالر کی ڈریسنگ مرر کے سامنے کرسی پہ بیٹھی ہوئی تھی۔اور بیوٹیشن لڑکی بڑی مہارت سے آئی شیڈو لگارہی تھی۔اس نے آج لال رنگ کا کامدار لہنگا پہنا ہوا تھا۔میک آپ تقریبا ختم ہو گیا تھا۔بال آپ اپنی مرضی سے بنوائے گئی بیوٹیشن نے لب سٹک کا آخری ٹچ دیتے ہوئے پوچھا۔نہیں آپ اپنی مرضی سے دیکھ لے جو میری میک اپ لک کے ساتھ سوٹ کرے۔رودابا نے موبائل اٹھاتے ہوئے جواب دیا۔موبائل کی سکرین پلے کرتے رودابا کے چہرے پہ ایک خوبصورت سی مسکراہٹ آئی۔جب سے رودابا پالر آئی تھی۔یہ مسکراہٹ ہر دو منٹ کے بعد آنے والے میسج اور کال کے بعد آرہی تھی۔میڈم آپ چاہیں تو پہلے بات کرلے بیوٹیشن نے رودابا کے چہرے پہ ہر دو منٹ بعد آنےوالی مسکان دیکھ کر کہا۔نہیں آپ بنائیں بال میں بعد میں بات کرلوں گئی۔رودابا کے ہونٹوں پہ شرمیلی مسکراہٹ آئی جیسے چوری پکڑی گئی ہوں۔رودابا کا ارادہ اپنے ہونے والے ہسبنڈکو کو ترپانے کا تھا

Mohabbat ke baans novellette by Rabail Saleem download pdf

  • by

“محبت کے بانس” یخ بستہ جدائیاں اور مامتا کے بعد تیسرا ناول ہے ۔ رشتوں میں مٹھاس، اپنایت ، خلوص جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوتا جارہا ۔

رشتوں میں موجود محبت اور ہمارے رسم و رواج کو اپنا اصل کھو رہے ہیں اور ان کی جگہ مغربی رسم و رواج کو پذیرائی ملنے لگی ہے ۔

بس اسی بات نے مجھے اس موضوع پر قلم اٹھانے پر مجبور کیا ۔ کہانی کے کرداروں میں زمل ثمن اور ارحم کا کردار کھٹا میٹھا سا ہے جبکہ بی جان میرا پسندیدہ کردار ہیں جنہوں نے خاندان اور روایات کو ایک لڑی میں پرو کر رکھا ہوا

Sab that para reh jayega short story by Sawera Naz

  • by

کیا ہوا؟ کیا اپنا فیصلہ غلط لگ رہا ہے؟ فقیر نے پوچھا تھا. وہ جان گئی تهی کہ وہ کس فیصلے کی بات کر رہے ہیں.

نہیں. بس میں یہ نہیں سمجھ پا رہی کہ میرے ساتھ یہ کیا ہوتا آ رہا ہے اور کیوں؟ بچپن میں جو سوچا وہ پایا مگر عارضی مدت کیلئے پهر وہ سب چیزیں تو رہی لیکن میں! ! میں جیسے ان سے دور کر دی گئی. چیزیں بظاہر میرے سامنے تهیں مگر حقیقتاً وہ میری دسترس سے کوسوں دور تهیں. پهر لڑکپن میں دوباره مجهے ہر وہ شے عطا کی گئیں جو کبهی مجهہ سے چهین لی گئی تهیں. میرے تو خونی رشتے بهی عارضی وقت تک میرے ساتھ مخلص رہے. پهر وہ رشتے تو رہے مگر وہ خلوص؟ وہ جیسے پهر رہا ہی نہیں. پهر ہر کوئی مجهہ سے بدگمان رہتا. میری اچهائیاں، میری قربانیاں کسی کو نظر ہی نہ آ سکی. ہر بار ہر چیز مجهے عارضی مدت تک عطا ہوئی پهر ایسے چهین لی گئی جیسے کبهی نصیب ہی نہ ہوئی ہو. زندگی نے جانے کس موڑ پہ لاکھڑا کیا ہے مجهے. میں اپنا من مار کر اوروں کی خوشیوں کی فکر میں رہی. نتیجہ کیا ہوا؟ ذلت، بےبسی، لاپرواہی، بےچارگی، تمسخر. میرا وجود تو تذلیل کا چلتا پهر تا اشتہار بن گیا ہے جیسے. میں ہار گئی ہوں ہر طرف سے. شکست روز بروز میرا مقدر بنتی جا رہی ہے. ایسا کیوں ہو رہا ہے کیوں؟ وه جانے کتنے برس کا غبار نکال کر پهوٹ پهوٹ کر رو دی.

Khasara novel by Ayesha Arif

  • by

ایسے کیا دیکھ رہے ہو- وہ آہستہ آہستہ اپنے قدم اسکی طرف بڑھانے لگا- اور وہ اپنے قدم پیچھے کو لینے لگی- تبھی اسکا پیر کسی چیز سے ٹکرایا اور وہ منہ کہ بل گرا- زمین کا سہارا لیتے وہ اٹھا مگر- وہ اسے کہی نظر نہیں آئی- وہ کہی نہیں تھی —

وہ پاگلوں کی طرح ادھر ادھر دیکھ رہا تھا

اپنی کتاب کھولے وہ کتاب کو غائب دماغی سے دیکھتی حشام کی باتیں سوچ رہی تھی –

“میرے لیے تمہارا اعتراف اور انکار کوئی معنی نہیں رکھتا”

کیا مجھے یہ بات گھر میں کسی کو بتانی چاہے؟

نہیں فضول میں ہی گھر میں سب پریشان ہوجائے گئے مجھے خود کوئی حل ڈھونڈنا ہوگا-

بابا شامیر کا کچھ پتہ چلا- حمزہ باہر سے آتے بولا-

نہیں آصف کو کال کی ہے وہ پتا لگا رہا ہے تم جاکر اسکے کسی دوست سے پوچھو– آخر کہاں جاسکتا ہے-عباس نے اسے دیکھتے کہا

میں نے سب جگہ پوچھ لیا ہے وہ کہی نہیں ہے – حمزہ پریشانی سے ادھر ادھر ٹہل رہا تھا جب داخلی دروازے سے شامیر داخل ہوا- اسے دیکھتے عباس بھی اٹھ کر اسکی طرف لپکے-

شامیر یہ — یہ تم نے کیا حال بنا رکھا ہے؟ اسکے دھول سے بھرے کپڑوں کو دیکھتے وہ بولے-

جبکہ کہ وہ ہونق بنا بس انکو دیکھتا رہا

شامیر کہاں تھے تم – ماہم نے آگئے بڑھتے اسکا چہرہ تھامتے کہا-

آہستہ سے اپنا چہرہ انکی گرفت سے چھڑواتے وہاں سے چلا گیا-

ماہم منہ پر ہاتھ رکھتے بے آواز رونے لگی-

ماہم آپ پرشان نہ- عباس کی بات کاٹتے وہ روتے بولی-

کیسے پریشان نہ ہوں- میرے جیتے جی میرا بیٹا اس حال میں ہے مجھ سے نہیں دیکھا جا رہا –

حمزہ انکو وہی چھوڑتے شامیر کہ پیچھے اسکے کمرے میں چلا گیا- اسکے بازو سے پکڑتے اسکا رخ اپنی طرف کرتے وہ

کہاں تھا تو– ؟ بول –

گہری

تجھے اندازہ بھی ہے ہم کتنے پریشان تھے–

شکل دیکھ اپنی توں – کوئی پاگل ہی لگ رہا ہے

وہ ویسے ہی بیٹھا رہا حمزہ اب کی بار کچھ نرم پڑھا-

یار کیا ہو گیا- توں کچھ بول کیوں نہیں رہا-

شامیر اپنا ہاتھ چھڑاتے بیڈ پر لیٹ گیا جس کا صاف مطلب تھا مجھے تنگ مت کرو-حمزہ کتنی دیر اسے دیکھتا رہا پھر لائٹ اوف کرتے کمرے سے ہی چلا گیا-