Skip to content
Home » Archives for Mubarra » Page 178

Mubarra

Amanat season 2 by Sidra Kmal Complete novel download pdf

  • by

میں میں تمہارے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوں لیکن تمہیں پہلے وعدہ کرنا ہوگا

کیسا وعدہ ہانیہ ؟؟

یہی کے تم میرے بچوں کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچاٶ گے۔۔۔

ہاہاہا

چلو منظور ہے ہانیہ

جیسے ہی ہانیہ حمزہ کے پاس پہنچتی ہے حمزہ غصے سے ہانیہ کو سر کے بالوں سے پکڑ لیتا ہے اور کہتا ہے

یہ تمہاری بھول ہے ہانیہ

کہ میں ان دونوں کو ایسے ہی چھوڑ دونگا۔۔۔۔یہ یہ دونوں مجھ اُس ایان کی یاد دلاتے ہیں

وہ ان دونوں میں زندہ ہے ہانیہ مجھے تکلیف ہوتی ہے جب جب انہیں دیکھتا ہوں

ہانیہ نہایت سمجھداری سے کام لیتے ہوۓ حمزہ کی جیب سے بندوق نکال لیتی ہے

اور پھر حمزہ کے پیٹ پر زور سے کونی مار کر حمزہ کو خود سے دور کردیتی ہے۔

حمزہ اس حملے کے لیے تیار نہیں ہوتا اور وہ حیرانی سے ہانیہ کو دیکھ رہا ہوتا ہے جو بلکل نڈر بندوق تھامے کھڑی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمہیں کیا لگا حمزہ کے میں تمہاری بات مان گٸ ہوں ؟؟؟

میں تاحیات صرف اور صرف ایان کی ہی ہوں۔

جھوٹ اسی لیے بولا تاکہ اپنے بچوں کی حفاظت کرسکوں سمجھے ؟

حمزہ ہانیہ کی طرف بڑھتا ہوا کہتا ہے۔

ہانیہ اسے مجھے واپس دے دو یہ کوٸ کھلونا نہیں ہے۔

خبردار جو میرے قریب آۓ حمزہ

لیکن جب حمزہ نہیں رُکتا تو ہانیہ حمزہ کے پاٶں پر فاٸر کردیتی ہے۔۔۔

یہ دیکھ کر حمزہ کا ساتھی ہانیہ کو مارنے کے لیے فوراً اپنی بندوق نکالتا ہے لیکن حمزہ جلدی سے چاقو نکال کر اپنے ساتھی کے ہاتھ پر مارتا ہے۔

جس سے اُسکا ہاتھ کافی زخمی ہوجاتا ہے اور وہ اپنا توازن کھو دینے کی وجہ سے نیچے گرجاتا ہے۔

ہانیہ دیکھو اب بس بہت ہوگیا خود کو میرے حوالے کردو۔

ہانیہ حمزہ کے دوسرے پاٶں پر فاٸر کرتی ہے اور کہتی ہے

یہ میرے بچوں کو انکے والد کے ساۓ سے محروم کرنے کے لیے ہے۔۔۔

حمزہ درد کی شددت سے نیچے بیٹھ جاتا ہے

ہانیہ بس بہت ہوگیا مذاق یہ مجھ دو ادھر

میری دھڑکن کو اتنی بے رحمی سے قتل کرنا کیا مذاق تھا ؟

ہانیہ غصے میں حمزہ کے بازو پر فاٸر کرتی ہے۔

یہ ایک ماں کو اُسکی اکلوتی اولاد سے دور کرنے، ایک بیوی کو شوہر سے جدا کرنے ، اس ملک کے ایک جانباز سپاہی کا قتل کرنے کے لیے۔۔۔۔۔۔

ہانیہ ایسا مت کرو پلیز رک جاٶ

یہاں تمہیں بچانے والا کوٸ نہیں ہے

ہانیہ حمزہ کے دوسرے بازو پر فاٸر کرتی ہے اور کہتی ہے

یہ ہر اُس شخص کی طرف سے جن کو تمہاری وجہ سے تکلیف ہوٸ

حمزہ کے دونوں بازو اور ٹانگیں بری طرح زخمی ہوتی ہیں۔

بہت تڑپ رہا ہوتا ہے۔

تم میرے تڑپانا چاہتے تھے حمزہ زرا خود کودیکھو

میں اگر چاہوں تو تمہیں اسی وقت مار سکتی ہوں لیکن نہیں میں ایسا نہیں کرونگی

تم قانون کے مجرم ہو مجھے کسی کی جان لینے کا کوٸ حق نہیں۔

ہانیہ جانے لگتی ہے تو حمزہ اپنی جیب سے دوسری بندوق نکالتا ہے اور کہتا ہے۔۔

اگر تمہارے ساتھ جی نہیں سکتا تو مرنا ہی سہی

Hala e mohabbat by Sidra Chaudhary Complete novel

  • by

دعایہ کیا کر رہی ہو تم؟

رقیہ بیگم جیسے ہی ڈائننگ ٹیبل پہ آئی تھیں،دعا کو دیکھ کر حیرانی سے چلا اٹھی تھیں۔

کیا ماما آرام سے بولیں نہ ،آپکا بی پی شوٹ کر جائے گا، اور میں ناشتہ کر رہی ہوں ،جیسے ہر گھر میں یونیورسٹی جانے والے کرتے ہیں۔

ناشتہ،کون پاگل ایسا ناشتہ کرتا ہے،جیسا تم کر رہی ہو؟ پاگل پن کی بھی حد ہوتی ہے۔

کیا ماما آپ مجھے پاگل کہہ رہی ہیں؟ مما آپ جانتی ہیں ،یہ میں ہوں آپکی اکلوتی بیٹی دعا،جسے آپ نے منتوں،مرادوں اور دعاؤں سے مانگا ہے،کتنی معصوم اور بھولی بھالی ہے۔آپ مجھے صرف میٹھا پراٹھا کیچپ کے ساتھ کھانے پہ پاگل کہہ رہی ہیں۔

دعا نے دنیا جہان کی معصومیت،دکھ اور ملال چہرے پہ سجا کر ماں کو دیکھا تھا اور اسکی اس قدر چالاکی پہ رقیہ بیگم سر پکڑ کر بیٹھ گئ تھیں۔

ہاں تمہارے جیسا معصوم تو اس دنیا میں ہے ہی نہیں کوئ،روزانہ ایک نیا شوشہ چھوڑ رکھا ہوتا ہے تم نے،اور اب تو تم نے انتہا کردی ہے،کون کھاتا ہے میٹھا پراٹھا کیچپ کے ساتھ،اور ہردوسرے دن ڈرائیور کو بیووقوف بنا کر گاڑی لے کر نکل جاتی ہواور چھٹی کے وقت آج تک تم ڈرائیور کے ساتھ نہیں آئی،بلکہ آنا تو دور ڈرائیور کو نظر تک نہیں آتی تم،جانے دوستوں کے ساتھ کہاں کہاں سے آوارہ گردی کرتی ہوئ پیدل واپس آتی ہو۔رقیہ بیگم

اب جو شروع ہوئ تو بولتی چلی گئ تھیں،اور انکی ساری باتیں سن کر دعا ہنستی چلی گئ تھی۔

جس پہ رقیہ بیگم نے گھور کر دیکھا تھا۔

بس بس مما باقی طعنے بعد میں دے لیجیے گا، میرا جانے کا وقت ہوگیا ہے۔دعا نے کہتے ساتھ ہی اٹھ کر بیگ اٹھایا تھا اور ماں کے گلے لگ کر پیار کیا تھا۔

Anjan rahen lagen apni si by Sloni Fayyaz Complete novel

  • by

“ہیپی اینی ورسری ” موم اینڈ پاپا “مسڑ اینڈ میسسز اوبان

اپنی بیٹی کی چہکتی ہوئی آواز پہ دونوں کی آنکھیں کھول گئی

تم کبھی سرپرائز کرنے سے باز نہ آنا, کتنی دفعہ بولا ہے ہم دونوں کو یہ سب نہیں پسند ,اور وہ ہمشہ کی طرح کا لیکچر سمجھ کہ دونوں کو اٹھا کر ٹیبل کے پاس لائی اور ان دونوں سے کیک کٹ کروایا

ابھی کیک کٹ کیا ہی تھا کہ احمد کا میسج آیا “ہیپی اینی ورسری ” جگر ,

خوش رہ میرے دوست …….

دونوںکیوں کر رہی ہو تم یہ،کیوں تم بے رحم ہو گئی ہو،تمھارا یہ فیصلہ مجھے خون کے آنسو رلا رہا ہے،زارا میں نہیں کر پاو گا۔

تم اتنی خوبصورت لگتی ہو مجھے،میں تمھارے علاوہ اپنے پہلو میں کیسے کسی اور کو دیکھوں گا۔

تمھارا مسکراتا چہرہ ،شرمیلی آنکھیں ،ن،ن۔۔نہیں ، میں یہ نہیں کر سکتا تم مانا کر دو،

کندھے پہ سر رکھ کہ مسلسل روتا ہوا اس سے پب کہہ رہا تھا ،

ہم جدا نہیں ہورہے ایک چھت تلے ہی تو ہیں ،مسکرا کر زارا نے کہا ۔۔۔

Heer e Aliyan by KSA complete novel

  • by

کیا کرتے ہو؟

انتظار

کس چیز کا ؟

معجزہ کا

معجزے ہوتے ہیں ؟

جی بلکل

اچھا بتاؤ کب ہوتے ہیں ؟

جب میرا اللّٰہ چاہتا ہے

اور کب چاہتا ہے اللّٰہ ؟

جب میرے حق میں بہتر ہو گا

اتنا یقین ہے اللّٰہ پر؟

جی بالکل سب سے زیادہ

پھر آنکھوں میں آنسوں کیسے ؟

یہ تو صبوت ہے اللہ کا بندہ بہت کمزور ہے اور اللّٰہ کن کا انتظار ہے

تو وہ آدمی مسکرایا اور بولا عشق کر بیٹھے ہو تو عالیان نے ہاں میں سر ہلایا میری اس سے عشق اس کہ علاؤہ سب کو نظر آتا ہے آہ آہ بچے عشق میں اچھے اچھوں قصہ نمپٹ گیا اور وہاں سے چلا گیا تو وہ فوراً گاڑی میں بیٹھا اور روانہ ہوا

Meri Jeet Amar kar do by Binte Kousar Complete novel

  • by

یہ ایک رومانوی ناول ہے جس میں ہماری سماجی زندگی کے مختلف پہلوؤں،خاندانی رشتوں ،مختلف جذبات محبت،عشق ،دوستی،نفرت کو پیش کیا گیا ہے۔۔۔۔یہ ایک ایسے لڑکے کی کہانی جس نے اپنے بچپن کی محرومیوں کو اپنے وجود میں بھر دیا اور اپنے خول میں بند ہو گیا۔۔۔۔یہ دو پیار کرنے کرنے والوں کی خوب صورت کہانی ہے۔ یہ کہانی ہے محبت کو پانے اور پا کر کھو دینے کی جس میں محبت نفرت ،لالچ اور قربانی کو اس انداز میں دکھایا گیا ہے کہ قارئین کو اپنے سحر میں جکڑ لے۔۔۔۔۔