Skip to content
Home » Archives for Mubarra » Page 177

Mubarra

Alhamd se Wannass by Umaima Shafeeq Qureshi complete novel

  • by

یہ کہانی ہے مختلف کرداروں کی

ایک ایسی لڑکی کی جو منطقی باتوں پر یقین رکھتی ہے

جسے آخرت،جنات اور فرشتوں پر یقین نہیں….

ایک ایسے شخص کی جس نے اپنا مذہب تبدیل کر لیا ہے

یہ کہانی ہے ایک معصوم اپسرا کی

اور ایک ایسے شخص کی جس کی ذہانت کا کوئی جواب نہیں…. یہ کہانی ہے الحمد سے والناس تک کے سفر کی

Dosti ki ek lehr novel by Anusha Kiran Season 1

  • by

“یہ کیا ہو رہا ہے”

معیز نے پاس کھڑے ایک لڑکے سے پوچھا۔

“کسی لڑکی کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔ بائیک والے نے ہٹ کیا تھا اور فوراً بھاگ بھی گیا۔”

اس لڑکے نے بتایا۔

“ہمیں چل کے دیکھنا چاہیے”

ماہم ثناء اور معیز سے بولی۔

وہ تینوں آگے بڑھے تھے۔ ہجوم کے بیچ راستہ بناتے جب وہ آگے بڑھے تو شاہ کو وہاں دیکھ انہیں حیرت ہوئی تھی لیکن شاہ کے ساتھ انوشے کو دیکھ ان کا دل کٹ گیا تھا۔ شاہ نے انوشے کا سر اپنی گود میں رکھا تھا۔ وہ خون روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ سفید شرٹ خون سے لال ہو چکی تھی۔

“یہ…یہ کیسے شا…شاہ یہ”

ثناء شاہ کے ساتھ بیٹھتی انوشے کا چہرہ تھپتھپانے لگی تھی۔ معیز بھاگا ہوا پارکنگ کی طرف گیا تھا۔ گاڑی روڈ پر لاتے وہ شاہ کی طرف بڑھا تھا۔ آذان اور حماد بھی ماہم کے کال کرنے پر وہاں پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے بامشکل شاہ کو سنبھالا تھا۔

شاہ نے انوشے کو گاڑی میں ڈالا تھا۔ معیز ڈرائورنگ سیٹ سنبھال چکا تھا۔ ثناء بھی ان کے ساتھ تھی جبکہ پچھلی سیٹ پر شاہ نے بیٹھتے انوشے کا سر اپنی گود میں رکھا تھا۔

✧⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_✧

ہاسپٹل پہنچتے شاہ نے انوشے کو سٹریچر پر لٹایا تھا۔ انوشے کا چہرہ زرد اور ہونٹ سفید پڑ گئے تھے۔ سٹریچر اندر لے جاتے ہوئے بھی شاہ نے اس کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔ آخر کار وہ اسے لے گئے جبکہ شاہ اپنا ہاتھ دیکھتا رہ گیا۔

“ادھر بیٹھ… تو دیکھنا سب ٹھیک ہو جائے گا…کچھ نہیں ہوتا اسے وہ بالکل ٹھیک ہو جائے گی”

معیز شاہ کو سائیڈ پر لگے بینچز کی طرف لے جاتے بولا۔

“مع… معیز و..ہ… اسے کچھ ہوا تو میں…”

اس سے سہی طرح بولا نہیں جارہا تھا

“کچھ نہیں ہوگا… کچھ نہیں ہوگا…..

“she’ll be alright

معیز اس کی بات بیچ میں کاٹتے ہوئے بولا۔

کچھ دیر بعد ان کے باقی دوست بھی ہاسپٹل پہنچ چکے تھے۔

“یہ لے پانی پی”

سہیل بوتل شاہ کی طرف بڑھاتے بولا تو شاہ نے نفی میں سر ہلایا

“میں کیسے کچھ کھا پی لوں جبکہ مجھے پتا ہے کہ وہ اندر تکلیف میں ہے۔ جب تک وہ ٹھیک نہیں ہوتی تب تک کچھ بھی نہیں چاہیے۔ مجھے یہاں تکلیف ہو رہی ہے “

شاہ دل کے مقام پر ہاتھ رکھتے بولا

“ہمیں بھی تکلیف ہو رہی ہے تجھے ایسے دیکھ کر پلیز اسے نہ کر پانی تو پی لے نا۔ اپنی نہیں تو ہماری خاطر ہی سہی”

حسین کے بولنے پر شاہ نے اس کے ہاتھ سے بوتل تھام لی۔ کانپتے ہاتھوں سے اس نے بامشکل دو گھونٹ اپنے اندر انڈیلے ۔

✧⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_✧

وہ شیشے سے اندر جھانک رہی تھی آنکھوں سے نکلتے آنسوں تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ آذان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ مڑی۔

“She’ll be fine”

وہ اسے تسلی دی بولا لیکن وہ جو اپنے اوپر ضبط کیے ہوئے تھی اب ہچکیوں سے رونے لگی۔

“شش …ٹھیک ہو جائے گی وہ۔ ایسے مت رو دعا کرو اس کے لیے”

Pyar ek shart pe by Rimsha Riaz Complete novel

  • by

کیا ہوا کیوں آگئی کلاس میں تو ٹائم ہے، ؟

تمھیں کیا لگا تم نے تو ویسے بھی ٹائم پاس ہی کرنا ہے نا ایحان اور اس بار مجھ سے کر رہے ہو! مسفرہ تڑخ کہ بولی

کیا کہہ رہی ہو مسفرہ ، وہ پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھنے لگا

تم مجھ پہ شرط لگا بیٹھے ایحان کیا میں اتنی سستی اور گری پڑی چیز ہوں ، وہ پھٹ پڑی

تم غلط سمجھ رہی ہو وہ بس مذاق تھا مسفرہ ، مگر میں نے تم سے منگنی کی ہے میں پیار کرتا

منگنی کچا رشتہ ہوتا ہے اور جب تمھارا ٹائم پاس ہو جائے گا تو چھوڑ جاؤ گے ناں ، وہ ہنسی ایک تھپڑ اس کے گال چھو گیا ۔

جان نکال کہ رکھ دوں گا تمھاری اگر ایسا کچھ زہن میں لایا ، اور رہی بات نکاح کی تو ہمارا نکاح اب اسی ہفتے ہو گا آئی سمجھ وہ اس کا بازو پکڑ کہ بولا

مجھے نہیں کرنی

اہاں! سوچنا بھی مت ! ایحان نے گرفت بڑھائئ

بہت برے ہو تم! وہ چھڑاتے ہوئے بولی

اچھا ہو سکتا ہوں ، شرط اگر لگا بھی لی تو کیا ہو گیا کہ آج تک تمھارے ساتھ کچھ برا کیا نہیں نا! وہ اس کو سہلاتے ہوئے بولا ۔

وہ ناں میں سر ہلانے لگی

تو پھر، اس نے اس کی ٹھوڑی اوپر اٹھائی

غصہ ہو مجھ پہ؟

ہمم تھوڑا سا، وہ معصومیت سے بولی

اوکے ٹیک یور ٹائم۔وہ کمفرٹ ٹیبل کر رہا تھا۔

ایحان ! سوری تو بولو!

نہیں یار میری ایگو ہرٹ ہوگی! وہ ہنسا

پر تم شادی کے بعد برتن دھو گے تو سوری تو پھر چھوٹی سے چیز ہے، وہ معصومیت سجائے بولی

وہاٹ! تم مجھ پ

سے برتن دھلاو گی، وہ سینے پہ ہاتھ رکھ کہ بولا

استری بھی کر سکتے ہو ، سنڈے کو صفائی مل کر کر لیں گے ناں ، وہ پلان بتا رہی تھی

توبہ توبہ ! تمںیں شوہر نہیں نوکر چاہیے مجھے زن مرید نہیں بننا بھیئ

Dil e beqrar by Palwasha Safi Complete Novel

  • by

“آہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔۔۔۔۔۔۔ ” کمرے میں داخل ہوتے وہ پورے تاب سے چلائی۔
“اورہان۔۔۔۔ پیغام۔۔۔۔۔ ” وہ فیصلہ نہ کر سکی۔
“یہ تم نے بالکل اچھا نہیں کیا۔۔۔۔۔ ” طیش میں آتے اس نے تکیہ اٹھا کر دور اچھال دیا۔
“عرشیہ درانی کو دھوکہ دیا۔۔۔۔ اتنا بڑا دھوکہ۔۔۔۔۔ اس کی سزا تمہیں ضرور ملے گی پیغام۔۔۔۔۔” وہ گلا پھاڑ پھاڑ کر چلانے لگی۔
“میں تمہیں دکھاؤں گی۔۔۔۔ کہ تم نے کس سے پنگا لیا ہے۔۔۔۔۔ آ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔۔۔۔۔ برباد کر دوں گی میں تمہیں۔۔۔۔۔ نہیں چھوڑوں گی۔۔۔۔” اس نے دانت پیستے بدلے کا عزم بنایا۔

Fana e hijar by Noor Ul Ain Mustafa Complete novel

  • by

”اگر فیصل منظرِ عام پر آگیا تو کیا ہوگا ؟ “ اس کے پوچھنے پر ارمان دوبارہ سے سوچ میں پڑ گیا۔ نعمان کو اس بلا وجہ کی خاموشی سے کوفت ہو رہی تھی۔

” اس پر دفعہ 302 لگے گی ۔“ نعمان کا سر گھوم اٹھا۔ ”بھائی! یہ دفعہ 302 گیا ہے ؟“ ارمان نے اسے سخت نظروں سے گھورا۔

” بتا رہا ہوں۔ پہلے سن تو لو ۔“ اس نے ایک لمحے کا توقف لیا ۔یہ بولنا بھی اس کے لیے بہت مشکل تھا۔پھر اس نے لمبا سانس بھرا ۔

”دفعہ 302 کے تحت اگر ایک انسان نے کسی کو قتل کیا ہے تو اسے سزائے موت یا عمر قید ہوگی ۔“ نعمان اور اسرا نے اس کی جانب حیرت سے دیکھا ۔

”اس میں آگے بہت سی کنڈیشنز بھی آ جاتی ہیں کہ قتل غلطی سے ہوا ہے یا جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔ اب فیصل نے جان بوجھ کر کیا ہے تو اسے سزا تو ملے گی۔ “ اب کی بار کمرے کی فضا میں ایک سرد پن گھل گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔

” مگر وہ تو بدلہ لے رہا ہے نا ؟ قتل کے بدلے میں قتل کر رہا ہے !“ اسرا کی بات پر ارمان نے اثبات میں سر ہلایا ۔

” پھر اسے کیوں سزا ملے گی ؟ “اب کی بار نعمان شاکڈ لہجے میں بولا تو ارمان نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔

”اسرا، نعمان ! قانون مجرم کے مجبوریاں نہیں دیکھتا۔ وہ یہ نہیں دیکھتا کہ مجرم نے کوئی جرم کیوں کیا ہے؟ وہ صرف مجرم کا جرم دیکھتا ہے اور اسے سزا دیتا ہے ۔“ وہ اپنے آپ پر ضبط کے گہرے پہرے بٹھاتے ہوئے گویا ہوا ۔اس کی بات پر نعمان جھنجھلا اٹھا۔

” پھر دلاور شاہ کے جرم کو کیوں نہیں دیکھا گیا ؟ اس کے ساتھیوں کے جرم کو کیوں نہیں دیکھا گیا ؟ ان کو بھی تو سزا ملنی چاہیے ۔“ وہ طیش کے عالم میں بولا۔

” نعمان ! ہوش کے ناخن لو۔ یہاں انصاف کا نظام نہیں بلکہ لاٹھی کا نظام رائج ہے ۔تم نے نہیں سنا جس کی لاٹھی اس کی بھینس ؟“ نعمان نے اس کی بات پر اپنا سر جھٹکا۔ یہ کیسا نظام تھا ؟؟

”کل لاٹھی دلاور شاہ کے پاس تھی۔ ظاہری طور پر آج بھی اسی کے پاس ہے ۔مگر اصل میں آج لاٹھی فیصل افنان احمد کے ہاتھوں میں ہے ۔اور وہ سب کو سزا دے گا ۔“ اب اس کا غصہ ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ اسے سمجھ آگئی تھی کہ وہ قانون کے ذریعے کچھ نہیں کر سکتا ۔

Dastaan e mohabbat by Ameer Hamza Complete novel

  • by

وہ سترہ سال کی اسفندیار کے سامنے جارہی تھی۔۔۔۔۔۔وہ اس سے ہاتھ ملا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے بات کر رہی تھی اپنی ماں کے کہنے پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے باتیں کرتے اس کی عادت ہونے لگی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسے اس سے محبت ہونے لگی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سچی محبت!!!

مگر محبتیں کہاں ملا کرتی ہیں سائرہ!!!

وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ

والنجم والشجر یسجدن (55: 6) (تارے اور درخت سجدہ ریز ہیں) بعض آیات میں اس کی تعبیریوں کی گئی ہے۔

تسبیح لہ ……………. تسبیحھم (71 :44) (اس کی پاکی تو ساتوں آسمان اور زمین اور وہ ساری چیز بھی بیان کررہی ہیں جو آسمان و زمین میں ہیں۔ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کررہی ہو مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں۔ ) اور دوسری جگہ ہے۔

الم تر ………… وتسبیحہ (4 2 : 1 4) (کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کررہے ہیں وہ سب جو آسمان اور زمین میں ہیں اور وہ پرندے جو پر پھیلائے اڑ رہے ہیں۔ ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے۔ )

جب انسان اس حقیقت پر غور کرتا ہے کہ پوری کائنات سجدہ ریز ہے اور اللہ کی حمدوثنا میں رطب اللسان ہے تو انسانی قلب کو حق تعالیٰ تک پہنچنے کا بہت بڑا زاد راہ ملتا ہے۔ وہ اپنے ماحول کو زندہ سمجھتا ہے ۔ اس سے محبت کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہمقدم ہوکر اللہ کی طرف فرار اختیار کرتا ہے۔ یہ سوچ روح کائنات سے یہ ہم نشینی انسان کو اس کائنات کا دوست بنادیتی ہے۔

یہ نہایت ہی دوررس اشارہ ہے اور بہت ہی گہرا ہے۔

وہ اب اپنے کمرے میں آئینے کے سامنے سرخ لباس میں مسکرا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔اس نے اسے اپنے پیچھے آئینے میں دیکھا تھا۔۔۔۔۔اب وہ اسے چھپا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ نیچے آکر برتھڈے کا کیک کاٹ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسکی نگاہ اسفندیار کو ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے ساختہ!!!!

وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ

آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان قائم کردی ۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو ، انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو) یہاں آسمان کی طرف اشارہ ہے ، قرآن کے دوسرے اشارات کی طرح یہ بھی غافل دلوں کو جگانے کے لئے ہے اور اس کو اس طرف متوجہ کرنا مطلوب ہے کہ آسمان کو رات اور دن تم دیکھتے ہو تم اس کی اہمیت نہ کھو دو ۔ اس پر غور کرو ، اس کی عظمت اس کے جمال اور اس کی صفت میزانیت پر غور کرو کہ اس کے مدار اور رفتار میں بال برابر فرق نہیں آتا اور اس کے ذریعہ قدرت والے کی قدرتوں کو دیکھو۔

آسمان سے مراد جو بھی ہو ، یہاں حکم دیا جاتا ہے کہ ذرا اوپر کو دیکھو ، تمہارے اوپر ایک ہولناک فضا ہے۔ بہت بلند بہت دور ، بلا حدود وقیود ، اس فضا کے اندر ہزار ہا ملین عظیم الجثہ اجرام فلکی تیر رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی دو آپس میں نہیں ملتے۔ ان کا کوئی مجموعہ دوسر مجموعات سے متصادم نہیں ہوتا۔ ان مجموعات کی تعداد میں ایک ایک مجموعے کی تعداد بعض اوقات ایک ہزار ملین تاروں تک پہنچ جاتی ہے۔ ہمارے نظام شمسی کو جس مجموعے کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اس میں ہمارے سورج جیسے اجرام بھی ہیں اور اس سے ہزار ہا گنا بڑے بھی ہیں۔ فقط ہمارے سورج کا قطر 21۔ املین کلومیٹر ہے اور یہ سب ستارے اور یہ سب کا مجموعے اس کائنات کے اندر نہایت ہی خوفناک تیزی کے ساتھ حرکت پذیر ہیں لیکن یہ سب اس عظیم اور محیرالعقول وسیع فضائے کائنات میں اس طرح ہیں جس طرح زمین کی فضا میں ذرات تیرر رہے ہیں جو ایک دوسرے سے دور دور چلتے ہیں اور ان کے اندر کوئی تصادم نہیں ہوتا۔ (اور اگر ہوجائے تو ؟ )

Pehli mohabbat by Malaa Ali Complete novel

  • by

دیکھاو اپنا ہاتھ ۔ کیسے جلا ہے ۔

آپ یہاں 😡😡 بحران کی آواز پر انمول نے آنکھیں کھولتے ہوئے غصے سے کہا ۔

جی میں ہی ۔ اب دیکھاو گی بھی ہاتھ کیسے جلا کر آئی ہو۔

کیوں آپ نے کیا نمک چھڑکنا ہے ۔ جو پوچھ رہے ہیں ۔

ہاں یہی سمجھ لو اب بتاو گی بھی ۔🤨

نہیں بتانا مجھے ۔ اور آج کے بعد میرے روم میں میری اجازت کے بنا مت آئیے گا ۔ انمول نے غصے میں کہا ۔جب کے بحران کو کوئی فرق ہی نہیں پڑھ رہا تھا ۔

مجھے یہاں آنے کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے ۔ اور رہی بات تمہارے ہاتھ کی جب آیا ہوں تو دیکھ کے ہی جاوں گا ۔

بحران نے زبردستی اس کا ہاتھ پکڑا تھا دیکھنے کے لئے ۔ لیکن اسے نہیں پتہ تھا کے وہ انجانے میں ہی سہی اسے تکلیف دہ رہا ہے ۔

میں نے بولا میرا ہاتھ چھوڑیں ۔ مجھے درد ہو رہا ہے 😢😢

درد کا نام سنتے ہی بحران نے فورن سے ہاتھ چھوڑا ۔

اور ادھر آدھر کچھ دیکھنے لگا ۔کوئی ٹیوب وغیرہ ہے ۔ دو ادھر لگا دوں۔

کچھ نہیں ہے ۔ اور اگر ہوا بھی تب بھی آپ کو نہیں بتاؤں گی ۔ دفعہ ہو جائیں یہاں سے اور اپنی شکل دوبارہ مجھے مت دیکھائیے گا۔ (نم آنکھوں سے وہ اس پر چلا رہی تھی ۔ اور ایک وہ تھا کے جسے اس کے درد کے اگئے نا کچھ سنائی دے رہا تھا ۔ اور نا ہی وہ اس وقت کچھ سنا چا رہا تھا ۔ )

میں بس دس منٹ میں آیا ۔ تم یہی رہو اور دروازہ بند کر دو لیکن لوک نہیں کرنا ۔ یہ بولتے ہی وہاں سے چلا گیا۔

اخر سمجتا کیا ہے یہ شیطان خود کو ۔میں تو کروں گی ۔ ہوتے کون ہیں مجھ پے آڈر چلانے والے ۔ بحران کے جاتے ہی وہ خود سے کہنے لگی ۔

بالاج وہاں کیا کر رہا ہے ۔ آکر سو جا نا ۔

فارس نے ونڈو میں کھڑے بالاج سے کہا جو کے بحران کی باتوں کو لے کر تھوڑا اداس تھا ۔

ہاں بس آیا۔ اچانک بالاج کی نظر ونڈو سے باہر بحران پر پڑی جو کے گاڑی میں بیٹھ رہا تھا ۔ فارس کو بنا دیکھے بولا

(یہ بحران بھائی اس وقت کہا جا رہے ہیں وہ بھی اتنی جلدی میں جا کے پوچھوں کیا ۔ نہیں نہیں کیا پتہ کچھ پرسنل کام ہو ۔ چلو صبح ہی پوچھوں گا ۔ من میں سوچتے ہوئے سونے لگا )

تمہیں اللہ پوچھے گا شیطان ۔ میرا ہاتھ پہلے سے ہی اتنا درد کر رہا تھا ۔ اوپر سے جاہلوں کی طرح پکڑا ہے ۔ اب تو لگتا ہے ہاتھ ساتھ ہے ہی نہیں ۔

انمول خود سے باتیں کر ہی رہی تھی کے اچانک دروازے سے بحران داخل ہوا ۔

آپ پھر سے اگئے ۔ 😡😡

جب بولا تھا ۔ دس منٹ میں آتا ہوں۔تو آنا ہی تھا نا ۔ اب

ہاتھ اگئے کرو ٹیوب لگا دوں۔ اس سے جلن کم ہو گی ۔ انمول کے بلکل سامنے بیٹھ کر ٹیوب اگئے کو کی ۔

مجھے نہیں لگوانی کوئی ٹیوب وغیرہ۔ اور کس نے کہا تھا جا کے ٹیوب لائیں ۔ میرے پاس پہلے سے موجود ہے ۔ میں لگا سکتی ہوں خود ۔

لڑکی تم سنتی کیوں نہیں ہو میری بات کبھی بھی ۔ ہاتھ آگے کرو ۔ ورنہ مجھے اپنے طریقے سے لگانا پڑے گا۔

میں نے کہا نا میں لگا لوں گی ۔ اور جائیں اپنے روم میں ۔ انمول کا غصہ پہلے کب کم ہوا تھا بحران کو دیکھ کر جو آج ہوتا ۔

ٹھیک ہے میرے سامنے لگاو ۔چلا جاوں گا (بحران بھی ضد پے تھا ۔ آخر انمول کو ہار ماننی ہی پڑی )

اب لگا لیا ہے نا ۔اب جائیں یہاں سے ۔

اوکے چلتا ہوں ۔ یہ یہاں رکھ کے جا رہا ہوں ۔ پھر بھی لگانا ۔

ٹیوب کو ٹیبل پے رکھتے ہوئے باہر کو نکلا ۔ جبکہ انمول خیرانی سے اسے جاتا دیکھ رہی تھی ۔ پہلی بار کسی کی آنکھوں میں خود کے لیے اتنی فکر دیکھ کر خیران تو ہونا ہی تھا ۔ اور جب فکر کرنے والا بھی وہ شخص ہو جس سے سخت نفرت ہو ۔

Ishq-E-Mann novel by Aiman Noor Khan

  • by

کیا میں نے ڈسٹرب تو نہیں کیا تمہیں؟ “

وہ دروازے کی اوٹھ میں کھڑی اندر جھانکے پوچھ رہی تھی ۔

”ا۔ا۔رے اپیا آپ؟ ج۔ج۔جی بولیں ک۔کوئ کام تھا خیریت ؟ “

ملیہا جو کسی سے کال پر بات کررہی تھی ، اچانک اسکے آنے پر گھبرا کر کہنے لگی ۔

”نہیں کوئ کام ہی تو نہیں ہے جب ہی بور ہو رہی تھی سوچا تمہارے پاس آجاوں مل کر باتیں کرینگے اور سنیکس کھائنگے ۔۔۔ “

”آہہہ اچھا ٹ۔ٹھیک ہے آجائیں بیٹھے ۔ “

”نہیں مجھے لگ رہا ہے تمہیں میرا آنا ٹھیک نہیں لگا شاید ۔ آئ تھنک میں نے ڈسٹرب کردیا تمھیں ۔“

”ارے نہیں نہیں ایسا کچھ نہیں ہے اپیا ایسا نا کہیں وہ بس۔۔۔۔“

”ہمممم۔۔۔ شاید کسی سے بات کررہی تھیں تم ، گھبراؤ مت میں نے کیا کرنا ہے؟ میرے اختیار میں کچھ نہیں ہے بچے۔۔۔ مجھ سے مت گھبرایا کرو ۔ میں تمھاری کزن ہوں ، مجھ سے باتیں شیئر کیا کرو میں تمھیں بس بتا سکتی ہوں کے صحیح کیا ہے تمہارے لیۓ اور غلط کیا ہے ۔ تم جس عمر کی ہو اس عمر میں بچے بہت سی غلطیاں کرتے ہیں نادانی میں، بچپنے میں، دوسروں کو دیکھے دیکھے تم جیسے بچے بھی غلط راہ میں چلی جاتی ہیں ۔ لیکن یہاں غلطی صرف تم لوگوں کی نہیں ہوتی ، یہاں غلطیاں کچھ والدین اور بہن بھائ کی بھی ہوتی ہے، ہمارے فیملی میمبرز کی بھی ہوتی ہے ۔ یہ عمریں ایسی ہوتی ہیں کے بعض بچے بہت سی غلطیاں کردیتے ہیں !!! لیکن اگر ہمارے والدین ہمیں پیار سے سمجھائیں ہمارا ساتھ دے نہ کی لوگوں کے باتوں میں آکر خد کی اولادوں کو غلط سمجھیں انہیں جھرک دیں ۔ انکی نہ سنیں پھر یہ غلط ہے ۔

Yaqeen ka safar novel by Uzma Naz Chandio

  • by

“محترمہ کن سوچوں میں گم تھی کہ میرے آنے کا پتا ہی نہ چلا……..!!”وہ دونوں ہاتھ پیچھے کمر پر باندھے مشکوق نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔

“جی نہیں میں کسی بھی قسم کی سوچ میں گم ہرگز نہیں تھی تم ہی چوروں کی طرح میرے کمرے میں داخل ہوئی ہو……..!!”وہ اسے گھورتی ہوئی دوبارا بیٹھ گئی۔پر دل ابھی تک زور سے دھڑک رہا تھا۔

“بتا دو بتا دو اب ہم سے کیا شرمانا……..!!”شازیہ شرارتی انداز میں بولتی ہوئی اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔

“میں کیوں شرمانے لگی بھلا…….!!”مہروش نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

“تو بتا دو کس کے خیال میں محترمہ دنیا کو فراموش کر بیٹھی ہے………!!”شازیہ نے اس کے گلے میں بازوں ڈال کر اس کے کندھے پر ٹھوڑی ٹکائی۔

“میں نے کہا ہے نہ شازی ایسی کوئی بات نہیں……..!!”وہ اس کے ہاتھ جھٹک کر پیچھے ہو بیٹھی۔

“تو پھر کیسی بات ہے………؟”اس نے بھویں سکیڑ کر جانچتی ہوئی نظروں سے اسے دیکھا.آنکھوں میں واضح شرارت تھی۔

“اففففف شازی تم بھی نہ……..!!”وہ زچ ہوئی تھی۔

“ہائے میں تو ابھی تک اُس جادوگر کے سحر میں قید ہوں…….!!”شازیہ جوتوں سمیت بیڈ پر دراز ہوگئی اس کی آنکھوں میں ایک انوکھی سی چمک تھی۔

“کیا کہا تم نے کون سا جادو کیسا سحر….؟”مجھے تو تمہاری حالت ٹھیک نہیں لگ رہی…….!!”مہروش چہرہ موڑے کچھ فکرمندی سے اس کے بدلے بدلے انداز دیکھ رہی تھی۔

“میری حالت تو اسے ایک نظر دیکھنے کے بعد ہی ٹھیک نہیں رہی تھی…….!!”وہ کسی سحر کے زیر اثر بول رہی تھی۔

“اللّٰہ اللّٰہ شازی تم کس کی بات کر رہی ہو……..؟”مہروش اس کی فضول سی ایکٹنگ سے زچ ہوئی تھی۔

“ڈونٹ ٹیل می کہ تم اس ہینڈسم لڑکے کو اتنی جلدی بھول سکتی ہو……..!!”وہ صدمے سے چلاتی ہوئی ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی تھی۔

“سچ میں مجھے یاد نہیں…….!!”مہروش نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے۔

********

Dil Dharkan aur Saaz novel by Aeman Saeed

  • by

موسم بدل جائیں گے،دن رات کا تغیر نمایاں ہو گا۔سال گزریں گےاور پھر صدیاں بیت جائیں گی۔ایک مدّت گزر چکی ہوگی۔نیازمانہ ہوگا،نئے لوگوں میں کوئی میرے جیسا اپنے اندرمدتوں پرانی ویرانیاں لئےکسی بیاباں سے گزرتا ہوا،منزلیں طہ کرتاہوا،کھنڈرات کوعبور کرتا،اُس بستی میں داخل ہوگا۔جہاں برسوں پہلے کا ایک بوسیدہ سا،دیمک زدہ لکڑی کے ٹوٹے پھوٹےدروازے کو بمشکل کھولے گا۔وہاں گھپ اندھیرا ہوگا۔ اُسے لالٹین کی ضرورت پیش آئے گی۔مگرزمانہ بدل چکاہوگا۔اچانک اُس کا پاؤں لڑکھڑائے گا۔قریب ہی اُسے دیاسلائی ملے گی۔وہ اُسی کو کسی نہ کسی طرح سے جلانے کا طریقہ سلجھائے گا اور مدھم سی روشنی کے ہمراہ وہ مکان میں داخل ہوگا۔

جہاں اُلو بولتےہوں گے۔وہ سوچے گا کہ وہ کہاں آگیا۔سوا ب توآگیا۔مگر آیا کاہے کو؟اُسے کیا درکار ہے؟مگر شاید کچھ کام بغیر فائدے یا لالچ کےبھی کیے جاتے ہیں۔