Skip to content
Home » Archives for Mubarra » Page 222

Mubarra

Hubb by Iqra Ansari Complete novel download pdf

  • by

“وہ سامنے سورج دیکھ رہی ہیں؟؟؟؟غروب ہوتا سورج۔۔۔۔۔ یہ جب جاتا ہے تو پورے شہر کو تاریک اور ویران کر جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ مگر ایک امید دے کر جاتا ہے کہ اگلا دن بھی ویسا ہی روشن اور خوبصورت ہو گا۔۔۔۔اور امید!!!!!!! یقین پر قائم ہے۔۔۔۔۔جتنا پختا یقین ہو گا۔۔کل کا دن ویسا ہی خوبصورت ہو گا۔۔اور یہ یقین ہم نے اس ذات پر کرنا ہے جس نے ہمیں ان نعمتوں سے نوازا ہے۔۔۔۔”

“میں نے ایک لوجک نکالی ہے آپ کو سناؤ؟””وہ جو پورے انہماک سے سامنے والے کی گفتگو سن رہی تھی کہ یکبار سیدھی ہو کر کہا اور اس نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا۔۔

“جیسے ہم دونوں کی شادی ہو گئی نا۔۔۔۔۔۔تو اس لحاظ سے دیکھیں تو ناکح کے آخر کا ‘ح’ اور بیوی کے شروع کا ‘ب’ ملائیں تو بنتا ہے “حب”یعنی!!!!! محبت۔۔””””بات کرتے کرتے اسنے سر اٹھا کر اسکی آنکھوں میں جھانکا۔۔۔۔۔سمندر کی لہر بہت تیزی سے ان کے پاؤں تک آئی اور اسی سرائیت سے واپس پلٹ گئی۔۔۔۔۔””””اور مجھے آپ سے ایسی محبت ہے جس کے لیے اس دنیا میں موجود ہر کتاب کے الفاظ بھی میں ملاؤں تو کم پڑ جائیں۔۔۔۔۔یہ ایسا احساس ہے جس میں،میں اپنی تمام زندگی جینا چاہتی ہوں۔۔”اس نے جھک کر اس کے نرم و ملائم دودھیا ہاتھوں پر بوسہ دیا اور آنکھوں سے لگایا۔۔۔سامنے والے نے اس کی بات پر دہل کر اسے دیکھا اور اس نگاہ میں معنی خیز ہمدردی تھی پھر مسکرا کر کہا۔۔۔۔

“واہ کیا لوجک ہے مگر آپ کو پتہ نہیں؟”

“کیا؟”

“ناکح کے ساتھ منکوحہ اور بیوی کے ساتھ شوہر آتا ہے۔۔”محبت سے ہاتھ سہلا کر بولا

“اور محبت!! وہ تو میاں بیوی کو ہو ہی جاتی ہے ۔۔اصل حب کا تعلق رب سے ہوتا ہے۔۔گہرا اور کھڑا۔۔ہم جتنا رب کی طرف رجوع کریں گے تعلق اتنا گہرا اور مضبوط ہو گا۔۔۔۔”اس نے اپنی طرف سے اسکی تصیحح کی جو ٹھیک نشانے پر لگی۔۔

“مجھے آپ پر رشک آتا ہے۔۔آپ کی رب سے محبت بہت خالص ہے۔۔”وہ نم آنکھوں سے مسکرائی پھر کہا

Aakhir kab tak by Hafsa Bint-e-Waqas Complete novel download pdf

  • by

میں اللہ سے دعا گو ہوں کہ انکی مدد کی جائے مگر اس سے پہلے میں تمام مسلمانوں کو بری طرح جھنجھوڑنا چاہتی ہوں کہ وہ اٹھ کیوں نہیں جا تے آخر۔ وہ اپنی خودی کو اینستھیزیا دے کر کیوں روز سلا دیتے ہیں۔ اسکو بیدار کرنے سے کیوں ڈرتے ہیں۔ میں اللہ پر توکل رکھتی ہوں لیکن صرف توکل سے کچھ نہیں ہوتا۔ پہلے کچھ کرنا پڑتا ہے اور پھر توکل کرنا ہوتا ہے۔ سب مسلمانوں سے درخواست ہے کہ اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے لیے کچھ کریں۔ قطرہ قطرہ ہی تو سمندر بنتا ہے۔ ایک شخص اٹھے گا تو دس اور اٹھیں گے اور پھر سو اور پھر ہزار۔ اے مسلمانوں قیامت کے دن حضرت محمدﷺ کو کیا منہ دیکھاؤ گے۔ اٹھو اور اٹھو۔ کفار مسلمانوں سے ڈرتے ہیں مگر انکو یہ یقین ہے کہ ہم کبھی نہیں اٹھیں گے۔ اور انکے اس یقین کو ہم ہی مظبوط کر رہے ہیں۔ مسلمانوں وہ ہم پر ہنستے ہیں اور ہم انکو خود پر ہنسنے دیتے ہیں۔ کیا ہمیں شرم نہیں آتی۔ شرم کھاؤ مسلمانوں۔۔۔ شرم کھاؤ۔۔۔ افسوس ہے اپنی تلوار پر جو نیام کی زینت بنی بیٹھی ہے۔

اس کو لکھنے کا مقصد بس ایک ہی ہے۔ جنگ سے زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ پہلے زندگی کیسی ہوتی ہے اور اسکے بعد۔ بہت سی باتیں اس میں میں شامل نہیں کرسکی۔ انکی تکلیف کو میں لفظوں بیان نہیں کر سکتی۔ وہ جس دکھ درد بھوک اور افلاس سے گزر رہے ہیں اس سب کے ہم برابر شراکت دار ہیں۔ میں فلسطینیوں بہن بھائیوں سے بے انتہا شرمندہ ہوں۔