Skip to content
Home » After marriage story » Page 11

After marriage story

Rab ka faisla N۔D Khan Complete novel

  • by

یہ کہانی ہے ایک ایسی لڑکی کی جو صبر کا پیکر تھی ۔اپنے خوابوں کے پیچھے بھاگنے والی اپنے حقیقی ماں باپ کی جستجو میں اپنی زندگی میں بہت سے دکھ دیکھنے والی،لیکن ہر حال میں اللہ کی رضا میں خوش رہنے والی۔

یہ کہانی ہے ایک بزنس ٹائیکون کی جو ایک معمولی سے استانی پر دل ہار بیٹھا اس کی انکھوں اورمعصومیت سے پیار کرنے لگا.

یہ کہانی ہے خونی رشتوں سے پیار اور عزت کی.

یہ کہانی ہے دوستوں کی کھٹی میٹھی باتوں کی ۔.

یہ کہانی ہےاپنے رب سے مضبوط تعلق جوڑنے کی یہ کہانی ہے بچھڑے ہوئے لوگوں کو ایک کرنے کی۔

Aatish e ishq by Anila Sheikh Complete novel download pdf

  • by

یہ کہانی 2005 سے 2009 کے درمیان کی ہے

جب وٹس ایپ کا دونا تھا فیس بک بہت کم

لوگ استعمال کرتے تھے زیادہ تر لوگوں کے پاس

سادہ Nokia موبائل ہوا کرتے تھے ۔

یہ کہانی کسی کی حقیقی زندگی پر مبنی ہے

اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حالات

کیسے بھی ہوں اللہ پر کامل یقین تقدیر کو بدل

دیتی ہے

وقت اور حالات کیسے بھی ہوں ہمیں اللہ سے

کبھی نا امید نہیں ہونا چاہیے بے شک وہ غفور الرحیم ہے ہمیں ہر مشکل میں اسی سے مدد مانگنی چاہیے ۔

Musht e khaak by Laraib Fatima complete novel

” چلیں بھی آگے بولیں جلدی ۔۔ کیا کر سکتے ہیں ہم۔۔؟ “

اسکے استفسار پر ابھی زمار کچھ بولتا اس سے پہلے ہی وہ خود بول اٹھا ۔۔

” کیا میں ارتضیٰ کو خود شوٹ کر سکتا ہوں۔۔یہ میرا بہت بڑا خواب ہے اسے ختم کر دینا اسے زندہ جلا دینا ۔۔کیا میں کر سکتا ہوں ایسا۔۔۔؟ “

اسکے ایسے استفسار پر سامنے بیٹھے زمار کے جبڑے بھینچ گئے تھے اسنے بہت مشکل سے خود کو کچھ بھی کہنے سے بعض رکھا اور اپنی ادھوری بات جاری کی۔۔

” ہم ابھی بس یہ کریں گے کہ ارتضیٰ کو کال کریں گے اور بتائیں گے کہ اب جب وہ پاکستان آ ہی گیا ہے تو ہوش میں رہے قدم قدم پر اسکی جان کو خطرہ ہے ۔۔ اور اسکے ہر عزیز کی جان کو بھی۔۔ اسے بتائیں گے کہ صرف وہ ہی دس سال پہلے والی کہانی میں نہیں لوٹا ہے ہم بھی واپس آئیں ہیں۔۔ اور اب دیکھتے ہیں کہ جیت کس کی ہوتی ہے ۔۔”

زمار وحشت زدہ سی مسکراہٹ چہرے پر سجائے کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔ اسکے ساتھ ہی دوسرا شخص بھی کھڑا ہوا تھا ۔۔

ابھی زمار دروازے کی جانب بڑھتا اس سے پہلے ہی پیچھے سے آنے والی آواز پر ٹہر گیا ۔۔

” میرا خیال ہے اسکے اس دینا میں عزیز تو شاید نکل ہی آئیں مگر وہ بیچارہ جانتا نہیں ہے کہ اسکے کچھ خونی رشتے اس دنیا میں اب بھی موجود ہیں۔۔۔ میں بہت پر جوش ہوں اسے کڑوی حقیقت سے آشنا کروانے کے لئے۔۔”

Tere ishq mein rangy janan by Fatima Mehmood Complete novel

  • by

“یہ کہانی ہے اک انا کی ماری غصّے کی تیز لڑکی کی، اک معصوم اور عقلمند حویلی کے اصولوں کے بھینٹ چڑھ جانے والی لڑکی کی، اک ایسے مرد کی جو اپنی پسندیدہ عورت کو حاصل کر کے بھی اس سے دور ہو گیا تھا، اور اک ایسے لڑکے کی جو حویلی کے اصولوں کی آڑ میں ہی خود کی محبّت کو حاصل کر چکا تھا۔”

Pyaar hua tha by Zeenia Sharjeel Complete

  • by

“آج ریان کافی خوش دکھائی دے رہا ہے”
وہ عرا کو مخاطب کرتی چلتی ہوئی اس کے پاس آنے لگی عرا اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں بولی ہلکا سا مسکرائی اور کرسی سے اٹھ گئی
“ویسے تمہیں تو خوش رکھا ہوا ہے ناں ریان نے”
مائے نور کے دوبارہ مخاطب کرنے پر عرا کو حیرت ہوئی
“جی ریان ہر لحاظ سے کوشش کرتا ہے کہ میں خوش رہو بہت کیرئنگ ہے میرے لیے”
مائے نور کے پوچھنے پر عرا اس کی بات کے جواب میں بولی
“اور پھر بدلے میں تم کیسے خوش کرتی ہو ریان کو، مطلب ایسا کیا کرتی ہو جو وہ تم سے خوش رہے”
مائے نور کے عجیب سے سوال پر عرا کنفیوز ہوکر اسے دیکھنے لگی عرا کو سمجھ نہیں آیا کہ مائے نور اس سے پوچھنا کیا چاہ رہی تھی
“بہت بھولی ہو ناں تم، سمجھ میں نہیں آرہی میری باتیں کہ میں کیا پوچھنا چاہ رہی ہوں تم سے۔۔۔ واہ بھئی واہ بچہ پیدا کرلیا، دو مختلف مردوں سے محبت پالی مگر معصومیت وہی کی وہی برقرار ہے ابھی تک”
مائے نور باقاعدہ تالی بجاتی ہوئی عرا پر طنز کرتی بولی جس پر عرا کو ڈھیروں شرمندگی نے گھیرے میں لے لیا
“اتنی جلدی بھول گئی تم زیاد کی محبت کو، اسی کے بھائی کے ساتھ وقت گزارتے ہوئے تمہیں زیاد کی یاد نہیں آتی یہ بھی یاد نہیں آتا کہ زیاد کس قدر محبت کرتا تھا تم سے۔۔۔ ایسے ہی کل کو ریان کو بھول کر کسی تیسرے مرد کے پاس بھی چلی جانا جو تمہیں ریان سے زیادہ خوش رکھنے کی کوشش کرے دراصل تم جیسی چھوٹی سوچ رکھنے والی لڑکیاں ایسی ہی تربیت حاصل کرتی ہیں اپنے بڑوں سے، وفا نام کی کوئی چیز ہوتی ہی نہیں تم تھرڈ لڑکیوں کے اندر۔۔۔ میں نے اپنی ساری جوانی، اپنی ساری عمر اس شخص کی وفا میں گزار دی جس نے اپنی زندگی میں مجھے کبھی اہمیت دینا ضروری ہی نہیں سمجھا اور ایک میری بہو ہے جو آرام سے اپنے شوہر کے مرنے کے بعد اب اسی کے بھائی سے محبت وصول کرنا اپنا حق سمجھ رہی ہے۔۔۔ تف ہے تمہارے اوپر شرم سے ڈوب مرنا چاہیے تمہیں”
مائے نور کی باتیں سن کر وہ روتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی اور بیڈ پہ گرتی ہوئی بری طرح سسکنے لگی آج مائے نور نے جس طرح اس کو ذلیل کیا تھا اتنی ذلت اور سبکی اُس کو آج سے پہلے کبھی بھی محسوس نہیں ہوئی

Sitamgari yaar ki novel by JN Writes

  • by

آگے کے بارے میں کیا سوچا ہے تم نے؟

شایان کی بات سن کر ماہم نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا ان نگاہوں میں شایان کو خود کے لیے ہزاروں گلے شکوے نظر آئے۔

وہ طنزیہ مسکرائی اور بولی میں نے کیا سوچنا ہے اور میرے سوچنے سے بھلا کیا ہو جائے گا ۔

میں تو وقت کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی ہوں جسے جو چاہے جدھر چاہے موڑ لیتا ہے ۔

میں تو بس خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہوں۔

یہ کہتے ماہم کی آنکھ سے اشک گرے اور اس کے جزبات کی طرح ہی بے مول ہو گئے۔

شایان آپ اپنے لیے جو چاہیں فیصلہ کر لیں ۔آپ آذاد ہیں میں جانتی ہوں یہ ایک بے جوڑ شادی تھی آپ کبھی بھی مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہیے تھے مگر ہم دونوں ہی مجبور تھے جیسے آپ اپنی ماں کی خاطر مجبور ہوگئے ویسے ہی میں بھی تایا جان کے احسانات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہوں تب ہی کبھی ان کی کسی بات سے انکار نہیں کر پائی۔

دوسرا ایک لاوارث اور یتیم لڑکی اگر یہ ٹھکانا بھی کھو دیتی تو پھر کہاں جاتی۔

Mohabbat humsafar meri by Rashida Riffat

  • by

“اماں آگئی ہیں ابا اور ساتھ میں ایک دلہن بھی لائی ہے اتنی پیاری اتنی خوبصورت بالکل ڈراموں والی۔”
“کون دلہن۔ابا نے اسے ٹوکا۔
“اماں کہہ رہی تھی تمہاری بھابھی ہے۔”اجو نے وفور مسرت سے اگاہ کیا۔
“میری بھابھی۔”ابا نے اچھنبے سے پوچھا شاید ان کے حواس اب تک پوری طرح بیدار نہیں ہوئے تھے۔
“افوہ ابا آپ کی نہیں ہماری بھابی۔آپ کی تو بہو ہوئی نا بس اب جلدی سے آجائیے بھابھی بہت پیاری ہیں ابا بھائی کے ساتھ جوڑی خوب سج رہی ہے۔”اجو بتا کر پھر ڈرائنگ روم کی طرف بھاگا۔ حیران پریشان ابا اس کے پیچھے تھے۔
“آآئیں عمر کے ابا دیکھیں اللہ نے بیٹھے بٹھائے اپنی رحمت سے نواز دیا ہمیں۔ بہو ہے یہ آپ کی۔”انہوں نے مسرور سے انداز میں آگاہ کیا تھا پھر دلہن سے مخاطب ہوئی۔
“چلو بیٹا اپنے ابا کو سلام کرو۔”اور دلہن نے دھیمی سی اواز میں سلام کر کے فورا اماں کے حکم کی تعمیل کی تھی۔
“دنیا سے نرالے ماں باپ۔”عمر بیزار کن تاثرات چہرے پر سجا کر اپنے کمرے میں آگیا۔
“بہت ہو گئی عمر اپنے چہرے کے زاویے درست کر لیں۔”اماں الٹا اس پر ہی بگڑی پھر عفی کا شانہ پکڑ کر ہلایا تھا۔
“سونے دیں نا صبح ملے گا اپ کی بہو سے۔”وہ بیزاری سے بولا تھا۔
“کیسے سونے دوں پھر بہو کہاں سوئے گی۔”اماں نے جیسے اس کی عقل پر ماتم کیا اور وہ تو گویا کرنٹ کھا کر اٹھا تھا۔
“کیا مطلب ہے اپ کا اپنی بہو کو اپنے پاس سلائیں میرا کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے اس سے۔”
“تیرا دماغ تو نہیں چل گیا عمر۔”اماں نے خفگی سے اسے دیکھا۔

The Evil Love novel by Maliha Fatima

  • by

تم کون ہو ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

اخر چاہتے کیا ہو مجھ سے۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

کیوں لائے ہو مجھے یہاں پر اس کی نڈھال ہوتی حالت اور بگڑتی جا رہی تھی

میں جو چاہتا ہوں مجھے وہ بہت جلد ملنے والا ہے۔۔۔!!!

لڑکی میں اس کا سب کچھ چھین کر اسے برباد کر دوں گا اس کا سب میرا ہوگا اور پھر میں اس کی بھی جان لے لوں گا بس میرا راج ہوگا ہر جگہ سمجھ ائی وہ غصے میں دھاڑ رہا تھا

تم کس کو مارنا چاہتے ہو ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

کس کے لیے لائے ہو مجھے یہاں زبردستی الفاظ منہ سے اٹک اتک کر نکل رہے تھے۔۔۔۔۔

میں کس کو ماروں گا وہ اپنا ہاتھ کی ایک انگلی اپنی تھوڑی پہ رکھ کے سوچنے والا ایکشن کرتے ہوئے بول رہا تھا او میں کس کو ماروں گا وہ جو تمہاری

شاید جان ہے کہیں ۔۔۔۔۔

وہی تو نہیں ہنس رہا تھا

وہ کسی کی محبت برباد کر کر وہ کیسے ہس سکتا تھا شرم انی چاہیے ۔۔۔۔۔۔!!!!

نہیں نہیں پلیز ایسا مت کرنا ت تمہیں خدا کا واسط کہہ ایسا مت کرنا میں اس کے بنا مر جاؤں گی پلیز وہ گڑگڑا رہی تھی اسکی جان سے پیاری چیز کو مارنے کی بات کر رہا تھا وہ کسے نہ گھبراتی اور ہاتھ چھڑانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی

میں تو کروں گا۔۔۔۔

وہ ہاتھ ہوا میں لہراتے ہوئے بولا

جو کر سکتی ہو کر لو اب مجھ سے تم کو اور تمہارے جانشین کو کوئی نہیں بچا سکتا سمجھی وہ ایک ادا سے بول رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

تم پڑی رہو ہی پر جب تک میرا کام نہیں ہو جاتا ڈارلینگ۔۔۔۔!؛

ایک دم سے اس کے شہرے سے کپڑا ہٹ گیا تھا اور شاید وہ ڈر گیا تھا اور واپس دیر کیے بہنا اپنا چہرا ڈاپ چکا تھا

تتتتتمممممم۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

میں اس کو بتا دوں گی تم اسے دوکا دے رہے ہو جو تم سے اتنا پیار کرتا ہے

وہ جا چکا تھا ہا وہ اکیلا اس معصوم جان کو اس ویران جنگل میں چھوڑ گیا تھا

اب عنوا وہاں سے بھاگنے کے لیے کوشش کر رہی تھی کبھی ہاتھ کی راسی توڑتی تو کھبی پیر زمین پر پاتکتی ۔۔۔۔۔۔۔

کوی بھاگ رہا تھا یہاں سے وہاں

وہ پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہا تھا بس

پر وہ اسے کہیں نہیں مل رہی تھی

اس کا دل پھٹ رہا تھا اس کو لگ رہا تھا اج سب ختم ہو جائے گا

وہ کہاں چلی گئی تھی ابھی تو یہی تھی

اب تم ملی مجھے تو میں تمہیں مار ڈالوں گا ۔۔۔۔۔۔غصے سے اس کے ہال ہکھلال ہوتی جا رہی تھی

عنوا بھاگتے بھاگتے اب تھک چکی تھی کھانا تو اس نے کل رات سے نہیں کھایا تھا پانی بھی شاید اور اتنے زخموں کے بعد کون ہی چل سکتا تھا

وہ لڑکھڑاتی چلتی پھر گرتی پھر سنبھلتی چلتی جا رہی تھی اب وہ اس محل کے سامنے کھڑی تھی جسے لوگ عیول کیسیل کے نام سے جانتے تھے

بس پیچھے سے کچھ چیز ٹک کر کر اس کو لگ گئی تھی

جو اس کا سینہ چیر چکی تھی

اور یہ منظر دو لوگوں نے نہیں بلکہ تین لوگوں نے اپنی نظروں میں قید کیا تھا

وہ گرے انکھیں بھی اس وقت اسے ہی دیکھ رہی تھی وہ چیخا تھا چیخنا تو فرض تھا اس پر اس کی دنیا اجڑ گئی تھی اس ایک لمحے میں عنوااااااااااا