Skip to content
Home » After marriage story » Page 9

After marriage story

Talb e sukoon by Kashaf Qaisar Complete novel

  • by

ہر طرف ارمان ،ارمان ،ارمان کا شور تھا ۔۔۔۔۔..

دونوں اطراف میں لڑکے لڑکیوں کے ہجوم تھے اور انکے درمیان ۔۔ ارمان ملک اپنی روبدار پرسنلٹی لیے ۔۔بلیک جیکٹ بلیک جینز ۔۔اور بلیک ہی جاگرز پہنے ۔۔اپنی ہیوی بائک پر ۔۔۔گلوز اور سیفٹی ہیلمٹ پہنے اپنے چہرے کو چھپائے ہوئے بھی سب لڑکیوں کا دل دھڑکا رہا تھا ۔۔۔

ریس تھی ۔۔5 بائک رائیڈرز تھے جنکی ریس تھی ۔۔۔

اور ارمان ارحم ملک کبھی کسی سے ہارا نہیں تھا ۔۔اور ان لڑکوں نے اسے چیلنج کیا تھا ۔۔

اور ارمان لووز چیلنجز ۔۔۔۔۔۔۔۔

1،2،3 سٹارٹ ۔۔۔۔

ہرا جھنڈا لہرایا گیا جس پر ریس سٹارٹ ہوئی ۔۔۔

مگر یہ کیا سب آگے نکل گئے تھے اور ارمان وہیں پر رکا ہوا تھا ۔۔۔

سب پریشانی کے عالم میں ارمان کو دیکھ رہے تھے آخر کر کیا رہا تھا ۔۔۔تقریبن 1 کلو میٹر جب سب نکل گئے تو ارمان نے ریس لگائی ۔۔بائک آن کرتے فراٹے بھرتے بائک ہواؤں سے باتیں کرتی انکے مقابل آن پہنچی تھی ۔۔۔

Dar e mohabbat se humkinar nahi by Aina Noor Complete novel

  • by

آپ دونوں ہر جگہ بن بلائے مہمان بن جایا کرو”۔

” اوہ موٹی تم چپ کرو تم سے کوئی بات کر رہا۔ایویں ہر معاملے میں ٹانگ نہ گھسایا کرو۔ بابا ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں گے ” شاہ ویز بولا۔

“آپ کی ہمت بھی کیسی ہوئی مجھے موٹی کہنے کی، ایس پی کی بیٹی ہوں میں”۔

“اور میں کہاں سے موٹی لگتی ہوں اتنی پتلی تو ہوں میں” عاشی نے غصے سے کہا غصے سے عاشی کی چھوٹی سی ناک پھول گئی تھی۔

“میں بھی انہی کا بیٹا ہوں” شاہ ویز نے اس کی پھولی ناک دباتے ہوئےکہا۔

“اور تم پہلے موٹی ہی ہوتی تھی اب ڈائٹ ایکسرسائز کر کے پتلی ہوئی ہو ، تو خود کو زیادہ اوور سمارٹ نہ سمجھو اور اپنا یہ چھوٹا دماغ کم استعمال کیا کرو”۔

عاشی نے غصے سے شاہ ویز کا ہاتھ جھٹک دیا جس سے وہ اس کی ناک دبا رہا تھا۔

“میں تو پھر ڈائٹ ایکسرسائز کر کے پتلی ہو گئی ہوں۔ آپ بھی کچھ کھا پی کر اپنی صحت بناؤ۔ تھوڑی سی تیز ہوا چلے تو مجھے ڈر ہی لگا رہتا ہے کہ کہیں میرا بھائی اس ہوا سے اُڑ ہی نہ جائے، سڑا ہوا مینڈک نہ ہو تو” عاشی نے اس کی صحت پر چوٹ کی۔

“شاہ ویز اب تو تمہیں جم جوائن کر ہی لینی چاہئے” بالاج ہنستے ہوئے بولا۔

شاہ ویز نے بالاج کو غصے سے گھورا جس کا بالاج پر کوئی اثر نہ ہوا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Nikkah ki taqat by Hoorain Sikander Complete novel

  • by

” تمہیں ایک بات کتنی بار سمجھانی پڑے گی”

” کیا ہوا “

اس کے اچانک گویا ہونے پر وہ ڈر گئی اور پھر ہلکلاتے لہجے میں اس کی بات کی وجہ پوچھی

” کیا مطلب کیا ہوا تمہیں میں کتنی دفعہ سمجھا چکا ہوں کہ مجھے چھوٹا کان کہہ کے مت بلایا کرو اس کی اجازت تمہیں نہیں ہے میری ایک دفعہ کہی گئی بات کیوں سمجھ نہیں اتی “

وہ اس کی ناسمجھی پر غصے کی حالت میں اسے باور کروانے لگا

” وہ وہ داجی کے کہنے پر غلطی سے زبان سے ادا ہو گیا”

اسے کچھ دیر پہلے والی بات یاد اگئی تھی اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ باسط خان سے بہت ڈرتی تھی ایک وہی تو تھا جس سے وہ ڈرتی تھی

“ائندہ سے یہ لفظ تو غلطی سے بھی تمہاری زبان سے ادا نہ ہوں تمہیں مجھے چھوٹے خان کہنے کی اجازت نہیں ہے”

وہ صرف وارننگ دیتے انداز میں کہتے پھر سے سامنے کی طرف متوجہ ہوا

“ویسے ایک بات پوچھوں “

وہ ڈرتے ڈرتے گویا بھی اس نے محض ہنکارہ بھرا نظریں ہنود سامنے تھیں

” اپ کو میرے چھوٹے کا کہنے سے مسئلہ کیا ہے “

درحقیقت وہ بھی تنگ ا گئی تھی کہ اسے ہمیشہ سے اسی بات پہ ڈانٹا تھا کہ عریج اسے غلطی سے بھی چھوٹا خان نہ بلائے اج بھی بڑی ہمت کر کے یہ سوال کیا تھا

” کیونکہ یہ نام میرے لیے بہت قیمتی ہے چونکہ یہ مجھے دادی کی جانب سے دیا گیا ہے اور مجھے یہ ہرگز گوارا نہیں کہ میری قیمتی چیزیں تم استعمال کرو اور تم مجھے میرے اس قیمتی نام سے مخاطب نہیں کر سکتی”

٭٭٭٭

تیرے بن اب نہ لیں گے ایک بھی دم

تجھے کتنا چاہنے لگے ہم

تیرے ساتھ ہو جائیں گے ختم

تجھے کتنا چاہنے لگے ہم

اس جگہ آ گئے چاہتیں اب میری

چھین لوں گا تمہیں ساری دنیا سے ہی

تیرے عشق پہ ہاں حق میرا ہی تو ہے

اففف اس کے یہ الفاظ ایک بار پھر عریج خان کا دل دھڑکا گئے تھے وہ ہمیشہ اپنی خانم کو ایک نئے طریقے سے اپنا آسیر کر لیتا تھا۔

کہہ دیا ہے یہ میں نے میرے رب سے بھی

جس راستے تو نہ ملے

اس پہ نہ ہو میرے قدم

تیرے بن اب نہ لیں گے ایک بھی دم

تجھے کتنا چاہنے لگے ہم

تیرے ساتھ ہو جائیں گے ختم

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Doodh wala by Saira Khan Complete novel

  • by

مجھے اندازہ نہیں تھا میری بیوی کے

دل میں میرے لیے اتنی محبت چھپی ہوئ ہے

میں تو سمجھتا تھا انتہائ مجبوری میں میرے ساتھ رہ رہی ہے ۔۔وو اس کے چہرے سے بال ہٹاتے اس کے روۓ روۓ چہرے کو

دیکھتے مبتسم ہو کر بولا ۔۔

یو نو نویرہ؟

بچپن سے میں نے جس سے بھی شدید محبت کی اور اس کے ساتھ ہمیشہ رہنے کی خواہش کی وو ہی مجھ سے دور ہو گۓ ۔۔پہلے بابا

پھر امو جان ۔اور اب تم ۔۔مجھے لگا آج نہیں تو کل تم مجھے چھوڑ کر اپنے گھر چلی جاؤ گی ۔ان کے بعد میں تمہیں خود سے دور ہوتا نہی دیکھ سکتا تھا

اس لیے میں نے سوچا میں خود ہی ہمت

کر کے تمہیں ابھی جانے دوں ۔۔

وو سر جھکاۓ ہونٹ کاٹتے زمین کو گھورتا بول رہا تھا۔۔

مگر پھر قسمت نے مجھے اولاد کی خوش خبری دے کر ایک اور آزمائش میں ڈال دیا۔

میں تو تمہیں خود سے دور کرنے کی ہمت

نہیں کر پا رہا تھا ہر پل یہ ہی کھٹکا رہتا

اگر تم نے واقعی پیپر پر سائن کر دیے تو

اگر تم واقع مجھے چھوڑ کر چلی گئ تو ۔۔

ہر پل یہ ہی سوچتا کاش ٹرین اور ہوٹل میں

ہماری ملاقات نا ہوتی۔۔تو ہم بھی آج نارمل

کپل کی طرح رہتے

وو مظبوط مرد اپنے دل کی کیفیت بیان کرتے

اس کے سامنے ٹوٹ رہا تھا ظبط کے باوجود

پلکیں نم ہو رہی تھی ۔

جبکہ نویرہ خود اسکے دل کی باتیں سن کر دکھی ہو رہی تھی ۔۔

اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ریہان شاہ کا سر اوپر کیا

میں کبھی تمہیں چھوڑ کر نہیں جاؤنگی

Muhafiz by Mariam Fayyaz Complete novel

  • by

۔ داد؟ معصومہ نے حداد کو پکارا۔ جی جان حداد !! اعداد محبت سے چور لہجے میں گویا ہوا۔ میں اپ کو بہت تنگ اور بے سکون کرتی ہوں نا۔ معصومہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی حداد نے ایک نظر اس کے چہرے کو دیکھا اور پھر مسکرا کر بولا۔ بالکل بھی نہیں آپ کو ایک بات بتاؤں؟؟ جی !! معصومہ بولی۔ میرے لیے سکون کا مطلب آپ کا وہ تھوڑا سا وقت ہے جو صرف میرے لیے ہوتا ہے۔ حداد اس کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا تو معصومہ کا چہرہ کھل اٹھا اس نے جلدی سے اپنی دونوں باہیں حداد کے گرد پھیلائیں۔ مجھے اپ سے ڈھیر ساری محبت ہے کیا اپ کو بھی ہے مجھ سے محبت؟؟ دل میں نہ جانے کیا ایا کہ وہ پوچھ بیٹھی۔ قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ اگر تم مجھے نہ ملی ہوتی تو یہ راز مجھ پر راز ہی رہ جاتا کہ محبت کیسی ہوتی ہے۔ حداد صاف گوئی سے بولا تو معصومہ حیرت سے کچھ دیر ساکت نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی کیا وہ اسے اتنا چاہتا تھا۔ جانتی ہو تم کیا ہو میرے لیے؟؟ کچھ دیر خاموشی کی نظر ہوئے اور پھر حداد بولا۔ کیا ؟؟ معصومہ نے پوچھا۔ تم میرا قیمتی اثاثہ ہو!! حداد بھی اسے اپنی ایک بازو کے حصار میں لیتے ہوئے بولا۔

Teri Aarzo ki chah mein by Iqra Rajpoot Complete novel

  • by

”کیا مانگی گئی ہر دعا قبول ہو جاتی ہے کیا دعا میں مانگی گئی محبت مل جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ سعد کسی بچے کی طرح اس سے سوال کر رہا تھا۔

آج سعد زید اُس لڑکی سے سوال کا جواب مانگ رہا تھا۔

جسے وہ کبھی اِمچیور کہا کرتا تھا۔

عفیرہ سعد کی بات کا مفہوم سمجھ کر مسکرا دی۔

”مانگی گئی ہر دعا قبول ہوتی ہے۔ ضرور قبول ہوتی ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ سچے دل سے مانگی جائے تو دعا لازم قبول ہوتی ہے۔ بس کبھی نا امید نہ ہونا اور اگر دعا قبول نہ ہو تو سمجھ جانا اس دعا کا صلہ اللہ قیامت کے روز آپ کو دے گا اور ضرور دے گا۔

اللہ تعالی کبھی اپنے بندوں کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے۔ لیکن ایک بار اس سے دعا مانگ کر تو دیکھو اللہ اور بندے کے درمیان سب سے مضبوط کنکشن ہی دعا ہے۔ دعا نصیب بھی بدل دیتی۔

جب اللہ تعالی نے سورةالعمران میں فرمایا دیا کہ دعا پہاڑوں کو بھی ان کی جگہ سے سرکار سکتی ہے تو قبولیت کا شک تو بنتا ہے ہی نہیں ہے۔

جہاں تک بات محبت کی تو محبت سے صدق مانگتی ہے اور اگر محبت میں صدق نہ ہو تو وہ محبت نہیں

اُنسیت ہوتی ہے محبت اگر صدق کے ساتھ دعاؤں میں مانگی جائے تو محبت ضرور ملتی ہے دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ عفیرہ نے مسکرا کر سعد سے کہا۔

”تو کیا میری دعا قبول ہو جائے گی؟ کیا تم مجھے میرے گزشتہ رویے پر معاف کر سکتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ سعد نے ایک امید کے ساتھ عفیرہ سے پوچھا۔

”میں کبھی آپ سے ناراض نہیں تھی بس اپنے کم عقلی پر شرمندہ تھی۔ اور جہاں تک بات معافی کی تو میں کون ہوتی ہوں آپ کو معاف کرنے والی معاف کرنے والی ذات تو اللہ کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “ عفیرہ نے مدھم سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

”تو کیا تم ناراض نہیں ہو؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ سعد نے بغور عفیرہ کو دیکھتے پوچھا۔

”نہیں! کیونکہ مجھے یقین آگیا ہے“ عفیرہ نے سعد سے کہا۔

”کس بات پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ سعد نے کچھ نہ سمجھی سے عفیرہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔

”کہ جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے اس میں ہماری ہی بہتری ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “ عفیرہ نے مسکرا کر کہا۔

”اچھا!۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ سعد کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ آئی تھی۔

”ہاں نا! اب دیکھیں پہلے میں تھوڑی ڈر پوک تھی بات بات پہ رونے لگ جاتی تھی لیکن اب نہیں ڈرتی میں کسی سے کوئی کچھ کہہ کر جائے گا کدھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ عفیرہ نے مسکرا کر کہا۔

” اور تھینک یو سعد۔۔۔۔۔۔۔۔“

”کس بات کے لیے۔۔۔۔۔“ابھی عفیرہ کچھ بولتی کے سعد اس کی بات کاٹتے ہوئے کہتا ہے۔

”یہ بتانے کے لیے ہم لڑکیاں بھی خود کچھ کر سکتی

ہیں۔ یہ بتانے کے لیے دنیا مطلبی ہے یہاں کوئی کسی کے آنسو نہیں دیکھتا۔

بلکہ مذاق اڑاتے ہیں تھینک یو عفیرہ عبید کو بدلنے کے لیے اگر آپ آج سے چھ سال پہلے مجھے وہ سب نہ کہتے تو آج میں باہمت نہ ہوتی“ عفیرہ نے نرم سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

Dil o deewan by Eman Fatima Complete novel

  • by

یہ سٹوری ہے اپنے راشتوں کی کے انسان کو ہمیشہ اللہ کا شکر ادا کرنا چائیے جیسا بھی بنایا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی نہ کوئی مسلی ہات ہوتی ہے جاہا اپ کے کوئی خلاف ہوتا وہاں کوئی نہ کوئی اپ کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور ضروری نہیں ہم جیسا جاہتے ویسا ہی ہو بس صبر کریں اس سے اچھا ملتا ہے اپ کو لوگوں سے زیادہ اللہ سے امید رکھیں انشاء اللہ کبھی مایوس نہیں کرے گا

Black monster by Zobia Ahmed Complete novel

  • by

دور ہٹو میرے شوہر سے خبر دار جو کسی نے بھی میرے ہاشم کو اب ہاتھ لگایا… مصباح کسی شیرنی کی طرح چیخی تھی..

روبو نے کنگ کو رسی سے باندھا تھا اسکے پیٹ پر گولی ماری تھی روبو نے ..

رر روز تت تم جج جاؤ یہاں سے … بلیک مانسٹر نے خون میں لت پتے ہوتے ہاتھوں سے اسے جانے کا اشارہ کیا تھا…

چپ کرو تم ایک لفظ بھی اور کہا تو میں تمہارا اپنے ہاتھوں سے قتل کرونگی ویسے تو بڑے بلیک مانسٹر بن کر پھرتے ہو یہاں کیا ہوا اس …کتے سے مار کھا رہے تھے… مصباح ہاشم پر چڑ دوڑی تھی…

ہاشم تو بس اسکے تیور دیکھ رہا تھا…

اہہہ… مصباح کے بال ہنری نے پکڑے تھے…

تیری ہمت کیسی ہوئ مجھے دھکا دینے کی.. تیری بھی تیرے ہاشم جیسی ہالت کرونگا…

ہنری میم کو چھوڑ دو تمہاری لڑای ہم سے ہے نا تو ہم سے بات کرو انکو جانے دو… روبو نے گن اسکی جانب کی تھی…

مصباح نے موقع دیکھ کر اپنی ایک ٹانگ اسکے دوسری ٹانگ سے الجھا کر اسے منہ کے بل گرا تھا.. مصباح جلدی سے گن لی تھی…

روبو اپنے صاحب کو گاڑی میں بیٹھاو اور hospital پہنچاؤ.. مصباح جس انداز حکم دیا روبو کو لگا اب اصلی بلیک مانسٹر تو مصباح ہے…

میں نے کہا تھا نا میرے شوہر کو ہاتھ بھی مت لگانا ورنہ موت میرے ہاتھوں سے ہوگی تمہاری…میرے ہاشم کا تم ایک ایک خون کا حصاب دوگے… مصباح کے ہاتھ میں گن تھی جو سیدھا اسنے اسکے دل کا نشانہ لیا ہوا تھا…