Skip to content
Home » After marriage story » Page 7

After marriage story

Mohabbat Key Anokhey Rang by Misha Mushtaq complete novel

  • by

تم خوش ہو . . . .

آپ خوش ہیں اس نے الٹا اس سے سوال کیا

خوشیاں کبھی مکمل نہیں ملتیں غم ہمیشہ آس پاس منڈ لاتے رہتے ہیں اس لیے میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں خوش ہوں کیونکہ خوش ہوناضروری نہیں ہے لیکن ہاں کہیں نہ کہیں اب زندگی میں ٹھہراؤ آگیا ہے اور میں اس ٹھہراؤ پر پرسکون ہوں ماریہ مجھےآج بھی یاد آتی ہے پہلے دن کی طرح لیکن اب میں اسے سوچ کر غمگین نہیں ہوتا میں نے زندگی کے ساتھ سمجھوتہ کر لیاہے کیونکہ ضروری نہیں جس شخص سے آپ کو محبت ہو وه آپ کو ملے بھی بعض اوقات ان کو محسوس کرنا بھی کافی ہوتا ہے مصطفی نے کہہ کر گہری سانس لی اور سن بیٹھی رمشاہ کو دیکھا

اب تم مجھے بتاؤ تم خوش ہو اس نے ایک بار پھر اپنا سوال دہرایا

آپ کو اپنی محبت سے جدائی ملی تو وہ قدرتی تھی لیکن میری محبت سے جدائی میں بے وفائی تھی نارسائی کا دکھ تھا لیکن ہم دونوں میں ایک چیز جو مشترکہ تھی وہ ہے اپنے پیاروں سے جدائی آپ نے صحیح کہا کہ خوش ہونا ضروری نہیں ہے دل کا پرسکون ہونا ضروری ہے اور میں پرسکون ہوں رمشا نے بہتی آنکھوں سے مسکراتےہوۓ مصطفی دیکھاوه اسے ہی دیکھ رہا تھاپوری توجہ سے اس کے دیکھنےپر ہلکے مسکرایا اور اس کے ہاتھ تھامےاس ہاتھ تھامنے میں ایک احساس تھا ہمیشہ ساتھ رہنے کا ساتھ نبهانے کا کبھی نہ چھوڑنے کا . . . . . . .

Mahiya ve by Sunaina Khan Complete

  • by

لہرانے لگے۔۔۔۔۔۔
مدھر ہنسی اور کھنکتے قہقہے ماحول کو اور بھی حسین بنا گئے تھے۔۔۔۔۔۔
ماشاءاللہ منت کتنی پیاری لگ رہی ہو،، صفوان بھائی تو دیکھتے ہی فلیٹ ہو جائیں گے ۔
پیام گرین فراک اور یلو غرارہ پہنے روم میں داخل ہوتی ،،، گرین کرتی اور یلو گھیر دار لہنگے میں پھولوں کے زیور اور لائٹ میک اپ سے سجی سنوری منت کو دیکھ کر بے ساختہ بولی۔۔۔۔۔۔
منت تو جھینپ گئی۔۔۔۔۔۔۔
بھابھی بیگم کم تو آپ بھی نہیں لگ رہیں۔ تبھی تو ہمارے کھڑوس بھائی بہانے بہانے سے آپ کے ارد گرد چکر لگا رہے ہیں۔ پیچھے سے آتی عنایت نے پیام کی ٹانگ کھینچائی کی ۔
ارے واہ ہرنی صاحبہ آپ کے بھی پر نکل آئے ہیں ورنہ جب میں آئی تھی تو آپ تو بڑی چھوئی موئی سی تھیں ۔ ایسا بھی کیا جادو کر دیا المیر سلطان نے کہ ہماری عنایت اتنی بدل گئی ہے ۔

Kahani mohabbat ki by Laraib Fatima Complete novel

  • by

ابا بتا رہے تھے اس دفعہ تایا ابا کا بیٹا بھی آ رہا ہے ساتھ۔؟نا چاہتے ہوۓ بھی پری کی زبان پھسلی

ہمم۔۔آ تو رہا ہے پر تیری چچی بتا رہی تھی وہ اب پہلے جیسا نہیں رہا بڑا بتمیز اور بد لہاز ہو گیا ہے۔۔۔رضوانہ کو تو جیسے بولنے کی وجہ مل گئ تھی۔۔۔۔

اچھا انہیں کیسے پتا۔۔۔؟پری کے آلوچھیلتے ہاتھ رکے اور وہ اماں کی طرف مڑی۔۔

حسن اور وہ ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں نا اسی نے بتایا ہے ۔۔۔۔

بس کر اماں مافیہ چاچی کی باتوں کو تو رہنے ہی دے وہ تو ہر دفعہ رامین کے بارے میں بھی یہی کہتی تھیں لیکن وہ تو ایسی بلکل بھی نہیں تھی۔۔۔۔پری نے ماں کی یاد دہانی کی۔۔۔

اچھا چھوڑ تو ان سب باتوں کو اور جلدی سے آلو چھیل وہ پنڈ پہنچنے ہی والے ہوں گے۔۔۔

رضوانہ کے کہنے ہر پری کے ہاتھ ایک بار پھر آلو چھیلنے میں مصروف ہو گۓ۔۔

Ghasiq by Mahira Zaynab Khann Complete novel

  • by

یہ ناول سعدین حویلی کے مکینوں کی کہانی ہے جس میں کئی کرداروں کی زندگیوں کو دکھایا گیا ہے۔ یہ انتقام، دھوکے، دوستی، نفرت، محبت اور ایک جن زادے کی محبت کی کہانی پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ، ناول میں مافیا کے عناصر بھی شامل ہیں اور گرے کرداروں کا بھی تذکرہ ہے، جو اپنے پیچیدہ تعلقات اور اندرونی کشمکش سے نبرد آزما ہیں۔ کردار اپنے ماضی، خواہشات اور تاریک پہلوؤں کا سامنا کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں جذبات، رازوں اور تقدیر کے ساتھ ایک طاقتور سفر شروع ہوتا ہے۔