Skip to content
Home » Complete novel » Page 140

Complete novel

Jan e aziz by Soni Mirza Complete novel download pdf

  • by

“سر وہ۔۔۔۔ہم جس انسان کو ڈھونڈ رہے تھے اس کا پتہ چل گیا ہے۔”
“کس کا؟” وہ الجھ کر پوچھنے لگا۔
“ٹائیگر کا۔” جواب سن کر اس نے اپنی بھنویں چڑھا لی تھیں۔
“کوئی ثبوت بھی ملا اس کے خلاف؟”
“نہیں سر۔۔۔۔۔وہ کوئی ثبوت چھوڑتا ہی نہیں ہے۔ بڑی مہارت سے مارتا ہے۔”
“یہ پتہ چل گیا کہ وہ کہاں رہتا ہے؟”
“یہ بھی پتہ نہیں چلا سر۔”
“بے وقوف انسان! تو پھر پتا کیا چلا ہے؟” وہ دھاڑنے لگا۔
“سر یہ پتہ چلا ہے کہ بہت سے بڑے بڑے غنڈوں کو بے دردی سے موت دینے والا ٹائیگر ہے۔ اسے ڈھونڈنا اتنا آسان نہیں ہے سر۔۔۔۔۔کسی نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا۔۔۔۔اور جو اسے دیکھ لیتا ہے وہ پھر بیان کرنے کے لیے زندہ ہی نہیں رہتا۔”
“ڈھونڈو گے کیسے پھر اسے؟”
“سر لاسٹ ٹائم اس نے مارلوّ کو اٹھایا ہے۔ اگر مارلوّ کا پتا چل جاۓ تو اس تک پہنچ سکتے ہیں۔”
“مارلوّ تو ہے ہی ایک نمبر کا گھٹیا شخص!۔۔۔۔۔لیکن اس ٹائیگر تک پہنچنا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔میں بھی ملنا چاہتا ہوں جرمنی کے ڈون سے۔۔۔۔۔دیکھوں تو سہی کہ کون ہے یہ گناہوں کی دنیا کا بادشاہ؟” ایک طرف نگاہ جما کر وہ سفاکیت سے بولا اور پھر خود ہی کال بند کر کے فون کو اچھالے بستر پر پھینک دیا۔ اگلے ہی ثانیے اس نے پھر سے شراب کی بوتل کا گھونٹ بھرا۔

Iqrar e ishq by Eman Imtiyaz Complete novel download pdf

  • by

“ایک منٹ یہ کیا ہے۔ ارحم نے زمین پر دیکھا نیچے کیل تھے ارحم سمجھ چکا تھا یہ چال ہے اُس نے فورن زیان کو الرٹ دے دیا تھا گاڑی واٹر پروف تھی

“زوار تم جلدی سے اندر جاؤ یہ کیسی باتیں کررہے اور تمہیں ہوا کیا ہے۔ وہ کافی بوکھلا چکا تھا

“اندر چلو۔ اس بار وہ سختی سے بولا تھا جب کہ سعد ماما کو میسج پر بتا رہا تھا کہ وہ پہچنے والے ہے اس سے پہلے کہ وہ اور بات کرتا ایک گولی زوار کے سینے کے قریب پیوست ہو چکی تھی

“زوااااار” دونوں نے اُسے پکارا تھا سعد تیزی سے باہر نکلا زوار کے کپڑے خون سے رنگین ہو چکے تھے وہ بے خوش ہو چکا تھا

“زوار آنکھیں کھولو۔

“سعد گاڑی میں بیٹھو یہاں…

“چپ کر جاؤ زوار آنکھیں کھولو تمہیں کچھ نہیں ہو گا وہ ابھی تھوڑی تھوڑی آنکھوں کھول رہا تھا۔

تبھی ارخم کے سر پر کسی نے لوہے کے پائپ سے وار کیا تھا وہ گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھا اُس کے سر سے کافی خون نکل رہا تھا اور پھر زمین پر گرگیا

“ارخم” وہ پھر سے چیخا

اُس کے سامنے ایک لڑکی آئی ساتھ دس لڑکے تھے جن کے ہاتھ میں ہتھیار تھے اس نے بلیک ٹائٹ پینٹ شرٹ پہنی تھی بال کھلے تھے

“کیوں کیا تم نے ایسا۔

سعد اُس کے سامنے چیخا تھا

” تم کو تو میرے پاس بھیک مانگنی چاہیے چلو اتنی امید تو میں نے نہیں رکھی تھی۔ وہ ہنسی تھی جبکہ اتنا تیز وار ہو نے کے باوجود ارحم سعد کو گاڑی میں جانے کا کہ رہا تھا

“چلو اب تمہارے مرنے کا ٹائم ہو چکا ہے۔