Jantar mantar by Sumaiya Moin Complete Novel
Jantar mantar by Sumaiya Moin Complete Novel Jantar Mantar by Sumaiya Moin – A Haunting Tale of Black Magic Urdu literature has long been… Read More »Jantar mantar by Sumaiya Moin Complete Novel
Jantar mantar by Sumaiya Moin Complete Novel Jantar Mantar by Sumaiya Moin – A Haunting Tale of Black Magic Urdu literature has long been… Read More »Jantar mantar by Sumaiya Moin Complete Novel
Fart e Yas by Sumaiya Moin – A Thrilling Tale of Friendship, Betrayal, and Treasure Fart e Yas by Sumaiya Moin is an intriguing… Read More »Fart e yas by Sumaiya Moin Complete Novel
Dard e Dil Season 2 by Asra Khan Complete After marriage story Forced Marriage Friends Base Novels Rude Hero Base Novels Rude Heroine Novels Sequel… Read More »Dard e Dil Season 2 by Asra Khan Complete
Noor-e-umeed by Farhan Bhayo & Syed Sahar Episode 1 Noor-e-umeed by Farhan Bhayo & Syed Sahar Complete Novel This is social romantic Urdu novel based… Read More »Noor-e-umeed by Farhan Bhayo & Syed Sahar Complete Novel
دیکھو زونین جو کچھ بھی ہوا میں جانتا ہوں اِس میں تمھارا کوئی قصور نہیں اور میں تمہیں چھوڑ کر نہیں گیا تھا مُجھ پر اعتبار کرو زوینی،اِس سب میں صوفیہ ہی کا قصور تھا اُس نے نہ صرف ہمارا بلکہ خود کا بھی بہت نقصان کیا،
میرا یقین کرو زوینی اُس وقت حالات کُچھ سہی نہیں تھے پاپا کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا جاناں میری مجبوری تھی مُجھے سمجھنے کی کوشش کرو یار میں نہیں جاتا تو نجانے کیا ہو جاتا پلیز زوینی،
زونین نے ایک ٹھنڈی اہ بھری
وہ دونوں سمندر کے کنارے ایک بینچ پر بیٹھے تھے، زونین سامنے دیکھ رہی تھی،
عبدان خانزادہ بار بار وضاحتیں وہ لوگ دیتے ہیں جو گنہگار ہوں اور رہی بات اعتبار کی تو اعتبار توڑنے والوں پر دوبارہ بھروسہ کرنا ایک بہت بڑی بیوقوفی ہیں جو کہ میں نہیں کر سکتی۔۔
طواف نہیں تھی وہ۔۔۔۔۔۔ وہ غر ائی
وہ سب سے پاک تھی اس گھٹیا جگہ پر رہتے بھی وہ پاک تھی خدا نے اس کی حفاظت کی تھی اور تو۔۔۔۔ اس نے آنکھیں فرح بائی کی آنکھوں میں ڈالی اس کے منہ پر تھوکا فرح کا منہ نیچے جھک گیا
تجھے لگتا ہے کہ تم ہم سب کو بے بس کرے گی اور ہم سب تیری قید میں رہیں گے تو بھول گئی فرا بائی کے اوپر ایک خدا بھی بیٹھا ہے ہمارا خدا۔۔۔۔ وہ خدا جس کے پاس بے بس کرنے کی اور قید کرنے کی طاقت ہے جس کے پاس آزاد کرنے کی طاقت ہے تو نے وہ خدا بننا چاہا فرابا ئی تھی پر تو بھول گئی وہ خداقہر بھی برساتا ہے تجھ جیسے بندوں پر اور جب اس کا قہر آن پڑتا ہے فرح بائی اور ایک جھٹکے سے اس نے فرح کی گردن چھوڑ دی وہ نیچے جا گری
لیکن زارہ ابھی چپ نہیں ہوئی تھی تو سزا دے رہی تھی سوہا کو عبرت ناک تو میں بتاتی ہوں تجھے عبرتنات کسے کہتے ہیں جب خدا کا قہر آتا ہے نا تو تجھ جیسے بندوں کا حال کیا ہوتا ہے
فرہ بائی ابھی تک زمین پر گری تھی
اٹھ۔ ۔۔۔۔۔۔ وہ جھک کر چیخی
فرا بائی اسی طرح پڑی تھی
اٹھ وہ پھر چیخی اور فرا بائی گڑبڑا کر ایک دم کھڑی ہو گئی اب وہ اس کے بالکل قریب آئ ۔ اب اس کی اواز بھی دھیمی تھی
تجھے بہت شوق تھا نا سب کو بے بس کرنے کا آج تجھے میں بتاتی ہوں وہ اپنے سینے پر انگلی رکھ بولی بے بسی ہوتی کیا ہے
عابد استاد ۔۔۔۔۔ وہ زور سے بولی گن لائیں فرح بائی کی
فرا بائی کی خرا بھائی زور دے کر بولی وہ گن جو تم کبھی نہ چلا سکے کیونکہ اس پہ صرف اسی کا نام نقوش تھا اس سے صرف یہی مرے گی وہ فرح کی آنکھوں میں انکھیں ڈال کر بول رہی تھی
عابد استاد سر ہلا کر فورا گیا اور دو منٹ بعد واپس ایا تو اس کے ہاتھ میں گن تھی بالکل پیک اس کا کور بھی نہیں اترا ہوا تھا گن کو دیکھ کر فرح کی ہوائیاں اڑی وہ ایک دم زہرا کے قدموں میں گر گئی
مجھے معاف کر دو زارا دیکھو جیسا تم کہو کہ میں ویسا کروں گی تم مجھے اپنا غلام بنا لو میں تمہارے غلامی کر لوں گی لیکن مجھے مت مارو وہ کانپ رہی تھی اسے اپنی موت سامنے دکھائی دے رہی تھی زارا نے پاؤں کی ٹھوکر سے ا سے پیچھے کیا
وہ عابد کے پاؤں میں تھی اور زندگی کی بھیک مانگ رہی تھی عابد میں نے تمہیں کچھ بھی نہیں کیا تم پلیز مجھے بچا لو اس کے پاؤں پکڑ رہی تھی عابد نے بھی بالکل زارہ کی طرف پاؤں کی ٹھوکر سے اسے پرے کیا تھا اب وہ التمش کے قدموں میں آئی تھی دیکھو میں نے تمہارے ساتھ برا کیا لیکن میں تمہیں سب کچھ دوں گی میں سوہا جیسی ہزار لڑکیاں تمہارے قدموں میں رکھ دوں گی میرے پاس بہت پیسہ ہے وہ بالکل اس وقت کوئی پاگل لگ رہی تھی
“اے عشقِ جنون” از ارفا خان – مکمل ناول
ایک ایسی محبت جس میں ہو جنون، شدت، قربانی… اور بےقراری۔
کبھی محبت عبادت بن جاتی ہے، اور کبھی جنون۔
“اے عشقِ جنون” ایک ایسی کہانی ہے جو دلوں کو جھنجھوڑ دیتی ہے — یہ عشق کی شدت اور جذبات کی انتہا کی داستان ہے۔
یہ ناول سعدین حویلی کے مکینوں کی کہانی ہے جس میں کئی کرداروں کی زندگیوں کو دکھایا گیا ہے۔ یہ انتقام، دھوکے، دوستی، نفرت، محبت اور ایک جن زادے کی محبت کی کہانی پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ، ناول میں مافیا کے عناصر بھی شامل ہیں اور گرے کرداروں کا بھی تذکرہ ہے، جو اپنے پیچیدہ تعلقات اور اندرونی کشمکش سے نبرد آزما ہیں۔ کردار اپنے ماضی، خواہشات اور تاریک پہلوؤں کا سامنا کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں جذبات، رازوں اور تقدیر کے ساتھ ایک طاقتور سفر شروع ہوتا ہے۔
رویام میں یہ آپ کو گفٹ کرنا چاہتی تھی ۔ مگر ۔۔۔ یہ بہت مہنگی ہے میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔
گھڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نے بہت ہی معصومانہ انداز میں کہا تھا ۔ جو کے رویام کو تھوڑی عجیب لگی تھی ۔
کیا مطلب پیسے نہیں ہیں ۔ کیا تم نہیں جانتی اگر تمہارا شوہر چاہے تو ابھی کے ابھی پورا مال خرید لے اور تم ایک گھڑی کا بول رہی ہو ۔
آپ کے پاس ہو گا بہت پیسہ اس میں کوئی شک نہیں مگر وہ آپ کا پیسہ ہے ۔
میں اپنے خود کے پیسوں سے آپ کو یہ گفٹ کرنا چاہتی تھی ۔ جو شاید نہیں کر سکوں گی۔
آخری جملے پر الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے ۔ مگر پھر بھی بول دیا ۔
رویام کو اعراب کی باتیں بہت اچھی لگی تھی ۔ وہ من ہی من خوش تھا کے اسے کتنی خودار اور اچھی بیوی ملی ہے ۔
اعراب کی ہر بات رویام کے دل میں ایک خاص مقام بنا رہی تھی۔ جو کوئی نہیں بنا سکا تھا۔
اچھا تو اب مجھے میرا گفٹ نہیں ملے گا کیا ۔ ؟
کیوں نہیں ضرور ملے گا ۔
جب میں اتنے پیسے جمع کر سکی کے یہ خرید سکوں تب سب سے پہلے آپ کو یہ گفٹ کروں گئی ۔ بس تب تک یہ دعا کروں گی اسے کوئی اور ن خرید لے ۔
اگر تمہیں پسند ہے پھر تو جب تک تم نہیں چاہو گی یہ یہی رہے گی ہمیشہ۔
کیا تمہیں یہ بہت پسند ہے ؟ رویام نے اور ایک سوال کیا تھا ۔ جس کا اعراب نے بھی سمپل سا جواب دیا تھا ۔
یہ بہت خاص ہے ۔ جب آپ کے پاس ہوگی تب اپکو پتہ چلے گا ۔
اعراب کچھ اور بولتی اس سے پہلے ہی یمان کو اپنی طرف آتا دیکھ خاموش ہو گئی ۔
کیا بات ہے آج تو رویام پاشا شاپنگ مال میں موجود ہیں ۔کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہا ۔
یمان نے آتے ہی ایک طنزیہ لائن بولی جس پر اعراب بھی ہلکا سا مسکرائی تھی۔
اگر ہو گیا ہو تو کچھ بات کر لیں ۔ رویام نے یمان کو سائیڈ پر کرتے ہوئے کہا۔
ہآں ہاں بولو کیوں نہیں۔ کیا بات ہے جو اسے مجھے بلانا پڑا۔ یمان نے بھی سیریس ہو کر پوچھا ۔ جبکہ پیچھے کھڑی اعراب ان دونوں کو ہی دیکھ رہی تھی ۔
دیکھو یمان میری بات غور سے سنو ۔ یہاں کوئی ہے جو ہم پر نظر رکھ رہا ہے ۔ اور تم جانتے ہو کچھ دن پہلے کیا ہوا تھا ۔ اس سے پہلے کسی کی نظر اعراب پر جائے تم اسے گھر لے کر جاو ۔ یہاں سب میں دیکھتا ہوں۔
مگر رویام تم اکیلے کیسے ۔۔۔۔۔
تم اعراب کو لے کر جاو میں خود یہاں دیکھتا ہوں یمان نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا ۔
نہیں یمان اگر میں جاوں گا تو وہ ضرور پیچھا کریں گے ۔ تم جاو مجھے ابھی ان کی نظروں میں ہی رہنا ہے ۔ میں اعراب کو بولتا ہوں تمہاری ساتھ جائے ۔
مگر۔۔۔۔۔۔۔ وہ کچھ بولتا رویام پہلے ہی اعراب کے پاس چلا گیا ۔
کیا مطلب آپ نہیں جا رہے ساتھ ۔
دیکھو اعراب مجھے اچانک بہت امپورٹین کام آ گیا ہے
۔تم یمان کے ساتھ جاو یہ تمہیں گھر چھوڑ دے گا ۔ اور میں بھی جلدی آ جاو گا ۔
“ایاز آپ فضول کی ضد لگائے بیٹھے ہیں۔”
فائقہ نے قدرے سختی سے کہا۔
“تمھیں کیوں یہ ضد فضول لگ رہی ہے؟”
اس نے قدرے خفگی سے کہا۔
“نکاح ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ملاقاتیں شروع کر دیں۔”
“میں نے ملاقاتوں کا نہیں ملاقات کا کہا ہے۔ نکاح والے دن اگر تم سیدھے منھ مجھ سے بات کر لیتی تو پھر میں یہ ضد بھی نہیں کرتا۔”
“نکاح والے دن نہیں کی تھی پر اب تو کر رہی ہوں ناں؟”
فائقہ کو اس کی منطق عجیب لگی۔
“پر مجھے روبرو تمھیں اپنے سامنے دیکھ کر بات کرنی ہے۔”
“لگتا ہے اب آپ نے پاکستانی ڈرامے بھی دیکھنا شروع کر دیا ہے۔”
شادی سے پہلے اس کے ڈائیلاگز سن کر فائقہ نے اسے بالی ووڈ فلمیں دیکھنے کا طعنہ دیا تھا اور اب اس کے لب وہ لہجے پر پاکستانی ڈرامے دیکھنے کا۔
اپنے جذبات کو دوسری مرتبہ اپنی محبوبہ کے ہاتھوں سے رندھتا دیکھ ایاز کو خود پر ترس آیا تھا۔
“بڑی نا شکری بیوی ملی ہے مجھے۔”
تاسف سے سر ہلاتے ایاز نے تبصرہ کیا۔
“بڑا بے صبرا شوہر ملا ہے مجھے۔”
فائقہ نے بھی منھ در منھ جواب دیا۔