Skip to content
Home » Friends Base Novels » Page 4

Friends Base Novels

Dost man by Biya Turk Novels Complete novel

  • by

تم چائے کو انکار کر رہی ہو۔۔۔۔۔

آیت نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔۔۔۔

دل بھر گیا ہے ہر چیز سے بس کچھ یاد ہے تو کاشان اور اس کی باتیں۔۔۔۔۔

آیت اس نے کہا میں پہلی لڑکی ہوں جس سے اس نے بات کی وہ کتنا پاک ہے آیت۔۔۔۔۔

اور پتہ ہے وہ مجھ سے بھی بات نہیں کر رہا تھا میں نے اس کو مجبور کیا مجھ سے بات کرنے کے لیے۔۔۔۔۔

ہاں سر کاشان بہت اچھے ہیں تم نے دیکھا ہے نا وہ کلاس میں پڑھاتے وقت بھی گرلز کو نہیں دیکھتے۔۔۔۔۔۔

میں کیسے اس شخص کا دل دکھا سکتی ہوں آیت۔۔۔۔۔

یہ باتیں سوچ سوچ کر میرا سر پھٹ رہا ہے۔۔۔۔۔۔

اب تم نے نہیں رونا عنو۔۔۔۔۔

صبح کالج جا کر تم سر سے معافی مانگو ۔۔۔۔۔

سب ٹھیک ہو جائے گا انشاءاللہ۔۔۔۔

انشاءاللہ ۔۔۔۔ جتنا آسان عنایہ کو لگ رہا تھا شاید اتنا آسان نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔

Dil e Zaar by Arfa Ali Complete novel

  • by

یہ کہانی دو لڑکیوں کے گرد گھومتی ہے جو کزن ہونے کے ساتھ دوست بھی ہیں ان کی بچپن کی دوستی، کزنوں کی کہانی۔

یہ کہانی امل امجد اور فرقان حیدر کی محبت کے گرد گھومتی ہے۔

یہ کہانی ہے ارہا کی جس نے اپنی محبت کو پانے کے لیے اپنی بھابھی پر الزامات لگائے۔

یہ کہانی ہے احسن ارسل کی جو یکطرفہ محبت میں مبتلا رہا، اس کی محبت اسے ملی یا نہیں یہ آپ ناول پڑھ کر جان پائیں گے۔

Marwareed by Aqsa Batool Hayyat Complete novel

  • by

“کیا کسی کو دیکھنا گناہ ہے ؟” سامنے کھڑے شخص کا لہجہ سوالیہ ہوا۔ جانے اب وہ سوال تھا یا مزید گفتگو کا بہانہ۔

“نا محرم کو مسلسل گھورنا گناہ ہے۔” جواب بھی فوراً آیا تھا۔

“اور نا محرم کے ساتھ سفرکرنا۔۔۔؟” بے اختیار اس کے منہ سے نکلا۔

“وہ بھی گناہ ہے۔” بیگ اسنے اپنے کندھے پر ڈلا۔ یعنی اب وہ جانے لگی تھی۔

اس سے پہلے کے وہ واقعی چلی جاتی، وہ چند قدم مزید آگے آیا ۔

“کیا اب ہم کچھ دیر کے لیے بھی بات نہیں کرسکتے؟”

جیکٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ خفا سا ہوا۔

اس کی آنکھوں میں خفگی کا تاثر دیکھ کر اس لڑکی کی آنکھیں پھیلیں۔ وہ چند قدم چل کر اس کے سامنے آئی۔ پھر تھوڑا مزید آگے ہوئی، عین اس کے سامنے۔

“ہم بات کرسکتے تھے، لیکن آپ نے اعتماد قائم ہونے سے پہلے ہی کھو دیا۔” اس کا لہجہ زخمی ہوا۔

“آپ مجھے دس منٹ تو دے ہی سکتی ہیں۔” اسنے التجا کی۔

کئی سال پہلے وہ اسکی امید تھا، وہ اسے برا نہیں لگتا تھا لیکن اب اچھا بھی نہیں لگتا۔

اور مومنوں کی امیدیں نہیں مرتیں۔ وہ سامنے کھڑے شخص کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگی۔

“کیا وہ اسے مایوس کردے ،وہ جو کبھی واحد امید تھا۔”

“کیا وہ اسے واقعی دس منٹ دینے والی تھی؟”

Adhoray mukamal novel by Elena Qureshi Complete novel

  • by

ادھوری محبت اور نفرت کی داستان، ادھورے ہجر اور وصال کی داستان، ادھوری زندگی اور موت کی داستان، ادھورے اپنے اور پرائوں کی داستان، ادھورے غم اور خوشیوں کی داستان، ادھوری بہار اور خزاں کی داستان، ادھوری روشنی اور اندھیرے کی داستان، ٹوٹ کر مکمل جڑنے کی داستان

مختصر یہ کہ ادھورے کرداروں ”

کی مکمل داستان ”

یہ ناول کرداروں کے گرد گھومتا ہے جو اسلام، مذہب، دین، خدا اور نیکی جیسے الفاظ سے ناآشنا ہیں۔انکے لئے زندگی کا مقصد” *میں اور میری مرضی” ہے۔ بقول ان کے، جو بھی دنیا میں انسان حاصل کرتا ہے وہ اس کی اپنی قابلیت کی بنا پر ہے جبکہ ایک کردار تو سرے سے اللہ کے ہونے پر بھی یقین نہیں رکھتا(نعوذبااللہ)۔

یہ تینوں دو لڑکے اور ایک

لڑکی زندگی

کے کچھ موڑ پر ملتے ہیں, جس سے یہ آپس میں جڑ جاتے ہی، لیکن اپنی غلطیوں اور گناہوں کی وجہ سے تینوں الگ ہو جاتے ہیں۔

ان سالوں میں ان تینوں کی الگ الگ سٹوری چلے گی جن میں کچھ tragadies انہیں اسلام کی طرف لے جائیں گی۔ اس میں ہماری فیمیل لیڈ ایک ہندو لڑکی سے ملے گی جس کے ساتھ مل کر وہ اسلام کو ایکسپلور کرے گی۔

اصل میں ہندو لڑکی *رتیقا* کی سائڈ سٹوری ہے جس میں رتیقا” عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سفر” کر کے اپنے مذہب کو بدلے گی،” اسلام “قبول کرے گی

ادھورے مکمل داستان آپ لوگوں کو کچھ سکھائے یا نہیں مگر امید ہے کہ آپ کی ادھوری زندگیوں کو کہیں نہ کہیں مکمل کرنے کی ادنیٰ سی کوشش ضرور کرے گی، یقیناََ کچھ جگہوں پر آپ کو آپ کے رب کے نزدیک بھی کر دے گی۔ ” بس ایمان پختہ اور نیت صاف ہونی چاہیے۔”

# *انسان تو پھر ادھورے مکمل کی سب سے بہترین مثال ہے ۔*✨

Bestie & Evil Queens by Shahreen Fatima Complete novel

  • by

ایک ایسا ناول ہے جس میں دوستی کا ایک خوبصورت پہلو دکھایا گیا ہے

دو ایسی دوستوں پر جو ایک دوسرے کی جان تھی ۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے جان دے بھی سکتی تھی اور لے بھی سکتی تھی جنہیں اپنے خدا پر پورا بھروسہ تھا جو ہر مشکل میں اپنے خدا سے مدد مانگتی تھی ہر حال میں اس کا شکر ادا کرتی تھی

کہانی دو ایسی دوستوں کی جو ہر مشکل میں ایک دوسرے کے ساتھ رہی جنہوں نے کئی رشتے کھوئے لیکن پھر بھی ثابت قدم رہیں

” کہانی دو دوستوں کی “

Noor e Ashnayi novel by Dur e Nayab

  • by

“یاااہوووو! میں اس بار بھی جیت گیا۔” وہ چہکتے ہوئے بولا۔

“یار میں نہیں مانتا، تم نے اس بار بھی چیٹنگ کی ہے۔”

وہ اس کے سامنے کھڑا سینے پر بازو لپیٹے خفگی سے کہہ رہا تھا۔

“ہا ہا ہا۔۔ ارے مان لیں حامد ماموں! میں باسکٹ بال میں چیمپئن ہوں اور آپ مجھ سے نہیں جیت سکتے۔” وہ ایک ہاتھ میں فٹبال پکڑے سینے سے لگائے اور دوسرا ہاتھ پیٹ پر رکھے قہقہہ لگاتے ہوئے بولا۔ وہ جو منہ پُھلائے دوسری طرف دیکھ رہا تھا اس کے اس طرح ہنسنے پر اسے آنکھیں سُکیڑتے ہوئے دیکھنے لگا۔

ایسا کرتے ہیں میں آپ کا ایک مینٹلی ٹیسٹ لیتا ہوں، دیکھتے ہیں آپ کتنے ذہین ہیں۔” وہ ابھی مزید اس کی ٹانگ کھینچنے کے موڈ میں تھا۔

“مم۔۔ میرے خیال سے ماما ویٹ کررہی ہیں۔” وہ جانے کے لیے ُمڑا۔ وہ ہمیشہ اس کے سوالوں سے یوں ہی کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر بچ جاتا تھا۔

“حامد ماموں۔۔ یار آپ ہمیشہ ایسے ہی کرتے ہیں۔” وہ چِڑ کر بولا۔

“یااار۔۔ حماد بھائی سے پوچھنا نا سارے سوال۔۔ پتہ نہیں کہاں سے ڈھونڈتے ہو اتنے ٹف کویسچنز۔۔ جو میں نے بچپن میں بھی اپنی اسلامیات کی کتاب میں کبھی نہیں پڑھے۔” اس نے پریشانی سے سر کُھجاتے ہوئے جواب دیا۔

“سیدھا کہیں نا حماد ماموں آپ سے زیادہ ٹیلنٹڈ ہیں۔”

Dosti ka bharam novel by Ayesha Malik

“ہی۔۔ہیلو پلیز یار میری بات سنو کال مت کاٹنا ” اس کے فون اٹھاتے ہی وہ بولا شروع ہوئی مبادلہ کہی پیچھے دو مہنوں کی طرح وہ پھر سے نہ فون بند کر دے لیکن مقابل کی طرف سے خاموشی تھی

“پلیز میری بات کا یقین کرو میں نے ایسا کچھ نہیں کیا تم تو جانتی ہو نا مجھے میں بھلا ایسا کیوں کروں گی ” وہ آنسو بہاتی بولی مقابل اب بھی کچھ نہیں بولا تھا

“تم سن رہی ہو نا میری بات؟ تمہیں میری بات پر یقین ہے نا ؟ وہ کیسی خدشے کے تحت بولی جب مقابل کا طنزیہ قہقہہ سپیکر سے گوجا اور اس کا خدشہ سچ ثابت ہوا اسے اس پر یقین نہیں رہا تھا

“ی ۔۔یار میں مر جاؤں گی تمہاری بے روخی مجھے مار دے گی ” وہ ازیت سے کہتی ہوئی بولی

“تو مر جاؤ لیکن آئندہ مجھے کال کرنے کی ہمت مت کرنا ” وہ بے روخی سے کہتی کال کاٹ گئی جبکہ اسے لگا وہ واقعی ہی مر جائے گی ہاں وہ مر ہی تو رہی تھی اسے اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا تو بے اختیار اپنے سینے کو مسلا وہ جلدی سے کھڑکی کھول کے تازہ ہوا کو اپنے اندر اتارنے کے لیے گہرے گہرے سانس بھرنے لگی جب اچانک اس نے دوبارہ اپنے سینے کو مسلا آنکھوں سے آنسو لڑیوں کی طرح بہنے لگے اسے آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں بند ہوتی محسوس ہوئی تو ایک دم سے نیچے گری بند آنکھوں کے سامنے بھی اسے وہ سفاک بے رحم ہی دیکھائی دے رہی تھی جس کی وجہ سے وہ اس حالت میں پہنچ چکی تھی وہ مر رہی تھی آہستہ آہستہ سب کچھ آنکھوں کے آگے مٹتا ہوا محسوس ہوا

کیوں دیا درد ہمہیں ۔۔

ہم آج تک نہ سمجھے ۔۔

برے ہے کیا اتنے ۔۔

تم آ نہ سکے جو ملنے ۔۔

تو ہم کو بھول گیا۔۔

بس یار ہم ہی پاگل تھے ۔۔

سوچا تمہیں جو رات دن ۔۔۔

——————–