Skip to content
Home » Hero Gangster Base Novels » Page 3

Hero Gangster Base Novels

The Mafia gang novel by Xihan Sheikh Complete Novel

“تم کسی کام کے نہیں ہو میں تم سے کیے گئے سارے معاہدے توڑ رہا ہوں آج سے ہم دونوں کے درمیان کوئی تعلق نہیں تم سے پارٹنر شپ مجھے بہت مہنگی پڑی مسٹر عابد حسین”۔۔۔ مارکو غصے سے اس پر بھڑک رہا تھا اس نے صاف لفظوں میں اس سے کیے گئے سارے کنٹریکٹس ختم کرنے کی بات کر رہا تھا یہ سن کر عابد حسین کے چہرے کی ہوائیاں اڑنے لگی

“مارکو پلیز میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں ہے جتنا تم سمجھ رہے ہو وہ لڑکی بہت چالاک اور تیز ہے جب تک وہ زندہ رہے گی ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور اگر تم نے یہ کنٹریکٹس ختم کر دیے تو میرا بہت نقصان ہو جائے گا”۔۔۔ عابد حسین بے بسی سے اس کو سمجھا رہا تھا جو کسی صورت اس کی بات سمجھنے کو تیار نہیں تھا

“میں کچھ نہیں جانتا تمہیں جو کرنا ہے کرو مجھے اس سے کوئی غرض نہیں میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ آج سے تمہارے ساتھ کیے گئے سارے کنٹریکٹس ختم”۔۔۔ اس کا لہجہ حتمی تھا ایک پل کے لیے عابد

کو غصّہ تو بہت آیا لیکِن وہ غصے کو پی گیا

“اگر تم نے سارے کنٹریکٹس ختم کر دیے تو میں برباد ہو جاؤنگا پلیز میری بات کو سمجھو اس بار میں نے بہت زبردست پلان کیا ہے بس تمہارے ساتھ کی ضرورت ہے”۔۔۔ وہ تحمّل سے گویا ہوا کیوں کہ اس وقت کچھ بھی سخت سست کہنے میں اسی کا گھاٹا تھا

Jan e aziz by Soni Mirza Complete novel download pdf

  • by

“سر وہ۔۔۔۔ہم جس انسان کو ڈھونڈ رہے تھے اس کا پتہ چل گیا ہے۔”
“کس کا؟” وہ الجھ کر پوچھنے لگا۔
“ٹائیگر کا۔” جواب سن کر اس نے اپنی بھنویں چڑھا لی تھیں۔
“کوئی ثبوت بھی ملا اس کے خلاف؟”
“نہیں سر۔۔۔۔۔وہ کوئی ثبوت چھوڑتا ہی نہیں ہے۔ بڑی مہارت سے مارتا ہے۔”
“یہ پتہ چل گیا کہ وہ کہاں رہتا ہے؟”
“یہ بھی پتہ نہیں چلا سر۔”
“بے وقوف انسان! تو پھر پتا کیا چلا ہے؟” وہ دھاڑنے لگا۔
“سر یہ پتہ چلا ہے کہ بہت سے بڑے بڑے غنڈوں کو بے دردی سے موت دینے والا ٹائیگر ہے۔ اسے ڈھونڈنا اتنا آسان نہیں ہے سر۔۔۔۔۔کسی نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا۔۔۔۔اور جو اسے دیکھ لیتا ہے وہ پھر بیان کرنے کے لیے زندہ ہی نہیں رہتا۔”
“ڈھونڈو گے کیسے پھر اسے؟”
“سر لاسٹ ٹائم اس نے مارلوّ کو اٹھایا ہے۔ اگر مارلوّ کا پتا چل جاۓ تو اس تک پہنچ سکتے ہیں۔”
“مارلوّ تو ہے ہی ایک نمبر کا گھٹیا شخص!۔۔۔۔۔لیکن اس ٹائیگر تک پہنچنا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔میں بھی ملنا چاہتا ہوں جرمنی کے ڈون سے۔۔۔۔۔دیکھوں تو سہی کہ کون ہے یہ گناہوں کی دنیا کا بادشاہ؟” ایک طرف نگاہ جما کر وہ سفاکیت سے بولا اور پھر خود ہی کال بند کر کے فون کو اچھالے بستر پر پھینک دیا۔ اگلے ہی ثانیے اس نے پھر سے شراب کی بوتل کا گھونٹ بھرا۔