Skip to content
Home » Innocent Girl Base Novels » Page 2

Innocent Girl Base Novels

Rab ka faisla N۔D Khan Complete novel

  • by

یہ کہانی ہے ایک ایسی لڑکی کی جو صبر کا پیکر تھی ۔اپنے خوابوں کے پیچھے بھاگنے والی اپنے حقیقی ماں باپ کی جستجو میں اپنی زندگی میں بہت سے دکھ دیکھنے والی،لیکن ہر حال میں اللہ کی رضا میں خوش رہنے والی۔

یہ کہانی ہے ایک بزنس ٹائیکون کی جو ایک معمولی سے استانی پر دل ہار بیٹھا اس کی انکھوں اورمعصومیت سے پیار کرنے لگا.

یہ کہانی ہے خونی رشتوں سے پیار اور عزت کی.

یہ کہانی ہے دوستوں کی کھٹی میٹھی باتوں کی ۔.

یہ کہانی ہےاپنے رب سے مضبوط تعلق جوڑنے کی یہ کہانی ہے بچھڑے ہوئے لوگوں کو ایک کرنے کی۔

Sarange novel by Maryam Rajpoot

  • by

محرم کے ہارٹ بیٹ شو ہو رہی ہے جو کہ بہت لو ہیں اور اسکے سگنل کم مل رہے ہیں وہ کہیں بہت زیادہ کم سرویس والی جگہ پر ہے ۔۔۔وہ یلدز کو دیکھتی بولی تھی جبکہ یلدز کے دل کو کچھ ہوا تھا وہ ضبط سے مٹھیاں بھینچ گیا تھڈ صالحہ کچھ کرو پلیز جلدی ۔۔وہ باہر کی جانب بڑھا تھا جب اچانک اسکا فون بجا تھا ۔۔۔گرینی محرم کہاں ہے ؟ وہ انکی کال اٹھاتے بولا تو انکی روتی ہنیی آواز کان سے ٹکرایی تھی ۔۔یلدز ووو۔۔۔وہ۔۔۔سس۔۔سسیی۔۔سییم لے گیا ہے اسے وہ اسے اس جگہ لایے گا جہاں وہ لڑکیوں کو مارتا ہے یہ جگہ کویی بہت زیادہ پانی کے قریب ہے پانی بہنے کی آوازیں ۔۔۔ابھی وہ کچھ اور بولتین کال کٹ گیی تھی شاید سگنل ختم ہویے تھے وہ جلدی سے صالحہ کی جانب بڑھا تھا صالحہ یہ کال ٹریپ کرو ۔۔وہ یہین ہے ۔۔ وہ تڑپتے بولا تو صالحہ نے اسکے ہاتھ سے فون لیا تھا اب وہ یہ سوچ رہا تھا پانی کہاں بہتا ہے بہت زیادہ یقینا یہاں جنگل مین ہو گا کچھ وہ لیپ ٹاپ پکڑتے ویسے تمام جگہیں سرچ سر رہا تھا اسکی زندگی مشکل میں تھی اسکی أنگلیاں کانپ رہین تھیں جب اچانک اسے وہ جگہ مل گیی تھی وہ بہتا ہوا جھرنا تھا جسکے پاس کچھ کوٹیج بنے تھے صالحہ نے بھے وہی جگہ بتاییی تھی وہ سب لوگ گاڑیاں نکالتے نکل گیے تھے وہ جگہ وہاں سے آدھے گھنٹے کے فاصلے پر تھی یلدز نے وہ فاصلہ پندرہ منٹ میں تہ کیا تھا پھر وہ تمام لوگ گاڑیوں سے اترت. تمام کوٹیج میں پھیل گیے تھے یلدز جس میں داحل ہوا تھا وہ کوٹیج بلکل پاس تھا جھرنے کے وہ اندر داحل ہوا تو اسے ایک کمرے سے چیخنے کی آوازین آرہیں تھین وہ چیخیں گرینی کی ہی تھیں وہ اندر گیا تو دروازے پر ہی ساکت رہ گیا تھا گرینی آحری سانسیں لے رہیں تھیں وہ آنکھون سے اوپر کی جانب اشارہ کر گییں تو وہ جلدی سے اوپر بڑھا تھا وہاں بہت سے کمرے تھے مگر ایک کمرے کا لاک کھلا تھا وہ آہستہ سے اندر داحل ہوا تھا مگر پھر یلدز کاظمی پتھر سا ہو گیا تھا ہاں وہاں اندر محرم تھی مگر وہ افف اسکو دیکھتے یلدز کی آنکھوں سے نہ جانے کتنے آنسو گرے تھے وہ بے ہوش تھی اسکا وجود کرسی سے بندھا ہوا تھا سختی سی وہ جلدی سے اسکی جانب بڑھا تھا محرم کے ماتھے سے حون نکل رہا تھا وہ اسکی رسیاں کھول رہا تھا جب اچانک دروازہ کھلا اور کویی اندر داحل ہوا تھا یلدز پیچھے مڑا تو سیمم کھڑا تھا مگر اسکے ساتھ صالحہ بھی تھی اسنے صالحہ کے سر پر پسٹل رکھی ہویی تھی ۔۔۔ہاہاہاہاہاہہاہا ۔۔وہ یلدز کو دیکھتے ہنسا تھا تم میری فیری کو لے جایو گے تو میں اسے مار دوں گا!!! جبکہ صالحہ کے بال اسنے سختی سے پکڑ رکھے تھے ۔۔تم پیچھے ہٹو میری فیری سے ۔۔سییم بولا تو یلدز یک دم کھڑا ہوا تھا پھر وہ محرم کے سامنے آگیا یوں کہ وہ نظر نہ آیے یلدز کی نظریں سیم کے پیچھے تھیں جہاں سارک کھڑا تھا اچانک یلدز مڑتے محرم کو اپنے سینے سے لگا گیا اور صالحہ کو پکڑے سیم کے ہاتھ پر سارک گولی مار گیا تھا

Qalb e ishq novel by Aman Chaudhary download pdf

یہ کہانی ہے اس لڑکی کی جسکو وقت نے بربادکیا اسکو اپنوں سے جدا کر دیا۔۔

ایک جانے مانے بزنس ٹائیکون کی جسکو اپنی بیوی سے عشق تھا۔۔

یہ کہانی ہے ولی احمد کی جو اپنوں کےہاتھوں برباد ہوا تھا۔۔

ارسل شاہ کی جو اپنی محبت کے لیئے دنیا سے لڑ گیا ۔۔

ان دوستوں کی جنہوں نے دوستی کی اعلاء مثال قائم تھی۔۔

رونے والوں کی رولانے والوں کی مارنے والوں کی مرنے والوں کی۔

یہ کہانی ہے حق اور انصاف کی جنگ کی۔۔

انتقام کی آگ میں جلنے والوں کی۔

معاشرے کی تلخ حقیقت کی۔

یہ کہانی ہے مرتسم میر شاہ کے عشق جو الگ ہی داستان رقم کرنے والی تھی۔۔

Jan e aziz by Soni Mirza Complete novel download pdf

  • by

“سر وہ۔۔۔۔ہم جس انسان کو ڈھونڈ رہے تھے اس کا پتہ چل گیا ہے۔”
“کس کا؟” وہ الجھ کر پوچھنے لگا۔
“ٹائیگر کا۔” جواب سن کر اس نے اپنی بھنویں چڑھا لی تھیں۔
“کوئی ثبوت بھی ملا اس کے خلاف؟”
“نہیں سر۔۔۔۔۔وہ کوئی ثبوت چھوڑتا ہی نہیں ہے۔ بڑی مہارت سے مارتا ہے۔”
“یہ پتہ چل گیا کہ وہ کہاں رہتا ہے؟”
“یہ بھی پتہ نہیں چلا سر۔”
“بے وقوف انسان! تو پھر پتا کیا چلا ہے؟” وہ دھاڑنے لگا۔
“سر یہ پتہ چلا ہے کہ بہت سے بڑے بڑے غنڈوں کو بے دردی سے موت دینے والا ٹائیگر ہے۔ اسے ڈھونڈنا اتنا آسان نہیں ہے سر۔۔۔۔۔کسی نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا۔۔۔۔اور جو اسے دیکھ لیتا ہے وہ پھر بیان کرنے کے لیے زندہ ہی نہیں رہتا۔”
“ڈھونڈو گے کیسے پھر اسے؟”
“سر لاسٹ ٹائم اس نے مارلوّ کو اٹھایا ہے۔ اگر مارلوّ کا پتا چل جاۓ تو اس تک پہنچ سکتے ہیں۔”
“مارلوّ تو ہے ہی ایک نمبر کا گھٹیا شخص!۔۔۔۔۔لیکن اس ٹائیگر تک پہنچنا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔میں بھی ملنا چاہتا ہوں جرمنی کے ڈون سے۔۔۔۔۔دیکھوں تو سہی کہ کون ہے یہ گناہوں کی دنیا کا بادشاہ؟” ایک طرف نگاہ جما کر وہ سفاکیت سے بولا اور پھر خود ہی کال بند کر کے فون کو اچھالے بستر پر پھینک دیا۔ اگلے ہی ثانیے اس نے پھر سے شراب کی بوتل کا گھونٹ بھرا۔