Skip to content
Home » Social media writers » Aqsa Tehreem » Page 2

Aqsa Tehreem

Tujh ko haar ke by Aqsa Tehreem Complete novel

  • by

یہ میں نے بہت محبت سے آپ کے لیے خریدا تھا آیت ۔۔ وہ اس کے چہرے کو دیکھتا بول رہا تھا ۔۔۔ آیت کا پورا وجود اس کی محبت کا گواہ بن گیا تھا ۔۔۔ جس کے الفاظ اس کی طرح حسین تھے ۔۔۔ اور احترام سے بھر پور تھے ۔۔۔ وہ اٹھا اور پائل اس کے ہاتھ سے لے کر اس کے پیروں میں پہنانے لگا ۔۔

نہیں میں خود پہن لوں گی ۔۔۔ وہ اس کے اس طرح پاؤں چھونے پے بوکھلا گئی تھی ۔۔ بھلا اپنے ہمسفر کو کیسے وہ اپنے قدموں میں بیٹھا دیکھتی ۔۔۔ وہ اس کا سر تاج اس کا مجازی خدا تھا ۔۔۔ وہ دل میں رکھنے اور سر پے تاج کی طرح پہننے کے لئے تھا ۔۔۔ یوں پیروں میں بیٹھانے کے لیے تھوڑی نہ ۔۔

کیوں ۔۔۔ میں کیوں نہیں پہنا سکتا ۔۔۔ وہ نرم سے لہجے میں سوال کرنے لگا ۔۔۔ وہ لب کاٹنے لگی ۔۔۔

بتائیں نہ ۔۔۔ کیوں نہیں پہنا سکتا ۔۔ کیا میرا چھونا آپکو برا لگ رہا ہے ۔۔ اس کے آخری سوال پے وہ دھنگ رہ گئی تھی ۔۔۔ اس نے زور زور سے گردن نفی میں ہلائی ۔۔۔ آیت کے اس طرح کرنے پے وہ دل کھول کے مسکرایا تھا ۔۔۔ وہ واقع معصوم تھی ۔۔۔ بس اس سے گھبرا رہی تھی ۔۔ جھجھک رہی تھی ۔۔۔ جو کہ فطری تھی ۔۔

پھر بتائیں کیا وجہ ہے ۔۔۔ اس کو اب مزا آنے لگا تھا آیت کو تنگ کرنے میں ۔۔۔

وہ آپ میرے پیر چھوئیں مجھے اچھا نہیں لگے گا ۔۔ آپ تو میرے شوہر ہیں ۔۔۔ بھلا آپکو کیسے اپنے قدموں میں بیٹھا دیکھ سکتی ۔۔۔ آیت نے سر جھکائے بمشکل اس کی غلط فہمی دور کی تھی کہ مبادہ وہ زندگی شروعات کی بدگمانی سے نہ کر دے ۔۔۔ شمائل خان اس کی بات پے اٹھ کر اس کے قریب آیا تھا ۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Mere bakht ki siyahi by Aqsa Tehreem Complete novel

  • by

جاؤ یہاں سے ۔۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔ زین کو اس کے لفظوں پے اور دکھ ہوا ۔۔

ایسے کیسے چلا جاؤں روشنال ۔۔ یہ کس طرح کا سلوک کر رہی ہو میرے ساتھ ۔۔ مجھے تکلیف ہو رہی ہے ۔۔ اس کی آواز میں نمی آنے لگی تھی ۔۔ وہ رخ موڑ گئی ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں مرچیں لگنے لگیں تھیں ۔۔۔

روشنال میں اس طرح نہیں جاؤں گا ۔۔ کوئی وجہ تو ہو اس طرح کے سلوک کی ۔۔ ہمارے بیچ تو کوئی لڑائی کوئی جھگڑا نہیں ہوا ۔۔ پھر اس طرح سے منہ موڑ کر کیوں کھڑی ہو ۔۔ وہ اس کے لہجے سے ٹوٹ کر بولا ۔۔ روشنال ابراہیم سے اس نے دل کی گہرائیوں سے محبت کی تھی ۔۔۔ اس کا اس طرح کا رویہ اسے دکھی کر گیا تھا ۔۔۔

یہ لو اپنی امانت اور میری جان چھوڑ دو ۔۔ روشنال نے اچانک مڑ کر منگنی کی انگوٹھی اس کی ہتھیلی پے رکھ دی تھی ۔۔۔ وہ ساکت رہ گیا ۔۔ انگوٹھی اس کی ہتھیلی میں کانپ کر رہ گئی تھی ۔۔ پھر اچانک وہ آتش فشاں کی طرح پھٹا تھا ۔۔

یہ کیا ہے روشنال ابراہیم ۔۔ وہ اس کو بازو پکڑ کر جھنجھوڑتا ہوا بولا تھا ۔۔۔ روشنال کو اس کی انگلیاں اپنے بازو میں دھنستی ہوئی محسوس ہوئی تھیں ۔۔

چھوڑو مجھے زین ۔۔ درد ہو رہا مجھے ۔۔۔ وہ اس کی مضبوط گرفت سے خود کو چھڑاتے ہوئے چیخ کر بولی ۔۔

اور جو تم نے مجھے ابھی تکلیف دی اس کا کیا روشنال ابراہیم ۔۔۔ اس نے جنونی انداز میں کیا تھا ۔۔ اس کی آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہیں تھیں ۔۔۔

میں تم سے کوئی رشتہ نہیں رکھتا چاہتی ۔۔ اس لیے تم میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے ۔۔۔ وہ شیرنی کی طرح دھاڑی تھی ۔۔۔ زین کی گرفت نرم پڑی تھی ۔۔۔ اس کے بے رحم لفظوں سے وہ ڈھے گیا تھا ۔۔

کیوں ۔۔ آخر کیوں نہیں رکھنا چاہتی کوئی رشتہ کوئی وجہ تو ہو ۔۔ وہ بےبسی سے بولا تھا ۔۔ روشنال اس کی گرفت سے آزاد ہو چکی تھی ۔۔۔

کیونکہ میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں ۔۔۔ اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں ۔۔ روشنال ابراہیم نے دل پے پتھر رکھ کے اپنے دل سے محبت کو نوچ ڈالا تھا ۔۔ زین کے قدم لڑکھڑا گئے ۔۔

Khud ko tum pe haar dia by Aqsa Tehreem Complete novel

  • by

فاتح مجھے معلوم ہو گیا ہے محبت زبردستی حاصل نہیں کی جا سکتی دل پہ کسی کا زور نہیں چلتا دیر سے ہی سہی مگر مجھے پتہ لگ چکا ہے اس لیے میں آپ پہ زبردستی مسلط ہونے کی کوشش نہیں کروں گی ۔۔ بس آپ سے ایک التجا ہے آپ بے شک مجھے محبت نہ دیں مگر مجھ سے میری محبت نہ چھینے ورنہ میں مر جاؤں گی ۔۔۔ کہتے ساتھ وہ بلک بلک کر رو دی ۔۔ غم کی شدت سے فاتح کی آنکھیں بھی بہنیں لگیں تھیں وہ بھی بکھر رہا تھا گڑیا کو اس حال میں دیکھ کے ۔۔ مگر اس میں اتنی ہمت اتنی طاقت نہیں تھی کہ اٹھ کر اس کے بکھرے وجود کو سمیٹ سکے ۔۔ اسے دلاسا دے سکے تسلی دے سکے ۔۔ اس کی محبت نے فاتح کو بھی جلا کے راکھ کر دیا تھا ۔۔

حوریہ ۔۔ بے اختیار فاتح کے لبوں سے یہ لفظ ادا ہوا تھا وہ اچانک ساکت ہوئی تھی پہلی بار فاتح نے اس کو اس کے نام سے پکارا تھا اس نے اپنی بھیگی پلکیں اٹھا کر فاتحہ کی جانب دیکھا تھا ۔۔

میرے دل میں اپنی محبت ڈال کر خود کہاں جا رہی ہو ۔۔ فاتح کے لفظوں سے گڑیا نے بے یقینی سے اس کی جانب دیکھا ۔۔

بتاؤ کہاں جا رہی ہو اپنے فاتح کو چھوڑ کر۔۔ تم رہ لو گی اس کے بغیر ۔۔ مگر تمہارا فاتح تمہارے بغیر نہیں رہ پائے گا ۔۔ فاتح کی آنکھ سے ایک آنسو گرا تھا ۔۔ وہ تو جیسے پتھر ہو گئی تھی ۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Ishq safar ki dhool by Aqsa Tehreem Complete novel

  • by

کون ہو تم ۔۔ وہ مٹھیاں بھینچے غصے سے دھڑا تھا معتبر سہم کر پیچھے ہوئی ۔۔

م ۔۔ می ۔۔ میں معتبر شاہ ۔۔ میرا آج اس آفس میں پہلا دن ہے ۔۔ وہ اپنے ڈر پہ قابو پاتے کانپتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔

تمہیں آفس میں بیٹھنے کے مینرز نہیں ہیں کیا ۔۔ پہلے تم نے میرے آنے پر کھڑی نہیں ہوئی۔۔ اور پھر تم نے میری ساری شرٹ خراب کر دی ۔۔ وہ چبا چبا کر بولا تھا۔۔

سر میں آپ کے آنے پہ کیوں کھڑی ہوتی آپ کی شرٹ خراب کی یہ مانتی ہوں مگر میں آپ کے آنے پہ کیوں کھڑی ہوتی ۔۔ اس کی زبان سے پھسلا تھا مقابل کا چہرہ مارے ضبط کے سرخ ہو گیا تھا ۔۔ مطلب وہ اس آفس میں آگئی تھی اور اس کو پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ اس آفس اس کمپنی کا مالک تھا ۔۔

کس نے ۔۔ کس نے اس لڑکی کو رکھا ہے ؟ ۔۔ وہ شیر کی طرح داڑھا تھا پورے آفس کا سٹاف سہم کے رہ گیا ۔۔ اس نے معتبر کی میز پہ رکھی ساری فائلز اٹھا کر زمین پہ ماری تھیں معتبر ڈر کر دو قدم پیچھے ہوئی ۔۔ اس کی آنکھوں میں خوف لہرایا تھا ۔۔ وہ ہونقوں کی طرح اس پاگل کو دیکھ رہی تھی جو نجانے کس بات پر اس قدر غصہ دکھا رہا تھا ۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭