Siyah bakht by Aqsa Tehreem Complete Novel
Siyah Bakhat by Aqsa Tehreem – A Journey of Love and Struggles Life often brings unexpected twists, and Siyah bakht by Aqsa Tehreem Complete Novel… Read More »Siyah bakht by Aqsa Tehreem Complete Novel
Siyah Bakhat by Aqsa Tehreem – A Journey of Love and Struggles Life often brings unexpected twists, and Siyah bakht by Aqsa Tehreem Complete Novel… Read More »Siyah bakht by Aqsa Tehreem Complete Novel
یہ کہانی محبت، غلط فہمیوں، اور جذباتی کشمکش کے گرد گھومتی ہے۔ مرکزی کردار ایک باوقار اور حساس لڑکی ہے جو یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ہے۔ ایک عام دن کی بھاگ دوڑ میں، وہ احمد سے ٹکرا جاتی ہے، جو کہ ایک سخت گیر اور روایتی نظریات رکھنے والا شخص ہے۔ احمد کا سخت لہجہ اور زہر خند الفاظ اسے بے حد تکلیف پہنچاتے ہیں، حالانکہ وہ اپنی غلطی نہ ہونے کے باوجود معذرت کر چکی تھی۔
یہ پہلا موقع نہیں تھا جب احمد نے اس کے کردار پر شک کیا تھا—پہلے بھی وہ اسی قسم کے جملے بول چکا تھا، جو اسے اندر سے توڑ دیتے تھے۔ وہ خود پر لگے الزامات کے خلاف بولنے کی ہمت رکھتی تھی، مگر احمد کے سامنے ہمیشہ بے بس محسوس کرتی تھی۔ اس کی نظروں میں احمد کی عزت کم ہونے کے بجائے اور بڑھ جاتی تھی، مگر احمد کے الفاظ ہمیشہ اس کے دل کو زخمی کر دیتے تھے۔
کہانی میں آگے چل کر یہی غلط فہمیاں اور ٹکراؤ محبت اور احساسات کے ایک نئے سفر کا آغاز کرتے ہیں، جہاں نفرت اور تلخ رویے محبت کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ کیا احمد کو اپنی غلطی کا احساس ہوگا؟ کیا وہ وقت کے ساتھ اپنی سوچ بدل پائے گا؟ یا یہ کہانی صرف اشکوں اور دکھوں کا سفر رہے گی؟ یہی راز اس کہانی کو مزید دلچسپ بناتا ہے۔
************
محبت کی دنیا میں کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جو دل میں اتر جاتی ہیں اور پڑھنے والے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہیں۔ اقصیٰ تحریم کا ناول “دل طلبگار ہے تیرا” بھی ایسی ہی ایک دل موہ لینے والی کہانی ہے جو اپنے منفرد پلاٹ اور جذباتی رنگوں کی وجہ سے قارئین کو بے حد پسند آ رہا ہے۔
“دل طلبگار ہے تیرا” ایک ایسا ناول ہے جو محبت، ایثار، قربانی اور جذبات کی گہرائیوں کو چھوتا ہے۔ اقصیٰ تحریم نے اس ناول میں کرداروں کی نفسیات اور ان کے باہمی تعلقات کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ یہ ناول نہ صرف ایک دلکش لو اسٹوری ہے بلکہ اس میں رشتوں کی پیچیدگیاں، زندگی کے نشیب و فراز اور حقیقی محبت کی آزمائشیں بھی شامل ہیں۔
“مرحا… تم نے میری حقیقت سب کے سامنے لا دی۔ میں نے اپنی ہوس میں کہکشاں کو تکلیف دی، اور اب اس کا انجام بھگت رہا ہوں۔” آنکھوں سے بہتے آنسو، سرد ہوا، اور گناہوں کا بوجھ اسے مزید بکھیر رہا تھا۔
وہ لڑکھڑاتے ہوئے اٹھنے کی کوشش کرنے لگا، مگر جسم جیسے بوجھل ہو گیا تھا۔ “کیوں کیا میں نے یہ سب؟” وہ خود سے سوال کرنے لگا۔ اس کے دماغ میں وہ لمحہ زندہ ہو گیا، جب نائل نے اسے دیکھتے ہی نفرت سے دھتکار دیا تھا، اور کہکشاں کے آنسو اسے آج بھی جلتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔
وہ ان دونوں کو لے کر اس سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سارے تعلق توڑ کر چلا گیا ۔ حارث نے اس کا مان توڑا تھا ۔ وہ بری طرح بکھرا تھا ۔ اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ اس نے جس چھوٹے بھائی کو باپ کی طرح پالا تھا وہی اس کے گھر میں نقب لگائے گا ۔
“میں نے سب برباد کر دیا… مرحا، کہکشاں، نائل… سب مجھ سے نفرت کرتے ہیں، اور ٹھیک ہی کرتے ہیں!” اس کی آواز ٹوٹ کر خاموش ہو گئی۔ اس نے مٹھی بھر زمین کو زور سے دبوچا، جیسے وہ اپنے کیے کی سزا قبول کر رہا ہو۔ پچھتاوے کی شدت نے اسے بے بس کر دیا۔
****************
Meri wehshton ke sathi by Aqsa Tehreem Complete Novel Meri Wehshton Ke Saathi by Aqsa Tehreem – A Tale of Love, Longing, and Destiny… Read More »Meri wehshton ke sathi by Aqsa Tehreem Complete Novel
آج پھر وہ اس کے در پر آیا تھا اپنی عرضی لے کر ۔۔ ایک بار پھر سے وہ بے بس ہوئی تھی ۔۔ دونوں دل کے ہاتھوں مجبور تھے ۔۔ ایک کو دوسرا چاہیئے تھا تو دوسرے کو تیسرا چائیے تھا ۔۔ محبت تینوں کے گرد گھومتی انہیں خوار کر رہی تھی ۔۔ مگر کسی کا مقدر نہیں ٹھہر رہی تھی ۔۔
آپ کیوں روز مجھے بے بس کرنے آ جاتے ہیں عارض ! کیا میں انسان نہیں لگتی آپکو ! کیا میں احساس و جذبات سے عاری ہوں ! ۔۔ وہ تھک ہار کے دکھ سے بولی تھی ۔۔ اس کی نگاہیں جھک گئیں ۔۔ کیا کرتا وہ ۔۔ دل کے ہاتھوں مجبور تھا ۔۔ پر تھی تو وہ بھی مگر اس طرح وہ اس کو بے بس تو نہیں کرتی تھی ۔۔ جس طرح وہ اس کو آخری مقام پے لے آیا تھا ۔۔
حیا تیمور میں مجبور ہوں دل کے ہاتھوں ۔۔ تمھارے سوا کوئی نہیں جو مجھے میری محبت دلا سکے ۔۔ وہ سچائی سے بولتا اس کو دنیا کا سب سے ظالم انسان لگا تھا ۔۔ جو اس کی ذات کو روند کر کسی اور کی ذات کو سر کا تاج بنانا چاہتا تھا ۔۔
یہ کہانی محبت، قربانی اور تقدیر کے سنگم پر کھڑے ان کرداروں کی ہے جو زندگی کی کٹھن راہوں میں اپنے جذبات، خوابوں اور رشتوں کی آزمائشوں سے گزرتے ہیں۔ انسان کی خواہشات اور قسمت کے درمیان چلنے والی جنگ، امید اور مایوسی کے درمیان جھولتے لمحات، اور محبت کے رنگوں میں لپٹی تلخ حقیقتیں اس کہانی کی روح ہیں۔
“تیری راہوں میں” نہ صرف ایک دلکش رومانی کہانی ہے بلکہ یہ زندگی کے حقیقی مسائل اور جذباتی پیچیدگیوں کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ یہ محبت کی ان راہوں کی داستان ہے جہاں راستے ہمیشہ ہموار نہیں ہوتے، قربانیاں دی جاتی ہیں، صبر آزمایا جاتا ہے اور کبھی کبھی محبت کے باوجود بھی جدائی مقدر بن جاتی ہے۔
Sneak
وہ چاروں نشے میں دھت پڑے تھے ۔۔ شراب کی بوتلیں ان کے اردگرد پڑی ماحول میں بو پھیلا رہیں تھیں ۔۔ سمندر کی لہریں رات کے سناٹے میں شور مچا رہیں تھیں ۔۔
یار بس کر دو پینا ۔۔ گھر کیسے جائیں گے ۔۔ جازب آفندی نے ماہر کو شراب کو پھر سے شراب منہ کو لگاتے دیکھ کر ٹوکا تھا ۔۔ ان تینوں کی بانسبت جازب نے کم پی رکھی تھی ۔۔ جبکہ وہ تینوں اپنے ہواس غواہ رہے تھے ۔۔
یار آج کی رات تو عیش کرنے دے ۔۔ میرے باپ الیکشن جیت گیا ہے ۔۔ ماہر بولتے ہوئے لڑکھڑا کر گرتے گرتے بچا تھا ۔۔ جبکہ یمن اور زین سمندر کی خشک مٹی پے گرے پڑے تھے ۔۔ وہ اس قدر شراب پی چکے تھے کہ اٹھنے کی ہمت نہیں کر پا رہے تھے ۔۔
رات بہت ہو گئی ہے چلو اٹھو گھر چلیں ۔۔ جازب گاڑی کی چابی اٹھ کر ان کو بھی اٹھاتے ہوئے بولا ۔۔ جو ایک انچ نہیں ہلے تھے ۔۔
نہیں آج کی رات یہیں رہتے ۔۔ چاندنی رات کے نیچے ۔۔ یمن نشے میں دھت ہوتا بولا تھا ۔۔ اس کی آنکھیں بند ہو رہیں تھیں ۔۔ نشہ آہستہ آہستہ اس کے حواس سلب کر رہا تھا ۔۔
****************
اس منحوس کو کب رخصت کرنا ہے پانچ سال ہو گئے اس کے نکاح کو ۔۔ زرتاج بیگم کی زہر میں ڈوبی آواز وہ بھی باآسانی سن سکتی تھی ۔۔ جو اندر احمد صاحب کو بول رہیں تھیں مگر پس پردہ وہ اسی کو سنا رہیں تھیں ۔۔ اس نے جلدی سے کھانا بنایا اور کمرے میں بند ہو گئی ۔۔ یہ تو روز کا معمول بنتا جارہا تھا ۔۔ وہ ضبط کی انتہا پے تھی ۔۔ زرتاج بیگم کے یہ طعنے اب اس کو زخمی کرنے لگے تھے ۔۔ وہ پانچ بیٹیوں کی ماں ہونے کے باوجود اس کا دکھ اس کی تکلیف کو نہیں سمجھ سکیں تھیں ۔۔ وہ اپنی مرضی سے تھوڑی ان کی دہلیز پے بیٹھی تھی۔۔ مگر وہ ان سے شکوہ کس بنیاد پے کرتی جب اس کا اپنا باپ ہی ظالم اور سفاک نکلا تھا ۔۔ جو اس کی ماں کی وفات پے بعد اس کو چھوڑ کر بیرونِ ملک جا کر بیٹھ گیا تھا ۔۔ اور وہیں اپنی دنیا بسا لی تھی ۔۔ اس کو اپنے بھائی بھابھی کے رحم و کرم پے چھوڑ دیا تھا ۔۔ اس نے کرب سے سوچا اور آنکھیں موندھ لیں ۔۔ اور یہی سب اس کے ساتھ فاران کر رہا تھا ۔۔ جو اس سے نکاح کر کے اس کو بھول ہی گیا تھا ۔۔ اس کی ماں کی حیات میں یہ نکاح ہوا تھا ۔۔ اس کے بعد فاران بھی بیرون ملک چلا گیا ۔۔ وہ روکنا چاہتی تھی ۔۔ مگر وہ جلد واپس آنے کا کہہ کر لوٹ گیا تھا ۔۔ اور اب پانچ سال کا عرصہ گزر گیا تھا مگر اس کا کچھ اتا پتا نہ تھا ۔۔
تم اتنے پتھر دل کیسے ہو سکتے ہو زید ۔۔ کتنی محبت کرتی تھی وہ تم سے ۔۔ کتنا چاہا تھا اس نے تمہیں ۔۔۔ تمہارے لیے اس نے خود کو بدل لیا ۔۔۔۔ سب کچھ چھوڑ دیا اس نے تمہارے لیے ۔۔ اپنی انڈسٹری کلبز پارٹیز سب کچھ حد تک کہ اپنے دوست بھی اور تم نے اس کی اتنی محبت اتنی چاہت کا بدلہ کیا دیا ۔۔۔ باسط کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے تھے وہ تعبیر کو اس حالت میں دیکھ کر تڑپ گیا تھا اس کی یک طرفہ محبت سسک اٹھی تھی۔۔ جس طرح تعبیر نے زید کو چاہا تھا ویسے ہی باسط نے بھی تعبیر کو چاہا تھا ۔۔ مگر تعبیر کی محبت نے اس کے لب سی دیئے تھے ۔۔ وہ بس تعبیر کو خوش دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔ باسط کے منہ سے یہ انکشافات سن کر زید کا اپنے پیروں پہ کھڑا رہنا مشکل ہو گیا تھا ۔۔ اس کے دل میں درد اٹھا تھا ۔۔ ناقابل برداشت درد ۔۔ وہ وہی اپنا سینہ تھام کر رہ گیا ۔۔ پچھتاوے ناگ کی مانند اسے ڈسنے لگے تھے وہ وہیں بیٹھتا چلا گیا ۔۔۔
امی آپ کو کیا ہو گیا ہے ۔۔ میں چاچو ہوں اس کا ۔۔ بہت چھوٹی ہے وہ مجھ سے ۔۔ میں کسی حال میں اس کو نہیں اپناؤ گا ۔۔ اس سے نہیں شادی کروں گا ۔۔ وہ غصے سے دو ٹوک انداز میں بولا تھا ۔۔
تم اس کے سگے چاچو تو نہیں ہو نہ ۔۔ اسلام میں تم دونوں کا رشتہ جائز ہے ۔۔ اور رہی عمر کی بات تو اس سے فرق نہیں پڑتا ۔۔ شاہدہ بیگم بھی دوبدو بولیں ۔۔ وہ ضبط سے مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا ۔۔
آپ سب کے دماغ خراب ہو گئے ہیں ۔۔ جو ایک امیجور لڑکی سے میری شادی کرنا چاہ رہے ۔۔ میں نہیں راضی اس رشتے پے ۔۔ وہ بدلحاظ سے بولا تو شاہدہ بیگم نے بیٹے کو خفگی سے دیکھا تھا ۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭