Skip to content
Home » Social media writers » Maryam Rajpoot

Maryam Rajpoot

Twinkle Twinkle By Maryam Rajpoot download pdf

  • by

یہ کہانی ہے چھے دوستوں کی جو مری کچھ ایڈونچر کے لیے گئے تھے یہ داستاں ہے مری کے پہاڑوں کے بھیج بنے ایک فارم ہاؤس میں رہنے والے” ریخان غازی ” کی ، یہ کہانی ہے ایک سائیکوپیتھ کی۔۔۔وہ جس کی سفاکیت سے فلک بوس پہاڑ، کھایاں جنگل، سفید برف سب واقف تھے وہ کیوں تھا ایسا۔۔؟؟

یہ کہانی ہے ایک راز کی برف کی شہزادی کے راز کی کہانی وہ کہاں گئی تھی۔۔؟؟ وہ جو پہاڑوں میں گھومتی رہتی تھی جسکا سب کچھ وہ پہاڑ تھے جن میں وہ شہزادی کھلکھلایا کرتی تھی جن کو وہ ایک نظم سنایا کرتی تھی۔۔ایک ایسی نظم جو وہی سائیکوپیتھ اپنے شکار کو مارنے کے پہلے سناتا تھا۔۔وہ قاتل نظم۔۔۔تھی یا شہزادی کا گیت۔۔۔رازوں سے بھری ایک داستان ہر موڑ پر ایک نیا راز۔۔ہر بار ایک نیا سچ۔۔ازقلم مریم راجپوت

************

Aey Ishq Mera kamla Jiya by Maryam Rajpoot Complete novel

  • by

یہ تو آغازِ محبت ہے تو میری شدتوں کا یہ حال ہے

تو نے ابھی دیکھا ہی کہاں ہے عروجِ محبت۔۔!!!💗✨

وہ گاڑی کو پارک کر کے تیز تیز قدم اٹھاتے اندر کی جانب بڑھی تھی

لیکن جیسے ہی اسکا پہلا قدم گھر میں پڑا اسکے سر پر آکر کشن لگا تھا۔۔

اسنے جوتے ایک طرف اتارے اور سامنے دیکھا تو اسفی اسکو ہی گھور رہا تھا

وہ معصوم سا چہرا بناتے اسکی جانب بڑھی تھی ۔۔

اسفی۔۔یار وہ ۔۔ابھی اسکی بات مکمل ہوتی وہ دوسرا کشن بھی اسکی جانب پھینک چکا تھا

اس حملے کے لیے وہ تیار نہیں تھی

سو اسک محنت سے سٹریٹ کیے ہویے بالوں کی حالت کچھ عجیب ہو گیی تھی

Hidat e ishq by Maryam Rajpoot Complete novel

  • by

وہ لڑکی دو دن پہلے یہاں آئی تھی۔۔!!! گورکن کی بات پر وہ جھٹکے سے مڑا تھا

کون؟

یہی جس کا جنازہ ابھی لایا گیا ہے

آپکو کیسے پتا یہی تھی؟ صالح کو یقین نہیں آرہا تھا

کیونکہ وہ کہ گئی تھی اسکی قبر تیار کر دوں وہ ٹھیک دو دن بعد یہاں دفنائی جائے گی میں نے وجہ پوچھی تو بولی سردار کا حکم ہے اور یہ حکم میری جان لے لے گا اور بس پھر وہ روتی ہوئی چلی گئی تھی جبکہ گورکن کی بات سنتے صالح جبریل جیسے مر گیا تھا ۔۔

آہہہ اسمارہ حمید تم سے کیا کہوں؟ کیا گلا کروں؟ اتنا یقین تھا تمھیں کہ تم میرے علاوہ کسی کو قبول نہیں کر پاؤ گی ۔۔دیوانی لڑکی خدا گواہ ہے صالح جبریل کو تم سے عشق ہو گیا ہے اور یہ کہتے کہتے وہ رو دیا تھا اتنا اونچا لمبا مرد کسی لڑکی کی قبر پر بھیٹا رو رہا تھا عشق تھا اور اس حدتِ عشق میں وہ اب ہمیشہ جلنے والا تھا۔