Rah e Alif by Isha Rehman Complete Novel pdf
Rah e Alif by Isha Rehman Complete Novel pdf Discover the Voice of Stories – Likhari YouTube Channel Welcome to Likhari – a soulful space… Read More »Rah e Alif by Isha Rehman Complete Novel pdf
Rah e Alif by Isha Rehman Complete Novel pdf Discover the Voice of Stories – Likhari YouTube Channel Welcome to Likhari – a soulful space… Read More »Rah e Alif by Isha Rehman Complete Novel pdf
Dard e Dil Season 2 by Asra Khan Complete After marriage story Forced Marriage Friends Base Novels Rude Hero Base Novels Rude Heroine Novels Sequel… Read More »Dard e Dil Season 2 by Asra Khan Complete
طواف نہیں تھی وہ۔۔۔۔۔۔ وہ غر ائی
وہ سب سے پاک تھی اس گھٹیا جگہ پر رہتے بھی وہ پاک تھی خدا نے اس کی حفاظت کی تھی اور تو۔۔۔۔ اس نے آنکھیں فرح بائی کی آنکھوں میں ڈالی اس کے منہ پر تھوکا فرح کا منہ نیچے جھک گیا
تجھے لگتا ہے کہ تم ہم سب کو بے بس کرے گی اور ہم سب تیری قید میں رہیں گے تو بھول گئی فرا بائی کے اوپر ایک خدا بھی بیٹھا ہے ہمارا خدا۔۔۔۔ وہ خدا جس کے پاس بے بس کرنے کی اور قید کرنے کی طاقت ہے جس کے پاس آزاد کرنے کی طاقت ہے تو نے وہ خدا بننا چاہا فرابا ئی تھی پر تو بھول گئی وہ خداقہر بھی برساتا ہے تجھ جیسے بندوں پر اور جب اس کا قہر آن پڑتا ہے فرح بائی اور ایک جھٹکے سے اس نے فرح کی گردن چھوڑ دی وہ نیچے جا گری
لیکن زارہ ابھی چپ نہیں ہوئی تھی تو سزا دے رہی تھی سوہا کو عبرت ناک تو میں بتاتی ہوں تجھے عبرتنات کسے کہتے ہیں جب خدا کا قہر آتا ہے نا تو تجھ جیسے بندوں کا حال کیا ہوتا ہے
فرہ بائی ابھی تک زمین پر گری تھی
اٹھ۔ ۔۔۔۔۔۔ وہ جھک کر چیخی
فرا بائی اسی طرح پڑی تھی
اٹھ وہ پھر چیخی اور فرا بائی گڑبڑا کر ایک دم کھڑی ہو گئی اب وہ اس کے بالکل قریب آئ ۔ اب اس کی اواز بھی دھیمی تھی
تجھے بہت شوق تھا نا سب کو بے بس کرنے کا آج تجھے میں بتاتی ہوں وہ اپنے سینے پر انگلی رکھ بولی بے بسی ہوتی کیا ہے
عابد استاد ۔۔۔۔۔ وہ زور سے بولی گن لائیں فرح بائی کی
فرا بائی کی خرا بھائی زور دے کر بولی وہ گن جو تم کبھی نہ چلا سکے کیونکہ اس پہ صرف اسی کا نام نقوش تھا اس سے صرف یہی مرے گی وہ فرح کی آنکھوں میں انکھیں ڈال کر بول رہی تھی
عابد استاد سر ہلا کر فورا گیا اور دو منٹ بعد واپس ایا تو اس کے ہاتھ میں گن تھی بالکل پیک اس کا کور بھی نہیں اترا ہوا تھا گن کو دیکھ کر فرح کی ہوائیاں اڑی وہ ایک دم زہرا کے قدموں میں گر گئی
مجھے معاف کر دو زارا دیکھو جیسا تم کہو کہ میں ویسا کروں گی تم مجھے اپنا غلام بنا لو میں تمہارے غلامی کر لوں گی لیکن مجھے مت مارو وہ کانپ رہی تھی اسے اپنی موت سامنے دکھائی دے رہی تھی زارا نے پاؤں کی ٹھوکر سے ا سے پیچھے کیا
وہ عابد کے پاؤں میں تھی اور زندگی کی بھیک مانگ رہی تھی عابد میں نے تمہیں کچھ بھی نہیں کیا تم پلیز مجھے بچا لو اس کے پاؤں پکڑ رہی تھی عابد نے بھی بالکل زارہ کی طرف پاؤں کی ٹھوکر سے اسے پرے کیا تھا اب وہ التمش کے قدموں میں آئی تھی دیکھو میں نے تمہارے ساتھ برا کیا لیکن میں تمہیں سب کچھ دوں گی میں سوہا جیسی ہزار لڑکیاں تمہارے قدموں میں رکھ دوں گی میرے پاس بہت پیسہ ہے وہ بالکل اس وقت کوئی پاگل لگ رہی تھی
Description
دولتِ ایمان(جنت کی کنجی)
یہ کہانی ایک ایسی دنیا میں پنہاں ہے جہاں مادی آرزوئیں اور دنیاوی نعمتیں انسان کے دل و دماغ پر اس قدر غالب آ چکی ہیں کہ ایمان کی روشنی دھندلا جاتی ہے۔ اس دنیا کی چکاچوند میں روحانی قدریں ماند پڑتی جاتی ہیں اور دل ایک بے سمت سفر پر رواں دواں ہوتا ہے۔
ایمان نامی ایک نوجوان لڑکی، جو دولت اور آسائشوں کے سائے تلے پروان چڑھی ہے،
روحانی طور پر بے سمت اور دین سے نابلد ہے۔ اُس کے لیے مذہب محض رسوم و روایات کا نام ہے، جس کا زندگی سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔ مگر اُس کی زندگی ایک عجیب رخ اختیار کرتی ہے جب اُس کا سامنا ایک پراسرار وجود سے ہوتا ہے، جو گویا فرشتہ صفت ہے۔ یہ فرشتہ، جو اُس کے دل کے اندر سوئی ہوئی روحانی شمع کو دوبارہ جلانے آیا ہے، اُس کی زندگی میں نئے معنویت اور روحانیت کا بیج بوتا ہے۔
یہ پراسرار وجود ایمان کو دینِ اسلام کی تعلیمات اور روحانی حقائق کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ وہ اُس کو ایک سفر پر لے جاتا ہے، جہاں ہر قدم اُس کے دل کو اللہ کی محبت اور ایمان کی روشنی سے منور کرتا جاتا ہے۔ لیکن یہ سفر نہایت ہی پر خار ہے، جہاں ایمان کو شدید آزمائشوں اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دنیا کی فریب نظریوں، نفسانی خواہشات اور شیطانی وسوسوں کا ہر لمحہ اُس کے ایمان کو آزمانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن وہ اپنے عقیدے کی مضبوطی سے ان چٹانوں کو پار کرتی ہے۔ یہ داستان اُس کی روحانی جستجو، قربانی اور صبر کا عکاس ہے، جس میں اُس کا دل تدریجاً اسلام کی نورانی روشنی سے منور ہوتا ہے۔
دوسری طرف، کہانی گونار نامی ایک نوجوان کی ہے، جس کی زندگی تاریکی کے غاروں میں گم ہے۔ وہ دنیا کے پوشیدہ سازشوں کے جال میں پھنس جاتا ہے اور فری میسنز و ایلومیناتی کے تاریک نیٹ ورک میں جا گرتا ہے، جہاں شیطانی رسوم اور خونریز سازشیں اُس کے قلب و ذہن کو آلودہ کرتی ہیں۔ اُس کی زندگی گناہ، پشیمانی اور گمراہی کے اندھیروں میں گھر جاتی ہے۔ لیکن ایک دن تقدیر ایک نیا موڑ لیتی ہے، جب وہ ایک ہستی سے ملتا ہے جو اُسے نورِ ایمان کی طرف بلاتی ہے۔ وہ ہستی گونار کے اندر چھپی روشنی کو اُجاگر کرتی ہے، اور اُس کے دل میں توبہ اور ندامت کے جذبات کو جنم دیتی ہے۔ گونار اپنی گمراہی پر پشیمان ہو کر اللہ کی رحمت کی طرف پلٹتا ہے، اور اُس کی روح گناہوں کے بوجھ سے آزاد ہو جاتی ہے۔
یہ کہانی دو کرداروں کی روحانی بیداری اور ان کی تلاشِ حق کی دلگداز داستان ہے، جہاں ایمان اور گونار اپنے اپنے سفر میں اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہوئے اُس کی رحمت و مغفرت کے طلبگار بنتے ہیں۔ ان کی زندگیوں میں آنے والے یہ لمحے نہ صرف ان کے دلوں کے زخموں کو مندمل کرتے ہیں بلکہ انہیں جنت کی کنجی یعنی ایمان کی دولت سے مالا مال کر دیتے ہیں۔
لالا۔۔ کیا تم اس ۔شادی سے مطمئن ہے ۔۔ہمممم چھوٹے وہ لڑکی میرا پہلا عشق ہے لیکن مجھے اس سے نفرت اور عشق دونوں ہے ۔۔۔ جب جیمین نے گوک خانزادہ کا ہاتھ تھاما لالا بھابھی معصوم ہے آپ انھیں سزا مت دینا ۔۔۔ہمممم تمہیں کیا لگتا ہے اسے تکلیف دے کر مجھے سکون ملے گا تو تم غلط ہو میں اس کو تکلیف دوں گا تو اس سے بڑھ کر تکلیف مجھے ہوگی بس میں زاویار شاہ کو واپس یہاں لانا چاہتا ہوں اور میں جانتا ہوں اس کے لئے مجھے حانیہ شاہ کو تکلیف دینی ہوگی اور اس کے ساتھ ساتھ خود کو بھی ۔۔۔۔ہمممم لالا بس خیال کرنا انھیں تکلیف دیتے دیتے کہی ان کے دل میں اپنی محبت بھی نا ختم کر دینا یہ نا ہو بھابھی نفرت کرنے لگے اتنی تکلیف نے دیجئے گا انھیں ۔۔۔۔
Dil youn mily hamry by Zeenia Sharjeel Complete Novel Dil youn mily hamry by Zeenia Sharjeel Complete Novel . This is a social romantic novel… Read More »Dil youn mily hamry by Zeenia Sharjeel Complete Novel
آئزہ کیا ہوا ہے؟
کچھ نہیں بس اندر گھٹن سی محسوس ہو رہی تھی اس لیے باہر آگئی
وفا کا سوال سنتے آئزہ مسکراتے بولی تو وفا بھی اس کے پاس آتی جھولے
پر بیٹھی تبھی باقی بچے(برزم،الیحا،برہان،ارمغان،روحیل،زوبیا،عارب،
حوریہ) بھی باہر آتے ان دونوں کے پاس اردگرد کے صوفوں پر بیٹھے
اسے کیا ہوا ہے؟
روحیل بھائی بابا کے ایک دوست نے آئزہ کا رشتہ بھیجا ہے اور بابا نے
انہیں ہاں بھی کر دی ہے اگلے ہفتے اس کی منگنی کی رسم رکھی ہے بابا
آج یہ بات سب کو بتانے والے ہیں بس اسی لیے اس کا منہ بنا ہوا ہے
روحیل کے سوال پر برہان فوراً بولا تو سب نے آئزہ کو مبارکباد دی جسے
آئزہ نے بجھے دل سے وصول کیا
کیا بات ہے پرنسیس کیا تم اس شادی سے خوش نہیں ہو؟
آئزہ کی خاموشی دیکھتے برزم فوراً اس کے پاس بیٹھتا اس کے گرد اپنا بازو
پھیلاتا بولا تو آئزہ نے سے جھکاتے نفی میں سر ہلایا
اور کیا میں وجہ جان سکتا ہوں؟
برزم بھائی مجھے یہ شادی نہیں کرنی
کیوں تم کیا کسی کو پسند کرتی ہو بتاؤ بتاؤ
آئزہ کے ہلتے سر کو دیکھ کر برزم نے سوال کیا تو آئزہ فوراً بولی جس پر حوریہ
ایکسائٹڈ سی ہوتی بولی
ہممم اگر ایسی کوئی بات ہے تو بتا دو میں بڑے بابا سے بات کر لونگا
نہیں بھائی ایسی کوئی بھی بات نہیں ہے بس مجھے ابھی شادی نہیں کرنی
آپ سب کو چھوڑ کر ابھی نہیں جانا
حوریہ کی بات سنتے برزم بھی مسکراتے بولا تو آئزہ نے فوراً جواب دیا جس
پر سب نے مسکراتے اسے دیکھا اس سے پہلے کے کوئی کچھ بولتا آئزہ فوراً
برزم کے سینے سے لگتی رونے لگی اور سب کو پریشان کر گئی
آئزہ یار کچھ نہیں ہوا ابھی تو ویسے بھی انگیجمینٹ ہو رہی ہے تو اس میں
رونے کی ضرورت نہیں ہے شادی ہم تمہاری مرضی سے کر لیں گے
جب تم کہو گی ہم بڑے بابا سے بات کر لیتے ہیں
سچ میں بات کرو گے نا مجھے ابھی شادی نہیں کرنی
یہ بہت مشکل تھا وہاج کے لیے لیکن اپنے عزیزوں کا اخری دیدار بھی بڑا عزیز ہوتا ہے❃
وہ پینک ہو رہا تھا لیکن وہ اپنے عزیز کا اخری دیدار نہیں چھوڑ سکتا تھا اس نے بہت ہمت پیدا کی تھی ان کو اپنے کندھے میں اٹھایا تھا قبرستان جاتے وقت بھی اس کی انکھیں پل پل بہہ رہی تھی بڑی مشکل سے انہیں قبر میں اتارا تھا مٹی ڈالتے وقت تو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ بس ابھی اس کے پاؤں سے جان نکل جائے گی۔ ❃لیکن ایسا نہیں ہوتا محبت میں بھی انسان کے پاؤں سے جان نہیں نکلتی وہ دعویدار ضرور ہوتا ہے کہ اگر اس کا کوئی پیارا زندہ نہ رہا تو وہ بھی مر جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوتا پر ہاں ایسا ضرور ہوتا ہے کہ وہ زندہ ضرور ہے لیکن اس کی خواہشیں مر جاتی ہے❃
محرم کے ہارٹ بیٹ شو ہو رہی ہے جو کہ بہت لو ہیں اور اسکے سگنل کم مل رہے ہیں وہ کہیں بہت زیادہ کم سرویس والی جگہ پر ہے ۔۔۔وہ یلدز کو دیکھتی بولی تھی جبکہ یلدز کے دل کو کچھ ہوا تھا وہ ضبط سے مٹھیاں بھینچ گیا تھڈ صالحہ کچھ کرو پلیز جلدی ۔۔وہ باہر کی جانب بڑھا تھا جب اچانک اسکا فون بجا تھا ۔۔۔گرینی محرم کہاں ہے ؟ وہ انکی کال اٹھاتے بولا تو انکی روتی ہنیی آواز کان سے ٹکرایی تھی ۔۔یلدز ووو۔۔۔وہ۔۔۔سس۔۔سسیی۔۔سییم لے گیا ہے اسے وہ اسے اس جگہ لایے گا جہاں وہ لڑکیوں کو مارتا ہے یہ جگہ کویی بہت زیادہ پانی کے قریب ہے پانی بہنے کی آوازیں ۔۔۔ابھی وہ کچھ اور بولتین کال کٹ گیی تھی شاید سگنل ختم ہویے تھے وہ جلدی سے صالحہ کی جانب بڑھا تھا صالحہ یہ کال ٹریپ کرو ۔۔وہ یہین ہے ۔۔ وہ تڑپتے بولا تو صالحہ نے اسکے ہاتھ سے فون لیا تھا اب وہ یہ سوچ رہا تھا پانی کہاں بہتا ہے بہت زیادہ یقینا یہاں جنگل مین ہو گا کچھ وہ لیپ ٹاپ پکڑتے ویسے تمام جگہیں سرچ سر رہا تھا اسکی زندگی مشکل میں تھی اسکی أنگلیاں کانپ رہین تھیں جب اچانک اسے وہ جگہ مل گیی تھی وہ بہتا ہوا جھرنا تھا جسکے پاس کچھ کوٹیج بنے تھے صالحہ نے بھے وہی جگہ بتاییی تھی وہ سب لوگ گاڑیاں نکالتے نکل گیے تھے وہ جگہ وہاں سے آدھے گھنٹے کے فاصلے پر تھی یلدز نے وہ فاصلہ پندرہ منٹ میں تہ کیا تھا پھر وہ تمام لوگ گاڑیوں سے اترت. تمام کوٹیج میں پھیل گیے تھے یلدز جس میں داحل ہوا تھا وہ کوٹیج بلکل پاس تھا جھرنے کے وہ اندر داحل ہوا تو اسے ایک کمرے سے چیخنے کی آوازین آرہیں تھین وہ چیخیں گرینی کی ہی تھیں وہ اندر گیا تو دروازے پر ہی ساکت رہ گیا تھا گرینی آحری سانسیں لے رہیں تھیں وہ آنکھون سے اوپر کی جانب اشارہ کر گییں تو وہ جلدی سے اوپر بڑھا تھا وہاں بہت سے کمرے تھے مگر ایک کمرے کا لاک کھلا تھا وہ آہستہ سے اندر داحل ہوا تھا مگر پھر یلدز کاظمی پتھر سا ہو گیا تھا ہاں وہاں اندر محرم تھی مگر وہ افف اسکو دیکھتے یلدز کی آنکھوں سے نہ جانے کتنے آنسو گرے تھے وہ بے ہوش تھی اسکا وجود کرسی سے بندھا ہوا تھا سختی سی وہ جلدی سے اسکی جانب بڑھا تھا محرم کے ماتھے سے حون نکل رہا تھا وہ اسکی رسیاں کھول رہا تھا جب اچانک دروازہ کھلا اور کویی اندر داحل ہوا تھا یلدز پیچھے مڑا تو سیمم کھڑا تھا مگر اسکے ساتھ صالحہ بھی تھی اسنے صالحہ کے سر پر پسٹل رکھی ہویی تھی ۔۔۔ہاہاہاہاہاہہاہا ۔۔وہ یلدز کو دیکھتے ہنسا تھا تم میری فیری کو لے جایو گے تو میں اسے مار دوں گا!!! جبکہ صالحہ کے بال اسنے سختی سے پکڑ رکھے تھے ۔۔تم پیچھے ہٹو میری فیری سے ۔۔سییم بولا تو یلدز یک دم کھڑا ہوا تھا پھر وہ محرم کے سامنے آگیا یوں کہ وہ نظر نہ آیے یلدز کی نظریں سیم کے پیچھے تھیں جہاں سارک کھڑا تھا اچانک یلدز مڑتے محرم کو اپنے سینے سے لگا گیا اور صالحہ کو پکڑے سیم کے ہاتھ پر سارک گولی مار گیا تھا
Beast ki beauty by T M Writer YouTube Likhari online magazine brings you likhari channel ( likhari online magazine channel) Beast ki beauty by T… Read More »Beast ki beauty by T M Writer Complete