Kharzaar by Hadia Muskan Complete Novel
Kharzaar by Hadia Muskan Complete Novel Episode 4 Kharzaar by Hadia Muskan Complete Novel This is social romantic Urdu novel based on fiction and… Read More »Kharzaar by Hadia Muskan Complete Novel
Kharzaar by Hadia Muskan Complete Novel Episode 4 Kharzaar by Hadia Muskan Complete Novel This is social romantic Urdu novel based on fiction and… Read More »Kharzaar by Hadia Muskan Complete Novel
Novel Dil ke Makeen by Mehtab Zahoor Dil ke Makeen by Mehtab Zahoor: A Heartfelt Review Dil ke Makeen novel by… Read More »Dil ke Makeen by Mehtab Zahoor Complete Novel
Adhuri rahon ke musafar by Warda Javed Complete Novel Adhuri rahon ke musafar by Warda Javed Complete Novel This is social romantic Urdu novel based on… Read More »Adhuri rahon ke musafar by Warda Javed Complete Novel
“آرام سے کیوں طوفان مچایا ہوا ہیں۔۔” ڈاکٹر احمد نے ناک چڑھا کر کہا۔جبکہ ڈاکٹر لائبہ نے ہنسی ضبط کی۔۔
” مطلب میں طوفان ہوں۔۔” وہ حیرت سے بولی۔۔
“جی ڈاکٹر سجل مجھے آپ اس وقت طوفان سے کم نہیں لگ رہی۔۔” اسکی بات پر اس نے اپنی ڈارک براؤن آنکھوں کو چھوٹا کر کے گھورا۔۔
“پتا ڈاکٹر احمد مجھے نہ کھبی کھبی ایسا فیل ہوتا ہے۔۔” اس کے ہاتھ سے چائے کا کپ لے کر سپ لیا۔۔
“کیسا۔؟” چائے کا کپ اس سے واپس لیا۔۔جبکہ لائبہ اب ان کی طرف متوجہ ہوئی۔۔
“یہی کہ مجھے کون سے کیڑے نے کاٹا تھا جو آپ سے نکاح کیا۔۔” وہ گھور کر بولی۔۔لائبہ جانتی تھی کہ یہی کہے گی۔۔
” مجھے بھی آخر میں نے کیوں قبول ہے کہا۔۔” وہ افسوس سے بولا۔۔
“تو قبول نہیں قبول نہیں کہہ دیتے۔۔” لائبہ نے اپنا حصہ ڈالا۔۔
“بس کیا کرو دل آیا گدھی پر تو حوریں کیا چیز ہے۔۔” ماتھے پر ہاتھ رکھا جیسے بہت افسوس ہو جبکہ وہ منہ کھولے حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“گائیز میں جارہی تم لوگ لڑو۔۔” اپنا سامان اٹھاتے لائبہ مسکرا کر کہتی وہاں سے چلی گئی۔۔
“میں بھی جارہی جا کر اپنی حوروں سے رابطہ کرو۔۔” غصے سے بولتی وہ کھڑی ہوئی اور اسکا چائے کا کپ اٹھا کر یہ جا وہ جا۔۔
“ہائےےےےے میری گدھی روکو تو ۔” اس کو آواز دیتا وہ بھی اس کے پیچھے گیا۔۔
سٹوری آرزو اور خواہش پہ انحصار کرتی ہے
خواہش کرنا کبھی بھی غلط نہیں ہوتا ، دل خواہش کے لیے ہی بنایا ہے اللہ نے لیکن آپ خواہش کو کس انداز سے تکمیل تک پہنچاتے ہے یہ اہمیت رکھتا ہے۔۔۔ کیا اس کو حلال طریقے سے پورا کرتے ہیں یا پھر اس کو ناجائز طریقے سے پورا کرتے ہیں ۔۔۔۔
زرہ سوچیں! یوسف نبی کے بھائی چاہتے تھے کہ ان کے والد ان سے بھی یوسف نبی کی ہی مانند محبت کریں ، تو کیا یہ غلط خواہش تھی ۔۔۔ ہرگز بھی نہیں ان کا خواہش کو پورا کرنے کا انداز حرام تھا اس لیے قرآن میں ذلیل ٹھہرے ۔۔۔ کہیں ہمارے خواہش کی تکمیل کرنے کے طریقے ہمیں ذلیل تو نہیں بنا رہے ۔۔۔؟
دل تو پہلے ہی خالی تھا اب تو آنکھوں میں بھی کچھ نہ رہا کچھ خواب تھے میری زندگی کا سرمایہ میرے اپنوں،،نے مجھ سے وہ بھی چھین لیا،،
کوٹ سے نکلتے وقت اس کے چہرے پہ ایک فاتحانہ مسکراہٹ تھی ،(لیکن کچھ مسکراہٹیں عارضی ہوتی ہیں)
سامنے نظر دڑاؤ تو ان خستہ حال انسانوں کا ایک بہت بڑا ہجوم اور کچھ میڈیا والے جو اس کیس کے متعلق مختلف سوالات اس سے پوچھ رہے تھے اور پھر چند منٹ میڈیا والوں کے جوابات دیتے ہوئے وہ تیزی سے اس ہجوم سے نکلتے ہوئے اپنی گاڑی میں ا کر بیٹھی اور پھر زن سے گاڑی اڑا لے گئی اپنی اگلی اور شاید آ خری منزل کی جانب۔
Hijjar wajib nahin by Kanzul Hayya Complete Novel “Is love truly necessary? ‘Hijjar Wajib Nahin’ by Kanzul Hayya is a thought-provoking novel that delves… Read More »Hijjar wajib nahin by Kanzul Hayya Complete Novel
“معافی ایسے نہیں ہوتی مہران صاحب میں جن تمام لوگوں کے سامنے آپ کی وجہ سے رسوا ہوئی تھی اگر ہمت ہو تو ان تمام لوگوں کو جمع کر کے مجھ سے معافی مانگئے گا۔ مگر نہیں اب اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں امی ابا اس دنیا میں نہیں اور میں اولاد والی ہو کربے اولاد ہوں ۔کیونکہ ہمارے گناہ کو بھابھی نے اپنے ظرف کو بڑا کر کے اپنے ماموں کے نام سے متعارف کروا دیا اور اسے اپنے بڑے بیٹے کی بیوی بنانے کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس لیے اب یوم حساب کا انتظار کیجئے۔ میں تو اپنے گناہ کا ثبوت رکھتی تھی گنہگار ٹھہرائی گئی۔ پھر رب کے حضور کئی سالوں سے گڑگڑا کر معافی کی طلبگار ہوں۔ زندگی کا مقصد اس ایک واقعے نے بدل دیا مگر اس ایک واقعے کے بعد جو زلت مجھے نصیب ہوئی وہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے مگر شاید رب نے مجھےمعاف کر دیا تبھی مجھے سیدھا راستہ دکھا دیا ہدایت دی اور دین کا فہم ملا اس کا قرب ملا ۔ اوریہ ہرکسی کو نصیب نہیں ہوتا۔ آج دل سے وہ پھانس بھی نکل گئی کہ گناہ آدم و حوا دو نوں کرتے ہیں تو صرف سزا صرف حوا کا مقدر کیوں ۔ کیا ہوابے شک میری زندگی بہت تلخ ہے مگر میرا گناہ اتنا بڑا ہے کہ ساری عمر معافی کے لئے اس کی در پر پڑئ رہوں تب بھی کفارے کے لیے کم ہے ۔ آپکی رسی دراز رہی اور آپ اس پر اتراتے رہے۔ اب جب پکڑ آئی ہے تو بلبلا اٹھے۔ آپ کو آپکی زندگی مبارک”۔
تم خوش ہو . . . .
آپ خوش ہیں اس نے الٹا اس سے سوال کیا
خوشیاں کبھی مکمل نہیں ملتیں غم ہمیشہ آس پاس منڈ لاتے رہتے ہیں اس لیے میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں خوش ہوں کیونکہ خوش ہوناضروری نہیں ہے لیکن ہاں کہیں نہ کہیں اب زندگی میں ٹھہراؤ آگیا ہے اور میں اس ٹھہراؤ پر پرسکون ہوں ماریہ مجھےآج بھی یاد آتی ہے پہلے دن کی طرح لیکن اب میں اسے سوچ کر غمگین نہیں ہوتا میں نے زندگی کے ساتھ سمجھوتہ کر لیاہے کیونکہ ضروری نہیں جس شخص سے آپ کو محبت ہو وه آپ کو ملے بھی بعض اوقات ان کو محسوس کرنا بھی کافی ہوتا ہے مصطفی نے کہہ کر گہری سانس لی اور سن بیٹھی رمشاہ کو دیکھا
اب تم مجھے بتاؤ تم خوش ہو اس نے ایک بار پھر اپنا سوال دہرایا
آپ کو اپنی محبت سے جدائی ملی تو وہ قدرتی تھی لیکن میری محبت سے جدائی میں بے وفائی تھی نارسائی کا دکھ تھا لیکن ہم دونوں میں ایک چیز جو مشترکہ تھی وہ ہے اپنے پیاروں سے جدائی آپ نے صحیح کہا کہ خوش ہونا ضروری نہیں ہے دل کا پرسکون ہونا ضروری ہے اور میں پرسکون ہوں رمشا نے بہتی آنکھوں سے مسکراتےہوۓ مصطفی دیکھاوه اسے ہی دیکھ رہا تھاپوری توجہ سے اس کے دیکھنےپر ہلکے مسکرایا اور اس کے ہاتھ تھامےاس ہاتھ تھامنے میں ایک احساس تھا ہمیشہ ساتھ رہنے کا ساتھ نبهانے کا کبھی نہ چھوڑنے کا . . . . . . .
Vasal e yaar by Kashaf Qaisar Complete novel Vasal e yaar by Kashaf Qaisar Complete novel This is social romantic Urdu novel based on fiction… Read More »Vasal e yaar by Kashaf Qaisar Complete novel