Skip to content
Home » Social media writers » Page 112

Social media writers

Safar e haqeeqat (apni Main ki talash mein) by Meera Binte Ayesha

  • by

“سفرِ حقیقت” – ایک منفرد روحانی داستان

میرا بنت عائشہ کے ناول “سفرِ حقیقت” میں محبت، ایمان اور خودشناسی کے خوبصورت جذبات کو منفرد انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ کہانی خاص طور پر ان افراد کے لیے ایک پیغام ہے جو دنیاوی تعلقات میں الجھ کر اپنے حقیقی مقصد کو بھول جاتے ہیں۔

کہانی کی مرکزی کردار، امیرہ، جانتی ہے کہ اللہ ہمیشہ سنتا ہے، مگر اس کا دل حقیقی اطاعت کی جانب مائل نہیں ہوتا۔ اس کی زندگی میں کئی چیلنجز آتے ہیں، اور سب سے بڑی آزمائش ایک نامحرم سے اس کا تعلق ہے۔ یہ کہانی ان تمام افراد کی عکاسی کرتی ہے جو وقتی جذبات میں بہک کر اپنی اصل پہچان کھو بیٹھتے ہیں۔

امیرہ کو جس شخص سے محبت ہوتی ہے، وہ اس کی قسمت میں نہیں ہوتا، اور جسے وہ پسند کرتی ہے، وہ اس کے لیے موزوں نہیں ہوتا۔ لیکن آخر میں، وہ اس شخص کے ساتھ اپنی زندگی کا سفر شروع کرتی ہے جو اللہ کے فیصلے پر یقین رکھتا ہے، اور جس کے لیے ظاہری خوبصورتی سے زیادہ دل کی پاکیزگی اہمیت رکھتی ہے۔

“سفرِ حقیقت” ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دعائیں، تعویذ یا خواہشات ہمیشہ ہماری تقدیر کو نہیں بدل سکتے، کیونکہ جو کچھ بھی ہوتا ہے، وہ اللہ کی حکمت کا حصہ ہوتا ہے۔ امیرہ کے سفر کے ذریعے ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ حقیقی خوشی صرف دنیاوی رشتوں میں نہیں، بلکہ اللہ پر مکمل بھروسہ رکھنے میں ہے۔

یہ ناول محض ایک کہانی نہیں بلکہ ایک ایسا سبق ہے جو ہر شخص کو یہ سمجھاتا ہے کہ کسی کے پیچھے بھاگنے کے بجائے، اللہ کی محبت کو اپنی زندگی کا محور بنانا چاہیے۔ اگر آپ روحانی اور جذباتی کہانیوں کے شوقین ہیں، تو “سفرِ حقیقت” ضرور آپ کے دل کو چھو لے گا۔

Ek cup chai by afsana Mehtab Zahoor

  • by

” تم میں کوئی تمیز ہے کہ نہیں۔ اندھی ہو جو اس طرح ٹکراتی پھرتی ہو؟” وہ تقریباً چیختے ہوئے بولی تھیں۔ ان کی آواز سن کر سبھی لوگ آ گئے تھے۔ جب کہ صبیحہ ابھی تک بے یقینی سے گال پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی۔ آج تک کسی نے اس پر ہاتھ نہیں اُٹھایا تھا۔ زندگی میں پہلی بار اس نے تھپڑ کا درد محسوس کیا تھا۔

” یہ کیا حرکت ہے تابندہ؟ تم آج تک جیسا بھی رویہ رکھو میں نے تمہیں کبھی کچھ نہیں کہا۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم بچوں پر ہاتھ اٹھانا ہی شروع کر دو۔ “

دادی گرجتی آواز میں بولی تھی۔ سبھی کو تابندہ چچی کا تھپڑ مارنا بہت برا لگا تھا۔ صبیحہ کی والدہ اپنے اندر ابھرتے غصے کے باعث بہت کچھ بولنا چاہتی تھیں مگر یہ اس گھر کا اصول تھا کہ جب رحمت عزیز بولتی تھیں تو پھر کسی کے بولنے کی گنجائش نہیں بچتی تھی۔

تابندہ چپ چاپ کھڑی ان کی ڈانٹ سن رہی تھیں۔ تھپڑ مار کر شرمندہ وہ خود بھی ہو رہی تھیں۔ مگر اب ان کی شرمندگی کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔

Black Rose by Afifa Fatima Complete novel

  • by

یہ کہانی ہے

رازوں کی دھند میں لپٹی،خزاں کے پتوں جیسی ٹوٹی بکھری سی۔

سمندر سے محبت کرنے والے سمریز بخاری کی زندگی کی۔

یہ کہانی ہے

صلہ شاہد کے گمراہ دل کے ٹوٹنے کی ۔

یہ کہانی ہے انتقام ، حسد اور محبت جیسے جزبوں کی۔

کیونکہ وقت بدلتا ضرور ہے ۔

زندگی میں پھول کِھلتے ضرور ہیں ۔

امید کے دیے جلتے ضرور ہیں ۔

زندگی کے بھید کھلتے ضرور ہیں ۔

گمراہی کے سورج ڈوبتے ضرور ہیں ۔

کیا سمریز بخاری کی زندگی میں پھول کھل سکیں گے ۔

کیا صلہ شاہد کی زندگی میں ہدایت کا سورج طلوع ہوسکے گا ۔

کیا اُمید کے دیے روشن ہوسکیں گے ۔

کیا زندگی کے بھید کھل سکیں گے ۔

Jung e junoon by Mubeen Rasheed Complete novel

  • by

یہ لو ہاتھ آگے کرو

یہ لو تم بھی لو

ہاتھ آگے کرو!میں نے بولاہاتھ آگے کرو۔تمہیں میری سمجھ نہیں آرہی ہاتھ آگے کرو۔۔

ہ۔۔۔۔ا۔۔۔تھ آ۔۔۔گے۔ کرو

(ایک ڈراؤنی خوف زدہ آواز)

میں نے کہا نی نہیں کروں گی ہاتھ آگے تمہیں سمجھ نہیں آتی۔

زور سے دکھا دیتے ہو ۓ۔۔۔رحمٰن ہوا میں ہوتے ہوۓ سامنے دیوار سے ٹکڑا کہ گر تے ہوۓ۔۔

سب کے سب لزرتے ہوۓ سب کی ہوای اُڑگی

حمانہ یہ کیا کیا تم نے۔۔۔

خاموشی۔۔۔۔۔۔۔

ڈراؤنی صورت۔۔۔۔۔۔

میں حمانہ نہیں نہیں ہوں ہاہا۔۔۔

میں تم سب کو چھوڑی گی نہیں میں مار دوں گی تمہیں رحمٰن۔۔۔۔ہاہاہا۔۔۔

حمانہ کیا ہو گیا ہے یار بابا۔۔۔

نہیں ہے تمہارے یہ بابا۔۔۔۔۔۔ نور۔۔ہا۔۔۔۔۔ااا

آپ سب پیچھے ہٹ جاۓ

لیکن مولوی صاحب۔۔۔

میں کہا نہ پیچھے ہٹ جاؤ۔۔۔۔

تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔۔۔۔نہیں چھوڑی گی میں اِسے۔۔۔

کیا بگاڑا ہے اِس نے تیرا جو تو اِس کے پیچھے پڑی ہے

Yaqeen ka safar by Gul Sania Complete novel

  • by

باجی آپ کی شادی ہوگئی یا رشتہ وغیرہ، وہ ناں دراصل میرا بھائی ہے، اس کے لیے ہم رشتہ دیکھ رہے ہیں تو ناں مجھے آپ میرے بھائی کے لیے بہت بہت پسند آئی ہیں۔ ( عالیہ نے اک سانس میں سب بول دیا جیسے کہ نور اس کے سامنے سے غائب ہی نہ ہوجائے )

نور :” نور حیرت کے مارے عالیہ کو اور اس کی بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی ( اللہ جی یہ کیا آفت آئی ہے تھوڑی سی ہائے ہیلو کیا کر لی یہ تو گلے پڑ گئی اب میں کیا کروں؟ ) نور دل ہی دل میں بڑبڑائی ۔”

عالیہ: باجی کیا ہوا کہاں کھو گئیں آپ؟

نور: “ہاں، ہاں، نہیں، نہیں، میرا مطلب ہے کچھ بھی تو نہیں ہوا “

عالیہ: “باجی آپ نے بتایا نہیں “؟

نور : وہ نہ اصل میں میری شادی ہوگئی ہے ( نور کو کچھ سمجھ نہیں آیا کیا بولے جو زبان پر آیا بنا سوچے سمجھے بس بولتی گئی) ، ہاں ہوگئی ہے نور نے روتا ہوا منہ بنا کر بتایا ” میرا اک بچہ بھی ہے ۔ ( اللہ جی سوری آئی نو میں نے بہت بڑا جھوٹ بولا ہے ) نور دل ہی دل میں بولی۔

عالیہ:” ٹیڑھا منہ بنا کر نور کو گھورے جا رہی تھی ،نور جو ویلوٹ کے بلیک فراک اور ساتھ ہی میچنگ پاجامہ اور ساتھ سکن حجاب اور بڑی بلیک شال میں نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی بے داغ چہرہ، لمبی گھنی پلکیں نیچرل گلابی ہونٹ۔ اسے دیکھنے میں ہی کہیں سے لگ ہی نہیں رہا کہ یہ خوبصورت لڑکی شادی شدہ اور اک بچے کی ماں ہے “

لیکن باجی آپ کو دیکھ کر لگتا تو نہیں ہے؟

نور : بس میں نے اپنا خیال بہت رکھتی ہوں اس لیے نہیں لگتا سب ہی ایسے بولتے ہیں ہاہاہا ، ( اللہ جی پھر سے سوری لیکن میں کیا کروں؟ )

اچھا عالیہ آپ بیٹھیں میں واش روم سے ہو کر آئی( نور کو یہی بہانا ملا ادھر سے بھاگنے کا )

Aey Ishq Mera kamla Jiya by Maryam Rajpoot Complete novel

  • by

یہ تو آغازِ محبت ہے تو میری شدتوں کا یہ حال ہے

تو نے ابھی دیکھا ہی کہاں ہے عروجِ محبت۔۔!!!💗✨

وہ گاڑی کو پارک کر کے تیز تیز قدم اٹھاتے اندر کی جانب بڑھی تھی

لیکن جیسے ہی اسکا پہلا قدم گھر میں پڑا اسکے سر پر آکر کشن لگا تھا۔۔

اسنے جوتے ایک طرف اتارے اور سامنے دیکھا تو اسفی اسکو ہی گھور رہا تھا

وہ معصوم سا چہرا بناتے اسکی جانب بڑھی تھی ۔۔

اسفی۔۔یار وہ ۔۔ابھی اسکی بات مکمل ہوتی وہ دوسرا کشن بھی اسکی جانب پھینک چکا تھا

اس حملے کے لیے وہ تیار نہیں تھی

سو اسک محنت سے سٹریٹ کیے ہویے بالوں کی حالت کچھ عجیب ہو گیی تھی