Skip to content
Home » Social media writers » Page 129

Social media writers

Dastan-e-qalb by Maleeha Shah Complete novel

  • by

شادی کیسے کر سکتا ہے وہ؟؟ زرنش غصے سے پاگل ہورہی تھی۔

زینب تم نے روکا کیوں نہیں اسے؟ خدیجہ نے پوچھا۔

وہ زرنش کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے؟؟

دیکھو خدیجہ وہ اس لڑکی سے محبت کرتا ہے۔تو وہ اپنی خوشی سے جس کے ساتھ بھی رہنا چاہے رہ سکتا ہے۔زینب نے تحمل مزاجی سے سمجھایا۔

محبت۔۔؟مائ فٹ۔میری جگہ کوئ نہیں لے سکتا۔زرنش چلائ۔

تمہاری جگہ۔۔؟ایرک نے آیت کا ہاتھ ابھی تک نہیں چھوڑا تھا۔

تو یہ ہے وہ دو ٹکے کی لڑکی جس کے لیے تم نے مجھے ریجکٹ کیا۔زرنش ایرک کے قریب آئ۔

زبان کو لغام دو زرنش ورنہ میں بھول جاؤں گا کہ تم ایک لڑکی ہو۔

آیت خاموشی سے بس تماشا دیکھتی رہی۔

اس نے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی لیکن ایرک نے اس کے ہاتھ پہ مزید دباؤ ڈالا۔

یہ کوئ دو ٹکے کی لڑکی نہیں ہے۔۔ایرک ملک کی محبت ہےاور ایرک ملک جس سے محبت کرے وہ عام نہیں ہو سکتی۔

آیت کو تو گویا سانپ ہی سونگ گیا تھا،،محبت؟ یہ شخص مجھ سے محبت کرتا ہے سب جاننے کے باوجود بھی۔آیت خیران ہوئ۔

اس نے زندگی میں صرف ایک شخص کو چاہا اور وہ بھی نہیں ملا اس کو اور ایرک نے جس سے محبت کی وہ اسے مل گیا۔

یہ کیسا انصاف ہے اللہ؟؟

اب آپ دونوں یہاں سے جاسکتیں ہیں۔اور اس گھر میں تب آنا جب آیت کو دل سےقبول کر سکو۔

زرنش غصے سے اگ بگولہ ہو رہی تھی۔تمہیں میں کبھی معاف نہیں کروں گی۔وہ آیت کو دیکھتی بولی اور چلی گئ۔

*******

آیت تم۔۔؟براک اسے ایسے دیکھ کے بہت خوش ہوا۔

آیت۔۔تمہیں پتا ہے میں نے تمہیں کتنا مس کیا ہے؟براک فوراً سے بولا۔

جبکہ آیت کی نظر براک کے ساتھ کھڑے کاشان پر پڑی۔

جو سچ سامنے آنے والا تھا وہ بہت بھیانک تھا لیکن آج آیت کو سچ جاننا ہی تھا چاہے اس کے بعد اس کا دل کبھی نہ جڑنے کے لیے ٹوٹ جاتا۔

یہ تو۔۔وہی لڑکا ہے نا۔؟آیت نے بولنا شروع کیا۔

تم وہی ہو نا جو اس دن ہوٹل میں مجھ پہ جھوٹے الزام لگا کر گئے۔

آیت میں تمہیں بتاتا ہوں۔آو میرے ساتھ۔براک نے آیت کا ہاتھ پکڑنے کے لیے ہاتھ اگے بڑھایا ہی تھا کہ آیت نے ایک زور دار تھپڑ براک کے منہ پہ مارا۔

خبردار! جو اب مجھے ہاتھ لگانے کی کوشش کی تو۔آیت نہیں جانتی تھی اتنی ہمت اس میں کیسے آگئ۔

یہ تمہارا دوست ہے؟؟آیت نے پوچھا۔

آیت میں تمہارے ہزار تھپڑ کھانے کو تیار ہوں پلیز پہلے میری بات تو سنو۔

جی میں براک کا دوست ہوں کاشان۔

آیت کو لگا جیسے اس کے سر پہ کسی نے آسمان گرا دیا ہو۔

اور تم سے۔۔تم سے کس نے کہا تھا سب کرنے کے لیے؟؟

کاشان خاموش رہا۔

بتاؤ۔آیت چیخی۔

میں بتاتا ہوں آیت تمہیں۔پہلے غصہ تو ٹھنڈا کرو۔

کاشان میں نے کہا ہے بتاؤ تمہیں کس نے کہا میرے ساتھ یہ سب کرنے کو؟

براک نے۔۔آیت کو اپنے کانوں پہ یقین نہیں آیا۔

براک نے۔۔؟آیت نے دوبارہ پوچھا

جی ۔۔!کاشان نے بتایا اور ادھر سے چلا گیا۔

گرم گرم سیال اب اس کا چہرہ،گردن بھگونے لگا۔

آیت میں اب سچ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔میرا یقین کرو۔

براک نے التجائیہ لہجے میں کہا۔

محبت کی بات تمہارے منہ سے اچھی نہیں لگتی براک۔

Dolat-e-eman (jannat ki kunji) updated version by Mustafa Ahmed Complete PDF

  • by

Description

دولتِ ایمان(جنت کی کنجی)

یہ کہانی ایک ایسی دنیا میں پنہاں ہے جہاں مادی آرزوئیں اور دنیاوی نعمتیں انسان کے دل و دماغ پر اس قدر غالب آ چکی ہیں کہ ایمان کی روشنی دھندلا جاتی ہے۔ اس دنیا کی چکاچوند میں روحانی قدریں ماند پڑتی جاتی ہیں اور دل ایک بے سمت سفر پر رواں دواں ہوتا ہے۔

ایمان نامی ایک نوجوان لڑکی، جو دولت اور آسائشوں کے سائے تلے پروان چڑھی ہے،

روحانی طور پر بے سمت اور دین سے نابلد ہے۔ اُس کے لیے مذہب محض رسوم و روایات کا نام ہے، جس کا زندگی سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔ مگر اُس کی زندگی ایک عجیب رخ اختیار کرتی ہے جب اُس کا سامنا ایک پراسرار وجود سے ہوتا ہے، جو گویا فرشتہ صفت ہے۔ یہ فرشتہ، جو اُس کے دل کے اندر سوئی ہوئی روحانی شمع کو دوبارہ جلانے آیا ہے، اُس کی زندگی میں نئے معنویت اور روحانیت کا بیج بوتا ہے۔

یہ پراسرار وجود ایمان کو دینِ اسلام کی تعلیمات اور روحانی حقائق کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ وہ اُس کو ایک سفر پر لے جاتا ہے، جہاں ہر قدم اُس کے دل کو اللہ کی محبت اور ایمان کی روشنی سے منور کرتا جاتا ہے۔ لیکن یہ سفر نہایت ہی پر خار ہے، جہاں ایمان کو شدید آزمائشوں اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دنیا کی فریب نظریوں، نفسانی خواہشات اور شیطانی وسوسوں کا ہر لمحہ اُس کے ایمان کو آزمانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن وہ اپنے عقیدے کی مضبوطی سے ان چٹانوں کو پار کرتی ہے۔ یہ داستان اُس کی روحانی جستجو، قربانی اور صبر کا عکاس ہے، جس میں اُس کا دل تدریجاً اسلام کی نورانی روشنی سے منور ہوتا ہے۔

دوسری طرف، کہانی گونار نامی ایک نوجوان کی ہے، جس کی زندگی تاریکی کے غاروں میں گم ہے۔ وہ دنیا کے پوشیدہ سازشوں کے جال میں پھنس جاتا ہے اور فری میسنز و ایلومیناتی کے تاریک نیٹ ورک میں جا گرتا ہے، جہاں شیطانی رسوم اور خونریز سازشیں اُس کے قلب و ذہن کو آلودہ کرتی ہیں۔ اُس کی زندگی گناہ، پشیمانی اور گمراہی کے اندھیروں میں گھر جاتی ہے۔ لیکن ایک دن تقدیر ایک نیا موڑ لیتی ہے، جب وہ ایک ہستی سے ملتا ہے جو اُسے نورِ ایمان کی طرف بلاتی ہے۔ وہ ہستی گونار کے اندر چھپی روشنی کو اُجاگر کرتی ہے، اور اُس کے دل میں توبہ اور ندامت کے جذبات کو جنم دیتی ہے۔ گونار اپنی گمراہی پر پشیمان ہو کر اللہ کی رحمت کی طرف پلٹتا ہے، اور اُس کی روح گناہوں کے بوجھ سے آزاد ہو جاتی ہے۔

یہ کہانی دو کرداروں کی روحانی بیداری اور ان کی تلاشِ حق کی دلگداز داستان ہے، جہاں ایمان اور گونار اپنے اپنے سفر میں اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہوئے اُس کی رحمت و مغفرت کے طلبگار بنتے ہیں۔ ان کی زندگیوں میں آنے والے یہ لمحے نہ صرف ان کے دلوں کے زخموں کو مندمل کرتے ہیں بلکہ انہیں جنت کی کنجی یعنی ایمان کی دولت سے مالا مال کر دیتے ہیں۔

Ishq e noor by Rida Fatima Complete novel

  • by

گناہ گاروں سے پوچھا جائے گا کون سی چیز تمہیں دوزخ میں لے گئی اور وہ کہیں گے کہ ہم نماز کے پابند نہیں تھے

زندگی میں کئی بار اللہ ہمیں اپنی طرف راغب کرتا ہے ہمیں ہدایت دینے کی کوشش کرتا ہے لیکن ہم سمجھ نہیں پاتے۔۔۔

کیونکہ ہدایت صرف انہی کو اتی ہے جو ہدایت چاہتے ہیں۔۔۔

عشق نور میں ایک ایسی لڑکی کا عشق لکھا گیا ہے۔۔۔جو اپنے خدا کو بے انتہا چاہتی تھی۔۔۔

اور ایک غیر مسلم سے محبت کر بیٹھی تھی

لیکن وہ یہ بات نہیں جانتی تھی کہ وہ اس لڑکے کے لیے ہدایت تھی کیونکہ وہ لڑکا ہدایت چاہتا تھا

لیکن وہ انجان تھا وہ خدا سے دور تھا

اسی طرح زندگی میں ہم بھی کئی بار اپنے اللہ سے دور ہو جاتے ہیں ہم زندگی کے کاموں میں اتنا گم ہو جاتے ہیں اور

اللہ اپنے نیک بندوں کو بھیجتا ہے ہمیں تاریکی میں سے روشنی میں لانے کے لیے

جیسے کہ اللہ نے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بھیجا۔۔۔

ہماری ہدایت کے لیے۔۔۔

اور میں اپ کو بتا دوں یہ کہا نی صرف اسلام پر نہیں بنی یہ کہانی حجاب پر بنی ہے یہ کہانی سچی دوستی پر بنی ہے یہ کہانی پاک محبت پر بنی ہے

یہ کہانی ہدایت پر بنی ہے۔۔۔

یہ ایک ایسے لڑکے کی کہانی ہے جو ہدایت چاہتا تھا اور اس کو مل گئی ۔۔۔

Tahajjud se nikkah tak ka safar by Muntaha Rajput Complete novel

  • by

دانش اپ جانتے ہیں میں نے اپ کو کیسے حاصل کیا؟

بتائیے کیسے؟

تہجد کی دعاؤں سے۔ پہلے میں نے صرف سنا تھا کہ تہجد تقدیر بدل دیتی ہے لیکن اج میں نے دیکھ بھی لیا دانش میں نے اپ کو اللہ تعالی سے بہت زیادہ رو رو کر مانگا ہے۔ علیزے نے نم انکھوں سے دانش کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

بے شک دعائیں تقدیر بدل دیتی ہیں۔ دانش نے مسکراتے ہوئے علیزے کی بات کا جواب دیا۔

تھوڑی ہی دیر میں دانش کی والدہ صوفیہ بیگم کمرے میں ائی۔

علیزے میرے بیٹے کا بہت زیادہ خیال رکھنا میں نے اللہ تعالی سے بہت رو رو کر مانگا تھا اسے۔ صوفیہ بیگم نے علیزے سے کہا۔

انٹی بے فکر رہیں *میں نے بھی اللہ تعالی سے بہت رو رو کر مانگا ہے انہیں*۔ علیزے نے مسکراتے ہوئے صوفیا بیگم کی بات کا جواب دیا۔

Junooniyat ki inteha by Ayesha Siddiqa Complete novel

  • by

ارے دیکھ نئی چڑیا آئی ہے۔

تمہیں نظر نہیں آرہا یہ چڑیا نہیں مصوم چڑیا ہے دیکھو تو کیسے کانپ رہی ہے

حیا اتنی گھبرائی ہوئی تھی پہلے ہی لڑکوں کی آوازوں سے اُسے لگ رہا تھا جیسے ابھی جان نکل جائے گی نورِ نظر انا بند ہوگئی تھی نوٹس بورڈ کے پاس پہلے حيا کو نورِ نظر آرہی ہوتی جو بار بار ہاتھ ہلا ریہی تھی لیکن جیسے جیسے رش بڑھ رہا تھا حیا کی سانسیں بھی ویسے ویسے ہی بڑھ رہی تھی اور اب نُور نظر انا بند ہوگئی تھی جس سے حیا کو گھبراہٹ ہونے لگتی ہے۔۔

Mohabbat zehr e hayat hai afsana by Aish

  • by

میں تمہیں طلاق دیتا ہوں لفظ لفظ طلاق کے تین لفظ میرے حواسوں پر بجلی گرا گئے بے اختیار میں رو دی تم انم افندی ایک کمزور لڑکی مجھے۔۔۔۔مجھے ہرانے چلی تھی عدن بزداری کو۔جس نے کبھی ہار سیکھی ہی نہیں قصور تمہارا تھا تم نے مجھے نظر انداز کر کے میری انا کو چکنا چور کرنا چاہا مگر تم یہ نہیں جانتی تھی کہ تم لڑکیا تو مردوں کے لیے اس چیونٹی کی مانند ہو جسے ہم جیسے سارے مرد اپنے پیروں تلے کو چل دیتے ہیں ہماری انا گوارا نہیں کرتی کہ کوئی کمزور عورت ہمیں ہارنے کے فرض سے روشناس کرواۓ۔چہ چہ چہ۔محبت کی ماری بیچاری لڑکیاں۔۔۔۔۔۔اب میرا کام تمام ہوا تو ازاد ہو جہاں چاہو جا سکتی ہو

Ankaboot by Bint e Asif Complete Novel PDF

  • by

” ایک بات میری یاد رکھو کان کھول کر! میں اس کی(بہن کی) شادی کسی اچھی جگہ کرنا چاہتا ہوں۔ دوسری بات میرے پاس سب میری محنت سے ہے، کسی کو زبردستی نہیں؛ لیکن میں راتوں کو جاگا اور پڑھا، اس دین کو پھیلا بھی میں رہا ہوں۔ تم ایک جاہل عورت ہو جا کر پہلے اپنا چہرہ دیکھو پھر آنا مجھ سے بحث کرنے؛ بلکہ نہیں!
تم زرا جا کر اپنے گھر آرام کرو! ” پوری سوچ بچار سے بولا۔
” تم۔۔۔تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے،میں تمہاری بیوی ہوں، تین سال ہو گئے ہیں اس شادی کو اور اب۔۔۔۔اب تم مجھے چھوڑنے کی باتیں کرتے ہو۔ میں دکھ میں تمہارا سایہ بنی،تپتی ہوئی گرمی میں چھاؤں بنی، روتے ہوئے چہرے کے لیے کندھا بنی رہی، ہمت ہار جانے پر تمہارے لیے ۔۔۔صرف تمہارے لیے حوصلے کی چٹان بنی رہی اور تم آج مجھے یہ کہہ رہے ہو، تم ایسا کیسے کر سکتے ہو؟ ” آنسوؤں نے ہلک تک بسیرا کیا.
” مجھے کام ہے یہ سوئی چھ تک آۓ” گھڑی اس وقت پانچ کے ہندسے سے سرک رہی تھی ہاتھ سے انگلیاں کھولے پنجہ دیکھایا” تو تم تیار نظر آؤ مجھے! “لہجہ تحکم آمیز تھا۔
“تامل یہ کیا کہہ رہے ہو! میں تم سے محبت کرتی ہوں۔ کیسے تم مجھے بیچ راستے میں تنہا چھوڑ سکتے ہو؟ تم ایسا کیسے کر سکتے ہو۔ میں کیسے رہوں گی تمہارے بناء، مجھے تمہارے بغیر رہنے کی عادت نہیں ہے ایسا مت کرو! ”
“کس نے کہا تھا میرے معاملات میں بولو؟ ایک بار کی بات سمجھ جایا کرو؛ لیکن امی کی طرف ہو آنا اب! “سر پہ دھماکہ کرتا کمرے سے نکل گیا۔
وہ نکل گیا لیکن ایک وجود تھا جو کمرے میں جیسے دھے سا گیا تھا، اب صبح امی کے گھر جانا ہی تھا، پلنگ سے ٹیک لگائے آنسوؤں میں روانی آ چکی تھی اور وہ بس سر جھکائے آنسو بہاتی جا رہی تھی، خاموش آنسو جن کی صدائیں عرش والا سن رہا تھا.

Majal arz e tamana karen kese by Izza Iqbal Complete novel

  • by

“قاسم۔۔۔” انزلہ نے اسے تنبیہ کی تھی۔۔۔”اچھا چلو ایک کام کرتے ہیں۔۔۔چونکہ تمہارے ناولز ضبط کرلئے گئے ہیں۔۔” لاریب نے بڑے غور سے انزلہ کو سنا تھا اور قاسم کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ اسی کے ہی پر کاٹے گی۔۔۔
“تو اب قاسم تمہیں بک شاپ پر لے کر جائے گا اور ناولز دلائے گا۔۔۔”
“انزلہ۔۔۔”قاسم نے بے یقینی سے کہا۔۔۔۔”میں نہیں کھیل رہا تم جانبدار ہو۔۔۔”
“کھیل تو آپ نے کھیل لیا وہ تو اب فیصلہ سنا رہی ہیں۔۔۔” جیسے ہی اس نے کہا تھا قاسم نے اس کے سر پر چپت لگائی تھی۔۔۔
“دیکھ رہی ہیں آپ کے سامنے وائیلنس ہورہا ہے۔۔۔۔”
“اور یہ جو فنانشل۔۔۔ایموشنل۔۔۔وربل وائیلنس ہے اس کا کیا۔۔۔۔؟”
“آپ انزلہ باجی کی بات نہیں مان رہے۔۔۔۔” لاریب نے چوٹ کی تھی۔۔اس نے انزلہ کی جانب دیکھا وہ اسے ہی دیکھتے ہوئے ہنس رہی تھی۔۔۔
“تم میری بہت اچھی بہن ہو۔۔۔تمہاری بات تو میں آنکھیں بند کرکے مانوں گا۔۔۔۔۔” اس نے لاریب کر اک بار پھر چڑایا تھا۔۔۔
“آہ میں تو جیلس ہوگئی۔۔۔۔”
“ہاں شکل سے پتا بھی چل رہا ہے۔۔۔۔” اس نے بار جاتے ہوئے کہا تھا انزلہ اس بار اپنا قہقہ روک نہیں پائی تھی۔۔۔