Skip to content
Home » Social media writers » Page 130

Social media writers

Ramzan ka chand by Shayara Sehar Complete novel

  • by

” بیٹا کب آؤ گی “

” سلمہ عمر احمد صبر کریں ” اس کے نام لینے پر تقی نے چونک کر اسے دیکھا .

” ہٹ پگلی دادا کا نام لیتی ہے “

(دادا )

“اوہو دادی شرما رہے ہو “

” آج جلدی آ جانا”

اس نے فون رکھا اور تقی کو دیکھا جو اسے بے یقینی سے دیکھ رہا تھا

” کیا ہوا “

” آپ کے دادا کا نام کیا ہے “

” عمر احمد کیوں ” اسنے بڑی سادگی سے جواب دیا جبکہ وہ خوشی سے جھومنے لگا اسے خوش ہوتا دیکھ کر قمر حیران ہوئی کر وہ بے وجہ کیوں خوش ہو رہا ہے مگر تقی اس کی پرواہ کئے بغیر جھوم رہا تھا.

” کیا ہوا تقی ” اس نے حیرانی سے پوچھا

اس کی آنکھوں میں ایک دم سے آنسو جمع ہونے لگے اس کا دل کسی ان دیکھے اندھیرے نے جکڑ لیا جس سے اسکا سانس حلق میں اٹگ گیا . بیک وقت اس نے اپنا تھوک نگلا .

” ہمارے دادا کو گزرے 4 سال ہوگئے ہیں ” یہ الفاظ نہیں زہر تھے جو اس کے سینے میں اتر رہے تھے ذہین میں بس اک صدائیں گونجنے لگی

( بیٹا میرے دوست کو مجھ سے ضرور ملانا ورنہ میں سکون سے مر نہیں پاؤں گا ) اب وہ انہیں کیا بتاتا کہ جس کے ملنے کی تمنا میں وہ جی رہے تھے وہ کب کے مرچکے ہیں .

Raqsam by Sye Da Complete novel

  • by

“انہوں نے ابھی مجھے معمولی سا ہراس کیا ہے،اس پر اگر میں ان کے خلاف ایکشن لوں گی تو کل کو کیا پتہ وہ میری عزت پامال کر دیں،تب کیا بچے گا میرے پاس عمارہ؟”عمارہ کا دل جکڑا تھا۔

“اس طرح کے اداروں میں اس طرح کی باتیں عام ہیں۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ایسے درندوں کے خلاف آواز اٹھانے سے کچھ نہیں ہوتا۔کوئی فرق نہیں پڑتا کسی کو،کوئی نہیں آتا مدد کو،کوئی نہیں سنتا مظلوم کی پکار۔انہوں نے ابھی صرف معمولی سا ابیوز کیا ہے،کل وہ میری عزت پامال کر کے اسی کالج میں پھینک دیں گے پھر بہت سارے سٹوڈنٹس میری لاش کو سڑک پر رکھ کر احتجاج کریں گے،ساری دنیا میرے باپ کو ترحم کی نگاہ سے دیکھے گی،چند دن یہ تماشہ لگے گا اور پھر سب ختم۔پھر کوئی دوسری مناہل ہوگی مگر پروفیسر ہشام۔۔۔وہ وہیں ہوں گے،اسی عزت اور رتبہ کے ساتھ۔”وہ بنا رکے بولے جا رہی تھی۔

وہ بنا پلکیں جھپکے کرب سے اس کی بیان کردہ معاشرہ کی سفاکیت سنے جا رہی تھی جو کہ بےحد افسوس کے ساتھ سچائی تھی۔

“اور اگر بدقسمتی سے میں بچ گئی تو میرا اپنا ہی باپ میرے مرنے کی دعائیں کرے گا اور یہ معاشرہ مجھے ہی مجرم ثابت کرے گا اور مجھ میں عیب نکالے گا مگر مجرموں کے سامنے اسی طرح کے شُرفاء ڈھال بن کر کھڑے ہوں گے۔میرا باپ غریب آدمی ہے ان امیروں کے سامنے نہیں ٹِک سکے گا اور اپنی بیٹی کا حساب قیامت پر رکھ چھوڑے گا۔اور کیا ہی دل دہلا دینے والا ہوگا قیامت کا عذاب مگر اس سے قبل مجھے اور میرے باپ کو ہر روز،ہر پل،ہر لمحہ قیامتِ صغریٰ سے گزرنا ہوگا۔”گلے میں پھنسے آنسوؤں نے اب الفاظ کا دم گھونٹ دیا تھا۔

Mehram mohabbat by Bint e Mehmood Complete novel

  • by

“آپ یقیناً ،علیزے کے شوہر ہیں؟

(وہ منان کو شادی کی تصویروں میں دیکھ چکا تھا)”

اس نے معنی خیزی سے علیزے کو دیکھتے ہوۓ منان سے کہا تھا۔

“ہاں جی۔۔۔” علیزےکے رویے سے منان کے لیے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہ شہروز ہی ہے۔

“آپ جانتے ہیں میں کون ہوں اور آپکی بیوی سے میرا کیا تعلق رہا ہے؟”

شہروز نے پوچھا تھا۔

اور علیزے کو اپنے پیروں تلے سے زمیں نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔

بے شک وہ اپنے بارے میں منان کو سب کچھ بتا چکی تھی۔

مگر شہروز سے کیا بعید تھا کہ وہ اپنی طرف سے کہانیاں گھڑ کے منان کو علیزے سے متنفر کرنے کی کوشش کرتا۔

“میں اپنی بیوی کو جانتا ہوں میرے لیے یہی کافی ہے۔

اور آپ جیسا شخص جو بیچ بازار میں کسی لڑکی کا راستہ روک کر کھڑا ہو جاۓ بغیر اسکی عزت کی پرواہ کیے،وہ کسی کی کم عمری کی نادانی تو ہو سکتا ہے،منزل نہیں ہو سکتا۔”

منان نے اپنی بات مکمل کرنے کے بعد علیزے کو لیکر باہر کی طرف قدم بڑھا دیے تھے۔

اور علیزے کو یوں لگا تھا جیسے وہ تپتے صحرا سے ایکدم چھاؤں میں آ گئی ہو۔

Talash e hayat by Qalmi Complete novel

  • by

ٹی وی میں اماں کی حویلی تھی جو پوری طرح سے جل کر راکھ ہوچکی تھی اور مرنے والوں میں بہت سے لوگوں کے ساتھ اس کا بھی نام تھا۔ اپنا نام سنتے ہی اسے ایک دھچکا لگا۔ اس نے کرسی سے اٹھنے کی کوشش کی تو اس کے ہاتھ پاؤں کرسی کے ساتھ بندھے تھے۔ اس نے زور لگاتے خود کو چھڑوانے کی کوشش کی اور جب وہ ناکام ہو گیا تو اپنے آس پاس نظر دوراتا زخمی سا غرایا،

کون ہو تم اور کیا چاہتے۔۔۔۔۔

اپنے آس پاس کا منظر دیکھتے ہی باقی کے لفظ اس کے منہ میں ہی رہ گئے اور وہ اپنے آس پاس کے منظر کو دیکھتا آنکھیں جھنپکانے لگا۔ جیسے اسے یقین نا ہوں کہ جو وہ دیکھ رہا ہے اس کے سامنے وہی سب ہے یا سب اس کی آنکھوں کا دھوکا ہے مگر افسوس یہ سب سچ تھا۔ وہ اپنی سن ہوتی رگو کے ساتھ اس منظر میں ہی کہیں کھوگیا۔

Mr and Mrs Beast by Mariam Fayyaz Complete Novel

مسٹر اینڈ مسز بییسٹ کی کہانی: محبت، حسد اور انتقام کی پیچیدگیوں کا حیرت انگیز سفر

مسٹر اینڈ مسز بییسٹ کی کہانی ایک دلکش اور جذباتی سفر ہے جو محبت، حسد، انتقام اور خاندانی رشتوں کے پیچیدہ رنگوں کو بہترین انداز میں پیش کرتی ہے۔ اس کہانی کی ہر لمحے کی موڑ اور ہر کردار کی گہرائی آپ کو اپنے دل کی گہرائیوں میں لے جاتی ہے۔

پہلا مرحلہ شمس پیلس کے گرد گھومتا ہے، جو اپنی عظمت کے ساتھ ایک سنگین راز دفن کیے ہوئے ہے۔ یہ محل اینٹوں اور پتھروں کی عمارت سے زیادہ ہے، اس کی رودیوار میں چھپے ان کہے قصے وقت کے ساتھ اور بھی پراسرار ہوتے گئے۔ انوشے شمس خان کی محبت اور المناک موت کا راز اس کہانی کی بنیاد بنتا ہے، جس کی موت کے بعد اس کی سوتیلی بہن نے ایک سفاک روپ دھار لیا۔

دوسرا مرحلہ کارابے مینشن اور سلطان حویلی کے گرد گھومتا ہے۔ باران کارابے کا کردار اس کہانی میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے، جس کا سفر نفرت سے محبت تک ایک آئینہ ہے، جس میں ایک مرد کی اصل پہچان واضح ہوتی ہے۔ وہ مرد جو عورت کی عزت کرنا جانتا ہو، جو محبت کو صرف جذبات تک محدود نہ رکھے، بلکہ اسے اپنے کردار سے ثابت کرے۔

کہانی کا مرکزی خیال ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حسد اور لالچ پورے خاندانوں کو برباد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ رشتے خون کے تعلقات سے نہیں، بلکہ دلوں کی قربت سے قائم ہوتے ہیں، اور اصل محبت وہی ہوتی ہے جو سچائی اور ایثار پر مبنی ہو۔ یہ داستان پڑھنے والوں کو ہر لمحہ ایک نئے موڑ پر حیران کرتی ہے اور سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ اصل طاقت محبت میں ہے یا نفرت میں؟

مسٹر اینڈ مسز بییسٹ کی کہانی محض ایک داستان نہیں، بلکہ جذبات، رشتوں، محبت، حسد اور انتقام کی پیچیدہ گرہوں کو کھولنے کی ایک کوشش ہے۔ یہ کہانی آپ کو اپنے دل کی گہرائیوں میں لے جاتی ہے اور آپ کو یہ سکھاتی ہے کہ اصل محبت وہی ہوتی ہے جو سچائی اور ایثار پر مبنی ہو۔

Qais fiza by Aleena Mughal Complete novel

  • by

کچھ رشتوں کا تعلق دل کی گہرائیوں سے ہوتا ہے اور کچھ کا روح کی گہرائیوں سے کچھ ریشتے ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہماری زندگی میں بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں جن سے ہماری کوئی دلی وابستگی نہ ہو پھر بھی وہ ہمیں اچھے لگتے ہیں ….

ہر رشتے اپنے اپنے احساسات رکھتے ہیں ….

اور ان رشتوں میں سب سے زیادہ خوبصورت رشتہ محبت کا ہے خوبصورت احساساتوں کا رشتہ یہ ہمیں ان سے ہی ہوتا ہے جو ہمارے دل کے بہت قریب ہوں …

محبت کا مل جانا دنیا میں جنت جیسا ہے تو بچھڑ جانا دوزخ سے بھی برا کیوں کے اس میں محبت کرنے والا ان دیکھی اگ میں جلتےہیں اس کی جلن صرف وہی محسوس کر سکتے ہیں جو اس میں جل رہے ہوتے ہیں…