Skip to content
Home » Social media writers » Page 132

Social media writers

Wehshi aurat by Samiya Hussain Complete novel

  • by

ایک ایسی کہانی جو حقیقت سے مشابہت رکھتی ہے اس میں دنیاوی زندگی کی تلخ حقائق پر مبنی لیکن سچ کا عنصر نمایاں کیا گیا ہے بار ہا قصے سنے اور کانوں میں پڑے لیکن کہتے ہیں نا جس پر گزرتی ہوئی جانتا ہے لوگ فقط منہ پر آپ کے ہوتے ہیں جبکہ آپکی پیٹھ پیچھے وہی لوگ اکثر برائیاں بیان کر رہے ہوتے ہیں ۔

La takhzan Afsanwi majmooha by Sehrish Aman Complete

  • by

سحرش امان کی کتاب لا تحزن (غم نا کر) اردو افسانوں کا مجموعہ ہے جس میں مصنفہ نے وہ تمام موضوعات select کیئے ہیں جس سے انسانی ذہن دکھوں کو تھوڑی دیر کے لیئے ہی سہی بھول سکے اور خوشی کا تعلق تو دل سے ہوتا ہے اگر انسان پر سکون ہو تو ہر طرف خوشی کا سماں ہوتا ہے اداس ہو تو جیسے سوگواریت پھیلی ہو چہار سو۔۔۔۔ غموں سے نجات کا واحد ذریعہ یہ کے کہ انسان اس دنیا سے جتنا ہو سکے کنارہ کش رہے ایسے جیسے کشتی پانی میں رہتی ہے نا پانی کشتی میں ڈوب جاؤ گے اگر دنیا کو خود میں سمو لیا تو۔۔۔۔

غموں کی اس انجانی بستی سے ناتا توڑنا نہیں ہے کیونکہ یہ وہ واحد زریعہ ہے جو آپکو اپنے رب سے قریب کرتا ہے۔

اپنے رب پر بھروسہ رکھ کر غموں کو نظر انداز کر دینا چاہیے کیونکہ ۔۔۔۔۔

لا تحزن ان اللّٰہ معنا

Qismat ka khail by Liyan Complete novel

  • by

” اب تو تمہیں میری محبت کا یقین آ گیا ہوگا “

اس لڑکی نے اس لڑکے سے کہا “محبت کون سی محبت جاؤ یہاں سے”

اس لڑکے نے تلخی سے اس لڑکی سے کہا

” نہیں تم نے کہا تھا اگر میں تمہارے ساتھ تمہارے فارم ہاؤس جاؤں گی تو تم مجھ سے شادی کرو گے تمہیں تو مجھ سے محبت تھی نا “

“محبت ہا ہا زیان عزیر کو کسی سے محبت نہیں ہو سکتی “

“زیان میرے ساتھ ایسے مت کرو “وہ لڑکی اب رونے لگی۔

” او بی بی ڈرائیور کے ساتھ گاڑی میں بیٹھو اور جہاں سے ائی ہو وہاں چلی جاؤ اور اپنی شکل مت دکھانا دوبارہ”

زیان اس لڑکی کو زبردستی گاڑی میں بٹھا دیتا ہے اور گاڑی زن سے اگے چلی جاتی ہے۔

زیان کی نظر سامنے کھڑی انوشے پہ جاتی ہے یقینا وہ ان کی باتیں سن چکی تھی لیکن زیان کو فرق نہیں پڑتا اس کا پارہ تو تب ہائ ہوتا ہے جب وہ انوشے کے منہ سے خود کے لیے برے الفاظ سنتا ہے غصے میں وہ انوشے کی طرف بڑھتا ہے ۔

Hidayat ki rah per gamzan by Mehk Kanwal Bhutta Complete novel

  • by

آج کی نوجوان نسل کے نام ۔اُن لوگوں کے نام جنہیں لگتا ہے اُنکے پاس سب کچھ ہے انہیں کسی چیز کی ضرورت نہیں ۔جو لوگ کہتے ہے زمانہ بدل چکا ہے اُنکے نام ۔

یہ کہانی ہے غفلت کی،پچھتاوے کی،عشق کی ،دعاؤں پہ یقین کی،انا کی ،تکبر کی ،نفرت کی ،دوستی کی،محبت میں دھوکہ کھانے کی ، لالچ کی، سچی محبت کو پانے کی، سچی توبہ کی ، اولاد اور مال کی محبت میں حد سے بڑھ جانے والوں کی ، برائی کے انجام کی اور اللہ کی محبت کو پانے کی ۔ گمراہی سے ہدایت تک آنے کی۔

Jahez afsana by Rushna Akhter

  • by

۔ کاش دور جدید کے اپ ٹو ڈیٹ مسلمان نے دین کو صحیح معنوں میں سمجھا ہوتا ۔ ہم مسلمان ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر صرف کہنے کی حد تک ۔ جب بانی شریعت نے اپنی پیاری بیٹی کو جہیز میں ضرورت کے سامان کے ساتھ رخصت کیا تو ہم امتیوں پر ان کی سنت پر عمل کرنا واجب ہے ۔

Lahasil khawab novel by Palwisha Safi

  • by

خضدار کے شہر میں واقع چھوٹے سے گورنمنٹ گرلز کالج کے سامنے کھڑے رکشے میں ٹانگ اٹھا کر بیٹھے ٹیپو استاد خباثت سے اس انجان نمبر کو سیف کرتے پوری بتیسی نکال رہا تھا۔

“کیا دیکھ رہا ہے استاد۔۔۔۔ جو اتنے دانت نکل رہیں ہیں۔۔۔۔” ٹیپو استاد کے بغل میں کھڑا شانو موبائل کے اندر جھانکا۔

“کوئی نئی تتلی پھنسی ہے شانو۔۔۔۔ اافففف کیا آواز تھی۔۔۔۔ بالکل ملائی جیسے۔۔۔۔۔ ” ٹیپو استاد درندگی سے زمروش کی آواز کو یاد کرتے لب کاٹنے لگا۔

اس کی یہ حرکت دیکھ کر شانو نے بھی سرد آہ بھرتے سر پر ہاتھ پھیرا تھا۔

“آواز اتنی ملائم ہے تو خود کتنی نرم ہوگی۔۔۔ اسسسس۔۔۔۔۔” ایک اور جملہ کسا گیا۔

“پھر کب مل رہے ہو استاد۔۔۔۔۔” شانو نے حسرتی انداز میں ہنکھارا بھری۔

“پہلے پٹانے تو دے۔۔۔۔ ابھی ابھی تو نمبر ہاتھ لگا ہے۔۔۔۔” کمینگی سے آنکھ مار کر اشارہ کرتے ہنس دیا۔

کالج کی چھٹی ہوئی تو شانو اپنے رکشے کے جانب آیا اور دونوں سواری کا انتظار کرنے لگیں۔

ٹیپو استاد بظاہر تو ایک گیراج کا مالک اور فارغ اوقات میں رکشہ ڈرائیور تھا۔ مگر چوری چھپے اس کے کئی غیر قانونی دھندے کرنے والے لوگوں سے روابط تھے۔ وہ رکشہ ڈرائیوری کے آڑ میں اسمگلنگ اور منشیات کی خرید و فروخت میں بڑا ہاتھ رکھتا تھا۔ بیشتر اوقات وہ قانون سے بچ جاتا مگر کبھی پکڑا بھی جاتا تو بالائے جات سے فوراً چھڑوا لیا جاتا۔ جس سے اس کی عیاشی اور بے فکری برقرار رہتی تھی۔

Jam e mohabbat by Maleeha Shah Complete novel

  • by

کدھر رہ گئ یہ لڑکی وہ غصے سے ٹہل رہییں تھیں۔بھاگ گئ ہوگی شائستہ بولی۔ہممم لگتی تو ایسے ہی ہے کہ کبھی کسی ٹائم بھی بھاگ جائے گئ۔ارے ماں فکر کیوں کرتی ہو اچھا ہے نا چلی گئ ہمارے سر سے مصیبت ٹلی یہ بولنے والا حسیب تھا۔وہاں بیٹھا ہر شخص اس کے لئے زہر اگل رہا تھا یہ جانے بغیر کہ وہ کس مصیبت میں پھس گئ دروازے کی بیل بجی۔جاؤ دیکھ کے آؤ حسیب کون ہے دروازہ کھولا تو سامنے ہی وہ کھڑی تھی ارے کدھر رہ گئ تھی تم چچی جان بولیں تمہیں یہ پاس والی دکان سے دہی لینے بیجا تھا کس سے باتیں کرتی رہئ ہو باہر نہیں چچی جان وہ میرے پیچھے کچھ لوگ لگ گۓ تھے وہ رونے لگی۔بند کرو اپنا یہ ناٹک ضرور کسی کے ساتھ باہر لگی ہوگی اب بہانے دیکھو اسکے شائستہ نے اور زہر اگلا۔

وہ اس کو ادھر اکیلا چھوڑ کر اندر چلے گۓ اور وہ سونے کے لئے اپنے کمرے میں چلی گئ۔اس کا کمرہ کم اور وہ سٹور زیادہ لگتا تھا جہاں ایک پرانا سنگل بیڈتھا جو اس کودیا گیا تھا بس ایک سنگل بیڈ رکھنے کی ہی جگہ تھی اس کے کمرے میں۔وہ اکر اپنے کمرے میں بیٹھ گئ وہ کافی ڈری ہوئ تھی جو اس کے ساتھ ہوا اسے لےکے۔شکریہ اللہ جی آج آپ نے مجھے بچا لیا۔

پتا نہیں میری زندگی کبھی بدلے گی یا نہیں وہ سوچتے سوچتے سو گئ۔

*****************

Dil wafa ki saltanat short novel by Anisha Nawaz

  • by

میرا ناول لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو اس بات سے آگاہ کیا جائے کہ غلط فہمیوں کا شکار نہ بنیں بلکہ بات کو کلئیر کریں۔ چھوٹی سی غلط فہمی کی وجہ سے آپ کبھی کبھار انمول چیزیں یا لوگ کھو دیتے ہیں۔ دوسری طرف ہمارے معاشرے میں بھی یہ بات عام ہے اکثر گھروں میں چھوٹی سے چھوٹی غلط فہمی کی بنا پر ہم اپنے اہم اور انمول رشتے اور ان کا اعتماد کھو بیٹھتے ہیں ۔ اس لیے کبھی بھی خود سے بات گھڑنے کی بجائے دوسرے سے پوچھیں چاہے وہ آپکے دوست ہوں، استاد ہوں ، والدین یا کوئی بھی رشتہ سب اہم ہیں!

(مصنفہ :انیشہ نواز)

**************