Skip to content
Home » Social media writers » Page 140

Social media writers

Dushman e nafs by Saira Ramzan Complete novel download pdf

  • by

زایان تمیں چاہیے کہ تم اس سے آج اظہارِ محبت کر دو آخر کب تک اسے انجان رکھو گے ۔کیا تم یک طرفہ محبت کرنا چاہتے ہو۔۔ فلک اور عشوانی حال کے سائیڈ ایئریا پر کب سے اسے سمجھائے جا رہی تھی کہ آج وہ اپنے جذباتوں کو محالفہ کے سامنے بیان کرے کہ وہ اس کے لیے کیا محسوس کرتا ہے۔۔

تم دونوں سمجھ نہیں رہی میں فی الحال ایسا نہیں کر سکتا!! اس نے چڑ کر کہا تھا.۔۔

کیوں نہیں کر سکتے کب بتاؤ گے اسے جب وہ کسی اور کی ہو جائے گی؟؟

نہیں ہوگی وہ کسی اور کی وہ میری ہوگی بلکہ وہ میری ہی ہے۔۔

عشوانی کی بات کاٹتے اس نے جیسے خود کو بھی یقین دہانی کروائی تھی۔

دیکھئے زایان بھائی آپ کو دیر نہیں کرنی چاہیئے ایسے معاملات میں دیری اچھی نہیں لگتی۔

فلک نے نرم لہجہ اختیار کیا۔

مجھے ڈر لگتا ہے کہ اگر اس نے انکار کر دیا تو میں اس کے انکار کے ساتھ کیسے جی پاؤں گا؟؟

زایان اب رو دینے کو تھا ۔

نہیں ایسا نہیں ہوگا آپ ایک بار ٹرائی تو کریں فلک کے کہنے پر اس نے ہاں میں گردن ہلائی مگر اس کا ڈر قائم تھا وہ پچھتانا نہیں چاہتا تھا وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ وہ اس جنون کی حد تک عشق کرتا ہے وہ عشق میں تڑپتا ہے دن رات اس کے ساتھ خواب سجاتا ہے وہ اس کے دل و دماغ پر حاوی ہونے لگی ہے اور وہ اسے آج یہ سب بتا دینے کا ارادہ رکھتا تھا آر یا پار ۔۔ وہ اس کے انکار کو سننے کے بعد دوبارہ جی پائے گا یا نہیں وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا وہ ان کے ساتھ گارڈن ایریا میں انٹر ہوا۔ عشوانی اور فلک اس کی جانب بڑھ گئے مگر محالفہ نے ابھی تک اسے نہیں دیکھا تھا۔۔

Dil e Zaar by Arfa Ali Complete novel

  • by

یہ کہانی دو لڑکیوں کے گرد گھومتی ہے جو کزن ہونے کے ساتھ دوست بھی ہیں ان کی بچپن کی دوستی، کزنوں کی کہانی۔

یہ کہانی امل امجد اور فرقان حیدر کی محبت کے گرد گھومتی ہے۔

یہ کہانی ہے ارہا کی جس نے اپنی محبت کو پانے کے لیے اپنی بھابھی پر الزامات لگائے۔

یہ کہانی ہے احسن ارسل کی جو یکطرفہ محبت میں مبتلا رہا، اس کی محبت اسے ملی یا نہیں یہ آپ ناول پڑھ کر جان پائیں گے۔

Anjana ishq by Farih Complete novel

  • by

“کون ہو تم “۔

وہ کھڑا ہوتے ہوئے دھاڑا ۔

“آواز آہستہ کرو بہری نہیں ہوں میں “۔

مرحا تھوڑے غصے سے بولی ۔

“او تو تم مجھے میرے ہی آفس میں مجھے ہی آواز آہستہ کرنے کو کہ رہی ہو “۔

رماز طنزیہ انداز میں بولا ۔

“میں مرحا حسین آفندی ہوں تمہاری رایول کمپنی کی مالکن اور حسین آفندی کی ایک لوتی بیٹی “۔

وہ سکون سے کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی اور رماز مالک کو حیران کر گئی ۔

“تو تم یہاں کیا کرنے آئی ہو “۔

وہ غصے سے بولا اور اپنی چیئر پر بیٹھ گیا ۔

“میں نے نہ نیا نیا بزنس میں قدم رکھا ہے تو بس اپنے دشمن کو دیکھنے آئی ہو “۔

وہ مسکرا کر سکون سے بولی ۔

Gul nawakif e Bahar thy by Mehtab Zahoor Complete novel

  • by

اس کہانی میں کچھ کردار اپنے ایمان کی سلامتی کے لیے جنگ لڑتے نظر آئیں گے اور کچھ کردار اپنے ضمیر سے جنگ لڑتے نظر آئیں گے۔ یہ کہانی حلال اور حرام رزق کے فرق کے گرد گھومتی نظر آئے گی۔ یہ کہانی ہے بانو اور حیدر کی۔ یہ کہانی ہے ایک وکیل کی جو محبت پر یقین نہیں رکھتی مگر کوئی اسے محبت پر یقین کرنا سکھائے گا۔ اور محبت کے اصل مفہوم سے روشناس کروائے گا۔ یہ اے ایس پی روحاب داؤد کی محبت کی کہانی ہے۔ جو اپنی محبت سے ایک لڑکی کی ساری دلیلوں کو ہراتے ہوئے خود سے محبت کرنے پر مجبور کر دے گا۔

Roshan andhera by Anam Nadeem Complete novel

  • by

اسکو اپنا اپ ایک غار میں محسوس ہو رہا تھا ایک ایسا غار جہاں سوائے اندھیرے کے کچھ نہ ہو اسکو اپنے سینے میں ایک درد محسوس ہوا جسے کوئی کانٹے چبو رہا ہو اسکو لگا وہ پھر کھبی سانس نہیں لے سکے گی اسکا خون اسکو جمتا ہوا معلوم ہو رہا تھا اسکے ماتے پر نھنی نھنی پسینے کی بوندے ایی ہوئی تھی یوں جسے ایک ہی پل میں آسمان اور زمین دونوں اس پر ایک کر دی گی ہو اتنی بڑی اذیت اتنا بڑا دکھا وہ ہاتھوں میں لئے ان تین تصویروں کو دیکھی جا رہی تھی آنکھوں سے پانی نکل کر اسکے گالو پر آتا ہوا معلوم ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔

Beopar afsana by Rushna Akhter

  • by

اسے یاد تھا جب وہ پہلی بار خوبصورت پہاڑی علاقے کی سیر کو نکلے تھے اور گاڑی تنگ راستے سے گزرتے نیچے جا گری تھی ۔ اس حادثے میں اس کے بابا جان اور ننھی بہن ہادیہ چل بسے تھے ابھی وہ زخم مندمل نہیں ہوا تھا کہ والدہ کی موت نے اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا لیکن یہ امی کے ساتھ یہ اچانک حادثہ ہوا تو ہوا کیسے؟ یہ سوال اسے بے چین کیے ہوۓ تھا ۔ گیس اس دن لیک کیسے ہوگئی ؟ جہاں تک اسے معلوم تھا اس کی والدہ بہت محتاط خاتون تھیں۔

Deedar e mehboob by Saira Ramzan Complete novel

  • by

اس میں ذکر ہے ایک قدیم زمانے میں بسنے والے محبت سے بھرے ملک کی۔

جس کے ہر فرد کو دوسرے کے ساتھ الگ ہی ہمدردی اور لگاؤ تھا۔ اور ان سب کا کریڈٹ ان کے رحمدل بادشاہ کو دیا جاتا ہے ۔

جو اپنی سلطنت میں کسی قسم کی برائی برداشت نہیں کر سکتے تھے ۔ مگر وہ کہتے ہیں نا کہ اللہ اپنے پیاروں سے ہی امتحان لیتا ہے ۔ پھر وہ چاہے کسی بھی صورت میں لیں۔ مگر اس میں انسان کے لیئے کوئی نہ کوئی بہتری ضرور ہوتی ہے۔

اگر ہم اس کا ذکر کرے تو اس میں نفرت سے محبت کا سفر نہیں۔۔۔۔بلکہ محبت سے نفرت تک کا سفر ہے۔ جس میں پیار بھی ہےاور جنگ بھی،،خوشی بھی اور غم بھی ،،،جیت بھی اور ہار بھی،،،،،،

جس میں دو جسم محبت کے راستے پر چلتے تو ہیں۔مگر بغیر کسی شناخت کے ،،،،منزل کی فکر کئے بغیر ۔

اب یہ تو وقت ہی بتاتا کہ ان کی زندگی کونسی مشکلات کی منتظر ہے ۔

Marze isqa by Hira Nisar Complete novel

  • by

انمول مجھے تم سے بات کرنی ہے ارمان ملک مجھے تمہارے ساتھ کوئی بات نہیں کرنی تم اپنی بیوی کی عیادت کرو ویسے بھی اسے تمہاری ضرورت ہے جاؤ اس کے بعد اب تو خیر سے خوشخبری انمول تم میری بات سنو گی میں نہیں سونے والی انمول تم میری بیوی ہو اپ پاگل ہے میں اپ کی بیوی کیسے ہو سکتی ہوں میں اپ کی بیوی نہیں ہوں لوگ اسے بولی تھی تم میری بیوی ہو جیسے اس نے نکانی نامہ دکھایا تھا ٹھیک ہے اپ مجھے بھی ڈوز دیں ابھی اس کے منہ میں یہ بات ہی کہ رحمان کا ہاتھ اٹھا تھا اج دوسری دفعہ زندگی میں تم پاگل ہو میں تمہیں ڈوز نہیں کروں گا اپ مجھے بلا لوں گی ٹھیک ہے تم لوگ یہ بات بولنے کے ساتھ کمرے سے باہر انے لگا تھا جب اس کو دماغ میں کچھ لکھا ہوا تھا اس نے انمول کے بازو پکڑی اور اس کو جکڑ کے باہر لایا تھا جبکہ انور مسلسل اپنا باز چھڑوا رہے تھے ارمان نے کیا کرے چھوڑو انمول کہاں تھا اب اگر کوئی میرے یا انمول کے بیچ ایا تو قسم سے جو میں کرنے والا ہوں نا اس کے بعد اپ سب لوگ سوچتے رہیں گے چلو میرے ساتھ اس کو اپنے کمرے میں لے کر جا چکا تھا انڈے جانے کے ساتھ بالکل اپ کر چکا تھا تو اس سے بڑھا کر ویڈیو دکھا رہا تھا ان کا کہ یہ دیکھو دیکھو تم لیکن ارمان ملک تمہاری بیوی ون سیکنڈ ون سیکنڈ تم نے میرے ساتھ دوسری شادی کی ہے ہادیہ بھی تمہاری کام ہے اور یہیں سے اس کی غلت بہن بڑی تھی