Skip to content
Home » Social media writers » Page 141

Social media writers

Raksam e ishq by Bisma Mehar Complete novel

  • by

رونے کی وجہ سے اس کی آنکھوں کے پپوٹے سوج چکے تھے ۔شہد رنگ آنکھیں رونے کی وجہ سے کافی سرخ ہو چکی تھیں

وہ تو گھر سے اپنے باپ کے ساتھ نکلی تھی ۔اس کے باپ نے کہا تھا کہ وہ اپنے دوست سے ملنے جا رہا ہے اور اسے بھی ساتھ لے کر چلے گا اور واپسی پر آئسکریم بھی کھلائے گا ۔وہ تو خوشی خوشی تیار ہو کر نکلی تھی اس کے باپ نے زندگی میں پہلی بار کوئی اس طرح کی پیشکش کی تھی۔جو اس کی پوری زندگی برباد کرنے والی تھی ۔

اپنے باپ کے دوست کے گھر پہنچتے ہی اس نے جوس پیا تھا جس کا ذائقہ عجیب تھا اس کا ذہن آہستہ آہستہ غنودگی میں جا رہا تھا ۔اچانک اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا ۔اخری چہرہ بیہوش ہونے سے پہلے جو اس نے دیکھا وہ اس کے باپ کا ہی تھا وہ کسی ادمی کے ساتھ محو گفتگو تھا ۔اس کے بعد کیا ہوا اسے کچھ بھی یاد نہیں ۔اس کی آنکھ ایک کمرے میں کھلی جو نہ تو زیادہ پر آسائش تھا اور نہ زیادہ بوسیدہ ۔ابھی وہ غائب دماغی سے کمرے کا جائزہ لینے میں مصروف تھی جب دو درندے نما انسان کمرے میں داخل ہوئے ۔وہ آنکھوں میں ہوس لیے اسے ہی دیکھ رہے تھے ۔اور وہ سترہ سالہ معصوم پری جس کا اپنے باپ کے علاوہ مردوں سے بہت کم واسطہ پڑا تھا ان سے اپنی عزت کی بھیک مانگ رہی تھی ۔

اس بات سے انجان کہ وہ جس دلدل میں پھنس چکی ہے وہاں سے رہائی نا ممکن سی بات ہے ۔

Marwareed by Aqsa Batool Hayyat Complete novel

  • by

“کیا کسی کو دیکھنا گناہ ہے ؟” سامنے کھڑے شخص کا لہجہ سوالیہ ہوا۔ جانے اب وہ سوال تھا یا مزید گفتگو کا بہانہ۔

“نا محرم کو مسلسل گھورنا گناہ ہے۔” جواب بھی فوراً آیا تھا۔

“اور نا محرم کے ساتھ سفرکرنا۔۔۔؟” بے اختیار اس کے منہ سے نکلا۔

“وہ بھی گناہ ہے۔” بیگ اسنے اپنے کندھے پر ڈلا۔ یعنی اب وہ جانے لگی تھی۔

اس سے پہلے کے وہ واقعی چلی جاتی، وہ چند قدم مزید آگے آیا ۔

“کیا اب ہم کچھ دیر کے لیے بھی بات نہیں کرسکتے؟”

جیکٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ خفا سا ہوا۔

اس کی آنکھوں میں خفگی کا تاثر دیکھ کر اس لڑکی کی آنکھیں پھیلیں۔ وہ چند قدم چل کر اس کے سامنے آئی۔ پھر تھوڑا مزید آگے ہوئی، عین اس کے سامنے۔

“ہم بات کرسکتے تھے، لیکن آپ نے اعتماد قائم ہونے سے پہلے ہی کھو دیا۔” اس کا لہجہ زخمی ہوا۔

“آپ مجھے دس منٹ تو دے ہی سکتی ہیں۔” اسنے التجا کی۔

کئی سال پہلے وہ اسکی امید تھا، وہ اسے برا نہیں لگتا تھا لیکن اب اچھا بھی نہیں لگتا۔

اور مومنوں کی امیدیں نہیں مرتیں۔ وہ سامنے کھڑے شخص کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگی۔

“کیا وہ اسے مایوس کردے ،وہ جو کبھی واحد امید تھا۔”

“کیا وہ اسے واقعی دس منٹ دینے والی تھی؟”

Mohabbat ho to aesi by Rida Bint e Tahira Complete novel

  • by

“یہ کہانی ایک ایسی عورت کی ہے۔ جو اپنے حسد اور لالچ کی وجہ سے جان نثار کرنے والے رشتوں کو نفرت کی بھینٹ چڑھا دیتی ہے ۔ اس کہانی میں کچھ ایسے کردار بھی ملیں گے جو اپنی محبت اور جان نثاری سے یہ ثابت کر دیتے ہیں۔ کہ

“محبت ہو تو ایسی ہو”

Nigah e muntazir by Faiqa Azam Complete novel

  • by

یاد ہے کبھی میں اس پوزیشن میں یہاں تنہا لون میں بیٹھا تھا ۔تب میں پریشان تھا ۔تم نے مجھ سے میری پریشانی پوچھی تو میں بتاے بغیر نارہ سکا ۔

آج تمہاری حالت بھی بالکل ویسی ہے جو اس عظیت سے گذارا ہو وہ سمجھ سکتا ہے ۔لیکن تم میں اور مجھ میں فرق بس اتنا ہے کہ میں نے اپنی پریشانی تمہیں بتا دی تھی ۔اور تم کبھی بھی نہیں بتاو گئے ۔مگر تم کچھ کہو یا نا کہو میرا دل تمہاری آنکھیں پڑنے میں اب ماہر ہوچکا ہے ۔

بینچ پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھے ابرام کی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔وہ یونہی چاند کی طرف دیکھتا رہا ۔اچھا تو پھر بتا دیں کہ اپکا یہ بیٹا ۔کس مرض میں مبتلا ہے ۔وہ چاند کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تو ۔جہانذیب اسکے دائیں جانب اکر بیٹھ گئے ۔اواذ دی ابرام ۔۔ادھر دیکھو ۔ابرام نے بامشکل چہرہ جہانزیب کی طرف موڑا ۔

جہانزیب نے اسکی تھوڑی کے نیچے اپنے ہاتھ کی چار انگلیاں رکھیں ۔اور اسے یونہی دیکھتے رہے ۔ابرام نے ان کی ہتھیلی کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور اپنی دونوں آنکھوں پر باری باری لگایا ۔

جب سب کچھ چھپا کر رکھے ہوئے تھا ۔تب بھی پل پل مر رہا تھا ۔اب سب کچھ بتا چکا ہوں تو ۔ڈر لگ رہا ہے کہ کچھ کھو نا دوں ۔جب سب چھپا رکھا تھا ۔تو وہ کم از کم میرے پاس تو تھی۔اب بتا چکا ہوں تو کہیں اسے کھو نا دوں ۔وہ بھیگی آنکھوں سے اعتراف کرتا ۔جہانذیب کے چودہ طبق روشن کروا گیا ۔کیا واقعے ہی اسے گوری سے محبت ہوگئی تھی ۔جہانذیب بے یقین دیکھائی دیے ۔مگر وہ کھلے الفاظوں میں پوچھنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے ۔اگر پوچھ بھی لیتے تو شاید وہ نابتاتا ۔

Guzar basar afsana by Farah Anwaar

  • by

“ہاں بھئی! کیا نام ہے تمہارا کس لیے آئے ہو؟”

“میں یوسف ہوں۔ رپورٹ درج کرانے آیا ہوں.”

“کیا رپورٹ درج کرانی ہے؟” تھانے دار نے مونچھوں کو تاؤ دیا۔

“میری سبزی والی ریڑھی چوری ہو گئی ہے آج رات کو.”

تھانے دار نے سر سے پاؤں تک یوسف کو آنکھیں پھاڑ کر دیکھا۔

“سبزی والے ہو؟”

“جی سبزی والا ہوں.”

“لگتے تو نہیں ہو۔ دکھنے میں تو کوئی ہیرو ہو اور بیچتے سبزی ہو___ ہہہم”

“اچھا تو یہ بتاؤ__ ریڑھی کو تالا لگایا تھا؟”

“جی اچھی طرح سے باندھا تھا۔” یوسف نے جواب دیا۔

“رسی سے باندھا تھا___پھر تو چوری ہونی ہی تھی۔”

Jawaran afsana by Farah Anwar

  • by

“جنت! سبق تیر کا۔” (جنت سبق سناؤ)

میں ابا جی کے پاس ڈرتی ڈرتی جاتی اتنا ان سے ڈر نہیں لگتا تھا جتنا ان کی آنکھوں پر لگی عینک سے خوف آتا تھا۔ عینک میں ابا جی کی آنکھیں بڑی بڑی نظر آتی تھیں۔ اور میں ابا جی کے ڈر سے سبق بھول جاتی۔ اور اگر مجھے سبق یاد بھی ہوتا تو میں کہیں غلط نہ سنا دوں اس ڈر سے بولتی ہی نہیں تھی۔ اور میرے نہ بولنے پر مجھے اچھا خاصہ گھورا جاتا۔

“شرم واکہ، نہ یاوازہ دے کلاس کہ پا کہ شوی یہ، ستہ نورے ملگرے تو بے بل کلاس تہ لارے، او تہ تار اوسہ ب بکری چ چاند کہ یہ۔”

)شرم کر لو تم واحد ہو جو اپنی کلاس میں پرانی ہو سب آ گے چلے گئے سوائے تمہارے، تم ب بکری چ چاند سے باہر نہ آنا.)

Kuch khawab sulagty aankhon mein by Haleema Arshad Dar Complete novel

  • by

“حمدان شادی بیاہ کوئ مزاق نہیں ہے تم سیریس ہو کے سوچو….. دیکھو…… الحان تمہارے لائق نہیں تم اسے نہیں جانتے کل کو پچھتانے سے بہتر ہے کہ تم آج اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر لو….. منال سے شادی کر لو وہ الحان سے بہتر ہے”معیز نے جب سے سنا تھا حمدان اور الحان کا نکاح ہے تب سے وہ موقعے ڈھونڈ رہا تھا حمدان سے بات کرنے کا تو وہ صبح صبح ہی اسکے کمرے میں آدھمکا جب وہ اپنی سوچوں میں گم گود میں تکیہ رکھے بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا

“معیز تم اس بات کی ٹینشن مت لو مجھے پتہ ہے کہ میں کیا کرنے جا رہا ہوں…. میں بچہ تھوڑی ہوں”حمدان نے اکتائے ہو لہجے میں کہا.

“حمدان منال بہت اچھی لڑکی ہے تم سے بے پناہ محبت کرتی ہے… مجھے بتایا ہے مونا نے….. الحان تمہارے لائق نہیں ہے وہ بس منال کو دکھ دینے کے لیے تم سے شادی کر رہی ہے…. الحان اچھی لڑکی نہیں ہے”معیزاسکے بیڈ سائیڈ پڑے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا.

“اچھا آپ کو کیسے پتہ”حمدان نے معیز کو بغور دیکھتے ہوئے کہا

“کیا مطلب…… کیا کہنا چاہتے ہو…. “

“مطلب یہ معیز تم تو ہمیشہ گھر سے دور رہے ہو تمہیں کیسے پتہ کے الحان اچھی لڑکی نہیں ہے اور منال اچھی ہے…… کیا میں جان سکتا ہوں….اتنی اہم معلومات تمہیں کیسے پتہ چل گئ. اور میں جو اس گھر میں ہی موجود تھا مجھے خبر کیوں نہ ہوئ…. “

“حمدان….. الحان یوسف کو پسند کرتی ہے…..اس لیے اسے اپنی زندگی مہں شامل نہ کرو وہ تم سے مخلص نہیں رہے گی”

“ہاہاہاہا…. اچھا.. بہت خوب الحان یوسف کو پسند کرتی ہے… آپ کو کس نے بتایا… “

“مجھے مونا نے بتایا تھا اور میں نے خود بھی دیکھا ہے وہ رات کو یوسف کے ساتھ…. “

“بس کر دو معیز…. بس کرو….. مونا نے کہہ دیا تم نے مان لیا…. کیا اتنا آسان ہے تمہارے لیے مما کی تربیت پر انگلی اٹھانا….وہ تمہاری مونا کیا اتنی سچی ہے کہ اسکی گواہی کو دلیل بنا کہ تم کسی پر بہتان باندھ رہے ہو…”

“حمدااان…. تمیز سے بات کرو مونا بیوی ہے میری….”

“آپ یہاں کھڑے جس کے کردار پر بار بار کیچڑ اچھال رہے ہو نا…. وہ میری ہونے والی بیوی ہے مجھے گوارا نہیں کہ آپ اس کے کردار پر انگلی اٹھائیں… “

Raah e malal by Dua Aslam Complete novel

  • by

حریم خان ۔۔۔۔” اس کی نگاہیں اس خط پر مرکوز تھی

میں امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہوگی۔۔۔۔؟؟( اس کا دل چاہا وہ کہہ دے میں خیریت سے نہیں ہوں ) جب تک آپ کے ہاتھ میں یہ خط آئے گا تب تک شاید میں اس دنیا میں نا ہوں اور اگر ہوا بھی تو شاید اس شہر اور ملک میں نا ہوں۔۔۔” میرا فون گم ہوگیا تھا جس کی وجہ سے میں تم سے کانٹیکٹ نہیں کر سکا اور نا مجھے تمہارا نمبر یاد تھا ۔۔۔۔۔” اسے لگا وہ اس کے سامنے کھڑا اسے خود کہہ رہا ہے ۔۔۔۔” میں جانتا ہوں میں وعدہ نہیں نبھا سکا میں نہیں آسکا میرے لیے حالات بہت تنگ ہو گئے تھے اسوقت میں بہت پریشان تھا حریم اور سوچ رہا تھا کہ اگر میری دوست حریم اگر یہاں ہوتی تو میری پریشانیوں کو گولی مار دیتی ۔۔۔۔۔”( اس سطر کو پڑھتے وقت اس کی نم آنکھیں مسکرائی تھی۔۔) مگر افسوس تم یہاں نہیں ہو میں جانتا ہوں ہم دونوں دوست تھے ، ہے اور ہمیشہ رہے گے۔۔۔۔”( وہ دوستی کی بات کر رہا تھا یہاں تو حریم خان کو اس سے چاہت ہو گئی تھی۔.) ۔۔۔۔۔پھر ہم ساتھ ہو یا نا ہو ۔۔۔۔”( اس سطر کو پڑھتے وقت اس نے آنکھیں درڈ سے میچی تھی اور ایک آنسوں ٹوٹ کر خط پر گرا تھا۔۔۔) حریم میں تم سے معافی چاہتا ہوں میں نہیں آسکا اور شاید نا آسکوں مجھے معاف کر دینا اس خط کے ساتھ جو چیز میں نے رکھی ہے وہ مجھے بہت عزیز ہے اور اپنی عزیز چیز میں تمہارے حوالے کر رہا ہوں پتا نہیں یہ خط تمہیں ملے گا بھی یا نہیں یا تم مجھے بھول جاؤ گی …( وہ بھولنے کی بات کر رہا تھا اور وہ تو ان پانچ سالوں میں جسے نہیں بھولی تھی وہ داؤد رحمان تھا۔۔)اور میں جانتا ہوں حریم خان داؤد رحمان کو دوستی کے لیے معاف کر دے گی وہ داؤد رحمان کی طرح دوستی کا بھرم نہیں توڑے گی۔۔۔” خدا حافض “( آخری الفاظ پڑھتے وقت اس کا دل چاہا وہ اس خط میں سے داؤد رحمان کو نکالے اور کہے ایسے کیسے تم خدا حافض کہہ سکتے ہو ) ۔۔۔دو تین سطر چھوڑ کر لکھا تھا تمہارا دوست ۔۔۔۔” اور اس سے نیچے لکھا تھا ۔۔۔” داؤد رحمان ۔۔۔۔” نام کے ساتھ مورخہ لکھی تھی۔۔۔٫” تین جولائی 2019۔۔۔” ( ایک سحر تھا۔جو ٹوٹا تھا ) اس کی آنکھوں سے آنسوں بہہ کر خط پر گر رہے تھے وہ اس خط کو پکڑے نیچے بیٹھتی چلی گئی اس نے خط کے ساتھ رکھی چیز کو دیکھا وہ ایک رنگ تھی اس پر ڈی لکھا ہوا تھا وہ خط کو اور اس رنگ کو پکڑے مرے ہوئے قدموں سے باہر آئی تھی باہر اندھیرا چھانے لگا تھا اسے سنبل نے ایسے دیکھا تو فورا اس کی طرف لپکی ۔۔۔۔” کیا ہوا ۔۔۔۔؟؟

Man mehran afsana by Rushna Akhter

  • by

بھابھی میری پھول سی بچی___ یہ کہہ کہ چچی پھر سے آنسو بہانے لگیں ۔

“اللّٰہ خیر کرے کیا ہوا مومنہ کو” ؟ حمیدہ خاتون نے پوچھا ۔

بس بھابھی میری معصوم سی بچی رل گئی ۔ مجھے میری بیٹی سے ملنے نہیں دے رہے ۔ کئی بار ان کے گھر گئی فون پر رابطہ کیا لیکن میری بات تک نہیں کروائی ۔محلے داروں سے پوچھا تو وہ انہوں نے بتایا کہ ولیمے کے دس بارہ دنوں بعد ولید اور مومنہ گاڑی میں کہیں جارہے تھے ۔ ہم نے سمجھا کہ شاید سسرال یا کہیں گھومنے پھرنے جارہے ہوں گے۔ چچی پھر سے رونے لگیں ۔

” اللّٰہ رحم کرے اور مومنہ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے “۔ امی پریشان ہوگئیں تھیں ۔ صرف یہی نہیں آج صبح جب میں ان کے محلے میں گیا تو معلوم ہوا کہ ولید کے والدین بھی محلہ چھوڑ کر جا چکے ہیں ۔ سب محلے داروں سے ان کے متعلق پوچھا لیکن کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ وہ کہاں گئے ۔ نصیر احمد نے مایوس انداز میں بتایا ۔ حزیمہ کو بہت افسوس ہوا ۔

ابو کو معلوم ہوا تو سب کام چھوڑ چھاڑ کر اپنے بھائی کی طرف چلے آۓ ۔

بھائی صاحب معاملہ تو بہت سنگین ہے سچ پوچھیں تو دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔ پتہ نہیں مومنہ کس حال میں ہوگی؟ شبیر احمد نے کہا ۔

خدا کے لیے کچھ کریں ایسا نہ ہو کہ وہ کہیں دور نکل جائیں ۔ حمیدہ خاتون نے پریشانی کے عالم میں کہا ۔

مومنہ کی تلاش شروع کردی گئی تھی پولیس تھانہ غرض ہر جگہ کوشش کی مگر سنوائی تو پیسے کی ہی ہوتی ہے نا۔ پیسہ اگر پانی کی طرح بہایا جاۓ تو پردیس میں گرا سکہ بھی مل جاتا ہے لیکن چچا کے پاس جو بھی جمع پونجی تھی سب مومنہ کی وی آئی پی شادی پر خرچ کر چکے تھے سو اب صرف رب کا سہارا تھا ۔

امی نے سارا معاملہ رفیق ماموں کو بتایا ۔ رفیق ماموں پولیس تھانہ میں کلرک تھے ۔ انہوں نے اپنے ساتھی افسر کی منت سماجت کی تو کارروائی کی گئی اور مومنہ گھر واپس آگئی ۔ کھوج کرنے پر معلوم ہوا کہ ولید اور اس کے والدین کسی گینگ کے لیے کام کرتے تھے جو امیر ہونے کا ڈرامہ کر کے لوگوں کو لوٹتے تھے ۔ وہ تو خدا کا شکر ہے کہ وقت پر کارروائی ہو گئی اور مومنہ ان کے چنگل سے آزاد ہوگئی ۔اتنے بڑے صدمے کے بعد تو مومنہ تو جیسے ہنسنا ہی بھول گئی تھی ۔