Skip to content
Home » Social media writers » Page 143

Social media writers

Pyar mera nafrat bhara by Aiman Akmal complete novel

  • by

زری ایک لڑکی تمہارا نام پوچھ رہی تھی میں ایج سے لے کر گھر کے ایڈریس تک سب بتا آئی۔ عشاء تو ایسے بتا رہی تھی جیسے کوئی کارنامہ کر دیا ہو

بس فون نمبر رہ گیا. عشاء اداس ہوئی

کیا مطلب کس کو بتا آئی ہو؟ زریام کے تو ہوش اڑے تھے

دعا دو گے مجھے فری میں ایک گلر فرینڈ مل گئی

شکریہ ادا مت کرنا۔ ایسے چھوٹے موٹے کام میں کرتی رہتی ہوں۔ ویسے مبارک ہو تمہیں اب تم سنگل نہیں رہے

عشاء تو مسکرا رہی تھی لیکن زویا کے چہرے کا رنگ اڑ چکا تھا

یار عشاء یہ کوئی طریقہ۔۔۔۔۔

اوہ کملی جی ناں پوچھدی۔۔۔۔ کیندی ہاں یاں کہ نا پوچھدی

او لبھدی بہانے پھردی۔۔۔۔۔۔ کدے کافی کدی چاہ پوچھدی

زریام کچھ کہنے ہی لگا تھا جب عشاء گنگنانے لگی

میں پھیرا اگنور ماردا کیوں کہ ٹوٹیا ہے دل یار دا

یار ہی نے جیرے سانبھی جاندے نے عشاء نے خود کو مہان محسوس کرتے بائیں پھیلائی

زریام حیران و پریشاں بیٹھا ایک نئی مووی کا ٹریلر دیکھ رہا تھا

بس کر دو عشاء ہر بات مزاق نہیں ہوتی۔ زویا غصے سے کہتی اٹھ کر چلی گئی

اسے کیا ہوا؟ زریام نے اسے غصے میں جاتے ہوۓ دیکھ پوچھا

میں دیکھ کر آتی ہوں؟ عشاء بھی اس کے پیچھے جانے کے لیے کھڑی ہوئی لیکن دو قدم چلنے کے بعد بھاگ کر واپس زریام کے پاس آئی

یہ گانا پرفیکٹ میچ تھا لیکن ایک مسئلہ ہے یار تمہارا دل ٹوٹا ہوا نہیں ہے تو پھر ایسا کرو پہلے اپنا دل تڑواؤ اور پھر ہم یہی سے شروع کریں گے ۔ عشاء اسے آنکھ مارتی زویا کے پیچھے جانے لگی جبکہ زریام نفی میں سر ہلا کر رہ گیا

زویا منہ بناۓ بینچ پر بیٹھی تھی جب عشاء اس کے ساتھ آکر بیٹھی

ایسے کیا دیکھ رہی ہو تمہارا ہی ہے۔ عشاء نے اس کے کندھے سے کندھا مس کیا

ک۔کیا مطلب

زویا جو زریام کو ہی دیکھ رہی تھی جس کے پاس کچھ لڑکیاں کھڑی تھیں اور وہ بھی ایسے بات کر رہا تھا جیسے اس کے ماموں کی بیٹیاں ہوں اپنی چوری پکڑے جانے پر ہڑبڑا کر بولی

تمہیں کیا لگتا ہے میں نہیں جانتی اس بارے میں۔ بچپن کی دوستی ہے میری تم سے چہرہ بھی پڑھ لیتی ہوں

اور وہ تاثرات تو واضح جھلک رہے ہوتے ہیں جو زریام کو کسی لڑکی کے ساتھ دیکھ کر تمہارے چہرے پر آتے ہیں۔ عشاء نے اس کے گرد باہیں پھیلاتے اس کی تھوڑی پر انگلی رکھتے اسکا چہرہ اپنی طرف موڑتے کہا

عشاء میں بہت کوشش کرتی ہوں اس سب سے نکلنے کی لیکن یہ میرے بس میں نہیں رہا یار۔ میں کیوں اس کے بارے میں سوچتی ہوں۔ اس کا کسی سے بات کرنا مجھے کیوں اچھا نہیں لگتا مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا ہے یار میں کیا کروں؟ مجھے ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے۔ جب بھی وہ کسی لڑکی سے ہنس کر بات کرتا ہے تو دل میں خوف پیدا ہو جاتا ہے

زویا اپنے جذبات بتانے سے بھی ڈرتی تھی اور زریام کے کسی اور کے بارے میں جذبات جاننے سے بھی ڈرتی تھی

اگر وہ کسی سے۔۔۔۔۔۔

تمہیں لگتا ہے ایسا کچھ ہو گا ہر لڑکی کو تو وہ ایسے ٹریٹ کرتا ہے جیسے اس کی گرل فرینڈ ہو لیکن یار اسکا وہ ڈائیلوگ ساری لڑکیاں میری بہنیں ہیں

Watan ki matti gawah rehna by Memona Noman Complete novelette

  • by

“شیرازی صاحب آپ کو یاد ہے کہ چند مہینوں پہلے میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک لڑکے نے خود کو آپ کا بیٹا کہا تھا؟”

اس سوال پر ان کی رنگت اڑ چکی تھی۔

” تت۔۔ تم کس ویڈیو کی بات کر رہے ہو۔ میری یادداشت میں ایسی کوئی ویڈیو نہیں ہے؟”

ان کے ہکلانے کا وقت شروع ہو چکا تھا۔

“اگر آپ کو یاد نہیں پڑتا تو میں آپ کو یاد کروائے دیتا ہوں کہ آپ کا ایک اور بیٹا ہے جس کا نام زین شیرازی ہے جو آپ کی پرانی محبوبہ سمینہ بٹ کا بھی بیٹا ہے۔۔۔ ویسے آپ دونوں کی شادی کب ہوئی تھی۔ سمینہ بٹ نے اطلاع نہیں دی اور نہ ہی آپ نے؟؟”

میں انجان بنتے ہوئے ان کے تاثرات سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ مجھے مزا آرہا تھا۔ شیرازی صاحب کی بینڈ بجنا شروع ہو چکی تھی۔ ان کا چہرہ پسینے سے تر ہو رہا تھا۔ انہوں نے ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کی۔ شاید ان کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

“آپ کی جانب سے مستقل خاموشی ہے۔ کیا میں اپنے سوال کا جواب یہ سمجھوں کہ آپ دونوں کے درمیان شادی ہی نہیں ہوئی تھی؟”

“وہ میرا بیٹا نہیں ہے۔”

وہ ضبط سے بولے ورنہ ان کی آنکھیں مجھے سالم نگلنے کو بےتاب تھیں۔

“کوئی ثبوت ہے آپ کے پاس ان گھٹیا الزامات کا؟”

“ارسلان آفریدی ثبوت کے بغیر کوئی بات نہیں کرتا۔ ثبوت ہے آپ کی اور آپ کے بیٹے کی ڈی این اے ٹیسٹنگ رپورٹ جو کہ 95 پرسنٹ پوزیٹو ہے۔”

میں ایک ایک لفظ چبا کر بولا۔

“آپ میری انسلٹ کر رہے ہیں۔”

اپنے ہاتھ میں پکڑی رپورٹ پر نظریں دوڑائے بغیر انہوں چہرے پر بمشکل مسکراہٹ قائم رکھتے ہوئے کہا لیکن چہرے کے برعکس ان کی نظریں آگ اگل رہی تھیں۔

” آپ کی انسلٹ کرنے والا میں نہیں آپ خود ہیں، آپ کے کرتوت ہیں۔ انسان وہی کاٹتا ہے شیرازی صاحب جو وہ بوتا ہے۔” میں نے اپنی بات دہرائی جو میں نے ان سے اپنی پہلی ملاقات پر کہی تھی۔

“ہاں جی تو ناظرین اب وقت ہوتا ہے ایک چھوٹے سے بریک کا۔ پھر ملتے ہیں۔”

میں نے بریک کا کہا کیونکہ میری پیچھے اسٹوڈیو میں طوفان برپا ہوچکا تھا۔ شیرازی کے بیٹے کے ذکر پہ جو ہلچل شروع ہوئی تھی وہ صدیقی صاحب کے آجانے پہ بھی نہیں تھمی تھی۔ اب مجھے مستقل بریک لینے کی ہدایات موصول ہورہی تھیں۔

“بریک کی ضرورت نہیں کیونکہ مجھے ارجنٹ کام ہے۔ میرے پاس صرف آدھے گھنٹے کی فراغت تھی.ل اور وہ آدھا گھنٹہ میں آپ کو دے چکا ہوں تو اب میں چلتا ہوں۔”

وہ سکون سے گویا ہوۓ لیکن یہ سکون آگے آنے والے طوفان کی پیش گوئی تھا۔

“چلیں شیرازی صاحب آپ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے میں آج کا پروگرام یہیں ختم کرتا ہوں۔ وہ الگ بات ہے کہ مجھے آپ سے ابھی مزید کئی سوالات پوچھنے تھے۔”

میں نے آخر میں بھی ان کو جتانا ضروری سمجھا کہ ابھی تو میں آپ کو چھوڑ رہا ہوں لیکن اگلی دفعہ باندھ کے رکھوں گا۔ جب کہ وہ مجھ سے ہاتھ ملاتے ہوئے اپنی آنکھوں سے مجھے بہت کچھ باور کرواتے ہوئے وہاں سے واک آؤٹ کر چکے تھے۔ اب انہیں باہر بے شمار رپورٹرز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بے شمار سوالات ان کے سامنے رکھے جائیں گے، جن کے جواب یقیناً ان کے پاس نہیں ہوں گے۔ ظاہر ہے جھوٹ بولنا جتنا آسان ہے سچ بولنا اتنا ہی مشکل۔

Safar zindagi ka by Amna Tariq complete novel

  • by

“آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں؟”۔

بڑی مشکل سے ٹائپ کیا تھا

چند ثانیے بعد اس کی کال آگئی۔

“ہاں تو کیا پوچھ رہی تھی تم؟”۔

وہ خاموش رہی۔

“تو تم پوچھ رہی تھی کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں کہ نہیں؟”۔

“جی”۔

“آفکورس محبت کرتا ہوں تم سے”۔

“آپ شادی بھی مجھ سے کریں گے؟”

چند سیکینڈ خاموشی رہی پھر اس کا قہقہہ ابھرا

“حیات یہ کیسا سوال ہے؟”۔

“آپ بس جواب دیں”۔

“تم سے پیار کرتا ہوں تو شادی بھی تمہی سے کروں گا حیات”۔

دل کا اک گوشہ پرسکون سا ہوا

“مامی مان جائیں گی؟”۔ ڈر بجا تھا

“تم ٹینشن مت لو۔ امی کو میں منالوں گا۔۔ تم مجھ پر بھروسہ رکھو آئی پرامس شادی میں تمہی سے کروں گا”۔

اس کا دل مطمئن ہوا۔

امید تھی وہ اپنا پرامس پورا کرے گا ۔۔۔

پر کیا انسانوں سے امید لگانی چاہئے؟؟

کیا انسان ہمیشہ اپنا وعدہ پورا کرتے ہیں؟؟

کیا انسان بھروسہ کرنے کے قابل ہیں؟؟

Mera masoom bacha by Areeba Sikander complete novel

  • by

یہ بہت مشکل تھا وہاج کے لیے لیکن اپنے عزیزوں کا اخری دیدار بھی بڑا عزیز ہوتا ہے❃

وہ پینک ہو رہا تھا لیکن وہ اپنے عزیز کا اخری دیدار نہیں چھوڑ سکتا تھا اس نے بہت ہمت پیدا کی تھی ان کو اپنے کندھے میں اٹھایا تھا قبرستان جاتے وقت بھی اس کی انکھیں پل پل بہہ رہی تھی بڑی مشکل سے انہیں قبر میں اتارا تھا مٹی ڈالتے وقت تو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ بس ابھی اس کے پاؤں سے جان نکل جائے گی۔ ❃لیکن ایسا نہیں ہوتا محبت میں بھی انسان کے پاؤں سے جان نہیں نکلتی وہ دعویدار ضرور ہوتا ہے کہ اگر اس کا کوئی پیارا زندہ نہ رہا تو وہ بھی مر جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوتا پر ہاں ایسا ضرور ہوتا ہے کہ وہ زندہ ضرور ہے لیکن اس کی خواہشیں مر جاتی ہے❃

Strangers by Ayesha Asif Complete English novel

  • by

“Strangers” ایک جذباتی اور سبق آموز کہانی ہے جو ماضی کے تجربات سے سیکھنے اور خود کو اس معاشرے کا سامنا کرنے کے لیے مضبوط بنانے پر مبنی ہے۔ ناول کا مرکزی خیال یہ ہے کہ زندگی میں آنے والے حالات، دکھ اور دھوکے ہمیں بدلتے ہیں، لیکن اصل امتحان یہ ہے کہ ہم ان تجربات سے کیا سیکھتے ہیں اور کس طرح اپنی شخصیت کو نکھارتے ہیں۔

کہانی کا مرکزی کردار اپنے تلخ ماضی سے نکلنے اور زندگی میں ایک نئی راہ تلاش کرنے کی جدوجہد کرتا ہے۔ وہ اپنے اندرونی خوف اور کمزوریوں کو شکست دے کر خود کو ایک مضبوط اور خودمختار شخصیت میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔

یہ ناول قاری کو سکھاتا ہے کہ اگرچہ لوگ اور حالات ہمیں توڑنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ماضی کے زخم ہمیں مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔ اگر ہم سیکھنا چاہیں تو ہر مشکل ہمیں ایک بہتر انسان بنا سکتی ہے۔

یہ کہانی ان لوگوں کے لیے ایک حوصلہ افزا سبق ہے جو ماضی کی تلخیوں میں الجھے ہوئے ہیں اور آگے بڑھنے کی جستجو رکھتے ہیں۔

************

Dastan e mohabbat saleem anarkali novel by Fatima Nazir Khan

  • by

یہ ایسی داستان کی کہانی ہے جو

کبھی نہ دیکھی ہوگی اور نہی

سنی ہوگی مگر یہ داستان

کیا اس داستان کی طرح ہوگی کیا

اُسکی طرح اُسکا نصیب ہوگا

یا یہ داستان بلکل مختلف ہوگی

جاننے کیلئے پڑے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Bestie & Evil Queens by Shahreen Fatima Complete novel

  • by

ایک ایسا ناول ہے جس میں دوستی کا ایک خوبصورت پہلو دکھایا گیا ہے

دو ایسی دوستوں پر جو ایک دوسرے کی جان تھی ۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے جان دے بھی سکتی تھی اور لے بھی سکتی تھی جنہیں اپنے خدا پر پورا بھروسہ تھا جو ہر مشکل میں اپنے خدا سے مدد مانگتی تھی ہر حال میں اس کا شکر ادا کرتی تھی

کہانی دو ایسی دوستوں کی جو ہر مشکل میں ایک دوسرے کے ساتھ رہی جنہوں نے کئی رشتے کھوئے لیکن پھر بھی ثابت قدم رہیں

” کہانی دو دوستوں کی “

Hum kyun chaly iss rah per by Wisha Nadeem Complete novel

  • by

یہ ایک فرضی کہانی ہے اور میں چاہتی ہوں کہ اسے فرضی کہانی کی طرح ہی پڑھا جائے۔۔اس میں بہت سے سینز ایسے ہوں گے جو کہ آپ کو تب تک فضول لگیں گے جب تک کہ آپ ان کو سمجھ نہ لیں۔۔اس ناول میں موجود ہر ٹاپک کو لکھنے کے پیچھے کوئی مقصد ہے اور جو وہ سمجھ جائے وہی عقل مند ہے۔۔علاوہ ازیں جب تک کہانی مکمل نہ ہو جائے اس کے بارے میں کوئی رائے اختیار نہ کریں کیونکہ آخر میں آپ کو پچھتاوا ہو سکتا ہے۔۔یہ کہانی راستوں کو پہچاننے کی ہے۔۔ان راستوں کو پہچاننے کی کہانی جہاں ہمیں جانا تھا مگر ہم بھٹک گئے تھے۔