Skip to content
Home » Social media writers » Page 145

Social media writers

Intiqam e Mohabbat novel by Syeda Noor-ul-ain

  • by

یہ کہانی پارس اور وجیح کی ہے….

پارس نے زندگی میں اتنے دھوکے کھائے تھے کے وہ کسی پر بھی بھروسہ نہ کر پاتی تھی…

پھر بھی وہ اس کے قریب ہو چلی تھی….

پر اسکے ساتھ پھر سے وہی ہوتا ہے..

جو ہمیشہ سے ہوتے آیا تھا…

پر اس بار سب کچھ بہت مختلف اور الجھا سا تھا.

پارس تھک ہار کے اللہ کی طرف رجوع ہوئ….

اور زندگی کی طرف پھر سے آگے بڑھی.

پر پھر سے وجیح اسکے سامنے آ پہنچا….

اور اب اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی محبت سے بدلہ لیا..

Tere ishq mein rangy janan by Fatima Mehmood Complete novel

  • by

“یہ کہانی ہے اک انا کی ماری غصّے کی تیز لڑکی کی، اک معصوم اور عقلمند حویلی کے اصولوں کے بھینٹ چڑھ جانے والی لڑکی کی، اک ایسے مرد کی جو اپنی پسندیدہ عورت کو حاصل کر کے بھی اس سے دور ہو گیا تھا، اور اک ایسے لڑکے کی جو حویلی کے اصولوں کی آڑ میں ہی خود کی محبّت کو حاصل کر چکا تھا۔”

Kiya yeh mohabbat hai novel by Hina Hasan

  • by

“کہاں سے آرہی ہو رات کے اس وقت؟”اسفر صاحب جنہیں گیس کے مسئلے کی وجہ سے نیند نہیں آرہی تھی اور گارڈن میں چہل قدمی کر رہے تھے زوار کی پہلی بیوی کو رات کے اس پہر گھر میں داخل ہوتا دیکھ پوچھتے ہیں ۔

حمنہ، جس کے کچھ غیر ملکی دوست پاکستان آئے ہوئے تھے اور انھیں کی بدولت اسے پیرس فیشن ویک جانے اور وہاں ریمپ واک کرنے کا موقع مل رہا تھا ،ان کے ساتھ ہوٹلنگ اور کلبنگ میں مصروف تھی اور ابھی گھر لوٹی تھی اپنے پیچھے اسفر صاحب کی آواز سن منہ بناتی ہے۔

“انکل کیا ہم صبح بات کریں ابھی میں بہت تھکی ہوئی ہوں اور سونا چاہتی ہوں”وہ لاپرواہی سے کہتی آگے بڑھ جاتی ہے۔

Bikhray kuch is tarah by Raiha Chohan Complete novel

  • by

وہ مجھے آپ کی فکر ہو رہی تھی اس لیے۔

وہ اس سے بات کر رہی تھی کہ

مراد نے اس کی بات کاٹ دی۔

کیوں میری کیوں فکر ہو رہی تھی

۔میں کوئی چھوٹا بچہ تھوڑی ہوں

۔جس کی فکر کرنی پڑے۔

وہ اسے باتیں سنانے لگا اب۔

نہیں میرا مطلب وہ نہیں تھا۔

آپ آئے نہیں گھر ہمارے اس لیے مراد

سب آئے آپ نہیں آئیں۔مراد

اسے جو سمجھ آیا اس نے بول دیا۔

لیکن بار بار اس کا نام لینے پر

وہ اسے غصہ دلا چکی تھی۔

میں بہت مصروف ہوتا ہوں۔

اگر نہیں آیا تو کوئی وجہ ہوگی

Mantasha Short novel by Sidra Chaudhary

  • by

زعما

جی ماہیر۔

تم نے فجر پڑھی۔

جی آپ کے جاتے ہی پڑھ لی تھی۔اور آج آپ لیٹ ہوگئے۔میں نے ناشتہ بھی تیار کر لیا ہے۔

ارے واہ بیگم۔ٹھیک ہے ناشتے کے بعد تیار ہو جاؤ۔تمہارے لیے سرپرائز ہے۔

کیا سرپرائز ہے۔

ارے ارے سرپرائز تو سرپرائز ہوتا ہے۔مل جائے گا لیکن تھوڑی دیر بعد۔

ٹھیک ہے آپ ناشتہ کریں میں ابھی تیار ہو کر آئی۔

اچھا چلو سفید سوٹ پہننا جو میں نے تمہیں دلایا تھا۔

اچھا جی جو حکم آپکا ۔

حکم نہیں بس درخواست ہے

جی جی اور آپکی درخواست منظور ہو چکی ہے۔زعما ہنستے ہوئے کہہ کر تیار ہونے چل دی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماہیر چلیں میں تیار ہوں۔زعما نے عبایا پہنتے ہوئے کہا تھا۔

ارے ارے بڑی تیزی دکھائ بھئ آپ نے تو۔ماہیر نے اسے پانچ منٹ میں تیار دیکھ کر چھیڑا تھا۔

اچھا ٹھیک ہے نہیں ہوتی تیار۔زعما نے اپنے ہاتھ روک کر فوراً منہ بنا کر کہا تھا ۔اور صوفے پہ بیٹھ گئ تھی۔

اچھا اچھا ناراض مت ہو۔کیوں صبح مجھے گناہ گار کر رہی ہو۔چلو چلیں۔ماہیر نے زعما کا ہاتھ پکڑ کر اٹھاتے ہوئے کہا تھا۔

Saneha afsana by Qurrat Ul Ain Ainee

  • by

’’؎ ہر دیہات کھیت پر کھلیان سلامت

کوہسا ر درخشاں، تیرے میدان سلامت

مزدور، معلم، یہ قلمکار ،ہنرور

اے پاک وطن تیر ا ہر عنوان سلامت‘‘

ماریہ نے ہمیشہ کی طرح اپنا پسندیدہ شعر اُونچی آواز میں دہرایا۔اُسے یہ شعر بچپن سے بہت پسند تھا

’’ہاں،ہاں۔ مزدور، معلم، ہنرور ، لکھاری ،سبھی اچھے اور عظیم۔ ایک ہم فوجی بُرے ، جو کبھی تمہارے شعروں میں نہیں آتے۔ میں تو اسی آس میں رہ جاتا ہوں کے شاید میری بہن میری اور پاک افواج کی تعریف کر دے ۔مگر نہیں، دن رات اپنے سکول کی تعریفیں یا کھیتوں کو دُعائیں۔ نہیں دُعا دینی تو صرف فوجیوں کو۔چڑیل،بھتنی۔‘‘علی نے اُونچی آواز میں اُسے کوسا۔

Alhamd se Wannass by Umaima Shafeeq Qureshi complete novel

  • by

یہ کہانی ہے مختلف کرداروں کی

ایک ایسی لڑکی کی جو منطقی باتوں پر یقین رکھتی ہے

جسے آخرت،جنات اور فرشتوں پر یقین نہیں….

ایک ایسے شخص کی جس نے اپنا مذہب تبدیل کر لیا ہے

یہ کہانی ہے ایک معصوم اپسرا کی

اور ایک ایسے شخص کی جس کی ذہانت کا کوئی جواب نہیں…. یہ کہانی ہے الحمد سے والناس تک کے سفر کی

Dosti ki ek lehr novel by Anusha Kiran Season 1

  • by

“یہ کیا ہو رہا ہے”

معیز نے پاس کھڑے ایک لڑکے سے پوچھا۔

“کسی لڑکی کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔ بائیک والے نے ہٹ کیا تھا اور فوراً بھاگ بھی گیا۔”

اس لڑکے نے بتایا۔

“ہمیں چل کے دیکھنا چاہیے”

ماہم ثناء اور معیز سے بولی۔

وہ تینوں آگے بڑھے تھے۔ ہجوم کے بیچ راستہ بناتے جب وہ آگے بڑھے تو شاہ کو وہاں دیکھ انہیں حیرت ہوئی تھی لیکن شاہ کے ساتھ انوشے کو دیکھ ان کا دل کٹ گیا تھا۔ شاہ نے انوشے کا سر اپنی گود میں رکھا تھا۔ وہ خون روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ سفید شرٹ خون سے لال ہو چکی تھی۔

“یہ…یہ کیسے شا…شاہ یہ”

ثناء شاہ کے ساتھ بیٹھتی انوشے کا چہرہ تھپتھپانے لگی تھی۔ معیز بھاگا ہوا پارکنگ کی طرف گیا تھا۔ گاڑی روڈ پر لاتے وہ شاہ کی طرف بڑھا تھا۔ آذان اور حماد بھی ماہم کے کال کرنے پر وہاں پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے بامشکل شاہ کو سنبھالا تھا۔

شاہ نے انوشے کو گاڑی میں ڈالا تھا۔ معیز ڈرائورنگ سیٹ سنبھال چکا تھا۔ ثناء بھی ان کے ساتھ تھی جبکہ پچھلی سیٹ پر شاہ نے بیٹھتے انوشے کا سر اپنی گود میں رکھا تھا۔

✧⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_✧

ہاسپٹل پہنچتے شاہ نے انوشے کو سٹریچر پر لٹایا تھا۔ انوشے کا چہرہ زرد اور ہونٹ سفید پڑ گئے تھے۔ سٹریچر اندر لے جاتے ہوئے بھی شاہ نے اس کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔ آخر کار وہ اسے لے گئے جبکہ شاہ اپنا ہاتھ دیکھتا رہ گیا۔

“ادھر بیٹھ… تو دیکھنا سب ٹھیک ہو جائے گا…کچھ نہیں ہوتا اسے وہ بالکل ٹھیک ہو جائے گی”

معیز شاہ کو سائیڈ پر لگے بینچز کی طرف لے جاتے بولا۔

“مع… معیز و..ہ… اسے کچھ ہوا تو میں…”

اس سے سہی طرح بولا نہیں جارہا تھا

“کچھ نہیں ہوگا… کچھ نہیں ہوگا…..

“she’ll be alright

معیز اس کی بات بیچ میں کاٹتے ہوئے بولا۔

کچھ دیر بعد ان کے باقی دوست بھی ہاسپٹل پہنچ چکے تھے۔

“یہ لے پانی پی”

سہیل بوتل شاہ کی طرف بڑھاتے بولا تو شاہ نے نفی میں سر ہلایا

“میں کیسے کچھ کھا پی لوں جبکہ مجھے پتا ہے کہ وہ اندر تکلیف میں ہے۔ جب تک وہ ٹھیک نہیں ہوتی تب تک کچھ بھی نہیں چاہیے۔ مجھے یہاں تکلیف ہو رہی ہے “

شاہ دل کے مقام پر ہاتھ رکھتے بولا

“ہمیں بھی تکلیف ہو رہی ہے تجھے ایسے دیکھ کر پلیز اسے نہ کر پانی تو پی لے نا۔ اپنی نہیں تو ہماری خاطر ہی سہی”

حسین کے بولنے پر شاہ نے اس کے ہاتھ سے بوتل تھام لی۔ کانپتے ہاتھوں سے اس نے بامشکل دو گھونٹ اپنے اندر انڈیلے ۔

✧⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_⁠_✧

وہ شیشے سے اندر جھانک رہی تھی آنکھوں سے نکلتے آنسوں تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ آذان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ مڑی۔

“She’ll be fine”

وہ اسے تسلی دی بولا لیکن وہ جو اپنے اوپر ضبط کیے ہوئے تھی اب ہچکیوں سے رونے لگی۔

“شش …ٹھیک ہو جائے گی وہ۔ ایسے مت رو دعا کرو اس کے لیے”

Pyar ek shart pe by Rimsha Riaz Complete novel

  • by

کیا ہوا کیوں آگئی کلاس میں تو ٹائم ہے، ؟

تمھیں کیا لگا تم نے تو ویسے بھی ٹائم پاس ہی کرنا ہے نا ایحان اور اس بار مجھ سے کر رہے ہو! مسفرہ تڑخ کہ بولی

کیا کہہ رہی ہو مسفرہ ، وہ پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھنے لگا

تم مجھ پہ شرط لگا بیٹھے ایحان کیا میں اتنی سستی اور گری پڑی چیز ہوں ، وہ پھٹ پڑی

تم غلط سمجھ رہی ہو وہ بس مذاق تھا مسفرہ ، مگر میں نے تم سے منگنی کی ہے میں پیار کرتا

منگنی کچا رشتہ ہوتا ہے اور جب تمھارا ٹائم پاس ہو جائے گا تو چھوڑ جاؤ گے ناں ، وہ ہنسی ایک تھپڑ اس کے گال چھو گیا ۔

جان نکال کہ رکھ دوں گا تمھاری اگر ایسا کچھ زہن میں لایا ، اور رہی بات نکاح کی تو ہمارا نکاح اب اسی ہفتے ہو گا آئی سمجھ وہ اس کا بازو پکڑ کہ بولا

مجھے نہیں کرنی

اہاں! سوچنا بھی مت ! ایحان نے گرفت بڑھائئ

بہت برے ہو تم! وہ چھڑاتے ہوئے بولی

اچھا ہو سکتا ہوں ، شرط اگر لگا بھی لی تو کیا ہو گیا کہ آج تک تمھارے ساتھ کچھ برا کیا نہیں نا! وہ اس کو سہلاتے ہوئے بولا ۔

وہ ناں میں سر ہلانے لگی

تو پھر، اس نے اس کی ٹھوڑی اوپر اٹھائی

غصہ ہو مجھ پہ؟

ہمم تھوڑا سا، وہ معصومیت سے بولی

اوکے ٹیک یور ٹائم۔وہ کمفرٹ ٹیبل کر رہا تھا۔

ایحان ! سوری تو بولو!

نہیں یار میری ایگو ہرٹ ہوگی! وہ ہنسا

پر تم شادی کے بعد برتن دھو گے تو سوری تو پھر چھوٹی سے چیز ہے، وہ معصومیت سجائے بولی

وہاٹ! تم مجھ پ

سے برتن دھلاو گی، وہ سینے پہ ہاتھ رکھ کہ بولا

استری بھی کر سکتے ہو ، سنڈے کو صفائی مل کر کر لیں گے ناں ، وہ پلان بتا رہی تھی

توبہ توبہ ! تمںیں شوہر نہیں نوکر چاہیے مجھے زن مرید نہیں بننا بھیئ